سرخ رُوہوتاہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏دسمبر 18, 2012۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    سرخ رُوہوتاہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد
    ناصرالدین مظاہریؔ
    لیجئے!ابھی افغانستان اورعراق کی تباہی پرمسلمانوں کے آنسو خشک نہیں ہوئے تھے کہ مصر،شام،تیونس ،بحرین،یمن اورسوڈان کے سادہ لوح مسلمانوں میں اپنے حکمرانوں کے خلاف علم بغاوت بلندکرنے کی اسلام دشمنوں کی سازش بالآخرکامیاب ہوہی گئی اوراب تک قلب عرب میں ہم لوگ اسرائیلی خنجرکادردمحسوس ہی کررہے تھے کہ خالص مسلم ریاست سوڈان کودوحصوں میں تقسیم کرکے ایک الگ عیسائی ملک بسادیاگیا۔
    فلسطین کے بے گناہوں کے خون سے ابھی وہاں کی ارض مقدس لالہ زارتھی کہ ناموراسلامی رہنمااور لیبیاکے بیباک مسلم قائد کرنل قذافی اوران کی حکومت کاتختہ الٹنے کیلئے نام نہادعیسائی حکومتیں،ظلم اورسفاکی کو’’جمہوریت‘‘کانام دے کرملیامیٹ کرنے والی ناٹو،کالے کوسفیداورسفیدکوسیاہ گردان کرانارکی اورچیرہ دستی کی آری چلانے میں اپنی مثال نہ رکھنے والی ’’ اقوام متحدہ‘‘ سب نے مل کرلیبیائی حکومت اورلاکھوں بے قصورمسلمانوں کوخاک وخون میں تڑپنے پرمجبورکردیااورآخرکارکرنل قذافی اپنے وفاداروں اورمشیروں کے ساتھ جام شہادت نوش کرگئے لیکن ہمیں یہ پیغام دے گئے کہ
    ’’مسلمانوں اگرتمہارے اندراجتماعیت پیدانہیں ہوئی تواسی طرح ایک ایک کرکے سارے اسلامی ملک تباہ وبربادکردئے جائیں گے اورتمہاراایک ایک قائدصدام وقذافی کی طرح مرنے پرمجبورہوجائے گا‘‘
    آج پوری دنیامیں اسلام مخالف ہواچل رہی ہے،یورپ کی بات چھوڑئے خودہمارے اس ملک میں جہاں کی تہذیب کوہم گنگاجمنی تہذیب سے تعبیرکرتے ہیں،جہاں کی معاشرت کوہم مثالی قراردیتے ہیں یہاں بھی کچھ ایسے افسوسناک مناظرنظرآرہے ہیں کہ ان کودیکھ کردل یقین کرنے کوتیارنہیں ہوتاکہ یہ ہی گنگاجمنی تہذیب ہے:جہاں ایک طرف راجستھان کے بھرت پورمیں مختلف گاؤں اوردیہات فرقہ وارانہ فسادات کی لپیٹ میں ہیں،جہاں بے قصوروں کوزندہ جلایاگیا،جہاں مسلمانوں کوکسی قصورکے بغیرپکڑکرداڑھیاں نوچی گئیں،بندوق اوردیگراسلحہ جات سے زدوکوب کرکے تڑپاتڑپاکرماراگیااوریہ سب کچھ حکومت کے سامنے ہوتارہا۔
    مشہورصنعتی شہرمرادآبادمیں ظالموں نے ظلم کے ایسے ایسے ہتھکنڈے اختیارکھے جن کودیکھ کرہرشخص کہہ سکتاہے کہ بلاکسی پیشکی تیاری اورمنصوبہ بندی کے ایسے کام ممکن ہی نہیں ہیں۔
    صرف مسلمانوں کے محلوں میں پی اے سی کی بھاری نفری تعینات کرنا،مسلمانوں کودیکھتے ہی گولیوں کانشانہ بنانا،مسلمانوں کے گھروں میں گھس گھس کونوجوانوں کواٹھانااورانھیں بے قصورزنداں کی سلاخوں میں قیدوبندکی سزائیں دیناشایدمرادآبادپولیس کامشغلہ بن چکاہے۔
    نئی ریاست اتراکھنڈکے مشہورومعروف صنعتی شہرردرپورمیں بھی مسلمانوں کے ساتھ کچھ ایساہی سلوک کیاگیا،خودپولیس نے بھی بلوائیوں کاساتھ دیا،باقاعدہ لسٹ تیارکرکے مسلم گھروں کی تلاشیاں لی گئیں،دکانوں اورمکانوں کوجلادیاگیا۔
