سپین کی تاریخی ’’مسجدقرطبہ‘‘ کو گرجے کی تحویل میں دینے کی تیاریاں

'عالمی سیاست' میں موضوعات آغاز کردہ از محمدداؤدالرحمن علی, ‏مئی 5, 2014۔

  1. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    5,952
    موصول پسندیدگیاں:
    1,532
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    [​IMG]
    برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 13 سو سال قدیم اسپین کی تاریخی ’’مسجد قرطبہ‘‘ کے عین وسط میں 15 ویں صدی اسپین سے مسلم مملکت کے خاتمے کے بعد سے گرجا قائم ہے، مسجد میں نماز تو ادا نہیں ہوتی لیکن یہاں باقاعدگی سے عیسائی عبادت ہوتی ہے، یہ مسجد اس وقت ریاست کی ملکیت ہے لیکن اس کا انتظام اسی گرجے کے ہاتھ میں ہے، ملک کے قانون کے تحت اب اس مسجد کو گرجے کی ملکیت قراردیا جارہا ہے۔

    مسجد قرطبہ کو گرجے کی ملکیت قرار دیئے جانے کے خلاف اسپین ہی میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد احتجاج کررہے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ مسجد قرطبہ اسپین کی تاریخ کی علامت ہے، اس عمارت کی اسلامی تاریخ کو مٹانا ناممکن ہے، اگر گرجے کے ساتھ منسلک مسجد کا نام ہٹایا گیا تو یہ تاریخ اور اس عمارت کی یادگار کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ اسی مقصد کی خاطر اسپین کے ساڑھے 3 لاکھ سے زائد شہریوں نےآن لائن پیٹیشن داخل کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مسجد قرطبہ کی عمارت کو گرجے کی ملکیت نہ بنایا جائے۔

    دوسری جاب گرجے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ گرجے سے قبل یہ ایک مسجد تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ جگہ کئی صدیوں سے مسیحی عبادات کے لئے مخصوص ہے اس لئے مسجد کی ملکیت کے سلسلے میں کی جانے والی تنقید منصفانہ نہیں۔

    واضح رہے کہ مسجد قرطبہ کی تعمیر آٹھویں صدی عیسوی میں شروع ہوئی تھی اور سات صدیوں تک ہر آنے والے مسلمان حکمران نے اس کی تزئین و آرائش میں اپنا حصہ ڈالا تھا، اس مسجد کو دیکھنے ہر سال دنیا بھر سے 14 لاکھ افراد آتے ہیں۔
    ایکپریس
    عامر اور بنت حوا .نے اسے پسند کیا ہے۔
  2. نورمحمد

    نورمحمد وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,119
    موصول پسندیدگیاں:
    353
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    انا للہ ۔ ۔۔

    اے حرم قرطبہ ! عشق سے تیرا وجود

    عشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بود

    تیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیل

    وہ بھی جلیل و جمیل ، تو بھی جلیل و جمیل

    علامہ اقبال رح
    عامر نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں