شادی کے لفظی معنی خوشی کے ہیں

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از قاسمی, ‏مئی 1, 2011۔

  1. قاسمی

    قاسمی خوش آمدید مہمان گرامی

    شادی کے لفظی معنی خوشی کے ہیں ،نکاح انتہائی خوشی کا موقع سمجھا جاتا ہے ،اسی لئے تقریب نکاح کو شادی کہتے ہیں ۔آپ کو اپنے عزیزوںاور دوستوں کی شادی میں بارہا شرکت کااتفاق ہواہوگا،بہت سی باراتیں آپ نے دیکھی بھی ہو نگی ،ممکن ہے بعض تقریبات شادی کا اہتمام وانتظام بھی آپ کے ہاتھ میں رہا ہوگا ،ان موقع پر جو کچھ ہوتا رہتا ہے آپ کا دل اس سے مطمئن ہے ؟پہلا مرحلہ نسبت یا منگنی کا ہوتا ہے ۔لڑکے والوں کی طرف سے بہت سی مٹھائی آتی ہے ۔اس کا جواب مٹھائی کی اور زیادہ مقدار میں دیا جاتا ہے اور دونوں فریقوں کی طرف سے اسراف کا دروازہ کھل جاتا ہے منگنی کے وقت نکاح کے وقت اور اس کے بعد کے مراسم تک، ہر موقع اور ہر منزل پر یہ تماشہ بڑے لطف وشوق سے دیکھا جاتا رہتا ہے ،کہ روپیہ لٹانے اور برباد کرنے میں کون فریق دوسرے فریق سے بازی لے جاتا ہے ،منگنی ، بارات، مانجھا ،مہندی ، ساچق، چوتھی چالا، رخصتی ،بیویوں کو کھلانا ،اور خدا معلوم کتنی رسموں اور تقریبوں کا ایک سلسلہ قائم ہو جاتا ہے ،ان میں سے ہر رسم کا اسکی پوری پابندیوں کے ساتھ ادا ہونا ،اور ہر تقریب کا پورے اسراف کے ساتھ انجام پانا لازمی سمجھا جاتا ہے اور ہر لمحہ دستور کی پابندیوں پر زور دینا ضروری سمجھا جاتا ہے،ورنہ خاندان کی ناک کٹ جانا ، اور بردری کے سامنے بدنامی ورسوائی لازمی ہے۔
    ان تمام تقریبوں میں تیل اور بتی پر جو کچھ خرچ ہوتا ہے کیا وہ جائز ہے؟ زرق پوش پوشاکوں پر جو بے دریغ روپیہ صرف کیا جاتا ہے، کیا آپ اس کے حامی ہیں ؟ پر تکلف کھانوں کی مد میں جو شاہ خرچیاں ہوتی ہیں، کیا آپ کے نزدیک ہو نی چاہئے؟ کئی کئی راتیں جو مہمانوں اور میز بانوں دونوں کو جاگ کر کاٹنی پڑتی ہے کیا آپ کے خیال میں یہ درست ہے ؟ سمدھیوں میں بے لطفی جو ان تقریبات کا گویا ایک لازمی جزو بن گئی ہے ، کیا اس کے لئے کوئی سند جواز ہے ؟ گانے بجانے والوں اور والیوں کا وہ شور وغل ، ہنگامہ اور ہلڑ، جو ہمسایوں کی نیندیں حرام کر دیتا ہے کیا یہ جائز ہے؟ ڈومنیوں کا شریف زادیوں کے درمیان بیٹھ کر جن میں بہت سی بن بیا ہیاں بھی ہو تی ہیں، کیا آپ کے خیال میں کوئی حرج نہیں رکھتا؟ دولھن کو مانجھے کی قید میں جن مصیبتوں کا شکار ہونا پڑتا ہے ، کیا آپ کے نزدیک یہ دستور حق بجانب ہے؟ مہر کے مقرر کرتے وقت طرفین میں جو تکرار ہوتی ہے، اور جس میں اکثر بد مژ گی تک نو بت آجاتی ہے، کیا یہ دستور پسندیدہ ہے ؟ مہر جو اکثر صورتوں میں شوہر کی مالی حیثیت سے کہیں بڑھ چڑھ کت باندھ دیا جاتا ہے، اور جس کے ادا کرنے کی نیت کبھی بھی نہیں ، کیا یہ طریقہ آپ کے مذہب میں جائز ہے؟ یہ اور اسی قسموں کی رسموں ،دستوروں اور رواجوں کی سیکڑوں کی مثالیں ، جو شادی کے سلسلہ میں آپ کے پیش نظر ہوگی کیا ان میں سے کوئی بھی آپ کے خدا ، اور آپ کے رسول ﷺ کی پسند کی ہوئی ہے ؟ کیا ان میں سے کوئی بھی آپ کی شریعت کے مطابق ہے؟ کیا ان میں سے کسی کی بھی تا ئید آپ کا قانون اخلاق کرتا ہے ؟ شریعت واخلاق نہ سہی ، کوئی عقلی دلیل ان کی تائید میں آپ پیش فر ما سکتے ہیں؟کوئی دینوی ومادی نفع ان سے حاصل ہوتا ہے ؟ناچ اومجرے کی جو صریحی حیا سوز اور مخالف شریعت رسمیں ان موقعوں پر انجام پاتی ہیں ،ان کا ذکر قصدا یہاں منظور نہیں ،ان کا حرام ہونا بالکل واضح وظاہرہے، اور ہر جگہ ان کی پابندی پر شائد اصرار بھی نہیں ہوتا ۔لیکن جو رسمیں عالم گیر ہو چکیں ہیں جو دستور مسلمانان ہند کے گھر گھر پھیل چکے ہیں ،اور جن رواجوں کی پابندی پر عزت وشرافت منحصر سمجھی جاتی ہےم، ان کی بابت آپکی کیا رائے ہے ؟ ان کے لئے آپ کے ضمیر کا کیا فتویٰ ہے؟ ان کی بابت آپ کی عقل کیا رہنمائی کرتی ہے؟ کیا آپ کو علم نہیں ، کہ بے شمار گھرانے انہیں شادیوں کے موقعوں پر سودی قرض لے لے کر ہمیشہ کے لئے تباہ ہو گئے ہیں ؟ کیا آپ کو واقفیت نہیں کہ ہزارہا نو جوان جو آگے چل کر بد اخلاقی وبد چلنی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ، ان کے دلوں میں بد اخلاقی وبد چلنی کا بیج شادیوں ہی کی محفلوں میں اول اول پڑتا ہے ؟ شادیوں کے سلسلہ میں دینی ودنیوی تباہی و بر بادی کی بسیوں مثالیں آپ کے نظر سے گز ر چکی ہیں اور برا بر گزرتی رہتی ہیں ،کیا ان بڑھتے سیلاب کی اپنی بساط وحیثیت کے موافق روک تھام کی کو شش کرنی آپ پر فرض نہیں ؟خدا کا خوف نہ سہی دنیوی مصلحت اندیشی بھی ؛ کیا آپ کو ان رسموں کے خلاف جہاد پر آمادہ کر نے کیلئے کافی نہیں؟

