سرکاری رپورٹ ۔38 سال بعد پہلی دفعہ منظر عام پر۔قادیانی کیوں کافر ہوئے ،

'قادیانیت' میں موضوعات آغاز کردہ از بے باک, ‏دسمبر 28, 2012۔

  1. بے باک

    بے باک وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    قادیانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوگیا


    مگر اس کے باوجود............

    گذشتہ دنوں اسپیکر قومی اسمبلی محترمہ فہمیدہ مرزا نے اپنے خصوصی اختیارات کے تحت سابق وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے متعلق پارلیمنٹ کے بند کمرے کے اجلاس میں ہونے والی بحث کے ریکارڈ کو 36 سال بعد اوپن کرنے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے معاملے پر پارلیمنٹ کے حالیہ بند کمرے کے اجلاس میں ہونے والی بحث سیل کر دی گئی ہے،
    ۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ذرائع کے مطابق بھٹو دور میں 1974ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے سے متعلق پارلیمنٹ کے بند کمرے کا اجلاس تقریباً ایک ماہ سے زائد جاری رہا تھا۔ جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بناء پر ملک کی منتخب جمہوری حکومت نے متفقہ طور پر 7 ستمبر1974 کو انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا اورآئین پاکستان کی شق 160(2) اور 260(3) میں اس کا اندراج کردیا۔ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر بحث کا تمام ریکارڈ اسی وقت سیل کردیا گیا تھا۔ یہ شرط رکھی گئی تھی کہ اسے تیس سال سے کم کے عرصے میں اوپن نہیں کیا جائے گا۔ اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے اب اس وقت کی بحث کے ریکارڈ کو لائبریری میں رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ اسمبلی ترجمان نے بتایا کہ اس وقت بحث کا تمام ریکارڈ پرنٹنگ کے مراحل میں ہے اور جلد اسے لائبریری کا حصہ بنا دیا جائے گا۔
    قادیانی 1974ء سے لے کر اب تک یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ اگر یہ کارروائی شائع ہو جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو جائے گا۔ قومی اسمبلی کی یہ کارروائی اوپن ہونے سے قادیانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوگیا۔ لیکن حیرت ہے کہ اس خبر سے قادیانیوں کے ہاں صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔ کیونکہ اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار مرحوم نے ایک سوال پر کہ ’’قادیانیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ روداد شائع ہوجائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہوجائے گا۔‘‘ کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہ کارروائی ان کے خلاف جاتی ہے۔ ویسے وہ اپنا شوق پورا کرلیں، ہمیں کیا اعتراض ہے۔ ان دنوں ساری اسمبلی کی کمیٹی بنادی تھی اور کہا گیا تھا کہ یہ ساری کارروائی سیکرٹ ہوگی تاکہ لوگ اشتعال میں نہ آئیں۔ میرے خیال میں اگر یہ کارروائی شائع ہوگئی تو لوگ قادیانیوں کو ماریں گے۔‘‘ (انٹرویو نگار منیر احمد منیر ایڈیٹر ’’ماہنامہ آتش فشاں‘‘ لاہور، مئی 1994ئ) سابق اٹارنی جنرل اور معروف قانون دان جناب یحییٰ بختیار نے جس لگن، جانفشانی اور قانونی مہارت سے امت مسلمہ کے اس نازک اور حساس کیس کو لڑا، قادیانی شاطر سربراہوں پر طویل اور اعصاب شکن جرح کے بعد جس طرح ان سے ان کے عقائد و عزائم کے بارے میں سب کچھ اگلوایا، بلکہ اعتراف جرم کروایا، وہ انہی کا حصہ ہے جس پر وہ صد ستائش کے مستحق ہیں۔ بلاشبہ ان کی یہ خدمت سنہرے حروف سے لکھی جانے کے قابل ہے۔ لیکن اس کے برعکس قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کارروائی کے نتیجہ میں قومی اسمبلی کا کوئی ایک رکن بھی قادیانی نہیں ہوا۔ کسی رکن قومی اسمبلی نے کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کیا۔ کسی رکن قومی اسمبلی نے اجلاس سے واک آئوٹ نہیں کیا۔ کسی رکن قومی اسمبلی نے قادیانیوں کی حمایت نہیں کی۔ اس کے برعکس نہ صرف تمام ارکان نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا بلکہ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر کی ٹیم میں شامل ایک معروف قادیانی مرزا سلیم اختر چند ہفتوں بعد قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گیا۔ حالانکہ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر پوری ٹیم کے ساتھ مکمل تیاری سے بڑی خوشی سے قومی اسمبلی گیا۔ اس کے اسمبلی کے اندر داخل ہونے کا انداز بڑا فاتحانہ، تکبرانہ اور تمسخرانہ تھا۔ اس کا خیال تھا کہ میں تاویلات اور شکوک و شبہات کے ذریعے اسمبلی کو قائل کر لوں گا، مگر بری طرح ناکام رہا۔ قادیانی قیادت نے قومی اسمبلی کے تمام اراکین میں 180 صفحات پر مشتمل کتاب ’’محضر نامہ‘‘ تقسیم کی جس میں اپنے عقائد کی بھرپور ترجمانی کی۔ اس کتاب کے آخری صفحہ پر ’’دعا‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے: ’’دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے معزز ارکان اسمبلی کو ایسا نور فراست عطا فرمائے کہ وہ حق و صداقت پر مبنی ان فیصلوں تک پہنچ جائیں جو قرآن و سنت کے تقاضوں کے عین مطابق ہوں۔‘‘ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قادیانیوں کی دعا قبول ہوئی تو وہ قومی اسمبلی کا یہ فیصلہ قبول کیوں نہیں کرتے؟ اور اگر دعا قبول نہیں ہوئی تو وہ جھوٹے ہیں۔
    قادیانی اعتراض کرتے ہیں کہ قومی اسمبلی کی اس کارروائی کو اِن کیمرہ، خفیہ کیوں رکھا گیا۔ یہ کارروائی اخبارات میں روزانہ کیوں شائع نہ ہوئی؟ اس سوال کا جواب قومی اسمبلی کے اس وقت کے سپیکر جناب صاحبزادہ فاروق علی خان نے اپنے ایک انٹرویو میں دیتے ہوئے کہا:
    ’’بحث اور کارروائی کے دوران ایسی باتوں کے پیش آنے کا بھی امکان تھا کہ اگر منظرعام پر آئیں تو مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی تھی۔ قادیانی فرقوں کے رہنمائوں کو بھی بلانا تھا۔ ان کا نقطۂ نظر بھی سننا تھا۔ ظاہر ہے وہ جو کچھ کہتے، مسلمانوں کو ہرگز اتفاق نہ ہوتا۔ لہٰذا کارروائی خفیہ ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ناموس رسالت کا مسئلہ نازک اور حساس ہے۔ مسلمان جان بھی قربان کر دینا ایک انتہائی معمولی بات سمجھتا ہے، لہٰذا کسی بھی خطرناک جذباتی صورتحال سے بچنے کے لیے اس کارروائی کو خفیہ رکھنا ہی مناسب تھا۔ حضور رسالت مآب ﷺ کی ذات گرامی کے ساتھ امت کو جو والہانہ عشق ہے، اس کو زبان و قلم سے بیان کرنا ناممکن ہے۔ اس خفیہ بحث کا فیصلہ کھلا تھا اور اس فیصلے سے ملت اسلامیہ آج تک مطمئن ہے۔‘‘ (قومی اسمبلی کے سابق سپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان سے اختر کاشمیری صاحب کا انٹرویو، روزنامہ ’’جنگ‘‘ جمعہ میگزین 3 تا 9 ستمبر 1982ئ)

