سرِ راہ سوئی ہے

'آپ کی شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جولائی 28, 2012۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,577
    موصول پسندیدگیاں:
    771
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    [​IMG]
    نہ چادر نہ تکیہ نہ سر پہ ہے سایہ
    سرِ راہ سوئی ہے غربت یہ دیکھو​
  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,577
    موصول پسندیدگیاں:
    771
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    گرمی کا احساس نہ احساس مشقت
    وہ سورہا ہے اوڑھ کے چادر کو تھکن کی

    یہ کون پڑا ہے یہ کس کو فکر ہے
    اس دور کے انسان کا مہجور ذکر ہے

    بارش کے انتظار میں مجبور اک کسان
    تھک ہار کے گاؤں کے رستہ میں سوگیا

    بے بس پڑا ہوا ہوں غمِ انتظار میں
    اس لاغری پر کون ترس کھائے گا حضور

    افکار زندگانی سے ہو کر کے بے نیاز
    سویا ہے کوئی خاک کے بستر پہ چین سے

    نہیں ہے فکر کوئی خاک کا تکیہ ہے اور بستر
    بڑے آرام سے سوئی ہوئی غربت ہے پتوں پر

    فکر میں مخمل کے گدوں پر کہاں آتی ہے نیند
    مطمئن دل ہو تو پھر ہر جا پہ آجاتی ہے نیند

    اک تھکے انسان کو اتنا تو کرنا چاہئے
    سر پہ سایہ نہ ہو پر لیٹ جانا چاہئے


    بنت عبد الحميد نے اسے پسند کیا ہے۔
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں