سیرت نبوی کا مطالعہ ہم کیسے کریں؟

'افکارِ قاسمی شمارہ 6: مئی 2013' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏مئی 20, 2013۔

  1. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    <div style="direction:rtl;"><TABLE border="1" width="800">
    <table border="1" width="600" align="center">
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:36px; padding:20px;">
    سیرت نبوی کا مطالعہ ہم کیسے کریں؟
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:center; font-size:26px; padding:20px;">
    محمد وقاص مانسہروی (جامعہ دار العلوم کراچی، پاکستان)
    </td>
    </tr>
    <tr>
    <td style="text-align:justify; font-size:22px; padding:20px;">
    حضرت محمد ﷺ نے بعثت کے بعد آپ نے اپنے آپ کو دنیا کے سامنے اس حیثیت سے پیش کیا کہ آپ نبی ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی طرف بھیجا ہے تاکہ ان کے سامنے اس حقیقت کا اثبات کریں جس کے ساتھ گزشتہ انبیاء مبعوث ہوئے تھے اور انہیں ان ذمہ داریوں کا احساس دلائیں جن کی یاد دہانی گزشتہ انبیاء نے اپنی قوموں کو کی تھی۔ آپ ﷺ نے واضح کردیا کہ آپ سلسلہ انبیاء کی آخری کڑی ہیں۔ دوسری جانب آپ ﷺ نے اپنا تعارف اس حیثیت سے بھی کرایا کہ آپ دوسرے انسانوں کی طرح بس ایک انسان ہیں۔ آپ ﷺ کے اندر بھی انسانیت کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں اور اس کے تمام احکام نافذ ہوتے ہیں، دوسرے انسانوں کے مقابلے میں اگر آپ کا کچھ امتیاز ہے تو بس یہ کہ اللہ تعالیٰ وحی کی وساطت سے آپ ﷺ کو امین بنایا ہے کہ تمام انسانوں تک اللہ کا پیغام پہنچادیں جس سے انہیں اپنی شخصیتوں کا عرفان حاصل ہوجائے اور انہیں معلوم ہوجائے کہ مملکتِ الٰہی کے نقشے میں زمان و مکان کے اعتبار سے اس دنیاوی زندگی کا کیا مقام ہے؟ اور یہ کہ مرنے کے بعد ان کا آخری انجام کیا ہوگا؟ ساتھ ہی وہ یہ بھی جان لیں کہ ان کے اختیار طرز عمل کا ان کے تشخصات سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ یعنی ان پر لازم ہے کہ اپنے ایمان و یقین اور اختیاری طرز عمل میں اللہ کے بندے بن کر رہیں جس طرح کہ یہ بندگی ان میں اضطراری طور سے پائی جاتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ہر موقع پر ان کے سامنے واضح کیا کہ آپ اس پیغام کو مضمون ہیں جسے تمام انسانوں تک پہنچانے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے آپ کے اوپر ڈالی ہے۔ کچھ بھی کمی بیشی یا تبدیلی نہیں کرسکتے۔ خود ارشاد باری تعالیٰ نے اس حقیقت کو واشگاف کیا؛
    وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ۔ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِـزِيْن (الحاقۃ)
    ترجمہ: اور اگر (بالفرض) یہ پیغمبرکچھ (جھوٹی) باتیں بناکر ہماری طرف منسوب کردیتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑتے، پھر ہم ان کی شہہ رَگ کاٹ دیتے پھر تم میں سے کوئی نہ ہوتا جو ان کے بچاؤ کے لیے آڑے آسکتا۔
    آنحضرت ﷺ نے خود کو دنیا کے سامنے سیاسی لیڈر، قومی رہنما، مفکر، مکتب فکر کے بانی یا معاشرتی مصلح کی حیثیت سے پیش نہیں کیا۔ یہی نہیں بلکہ آپ کی پوری زندگی میں کسی ایسے رویے کا اظہار نہیں ہوتا جس سے اشارہ ملتا ہو کہ آپ نے ان میں سے کوئی چیز حاصل کرنے کے لیے ذاتی کوشش بھی کی ہو۔ جب معاملہ یہ ہو تو کسی ایسے انسان کی زندگی کا مطالعہ کرتے وقت قریب عقل و انصاف کی بات یہ ہے کہ اس کی پوری زندگی کا مطالعہ اس تشخص کے آئینے میں کریں جس کی بنیاد پر اس نے خود کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ تاکہ ہم اس کی بات کو پرکھ سکیں اور اس کی صحت یا عدم صحت کے دلائل کو آشکارا کرسکیں۔ یہ چیز ہم پر لازم کرتی ہے ہم اس کی زندگی کے تمام انسانی اور نجی پہلوؤں کا مطالعہ کریں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان سے ایسے رہنما خطوط حاصل کرسکیں جن کے ذریعے علمی اور معروضی دلائل کے ساتھ اس تشخص کی حقیقت آشکارا کی جاسکے جس کی بنا پر اس نے خود کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نبوت و رسالت کے معانی میں غورو خوض کرنے پر مجبور نہیں ہیں۔ جن کی طرف آنحضرت ﷺ نے لوگوں کو متوجہ کرنا چاہا تھا۔ لیکن ہماری یہ بات اس وقت قابل قبول ہوسکتی تھی جب معاملہ ہمارے انجام کے متعلق نہ ہوتا اور اس کا ہماری آزادی اور ہمارے طرز عمل سے کچھ تعلق نہ ہوتا۔ لیکن جب صورت حال یہ ہو کہ اس مسئلے کا ہماری ذات سے گہرا تعلق ہے اور اگر وہ مبنی بر حقیقت ہے تو اس سے علم و معرفت اور سیرت و کردار کے معاملوں میں ہم پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن کی انجام دہی کے لیے اگر ہم کوشش نہ کریں تو بدبختی، محرومی اور ہلاکت ہمارا مقدر ہوگی۔ جب صورت حال یہ ہو تو یہ چیز بڑی خطرناک ہوگی کہ ہم اس مسئلے کو اپنی ذات سے غیر متعلق تصور کریں یا اس سے بے توجہی کے ساتھ گزر جائیں۔ اس صورت میں یہ چیز کتنی بے موقع اور مہمل ہوگی کہ ہم آنحضرت ﷺ کی شخصیت کے اس پہلو کا مطالعہ کرنے سے تو اعراض کریں جسے آپ ﷺ نے خود دنیا کے سامنے پیش کیا اور دیگر ان پہلوؤں میں غور و خوض کرنے میں لگے رہیں جن کا ہماری زندگی سے کوئی تعلق ہے نہ آپ کی سیرت کے مذکورہ پہلو سے ان کا دور کا بھی رشتہ ہے۔ یقیناً اس سے بڑا مذاق اور کیا ہوگا کہ ایک شخص ہمارے سامنے کھڑا ہوکر اپنی شخصیت کا تعارف کرائے، وہ بتائے کہ “میں اللہ کا نبی ہوں “ پھر پورے یقین کے ساتھ آئندہ زندگی کے بارے میں ڈرائے اور کہے؛
    ”اللہ کی قسم جس طرح تم لوگ سوتے ہو اسی طرح ایک دن مرجاؤ گے اور جس طرح نیند سے بیدار ہوتے ہو اسی طرح ایک دن مر کر اٹھو گے۔ اللہ کی قسم! اس کے بعد یا تو ہمیشہ کے لیے جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوگے یا ہمیشہ کے لیے جہنم کے عذاب کو جھیلو گے۔ “
    لیکن ہم اس کی شخصیت کو پہچاننے اور اس کی باتوں پر دھیان دینے کے بجائے بس اس کی عظمت، فصاحت یا حکمت میں غور کرتے رہیں؟ کیا اس کی مثال ایسی نہیں ہے کہ تم چوراہے پر کھڑے ہو، تمہاری سمجھ میں نہیں آرہا ہو کہ کدھر جائیں، اس درمیان میں ایک شخص تمہارے پاس آئے اور تمہیں بتائے کہ فلاں راستہ سیدھا اور منزل مقصود تک پہنچانے والا ہے اور بقیہ راستے منزل سے دور لے جانے والے اور ہلاکت کی کھائیوں میں گرانے والے ہیں، مگر تم اس کی باتوں کی طرف دھیان دینے کے بجائے اس کی شکل و صورت، کپڑوں کے رنگ، اور انداز گفتگو کو دیکھتے رہو۔ پھر ان کے مطالعہ اور تجزیہ میں منہمک ہوجاؤ۔
    عقل و منطق کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آنحضرت ﷺ کی نشو و نما، اخلاق و کردار، ذاتی اور خانگی زندگی، صبر، جد و جہد، جنگ و امن، دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ معاملات، دنیا اور اس کی لذتوں اور رنگینیوں کے بارے میں رویہ، غرض آپ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا معروضی مطالعہ کریں۔ ہمارا یہ مطالعہ صحت اور باریکی کے ساتھ اور علمی نہج پر ہو جس میں روایت و اسناد کے قواعد اور شروط کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ ساتھ ہی وہ نتیجہ خیز بھی ہو کہ اس سے ہم آپ ﷺ کی نبوت اور آپ کی زندگی میں حقیقت وحی کی معرفت حاصل کرسکیں۔ اگر ہم کسی خواہش نفس یا تعصب سے آزاد ہوکر معروضی انداز میں مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجہ تک پہنچ جائیں گے تو ہم پر یہ انکشاف ہوگا کہ آپ ﷺ نے جو تعلیمات اور احکامات دیئے انہیں اپنے طرف سے گھڑ کر نہیں پیش کیا تھا بلکہ انہیں قضائے الٰہی کے مطابق پوری ایمان داری کے ساتھ رب العالمین کی جانب سے ہم تک پہنچایا تھا اور اس وقت ہمیں یہ احساس ہوگا کہ ان تعلیمات اور احکام کی حفاظت اور ان کے نفاذ کے سلسلے میں ہم پر کتنی عظیم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