    قادیانی کہتے ہیں یہ ایک یکطرفہ فیصلہ تھا۔ یہ بات لاعلمی اور تعصب پر مبنی ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جمہوری نظام حکومت میں کوئی بھی اہم فیصلہ ہمیشہ اکثریتی رائے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ لیکن قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کا فیصلہ شاید دنیا کا واحد اور منفرد واقعہ ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو پارلیمنٹ میں آ کر اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کے لیے بلایا۔ جہاں اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے اس پر، قادیانی کفریہ عقائد کے حوالہ سے جرح کی۔ مرزا ناصر نے اپنے تمام عقائد و نظریات کا برملا اعتراف کیا بلکہ تاویلات کے ذریعے ان کا دفاع بھی کیا۔ لہٰذا ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے 13 دن کی طویل بحث و تمحیص کے بعد آئین میں ترمیم کرتے ہوئے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا لیکن قادیانیوں نے حکومت کے اس فیصلہ کو آج تک تسلیم نہیں کیا بلکہ الٹا وہ مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور انھیں سرکاری مسلمان ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ وہ خود کو مسلمان اور مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اور آئین میں دی گئی اپنی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے۔
    قادیانی کہتے ہیں کہ اس وقت اراکین اسمبلی کی اکثریت زانی اور شرابی تھی۔ انھیں کوئی حق حاصل نہ تھا کہ وہ ایسا فیصلہ کرتے۔ قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے اس وقت اسمبلی کا بائیکاٹ کیوں نہ کیا؟ کیا انہیں وہاں زبردستی لے جایا گیا تھا؟ حالانکہ وہ تو وہاں گئے ہی اس لیے تھے کہ قومی اسمبلی جو بھی فیصلہ کرے گی، ہمیں قبول ہو گا۔ عجیب بات ہے کہ اگر قادیانیوں کو پارلیمنٹ غیر مسلم اقلیت قرار دے تو وہ زانی اور شرابی، اگر سپریم کورٹ انہیں کافر قرار دے تو یہ کہنا کہ یہ تو انگریزی قانون پڑھے ہوئے ہیں، انھیں شریعت کا کیا علم؟ اور اگر علمائے کرام انہیں غیر مسلم کہیں تو یہ اعتراض کہ ان کا تو کام ہی یہی ہے۔

    قادیانی کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 20 کے تحت ہر شہری کو مذہبی طور پر آزادی اظہار ہے۔ آپ کسی پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ (نعوذ باللہ) قرآن مجید میں نئے حالات کے مطابق تبدیلی کر دی گئی ہے۔ اس میں سے کئی آیات خارج کر دی گئی ہیں اور کئی آیات شامل کر دی گئی ہیں اور پھر وہ اس نئے قرآن کی تبلیغ و تشہیر بھی کرے تو کیا اس شخص پر پابندی لگنی چاہیے یا نہیں؟ اگر وہ یہ کہے کہ مجھے آئین کے تحت آزادی اظہار ہے تو کیا اسے یہ اجازت دینی چاہیے؟ پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ہر شخص کو کاروبار کی مکمل آزادی ہے مگر ہیروئن اور منشیات وغیرہ فروخت کرنا سختی سے منع ہے۔ کیا یہ آزادی پر پابندی ہے؟ آزادی چند حدود و قیود کے تابع ہوا کرتی ہے۔ آپ اپنا ہاتھ ہلانے میں آزاد ہیں، جب اور جس طرح چاہیں، اسے ہلا سکتے ہیں۔
    لیکن اگر آپ کے ہاتھ ہلانے سے کسی دوسرے کا چہرہ زخمی ہوتا ہے تو پھر اس کی آزادی کہاں گئی؟ لہٰذا آزادی ایک حد تک ہے۔ آزادی بے لگام یا شتر بے مہار ہو جائے تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ سابق وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دورحکومت میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود قادیانی مسلسل شعائر اسلامی استعمال کرتے ہیں۔ غیر مسلم ہونے کے باوجود اپنی عبادت گاہ کو مسجد، مرزا قادیانی کو نبی اور رسول، مرزا کی بیوی کو ام المومنین، مرزا قادیانی کے دوستوں کو صحابہ کرام، قادیان کو مکہ مکرمہ، ربوہ کو مدینہ، مرزا قادیانی کی باتوں کو احادیث مبارکہ، مرزا قادیانی پر اترنے والی نام نہاد وحی کو قرآن مجید، محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی مراد لیتے ہیں۔ چنانچہ 26 اپریل 1984ء کو حکومت نے مسلمانوں کے پرُزور مطالبہ پر ایک آرڈیننس جاری کیا گیا جس میں قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال سے قانوناً روکا گیا۔ اس آرڈیننس کے نتیجہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/B اور 298/C کے تحت کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا، اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتا، اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر نہیں کر سکتا، شعائر اسلامی استعمال نہیں کر سکتا۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ 3 سال قید اور جرمانہ کی سزا کا مستوجب ہوگا۔ قادیانیوں نے اپنے خلیفہ مرزا طاہر کے حکم پر آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پورے ملک میں شعائر اسلامی کی توہین کی اور آرڈیننس کے خلاف ایک بھرپور مہم چلائی۔ جس کے نتیجہ میں پاکستان کے اکثر شہروں میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوئی۔ قادیانی قیادت نے اس آرڈیننس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ
    قادیانیوں پر پابندی بالکل درست ہے۔ اس کے بعد قادیانیوں نے چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس میں چیلنج کیا، یہاں پر بھی عدالتوں نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ آرڈیننس بالکل قانون کے مطابق ہے۔ قادیانیوں کو آئین میں دی گئی اپنی حیثیت تسلیم کرتے ہوئے شعائر اسلامی استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ آخر میں قادیانیوں نے ان تمام فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ ہمیں آئین کے مطابق آزادی کا حق حاصل ہے، لیکن ہمیں شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ لہٰذا عدالت تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/B اور 298/C کو کالعدم قرار دے۔ سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اس کیس کی مفصل سماعت کی۔
