سوچوقبل اس کے کہ لوگ تمہارے بارے میں سوچیں؟

'حالات حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏جنوری 13, 2013۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    جدید علوم کے ساتھ گمراہ اقوام کی تہذیب کے وہ ناخوشگوار پہلو جن کے بغیر علوم کو لینا ممکن نہ ہو اگر ایک من نمک میں ایک سیر کھانڈ ملاکر ڈالدیں توچیونٹی کھانڈ کو چن لے گی اور نمک کو چھوڑ دے گی پھر جو چیز جیونٹی جیسے حقیر جاندار کے لئے ممکن ہے وہ کیا انسان کے لئے ممکن نہیں ہوسکتی ۔
    الف:زبان اوراسالیب بیان کی قسم کے جواثرات ہیںان کومعمولی غور فکر سے سمجھا جاسکتاہے اور اگر آدمی کا ذہن بے داغ ہوتو ان کو سمجھ لینا ہی ان کے مضر اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے کافی ہے المنجد موجودہ زمانہ میں عربی کا ایک مشہور ترین مختصر لغت ہے جو جدید طرز ترتیب کا حامل ہونے کی وجہ سے مسلم طلبہ میں بے حد مقبول ہواہے اس لغت کا مصنف ایک عیسائی ہے چنانچہ اس نے کتاب کے مختلف مقامات پر عیسائیت کے مخصوص عقائد کو لغت میںٹھوس نے کی کوشش کی ہے مثلا ً لفظ عذراء کی تشریح میں یہ الفاظ درج ہیں لقب السیدۃ مریم والدۃ الالٰہ المتجسد عذراء حضر ت مریم کا لقب ہے جو والدہ ہیں خدائے جسمانی کی اسی طرح لفظ مسیح کے تحت لکھاہواہے لقب الرب یسوع ابن اللّٰہ متسجد۔مسیح خدائے یسوع کا لقب ہے جو اللہ کے بیٹے ہیں جسمانی ۔
    ایک طرف تو بیان لغت کے پردے میں ادنی ادنیٰ مناسبتوں کو ڈھونڈ کر خالص فنی کتاب میں عیسائی عقائدکا پرچار کیا گیاہے اور دوسری جانب یہ حال ہے ک لفظ احمد اور محمد کا ذکر آتاہے تو صرف لفظی ترجمہ کرکے آگے بڑھجاتاہے اور اس کا ذکر تک نہیں آتا کہ یہ لفظ دنیامیں کسی ہستی کا نام بھی ہے یہ کتاب کم ازکم چوتھائی صدی عربی درسگاہوں میں کثرت سے استعمال ہورہی ہے مگر مسلم طلبہ کے عقائد میں اس کی وجہ سے ادنیٰ نقصان بھی نہیں ہواہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ لغت مسلمانوں میں عموماً ایسے لوگ استعمال کرتے ہیں جو اسلام اور غیر اسلام سے بخوبی واقف ہوتے ہیں نتیجہ یہ ہے کہ اسلامی علوم کے ان طلبہ کو اس طرح کے بیانات صرف مضحکہ خیز نظر آتے ہیں وہ کسی طرح ان کو متأثر کرنے کا باعث نہیں بنتے اسی طرح جدید علوم کے طلبہ اگر دین سے واقفیت کا اہتمام کرلیں اور اس کے بارے میں پہلے سے باشعور ہوںتو یقینی طور پر وہ زبان وبیان میں نفوز کی ہوئی گمراہیوں سے بچ سکتے ہیں ایسی صورت میں وہ اس طرح کی چیزوں کو پڑھ کر حقارت کے ساتھ انہیں رد کردیں گے نہ یہ کہ ان سے متأثر ہوں ۔
    ب:
    یہی صورت علمی نظریات کے سلسلہ میں پیش آئے گی حقیقت یہ ہے کہ اس دنیاکا کوئی بھی واقعہ بذات خود مذہب کی تردید نہیں کرتا یہ صرف واقعات کی خود ساختہ توجیہات ہیں جنہوں نے سارے علوم کو مذہب سے بیگانہ بنادیاہے چند مثالیں لیجئے ۔
    ’’کچھ سنا آپ نے روس کا بنایا ہوا راکٹ چاند پر پہونچ گیا ‘‘
    ’’ہاں میں نے بھی آج ہی یہ خبر پڑھی ہے ‘‘
    ’’اب مذہب کا کیا ہوگا،اب تو خداوہ مذہب کے تصورات پر نظر ثانی کرنی ہوگی‘‘
  2. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    زبردست اور مفید تحریر پیش کرنے پر آپ کا شکریہ
  3. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    458
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    زبردست اور مفید تحریر پیش کرنے پر آپ کا شکریہ

اس صفحے کو مشتہر کریں