    جو شخص سیرت نبوی کے خالص انسانی پہلوؤں کا مطالعہ اور تجزیہ کرے لیکن اس پہلو سے مطلق تعرض نہ کرے جس کی بنیاد پر نبی کریم ﷺ نے خود کو لوگوں کے سامنے پیش کیا تھا۔ وہ اپنے سامنے ایسی پیچیدہ گتھیاں پائے گا جنہیں سلجھانا اس کے لیے کسی طرح ممکن نہ ہوگا۔ مثلاً وہ اسلامی فتوحات کے معاملے میں حیران اور ششدر رہ جائے جب دیکھے گا کہ چند پرانی تلواروں نے جو پہلے اکثر خود گتھم گتھا رہتی تھیں ساحرانہ طریقے پر ایرانی تہذیب کے قلعے کو فتح کرلیا اور رومی شان و شوکت کا خاتمہ کردیا۔ اسی طرح وہ اس قانون کو دیکھ متحیر رہ جائے گا جو جزیرۃ العرب میں اس زمانے میں پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا تھا جب وہاں کسی ثقافت کا اثر ظاہر نہ ہوا تھا اور کسی تہذیب و تمدن کا سایہ نہ پہنچا تھا۔ جزیرۃ العرب کو اس زمانے میں ایک مکمل اور ہمہ جہت قانون ملا جب وہ علم و ثقافت اور پیچیدہ معاشرتی زندگی کی جد وجہد کے ابتدائی راستے میں تھا آخر یہ کیوں کر ممکن ہوا جب کہ سماجیات کے ماہرین کے نزدیک بدیہی امر یہ ہے کہ کسی قوم کی زندگی میں مکمل اور ہمہ جہت قانون اس وقت وجود میں آتا ہے جب اس کی تہذیب و ثقافت میں پختگی آجاتی ہے اور اس کا معاشرتی ڈھانچہ ترقی کے مراحل طے کرچکا ہے۔
    یہ پیچیدہ گتھیاں ہیں، اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ کی نبوت کا اعتبار نہ کرے تو عام مادی اسباب و علل کے دائرے میں ان کو کسی طرح نہیں سلجھایا جاسکتا۔ ہم نے بہت سے محققین کو دیکھا ہے جو ان گتھیوں کو سلجھانے میں ادھر ادھر بہکتے ہیں اور انہیں سلجھانے کے بجائے خود ان میں الجھ کر رہ جاتے ہیں اور انتہائی حیرت و استعجاب کا شکار ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ اس حیرت سے نکلنے کا راستہ واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ سیرت نبوی کے مطالعہ میں ہم منطقی اور معروضی نقطہ نظر آپنائیں اور امتیازی حیثیت کو آپ ﷺ کی حیات طیبہ کا محور بنائیں جس کی بنیاد پر آپ ﷺ نے خود کو لوگوں کے سامنے پیش کیا تھا۔
    اس مطالعے کے نتیجے میں ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ آپ ﷺ اللہ عز وجل کی جانب سے بھیجے ہوئے نبی ہیں۔ اور اس وقت ہماری حیرت دور ہوجائے گی اور ہم ان گتھیوں کو سلجھانے کا راز پالیں گے۔ ضروری ہے کہ نبی کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے جس نے اسے مبعوث کیا ہے ، تائید حاصل ہو۔ ضروری ہے کہ قرآن اس ذات باری کی طرف سے اترے۔ معلوم ہوا کہ یہ کامل اور ہمہ جہت قانون اس ذات باری کا نازل کیا ہوا اور مشروع کیا ہوا ہے۔ کسی جاہل اور ناخواندہ قوم کا بنایا ہوا نہیں ہے کہ اس پر تعجب اور جرت ہو۔ یہ ذات باری اپنی کتاب میں ایمان لانے والوں سے کہتی ہے؛
    وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ١٣٩ ) آل عمران)
    ترجمہ: دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو۔
    وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ اَىِٕمَّةً وَّنَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِيْنَ(القصص)
    ترجمہ: اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کرکے رکھے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنادیں۔
    </td>
    </tr>
    </table></div>

اس صفحے کو مشتہر کریں