    دونوں طرف سے دلائل دیے گئے۔ قادیانیوں کی اصل کتابوں سے متنازعہ ترین حوالہ جات پیش کیے گئے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ ظہیر الدین بنام سرکار (1993 SCMR 1718) میں قرار دیا کہ کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا اور نہ اپنے مذہب ہی کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ سزا اور جرمانے کا مستوجب ہوگا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ جج صاحبان کسی دینی مدرسہ یا اسلامی دارالعلوم کے استاد نہیں تھے بلکہ انگریزی قانون پڑھے ہوئے تھے۔ ان کا کام آئین و قانون کے تحت انصاف مہیا کرنا ہوتا ہے۔ فاضل جج صاحبان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قادیانی اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں جبکہ دھوکہ دینا کسی کا بنیادی حق نہیں ہے اور نہ اس سے کسی کے حقوق یا آزادی ہی سلب ہوتی ہے۔
    سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ میں لکھا: ’’ ہر مسلمان کے لیے جس کا ایمان پختہ ہو، لازم ہے کہ رسول اکرم ؐ کے ساتھ اپنے بچوں، خاندان، والدین اور دنیا کی ہر محبوب ترین شے سے بڑھ کر پیار کرے۔‘‘ (’’صحیح بخاری ‘‘ ’’کتاب الایمان‘‘، ’’باب حب الرسول من الایمان‘‘) کیا ایسی صورت میں کوئی کسی مسلمان کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا دل آزار مواد جیسا کہ مرزا صاحب نے تخلیق کیا ہے سننے، پڑھنے یا دیکھنے کے بعد اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے؟ ’’ہمیں اس پس منظر میں قادیانیوں کے صد سالہ جشن کی تقریبات کے موقع پر قادیانیوں کے اعلانیہ رویہ کا تصور کرنا چاہیے اور اس ردعمل کے بارے میں سوچنا چاہیے، جس کا اظہار مسلمانوں کی طرف سے ہو سکتا تھا۔ اس لیے اگر کسی قادیانی کو انتظامیہ کی طرف سے یا قانوناً شعائر اسلام کا اعلانیہ اظہار کرنے یا انہیں پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ اقدام اس کی شکل میں ایک اور ’’رشدی‘‘ (یعنی رسوائے زمانہ گستاخ رسول ملعون سلمان رشدی جس نے شیطانی آیات نامی کتاب میں حضور ﷺ کی شان میں بے حد توہین کی) تخلیق کرنے کے مترادف ہوگا۔ کیا اس صورت میں انتظامیہ اس کی جان، مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دے سکتی ہے اور اگر دے سکتی ہے تو کس قیمت پر؟ رد عمل یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی قادیانی سرعام کسی پلے کارڈ، بیج یا پوسٹر پر کلمہ کی نمائش کرتا ہے یا دیوار یا نمائشی دروازوں یا جھنڈیوں پر لکھتا ہے یا دوسرے شعائر اسلامی کا استعمال کرتا یا انہیں پڑھتا ہے تو یہ اعلانیہ رسول اکرم ؐ کے نام نامی کی بے حرمتی اور دوسرے انبیائے کرام کے اسمائے گرامی کی توہین کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب کا مرتبہ اونچا کرنے کے مترادف ہے جس سے مسلمانوں کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز نقض امن عامہ کا موجب بن سکتی ہے، جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کے جان و مال کا نقصان ہو سکتا ہے۔‘‘ (ظہیر الدین بنام سرکار1993 SCMR 1718ئ)
    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں مزید لکھا: ’’ہم یہ بھی نہیں سمجھتے کہ قادیانیوں کو اپنی شخصیات، مقامات اور معمولات کے لیے نئے خطاب، القاب یا نام وضع کرنے میں کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آخر کار ہندوئوں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر برادریوں نے بھی تو اپنے بزرگوں کے لیے القاب و خطاب بنا رکھے ہیں اور وہ اپنے تہوار امن و امان کا کوئی مسئلہ یا الجھن پیدا کیے بغیر پرُامن طور پر مناتے ہیں۔‘‘ (ظہیر الدین بنام سرکار1993 SCMR 1718ئ)
    افسوس ہے کہ قادیانی آئین میں دی گئی اپنی حقیقت کو ماننے سے انکاری ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ اس صورتحال میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں کو آئین اور قانون کا پابند بنائے تاکہ ملک بھر میں کہیں بھی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا نہ ہو۔ حضرت عمر فاروق ؓ کا قول ہے کہ قانون پر عملدرآمد ہی اصل قانون ہے،
    تحریر ۔
    محمد متین خالد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس کاروائی کی مکمل کاروائی ایک کتابی شکل میں ختم نبوت والوں نے شائع کی ہے اس کا نسخہ آپ یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں ، 1974 کی قومی اسمبلی کی کاروائی ، پہلے سے نیٹ پر موجود ہے ،[align=center]جناب اللہ وسایا صاحب کی تالیف کردہ کتاب یہاں موجود ھے