    آندھراپردیش کے ضلع میدک میں شرپسندعناصرنے قرآن کریم کے ساتھ جونارواسلوک کیااورجس طرح اس کوپھاڑکربے حرمتی کی،اس کے اوراق سڑک پربکھیرے گئے اورچالیس کروڑہندوستانی مسلمانوں کی جس اندازمیں دل آزاری کئی گئی وہ سب ایک سوچی سمجھی اسکیم کاحصہ ہے۔
    یوپی کے ضلع بہرائچ کے قصہ مہی پوروہ میں بھی برادران وطن نے مسلمانوں کوناقابل تلافی جانی ومالی نقصان پہنچایا،وہاں بھی مسلمانوں کی دکانوں کونذرآتش کیاگیااورپولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔
    اسی طرح یوپی کے ضلع پرتاپ گڑھ میں جمعہ کے دن مساجدمیں پولیس کاجوتوں سمیت گھسنااورخودہی تیل چھڑک کرآگ لگانے کی کوشش کرنااورمزاحمت کرنے پرمسلمانوں کومارنااورزدوکوب کرنا۔
    میرٹھ شہرمیں بعض شرپسندعناصرکے ذریعہ خنزیرکاگوشت مسجدمیں ڈال کرمسلمانوں کوورغلانے کی کوشش کرنا۔
    انٹرنیٹ پر’’فیس بک‘‘نامی اسلام دشمن ویب سائٹ کاسرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے شائع کرنا۔
    الغرض بوسنیاسے کشمیرتک ،پاکستان سے انڈیاتک،انڈونیشیاسے ہرزیگونیاتک،روس سے ملیشیاتک، عراق سے افغانستان تک،صومالیہ سے فلسطین تک،ایران سے چیچنیاتک ،لبنان سے الجزائرتک اورنوآباد ونوآزادریاستوں اوربستیوں سے ترکی تک اگر بنظرغائردیکھاجائے ،ہوش وحواس کو جمع کر کے سوچاجائے ،عقل وشعورسے جواب طلب کیاجائے دلِ دردمنداورفکرہوش مند سے پوچھاجائے کہ ہرسو مظالم کی المناک داستان ہردوراورہرزمانہ میں کس قوم اور کس ملت پر آزمائی اور دہرائی جارہی ہے ؟یہ کس کی بیٹیوں کی عزتوں اورعصمتوں سے کھلواڑکیاجارہاہے؟یہ دلدوزنسوانی چیخیں،یہ کرب ناک خونیں مناظر،یہ افسوس ناک واقعات اورمنصوبہ بند حادثات کی چکی میں کون پس رہا ہے ؟کس کی عبادت گاہوں کاوجودمٹ رہا ہے اورکس کے شعائر پر ڈاکہ زنی ہورہی ہے؟کس قوم کو مشق ستم بنایاجارہا ہے اورمظلومیت کا لیبل کس کی پیشانی پر چسپاں کیاجارہا ہے؟تو ہر طرف سے ایک ہی قوم ، ایک ہی تہذیب اورایک ہی مذہب کانام لیاجاتا ہے ’’مسلمان‘‘جس نے شانداراسلامی تمدن کو رواج دیاتھا،جس نے حسن سیرت اورحسن اخلاق کے انمٹ نقوش چھوڑے تھے ،جس نے ظلم وبربریت کی المناک داستانوں کا خاتمہ کیاتھا،جس نے حلم ونرمی اورتحمل و بردباری کے سبق دئے تھے،جس نے محبت ،اخوت ،بھائی چارگی ،تہذیب اورعفوودرگزرکی روشن و منو ر تعلیمات دی تھیں،جس نے صحرائے نجدسے صحرائے سیناتک ہدایت وسعادت اوراتحادویکجہتی کا پیغام نشرکیاتھا،جس نے سکندروچنگیز،بخت نصروتیمور،نادرونپولین،بوناپارٹ وہٹلراورڈیگال ومسولینی کی ظالمانہ تاریخ کا دندان شکن جواب دیاتھا ،جس نے عرب وعجم میں محبت کے نغمے گائے اورامن وشا نتی کے خوبصورت ترانے گن گنائے تھے،جس نے فرقہ وارانہ منافرت ،لسانی عصبیت ،علاقہ پرستی، اونچ نیچ اوربرادری وادکاخاتمہ کیاتھا،جس نے تنگ نظری پر وسیع النظری کو فوقیت اوراہمیت دے کر ایک ڈگراورایک ڈھرّے پر چلنے کاخوگربنایاتھا۔۔۔آج وہی تہذیب زندگی کی آخری ہچکیاں اور احسا س محرومی ومظلومی کی سسکیاں لے رہی ہے۔
