سورج کی شعاعوں سے جلد متاثر ہوتی ہے

'سائنس و ٹیکنالوجی' میں موضوعات آغاز کردہ از Dr. C.Y.S. Khan, ‏جون 10, 2011۔

  1. Dr. C.Y.S. Khan

    Dr. C.Y.S. Khan وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    سورج کی شعاعوں سے جلد متاثر ہوتی ہے

    سورج کی شعاعوں کی زد میں کھلے رہنے سے جلد پر ہونے والے ردعمل کوسورج سے حساسیت(Sun Sensitivity) کہتے ہیں۔ اس حساسیت کی پیمائش اس بنا پر کی جاتی ہے کہ آپ کتنی دیر تک شعاعوں کی زد میں رہتے ہیں۔ اس وقت سورج کی شعاعوں کاWave Length کیا ہوتا ہے۔ اس حساسیت کا اندازہ جلد میں موجود (Pigmentation) رنگت پر بھی منحصر ہوتا ہے ۔ زیادہ دیر تک دھوپ سینکنے سے Acute Reaction سخت ردعمل ہوتا ہے ۔ جلد اتنی جھلس جاتی ہے جیسے کہ آگ میں جھونک دیا گیا ہو۔ دھوپ میں جھلسنے کی درجہ بندی بھی اسی طرح کی جاتی ہے جس طرح آگ میں جلنے والوں کی کی جاتی ہے۔ پہلے ڈگری میں جلنے کی حد اوپری تہہ یعنی Epidermis تک ہوتی ہے۔ دوسری ڈگری میں Dermis جو جلد کی اندرونی تہہ تک۔ جلد کے یہاں تک جھلسنے یا جلنے سے زخموں کے مندمل ہونے کے نظام کوکوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ تیسری ڈگری کی آگ دونوں تہوں کو تباہ کر دیتی ہے اور جلد کی از خود تجدید نو کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔سورج کی شعاعوں کی زد میں رہنے سے جلد کی اوپری سطح سخت ہوجاتی ہے اور رنگ(Pigment) پیدا کرنے والے سیلس میلانن(Melanin) پیدا کرتے ہیں جس کی وجہ سے جلد کی رنگت جھلس کر کالی یا سانولی ہوجاتی ہے۔ اس صورت حال کو Chronic Reaction کہتے ہیں۔
    اگر یہ دھوپ میں رہنے کا عمل برسوں تک دہرایا جائے اور اس میں زیادتی ہو تو اس کے نتیجہ میں کینسر کا مرض بھی لاحق ہوسکتا ہے۔ سورج کا غسل(Sun Bath) کرنے والے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ سانولی رنگت صحت مندی کی علامت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کھال کے جلنے سے ہی جلد کا رنگ سانولا ہوتا ہے۔ سورج جلد کے کچھ سیلس کو جلا چکا ہوتا ہے اور کچھ سیلس کو زخمی کردیتا ہے جس کی وجہ سے جلد کی رنگت جھلسی ہوئی یا تانبے کی رنگت لئے ہوئے ہوتی ہے۔سخت دھوپ جلد کو خشک کردیتی ہے جس کے نتیجے میں قبل از وقت جلد پر جھُریاں نمودار ہوجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض افراد غیر معمولی الرجک رد عمل کا بھی شکار ہوتے ہیں جسےPhoto Sensitivity کہتے ہیں۔ ایسے لوگ سورج کی روشنی چند منٹ بھی برداشت نہیں کرسکتے۔اس حساسیت کے لئے دوسرے امور بھی ذمہ دار رہتے ہیں جیسے ڈرگس،ریڈیشن ٹریٹمنٹ،ہارمون میں تبدیلی وغیرہ۔نئی تحقیق کے مطابق طویل الٹراوائلٹ (Ultra Voilet-A) شعاعیں بھی جلد پر اثر کرتی ہیں جس سے جلد پر چھالے اور آبلے آسکتے ہیں ۔ ایسے شعاعوں سے بچنے کے لئے Sun Screen's استعمال کریں جس میں(Photo Flex) استعمال کیا جاتا ہے۔