    یہ اس کتاب کا لنک ہے
    [​IMG]
  2. بے باک

    بے باک وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    ۔۔۔۔۔۔
    قادیانیوں کو کافر کیوں کہا گیا ۔ قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی
    سرکاری سطح پر پہلی دفعہ شائع ہو گئی ھے ، اس لیے ان کی حجت ختم ہو گئی ،کہ حکومت اس کو چھاپنے کی ہمت نہیں کر سکتی ، کتاب کا ایک ایک لفظ پڑھنے کے لائق ہے ۔قادیانیوں کو سرکاری سطح پر چھاپی گئی کتاب کا ایک مکمل نسخہ دے دیا گیا ہے ۔اب ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے ،
    اس کتاب کے تقریبا 21 حصے ہیں ،اور اب یہی 21 حصوں پر مشتمل نسخہ ہم الغزالی فورم پرمنظر پر پیش کر رہے ہیں۔
    [/align]


    [​IMG]
  3. بے باک

    بے باک وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    [​IMG]
    یہاں مکمل کاروائی لگائی جائے گی قسط وار ان شاءاللہ ۔
    یہ دستاویز سرکاری سطح پر 38 سال کے طویل انتظار کے بعد شائع ہو رہی ہے ،

    اس کے 21 حصے ہیں اور 3000 سے اوپر صفحات ہیں ۔

    آپ سب دوستوں نے مولانا اللہ وسایا صاحب کی تالیف کردہ کتاب پڑھ لی ہو گی۔ اب 38 سال بعد سرکاری رپورٹ کو عام کر دیا گیا ہے اور اسوقت اس رپورٹ کو صرف اس لیے شائع نہیں کیا گیا تھا کہ کہیں امت رسول محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ان زندیقوں کا غصہ میں قتل عام نہ کر دے ، 1974 میں اس وقت ماحول میں شدید تناؤ تھا ، اس لیے سرکاری سطح پر قادیانی اقلیت کی حفاظت کے لیے اس رپورٹ کو نشر نہیں کیا گیا تھا ۔ یہ قومی اسمبلی کا متفقہ فیصلہ تھا ، اور ان کو کافر قرار دینے پر قانون بنایا گیا ، اسلامی شعار ان کے لیے ممنوع ہیں ۔اور وہ کافر اور زندیق ہیں ۔ یہ واحد متفقہ قومی اسمبلی کا فیصلہ تھا ،جس پر سیر حاصل بحث کی گئی ، اور فریق مخالف کو پوری دلچسپی ،تحمل اور احترام سے سنا گیا ،


    اصل اور مکمل کتاب 21 حصوں پر مشتمل ہے ۔اور وہ ترتیب سے بعد والی پوسٹ میں موجود ہیں ۔
    ایسی رپورٹ کہ آپ ہر صفحے پر سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ کیسے کفریہ عقائد ہیں ۔مکمل کتاب اس کے بعد موجود ہے

    [​IMG]
  4. بے باک

    بے باک وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    اس کتاب کی تمہید کچھ یوں ہے ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    یہ بشیر احمد خان کی رٹ پٹیشن جس میں انہوں نے قومی اسمبلی 1974 والا نسخہ طلب کیا تھا
    بشیر احمد کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر قومی اسمبلی نے محترمہ فہمیدہ مرزا صاحبہ نے اس کی پرنٹنگ کا حکم صادر فرمایا ، اس بارے تفصیل یہاں ملاحظہ فرمائیے ،
    سب سے پہلے 40 لاکھ اور 40 ھزار روپیہ اور بعد میں 6 لاکھ 78 ہزار روپیہ پرنٹنگ پر خرچ ہوئے، یعنی کل 47 لاکھ 18 ھزار روپیہ خرچ آیا ۔ اس کتاب کے 21 حصے ہیں اور یہ ھائی کورٹ کا آرڈر ہے جس سے اسے طلب کیا گیا ہے اور پھر بشیر احمد خان صاحب کو یہ نسخہ ان کے وکیل کی معرفت مہیا کیا گیا ،
    اس کی تفصیل اس فائیل میں دیکھیے ،تاکہ آپ آگاہ رہیں ، کہ یہ نسخہ کیسے منظر عام پر آیا ،
    اگلے مرحلے پر کاروائی ترتیب سے شروع کی جائے گی ، انشاءاللہ تعالی ۔

    [​IMG]
  5. بے باک

    بے باک وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    اس شاندار کتاب کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ فرمائیں ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔

    PART 1 قادیانی وفد سے تحقیقی مرحلہ ۔ پہلا حصہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پارٹ 2 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،

    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی میں قادیانی وفد سے سوالات PART2
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پارٹ 3 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قادیانی وفد سے سوالات PART 3
  6. بے باک

    بے باک وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    پارٹ 4 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART 4
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پارٹ5 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART 5
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پارٹ6 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART 6
  7. بے باک

    بے باک وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    پارٹ 7 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART 7
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پارٹ8 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART 8
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پارٹ 9 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART 9
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پارٹ10 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART10
  8. بے باک

    بے باک وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    پارٹ 11 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART 11
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پارٹ12یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART 12
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پارٹ 13 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART 13
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پارٹ14 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART14
  9. بے باک

    بے باک وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    پارٹ 15 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART 15
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پارٹ16 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART16
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پارٹ 17 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART 17
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پارٹ18یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART 18
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  10. بے باک