    اسلامی اخوت ومحبت کافقدان ،قومیت اور برادرانہ عصبیت، قوانین اسلامی کے نفاذ میں تساہلی،تن آسانی،تن پروری،عیش وعشرت، لہوولعب میں مشغولیت اور اس پر دولت وثروت کاضیاع ،فوجی ، عسکری اورجدیدترین جنگی اسلحوں سے مجرمانہ تغافل،مصنوعی نعرے، وقتی جوش وولولے اورجذباتی مظاہرے ، اعلاء کلمۃ اللہ ،امربالمعروف نہی عن المنکراوردینی واسلامی دعوت کی روح کو ختم کرکے ہوسِ ملک گیری اورشخصی قیادت کے بقاء کی فکر مندی،تہذیب اسلامی سے نفرت اورمغربی تمدن سے لگاؤ،ایثار وقربانی،تعاون وتناصراور غریب پروری کے جذبات سے بے توجہی ،دولت کاشیطانی نشہ ،رازق وخالق سے غفلت،دنیائے کفرکے سامنے کاس�ۂگدائی،اسلامی نظام معیشت کی جگہ بینک کے موجودہ کافرانہ نظام مالیات پریقین واعتماد، اسلامی فلسف�ۂتعلیم کے بجائے خدابیزار،آخرت فراموش نظام تعلیم پر توجہ اورترقیات کی معراج سمجھ لینے کی وجہ سے ملت اسلامیہ تباہی کے کنارے پہونچ چکی ہے ۔
    یہودونصار یٰ ہمارے قبلۂ اول بیت المقدس اورمسجد قرطبہ میں اپنی صلیبیں اورعَلم نصب کرچکے ہیں، گجرات کے فرقہ وارانہ فسادمیں دس ہزارمسلمانوں اور تین سوسے زائد مساجد ،مدارس اورمزارات کو ختم کرکے فرقہ پرست ، دہشت گردعناصرتالیاں بجارہے ہیں،وطن عزیز ہندوستان کو دارالکفراور ہندوراشٹر بنائے جانے کی اسکیموں کو عملی جامہ پہنایاجارہا ہے ، قرآن کریم کی بے حرمتی اورعام مسلمانوں کی دل آزاری کے واقعات میں اضافہ ہوتاچلا جارہا ہے ، مسلم پرسنل لاء میں مداخلت اورقرآن کریم میں تبدیلی کے آوازے کسے جارہے ہیں،وندے ماترم پرزور،اسلام کے عائلی نظام پرالزامات،دینی تعلیم پرانگشت نمائی،شعائراسلام کاتمسخر،قرآن کریم کی توہین،شارع اسلام کی تنقیداوروقتاًفوقتاًہروہ حربہ جس سے مسلمانوں کی کسرشان اور توہین ہوتی ہو برروئے کارلانے کواسلام دشمنوں نے اپنی سعادت اورگویااپنے مذہب کی تعلیم سمجھ لیاہے۔
    ان سنجیدہ امورپرسنجیدگی کے ساتھ ہمیں غورکرنے کی ضرورت ہے کہ آخرایساکیوں ہورہاہے؟وہ لوگ جوکل تک ہمارے بڑوں کے پاس اپنے معاملات فیصل کرانے آتے تھے آج کیوں ہمارے دین اوردھرم کے مخالف ہوگئے ہیں؟وہ لوگ جوہمیں دورسے دیکھ کرکھڑے ہوجایاکرتے تھے اورعزت اوراحترام کوملحوظ رکھتے ہوئے ’’سلام‘‘اور’’پرنام‘‘کرتے تھے آج ہمارا تمسخراڑانے لگے؟
    حقیقت یہ ہے کہ آج کی چلنے والی ہوائیں ہمارے مخالف اسی لئے ہوگئیں کہ ہم نے اپنی حیثیت نہیں جانی،کفرنے ہمارے آگے ہاتھ پھیلائے توہم غرورمیں مبتلاہوگئے۔مخالفین نے ہماری طاقت تسلیم کی توہمارانفس پھول گیا،اغیارنے ہماری عزت کی توہم نے سمجھ لیاکہ ہم ہی حکومت کے اہل ہیں کوئی اورنہیں، مدمقابل نے ہم سے سلام کرنے کی پہل کی توہم بھول گئے کہ ہمیں بھی اخلاق کریمہ کابرتاؤکرنے کاحکم دیاگیا ہے۔
    جب ہم نے تخلقواباخلاق اللّٰہ سے صرف نظرکیاتواخلاق نے ہم سے رخ موڑلیا،جب ہمارے دلوں سے انسانی ہمدردی اوررواداری نکل گئی تو عام لوگوں کے قلوب سے ہماری ہیبت وعظمت ختم ہوگئی ،جب ہماراکرداربدنما،گفتارناروا،فکرپراگندہ اورسوچ مسموم ہوگئی تولوگوں کے نظریات،لوگوں کی توقعات،لوگوں کی محبتیں سب یکسربدل گئیں۔
    اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں صاف اورواشگاف لفظوں میں ارشادفرمایاہے کہ وَمَآ اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْ عَنْ کَثِیْرٍ اورمصیبتیں تمہارے اوپرآئی ہیں وہ تمہارے کرتوت کی وجہ سے آئی ہیں اوراللہ تعالیٰ بہت سے گناہوں کومعاف ہی کردیتے ہیں۔
