سید محمد جونپوری کی مہدوی تحریک قسط2

'تاریخ اسلام' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جنوری 25, 2012۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,655
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    سید محمد جونپوری کی مہدوی تحریک قسط2​

    سید محمد جونپوری سلطان محمود شرقی ( 1440ء۔ 1457ء) کے عہد میں سوموار 14/جمادی الاولیٰ 842ھ مطابق 9/ ستمبر 1443ھ جو نپور میں پیدا ہوئے ،ان کے والد بزرگوار کا نام سید خال اور والدہ محترمہ کا نام بی بی آخا تھا جو بعد میں ان کے مریدوں نے بدل کر ظہور مہدی کے روایات کے مطابق سید عبد اللہ اور بی بی آمنہ کر لیا تھا۔

    شجرہ نسب
    سید عبد اللہ بن عثمان بن موسیٰ بن قاسم بن نجم الدین بن عبد اللہ بن یو سف بن یحییٰ بن نعمت اللہ بن اسماعیل بن موسیٰ کا ظم بن جعفر صادقؒ بن محمد بن باقر ؒبن علی بن زین العابدین بن سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ بن حضرت علی بن طالب رضی اللہ عنہ
    سید محمد جب چار سال چار دن کے ہوئے تو ان کے والد نے ان کو بڑے بھائی سید احمد کے ساتھ شیخ دانیال خضری جو نپوریؒ کی شاگردی میں دے دیا۔
    آپ بچپن ہی سے بڑے ہو نہار اور بلا ذہین تھے ۔ انہوں نے سات سال کی عمر میں حفظ قرآن اور بارہ سال کی عمر میں تمام علوم ظاہری کی تحصیل مکمل کر لی تھی ۔ان کی وسیع معلومات ، کثرت مطالعہ اور غیر معمولی ذہانت سے بڑے بڑے علماء دنگ رہ جاتے اسی بناء پر انہیں اسد العلماٰ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا ۔
    مہدویوں کے علاوہ معاصرین اور متاخرین علما وصوفیاء نے بھی ان کی علمی استعداد اور قابلیت اور زہد وتقویٰ کی تعریف کی ہے ۔ مولانا عبد القادر بدایونی لکھتے ہیں کہ کوئی شخص ان کی قابلیت اور خوبیوں سے انکار نہیں کر سکتا ۔ مولنا جمال الدین ،علامہ ابو الفضل میاں ،حاتم سنبھلی اور شیخ علی متقی جیسے علماءئے نا مدار نے بھی ان کی علمی قابلیت اور زہد وورع کی تعریف کی ہے اور ان کی بزرگی تسلیم کی ہے ۔
    مہدوی کتابوں میں لکھا ہے کہ ان کو بہت چھوٹی عمر ہی میں یہ روحانی اشارے ہوا کرتے تھے کہ وہ ''مہدی آخرا لزماں'' ہوں گے اور یہ بھی کہ خواجہ خضر علیہ السلام ان کو غائبانہ طور پر روحانی تعلیم دیا کرتے تھے انہوں نے ان کو ذکر خافی بھی سکھایا تھا جس کا وظیفہ وہ کھوکھر کی مسجد جونپور میں دریائے گو متی کے کنارے کیا کرتے تھے ۔
    سید محمد جو نپوری نے تعلیم سے فارغ ہو کر چھوٹی عمر ہی میں درس وتدریس کا سلسلہ شروع کر دیا اور ان کے درس میں بے شمار طلباء اور عقیدتمندوں کا جمگھٹا لگا رہتا ۔ان کے درس میں امیر وغریب ہر سطح کے لوگ شامل ہو تے ۔ ان میں سے ایک سلطان حسین شرقی والی جونپور بھی تھے وہ ان کے علم ومعرفت کے بڑے گر ویدہ تھے اور ان سے اپنی وابستگی کا اظہار فخر سے کیا کرتے تھے ۔
    جب سید محمد چالیس سال کے ہوئے تو سلطان حسین شرقی کے کئی بار درخواست کر نے کے با وجود 887ھ/ 1482ء میں جونپور سے ہجرت کر گئے تا کہ وہ ملک کے دوسرے علاقوں میں جا کر تبلیغ کریں اس سفر میں ان کے ہمراہ ان کی زوجہ محترمہ اللہ دی بیٹے سید محمود ، خلیفہ میاں شاہ دلاور اور شیخ بھیک اور بہت سے دوسرے احباب بھی تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ دانا پور ( عظیم آباد، پٹنہ) پہنچے تو ان کی زوجہ محترمہ ، بیٹے سید محمود اور خلیفہ شاہ دلاور کو روحانی اشارہ ہوا کہ وہ مہدی ہیں اور اپنے مہدی ہو نے کا اعلان کردیں ۔انہوں نے خود بھی اس اشارے کی تصدیق تو کی مگر فر مایا کہ اس حقیقت کا اعلان ہم خدا کے حکم سے ایک معینہ وقت پر کریں گے ۔ دانا پور سے پھر وہ کالپی وچندیری ہو تے ہوئے ما نڈو پہنچے ۔وہاں کے بے شمار لوگ ان کے پاکیزہ اخلاق، سنت نبوی کی اتباع اور مواعظ حسنہ سے ہدایت یاب ہوئے ۔سلطان غیاث الدین خلجی ( 1469 ۔ 515ء) والی مالوہ کو جب ان کے علم ومعرفت کی خبر ہوئی تو اس نے بھی ان کی زیارت کی خواہش کی لیکن اس وقت اپنے بیٹے نصیر الدین ( 1500۔1511ء) کے زیر حراست تھا ۔اس لئے اپنی حسرت کو پورا نہ کر سکا ۔ تاہم اس نے ان کی پیغام بھیجوایا کہ وہ اپنے چند مریدوں کو میرے پاس ضرور بھیجیں تاکہ میں ان سے مستفید ہو سکوں ۔اس پر انہوں نے اپنے دو مریدوں سید سلام اللہ اور میاں ابو بکر کو اس کے پاس بھیجا ۔ سلطان غیاث الدین خلجی نے ان پر سونے اور چاندی کے سکوں کی بارش کر دی اور ان سے سید محمد جو نپوری کے متعلق بڑی تفصیل سے دریافت فر مایا ۔ان کے جوابات سے وہ بڑا متاثر ہوا اور ان کے مہدی آخر الزماں ہو نے پر ایمان لے آیا ۔اس نے ان کو بطور فتوح کے بہت سے مال وزر نذر کیا لیکن انہوں نے ان کی طرف نگاہ تک نہ کی اور خود رکھنے یا مریدوں میں تقسیم کرنے کے بجائے اس کو سلطان کے ملازموں ہی میں بانٹ دیا ۔جب لوگوں نے ان سے سوال کیا کہ انہوں نے اس رقم کو کیوں قبول نہیں کیا تو فر مایا کہ میرے مرید اور ارادتمند کسی دنیاوی مال ومتاع کے لالچ کے بغیر خدائے برحق کی تلاش میں ہیں اور انہیں ایسی چیزوں کی ضرورت نہیں ۔

  2. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,317
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین

اس صفحے کو مشتہر کریں