    بے باک وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    پارٹ 19 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART 19
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پارٹ20 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART20
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پارٹ 21 یہاں سے ڈاوں لوڈ کرین ،
    [​IMG]
    اس لنک کو کلک کریں ۔۔پی ڈیف ایف فائیل ہے ۔ ماؤس سے رائٹ کلک کرکے save link target as محفوظ کر لیں ۔
    قومی اسمبلی کی کاروائی PART21
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اہم نوٹ ÷÷ یہ مکمل 21 حصے ہیں ۔ ڈاؤن لوڈ میں مشکل پیش آنے پر اپنی شکایت یہاں درج کریں ،

    یہ سب پی ڈی ایف فائلیں ہیں ۔۔ ایکروبیٹ ریڈر یا فوکس اٹ ریڈر سے کھلیں گی ،
    کسی قسم کی مشکل ہونے پر یہاں پیغام چھوڑ سکتے ہیں ،
  11. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,671
    موصول پسندیدگیاں:
    793
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    جناب بے باک صاحب شکریہ ۔ایک بڑی ایم کاروائی پر مشتمل فائل الغزالی پر شیئر فرمائی ۔ اللہ وصایا صاحب کی مرتب کردہ کتاب میں جو باتیں نہ آسکیں تھیں ۔انشا ء اللہ وہ سب اس فائل میں ضرور پڑھنے کو ملے گا ۔ڈاونلوڈنگ میں مشکل در پیش ہے۔
  12. بے باک

    بے باک وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    پسندیدگی کا شکریہ ،
    اس کو اگر کلک کریں گے تو یہ پی ڈی ایف میں کھلنے کی کوشش کرے گی ، اور اسوقت تک نہیں کھلے گی جب تک مکمل ڈاؤن لوڈ نہ ہو جائے ،
    آپ ایسا کریں کہ ماؤس کو فائل پر رکھ کر رائیٹ کلک سیو ایز ،،یعنی محفوظ کریں ، اور آپ کے کمپیوٹر میں ڈاؤن لوڈ ہو جائے گی ، پھر وھاں سے اس کو کھولیں جہاں محفوظ کی تھی ،
    اگر آپ کامیاب نہ ہو سکیں ، تو میں آپ کو ایک زپ فائل میں بنا کر دے دوں گا ، آپ ڈاون کر لیجیے گا ،
    میں رھنمائی کے لیے حاضر ہوں ،
    شکریہ
  13. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بےباک بھائی اللہ کریم آپ کو ہم سب کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے آمین
    ماشاءاللہ بہت بڑی خدمت آپ نے سرانجام دی ہے ۔ ۔۔ جس کی بہت ضرورت تھی اور آپ کی برکت سے یہ کمی پوری ہو گئی ہے
    آپ کے لئے دعا ہے خوش رہیں آباد رہیں
  14. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ایک اہم کتاب جو کئی جلدوں پر مشتمل روداد ہے پیش کرنے پر جزاک اللہ خیرا۔
    ختمِ نبوت زندہ باد
  15. بے باک

    بے باک وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    169
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    http://www.mediafire.com/?t2qrfmg3ge3t1zd
    قادیانیت پر فیصلہ لگانے پر ہماری ویب پر ہیکر اٹیک ہوا ہے ، اور ہو سکتا ہے آپ وہ کتاب ڈاون نہ کر سکیں ،
    اس لیے اس کو مکمل اور کم سائز میں یہاں سے حاصل کریں ۔
    دوستوں سے معذرت خؤاہ ہیں ، اب اس جگہ سے مکمل ایک ہی فولڈر میں سب 21 حصے اکٹھے حاصل کر لیں ، شکریہ
    http://www.mediafire.com/?t2qrfmg3ge3t1zd
  16. گلاب خان

    گلاب خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    112
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    شکریہ بے باک بھای آپ نے کمال کر دیا سچے مسلمان ہونے کا حق ادا کر دیا اللہ آپ کو اس کا اجر صلہ دونو جہانو مے دے آمین ہم سب کی دعایں آپ کے ساتھ ہیں :->~~ :->~~ :->~~ :->~~ :->~~
  17. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,553
    موصول پسندیدگیاں:
    72
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ختمِ نبوت زندہ باد

اس صفحے کو مشتہر کریں