سفر ملتان

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از بنت عبد الحميد, ‏فروری 16, 2018۔

  1. بنت عبد الحميد

    بنت عبد الحميد وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    21
    موصول پسندیدگیاں:
    16
    صنف:
    Female
    ملتان کے لیے کوچ کے سفر کا فیصلہ ہوا
    اتنے لمبے روٹ پر کوچ کا یہ پہلا تجربہ ہے
    سفر کیا بس یوں سمجھیے کہ ہر ہر لمحہ اک احساس ندامت ہے جو شدت سے غالب ہے
    آگے والی سیٹ پر چوبیس پچیس سال کی اک خاتون ساتھ تین سالہ بچی اور بچی کی دادی ۔۔
    ابھی سفر شروع ہی ہوا تھا کہ بچی نے رونا شروع کردیا
    ماں نے جھٹ موبایل نکالا اسمیں پہلے تو نانی کی مورنی پھر کاٹھی کے گھوڑے سے بہلانے کی کوشش کی گئی مگر جب اسمیں کامیابی نا مل۔سکی تو
    ماں نے اگلا کام یہ کی انڈین گانوں کی وڈیوز کی اک لمبی پلے لسٹ آٹو پر لگا کر سیل بچی کے ہاتھ میں پکڑا دیا ۔۔۔
    اور دوا نے تو جیسے گویا امرت کا کام کیا تین سالہ بچی ایک دم شانت ۔۔۔
    اب پوری کوچ ان گانوں سے اور ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے حضرات ویڈیو سے بھی " محضوض " ہوتے رہے ۔۔۔معصوم بچی بھی بدلنے منظروں مین کھو چکی تھی
    جی چاہ رہا تھا بچی کے ہاتھ سے سیل چھین لیا جاے
    ماں تو ماں دادی پر رونا آیا کہ اک زمانے مین ماوں سے بڑھ کر دادی نانیاں اخلاقی تربیت کیا کرتیں تھیں ۔۔۔
    مگر کیا کیجیے کہ آج کل دادی نانیوں نے بھی اپنا کام چھوڑ دیا ۔۔۔
    خیر وہ بچی اسی گانوں کی اواز اور بدلتے منظروں میں سوگئی ۔۔۔
    اس کے سونے کے بعد شکر ادا کیا کہ اب اس اواز سے نجات نصیب ہوگی مگر ۔۔یہ بھی بس ہماری خوش فہمی تھی ۔۔۔
    اب ماں کی باری تھی ۔۔
    وہی لسٹ ری پلے کر دی گئی ۔۔۔ ہم نماز پڑھ کر قرآن پڑھنے میں دھیان لگانے لگے مگر توجہ با مشکل ہی لگ رہی تھی انکو متوجہ کرنے کا خیال کئی بار جھٹکا کہ کہیں یہ نا سوچیں کہ قران پڑھ کر احسان کررہی ہیں مگر بہت دیر کوشش میں ناکام ہوکر بالاخر ہمت کی اپنے داہنے ہاتھ میں سیل پکڑ کر اگے کیا اور دھیرے سے سرگوشی کی ۔۔" بہن آواز دھیرے کرلیں میرے قرآن پڑھنے میں مشکل۔ہورہی "
    اللہ انہیں جزا دے کہ اواز بند کردی گئی ۔۔
    نماز قرآن سے فارغ ہوکر کچھ دیر کوچ میں سکون رہا ہماری بھی انکھ لگ گئی ۔۔۔
    ڈھائی بجے اک اواز نے جگا دیا سکھر اگیا ہے دس منٹ کی بریک ہے جاگ جائیں سب ۔۔۔
    نیچے اترے چایے پی واپس اپنی جگہیں سنبھالیں ۔۔
    بچی اک بار پھر جاگ چکی تھی اور اسی طرح رونے کا پروگرام بناے بیٹھی تھی ماں نے پھر سے سیل نکالا اور فرمایا
    اچھا آنٹی لگا کر دیتی ہوں ۔۔۔
    دادی کی گود میں بیٹھی ٹھنکتی ہوئی بچی کو گانے اواز پر اک دم جیسے قرار سا اگیا ۔۔۔
    دادی کی اک اواز آئی کہ " ہن بند کر چھڈ صبح تیرے دادے کا فون اسی تے بیٹری نا ہوسی "
    یعنی بند کرنے کی وجہ بھی بیٹری اور دادے کا فون ۔۔۔
    مگر بچی اب سیل بند بھی نہیں کرنے دے رہی تھی ۔۔
    تہجد کا وقت کوچ کے ڈرائیور کے کرتبوں سے لڑھکتے گرتے سنبھلتے دعائیں کرتے ہم پھر اک بار اس پلے لسٹ کو سننے پر مجبور دکھ سے بس یہی سوچ رہے ہیں کہ "
    یہ نسل ایسے ہی نہیں بگڑی اس نسل کی ماں بگڑ گئی "
    کبھی مائیں لوریوں رسولون کی کہانیاں سنا کر بچوں کو سلایا کرتی تھیں ۔۔
    اج کی ماں نے کیسا آسان حل۔نکالا ہے مگر اسے اس بات کا ادراک نہی. کہ وہ اپنی اولاد کو کس زہر کا عادی بنا رہی
    اسکی رگوں مین کیسا نشہ گھول۔رہی ۔۔۔
    سچ کہا میرے رب نے ۔۔۔
    ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا پھر اسکے ماں باپ ہیں جو اسے جو بھی چاہیں بنادیتے ۔۔
    وہ یہود و نصاری ہو
    ۔بے حیا یا باحیا
    باکردار ہو یا بدکردار
    اس میں ماں باپ کا کتنا بڑا کردار ہوتا ۔۔۔۔..
    بچی سو چکی ہے دعا کیجیے ہمیں کچھ دیر نیند آجاے ۔۔۔۔
    کہ زمانے کے تیور تو نہیں سلانے والے
    ملتان پہنچنے تک اور نجانے کتنی بار وہ پلے لسٹ ری پلے کی جاےگی ۔۔۔۔
    اشماریہ اور محمدداؤدالرحمن علی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,290
    موصول پسندیدگیاں:
    1,707
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اللہ تعالی والدین کو بچوں کی صحت معنوں پرورش کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین

اس صفحے کو مشتہر کریں