    آج ہم بچشم خوددیکھ رہے ہیں کہ خشکی اورتری ہماری شامت اعمال سے محفوظ نہیں ہیں،فضائیں ہمارے گناہوں کے بوجھ سے بوجھل ہیں،ہوائیں ہمارے اعمال کی نحوست سے گرانبارہیں،ماحول اورمعاشرہ ہمارے وجودپرملامت کرنے لگاہے،ہماری غلط کاریوں کے اثرات عام انسانی معاشرہ کے علاوہ جانوروں میں بھی محسوس کئے جارہیہیں۔
    ظَھَرَالْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَھُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْالَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ۔
    لوگوں کے برے کرتوت کی وجہ سے خشکی اورتری میں بلائیں پھیل گئی ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کوان کے بعض برے اعمال کی سزاکامزہ چکھائیں تاکہ وہ اپنے برے اعمال سے بازآجائیں۔
    دریاؤں کی طغیانیاں،سمندروں کی جولانیاں،ہواؤں کی تندی،زمینوں کادھنسنا،زلزلوں کی تباہی،آتش فشانوں کی بربادی،بادوباراں کی ہلاکتیں،آسمانی آفات،موسمی بیماریاں،یہ سب عذاب الہی کی کڑیاں اورلڑیاں ہیں جن کی طرف باری تعالیٰ نے بایں الفاظ ہماری توجہ مبذول فرمائی ہے ۔
    اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ کیااب بھی وقت نہیں آیاایمان والوں کیلئے کہ ان کے قلوب اللہ کیلئے جھک جائیں اورنرم ہوجائیں۔
    قدرت کے یہ تازیانے دراصل عبرت وبصیرت کے وہ نمونے ہیں جن کوپیش نظررکھ کرہم اپنی زندگیاں سدھار اورسنوارسکتے ہیں،ہماری کوششیں،سرگرمیاں،محنتیں،جان سوزیاں،جگرکاویاں اورآہ سحرگاہیاں قسام ازل نے ایک ایک چیز محفوظ اورتحریرفرمادی ہے،وَاِنْ یَمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرّفَلاکَاشِفَ لَہ الاھُووَاِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرفَلارَادَلِفَضْلِہٖ اسی طرح سودوزیاں،نفع ونقصان،کمی بیشی،نشیب وفراز،ترقی وتنزلی سب کچھ پہلے سے مقدرہے جس میں حبہ برابرکمی اورشمہ برابرزیادتی ناممکن ہے۔
    اعلم ان الامۃ لواجتمعت علی ان ینفعوک بشئی لم ینفعوک الابشئی قدکتبہ اللہ تعالیٰ لک ولواجتمعواعلی ان یضروک بشئی لم یضروک الابشئی قدکتبہ اللہ علیک رفعت الاقلام وجفت الصحف (احمد)
    جان لوکہ اگرپوری امت مل کرتمہیں کوئی نفع پہنچاناچاہے توصرف وہی نفع پہنچاسکتی ہے جواللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے (پہلے ہی)لکھ دیاہے اوراگرپوری امت مل کرتم کو کوئی نقصان پہنچاناچاہے توصرف وہی نقصان پہنچاسکتی ہے جواللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے( پہلے سے)لکھ دیاہے ،قلم اٹھادئے اورصحیفے خشک ہوچکے ہیں۔
    سعیدوہ ہے جوڈرانے سے پہلے ڈرجائے،ہوشیاروہ ہے جوگرنے سے پہلے سنبھل جائے،عقل مندوہ ہے جواگلے سبق سے پہلے پچھلے سبق کویادکرلے،نیک بخت لوگ وہی ہیں جوغلطی سرزدہوتے ہی نادم وپشیمان ہوجائیں۔
    وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًااورجواللہ تعالیٰ سے ڈرتاہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے غموں اورتکلیفوں سے نجات کاراستہ نکال دیتے ہیں۔اوراس کوایسی جگہ سے رزق پہنچاتے ہیں جہاں سے رزق آنے کااس کوگمان بھی نہیں ہوتا۔

اس صفحے کو مشتہر کریں