    سچی باتیں
    مفسر قرآن ،ممتاز ادیب وصحافی مولانا عبد الماجد دریابادی رحمۃ اللہ علیہ
  2. سرحدی

    سرحدی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    91
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    نکاح ایک پاکیزہ اور مقدس رشتہ ہے لیکن ہم نے اس مقدس رشتہ کو رسم و رواج کی نظر کردیا ہے. معاشرتی طور پر خود کو منوانے اور معاشرے میں اپنی ناک اونچی رکھنے کے لیے نہ جانے کتنے ہی ایسے رسم و رواج ہیں جو کرنے پڑتے ہیں. نتیجہ میں لاکھوں روپے کے قرضے تلے دب جاتے ہیں. حالاں کہ شریعت مطہرہ نے ہمیں انتہائی سادگی کا حکم دیا ہے اور سادگی کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم دیا ہے... یہی وجہ ہے کہ جہاں نکاح کو مشکل کردیا گیا ہے وہاں دوسری معاشرتی خرابیوں نے جنم لے لیا ہے. کیوں کہ اگر نکاح کرنے میں سادگی کو پیش نظر رکھا جاتا تو معاشرتی برائیوں کو ختم کرنے میں مدد ملتی لیکن دوسری برائیوں کو آسان کرکے معاشرہ میں رائج کردیا گیا ہے جو کہ ایک سوچھا سمجھا منصوبہ ہے.
    جزاک اللہ قاسمی بھائی، آپ کا مضمون کئی سوالات پر مشتمل ہے جن کے جوابات ہم سب سے مطلوب ہیں یعنی ہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ کیا واقعی ہم راہ راست پر ہیں یا مخالف سمت میں چل رہے ہیں؟؟
    اُمید ہے کہ اپنے قیمتی مضامین سے مستفید فرماتے رہیں گے.
  3. زوہا

    زوہا وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    138
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    شکریہ قاسمی صاحب!
    آپ نے ہم سب کو معاشرے کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی ہے - اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم کس طرح اس کو ہینڈل کرتے ہیں- اللہ تعالٰی ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ( آمین )
  4. بلال جٹ

    بلال جٹ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    201
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    واہ جی واہ کلیم احمد قاسمی بھای بہت اچھا لکھا
    اس کچھ نا کچھ لکھنا چاہے تاکہ کچھ ہم جیسے بھی ہیں جن کو پتہ ہی نہیں بہت اچھا لکھا ھوا ماشاء اللہ سے
  5. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    الحب بين الزوجين وتنمية الموده والرحمه ۔۔۔
    قیمتی معلومات پئش کرنے پر آپ کا شکریہ

اس صفحے کو مشتہر کریں