    یہ حساسیت کیوں ہوتی ہے؟
    جلد کے سانولے پن یا جھلسنے کے لئے نظر نہ آنے والی شارٹ الٹراوائلٹ -بی(Ultra Voilet-B) شعاعیں ذمہ دار ہوتی ہیں۔ ہر ایک کی جلد ایک حد تک UV-B شعاعوں سے زودحس(Sensitive) ہوتی ہے۔ لیکن گوری جلد والے افراد اس کا بہت جلد شکار ہوتے ہیں بہ نسبت کالی جلد والوں کے۔۔۔بھوری،پیلی یا کالی جلد والے بھی ان شعاعوں سے کم ہی متاثر ہوتے ہیں۔
    جلد پر ہونے والے شعاعوں کے مضر اثرات کا انحصار شعاعوں کی ریڈیشن کی مقدار،مقررہ وقت اور ماحول اور موسم کی مطابقت پر ہوتا ہے کہ دنیا کے کونسے حصے میںUV-B کا اثر کتنا ہوتا ہے۔مثلاً خطِ استوا (Equator) کے قریب رہنے والے الٹراوائلٹ کی حدت زیادہ محسوس کرتے ہیں۔ اس لئے یونائٹیڈ اسٹیٹ کے جنوب کے آدھے حصے میں رہنے والوں میں جلد کی بیماریاں زیادہ ہوتی ہیں اور سورج کی شعاعیں ان کی جلد پر بہت جلد اثر انداز ہوتی ہیں۔
    اس کے بر عکس شمالی علاقوں میں رہنے والے ان شکایتوں کا بہت کم شکار ہوتے ہیں۔
    سورج کی شعاعیں جلد پر صبح دس بجے سے سہ پہر تین بجے تک مضر اثرات مرتب کرتی ہیں اس لئے کہ اس دوران شعاعیں تیز ہوتی ہیں۔دھوپ میں جھلسنے کی شکایتیں عموماً موسم گرما میں ہوتی ہیں لیکن موسم سرما میں بھی جہاں سورج کی شعاعیں برف سے ٹکراتی ہیں وہاں بھی دھوپ سے جھلسنے کی شکایت ہوسکتی ہے ۔ اس حساسیت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ایک فرد سورج کی شعاعوں کی تمازت کا کہاں تک تاب لاسکتا ہے۔دھوپ سے حساسیت بڑھانے میں بعض ادویات اور روز مرہ کے اشیاء بھی ذمہ دار ہوتے ہیں جیسے کاسمٹکس،خوشبویات،خارجی ادویات وغیرہ۔ مانع حمل کی گولیاں،اینٹی بیوٹکس ،صابن اور کریم بھی دھوپ میں جلد کی حساسیت بڑھاتے ہیں۔ جلد پر استعمال کی جانے والی کریم جس میں وٹامن اے ہوتا ہے وہ بھی جلد کی Sensitivity بڑھاتی ہے۔​
  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,631
    موصول پسندیدگیاں:
    791
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    آفتابی غسل کے رسیا اور خواتین کے لئے بڑی کار آمد پوسٹ ہےہم جیسے دیہاتی سورج کی شاعوں سے بچ بھی جائیں تو وقت کی لوح جینے نہیں دیتی۔
    الغزالی فیملی ڈاکٹر صاحب کی بڑی شکر گزار ہے کہ اپنی تحقیقات وتجربات سے الغزالی قارئین کی رہنمائی فر ماتے رہتے ہیں کاش ہمارے قارئین ومنتظیمین اور زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ۔ ڈاکٹر صاحب کی طرف سے یہ شعر نذرِ قارئین ہے۔
    تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
    ورنہ گلشن میں علاجِ تنگی داماں بھی ہے ۔
  3. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    شئیرنگ پر آپ کا بہت بہت شکریہ

اس صفحے کو مشتہر کریں