شان صحابہ زندہ باد "احادیث مبارکہ"

'احادیث نبوی ﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از sahj, ‏اکتوبر 20, 2011۔

  1. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan


    نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث بھی فضائل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر ناطق ہیں چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

    [ میری امت کا بہترین طبقہ وہ لوگ ہیں جو کہ میرے زمانے والے ہیں ۔ پھر وہ جو ان کے بعد والے ( تابعین ) ہیں ۔ اور پھر وہ جو ان کے بعد والے ( تبع تابعین ) ہیں ] ۔


    حضرت عمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے زمانے کے بعد دو زمانوں کا ذکر فرمایا یا تین کا ]
    ( صحیح بخاری )

    اور بخاری و مسلم میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

    [ میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو گالی نہ دو ، تم میں سے اگر کوئی شخص جبل احد کے برابر سونا بھی صدقہ کر دے تو وہ کسی صحابہ کے ایک مد ( مٹھی بھر دانے ) صدقہ کرنے کا اجر تو کیا اس کا آدھا ثواب بھی نہیں پا سکتا ] ۔
    ( بخاری و مسلم )

    تمام تر خیر و بھلائی اسی میں ہے جس پر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے انہی کے ذریعے اللہ تعالی نے اپنی کتاب کا تحفظ کروایا ، وہ امین در امین تھے حتی کہ انھوں نے اللہ کی اس امانت کو اس دیانتداری سے ادا کیا کہ پہلی امتوں میں ان کی مثال نہیں ملتی ۔

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک جماعت سنت و حدیث کے تحفظ کے لۓ تیار ھوئی اور وہ روۓ زمین کے کونے کونے میں پھیل گئی تا کہ وہ اسے عام کریں اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خلافت و نگرانی کی ذمہ داری اٹھائی ، جہاد کیا او فتوحات حاصل کیں اور امتوں کی امتیں اسلام میں داخل کر دیں ، ان کے نفوس کی تطہیر و تزکیہ کیا اور انھیں اللہ کے صراط مستقیم پر چلایا ۔ اور اللہ تعالی نے ان کے اوقات ( اور عمروں ) میں بڑی برکت فرمائی اور ان کے ہاتھوں پر صرف ایک سو سال میں اللہ نے وہ کارنامے اور انقلابات رونما کئے جو دوسری کسی قوم سے ممکن نہ ھو ۔

    وہ ہر خیر و بھلائی کے معاملے میں لوگوں سے سبقت لے جانے میں کوشاں رہتے تھے ، میدان جہاد و قتال ھو کہ میدان دعوت و ارشاد ۔ اسلام کی خاطر خرچ و عطا ھو یا پھر کثرت عبادت و نوافل وہ ہر میدان کے شہسوار تھے ۔ رضی اللہ عنہم ۔

    انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے غزوات اور جنگوں میں آپ کی مدد و نصرت میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور انھوں نے اللہ کی راہ میں اپنی جانیں تک قربان کر دینے کے لۓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم خندق کی طرف تشریف لے گۓ ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے انصار و مہاجرین بذات خود سب خندق کھود رہے ہیں اور ان کے پاس غلام نہیں تھے جو کہ یہ خدمت انجام دیتے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے جب انھیں بھوک اور تھکن سے چور چور دیکھا تو ارشاد فرمایا :

    [ اے اللہ ! اصل زندگی تو آخرت کی ہی زندگی ہے ۔
    اے اللہ ! ان تمام انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما دے ]
    ( صحیح بخاری )

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت و ملاقات کا شرف اعظم حاصل رہا اور انھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کرنے اور آپ کی تعظیم و توقیر کرنے کا حظ وافر نصیب ھوا جو ان سے پہلے کھبی کسی کو حاصل نہ ھوا اور نہ کوئی شخص آئندہ یہ مقام پا سکے گا ۔

    حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے آپ لوگوں کی محبت کیسی تھی ؟ تو انھوں نے فرمایا :
    " اللہ کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ و سلم ھمیں اپنے مال و اولاد ، ماؤں باپوں اور سخت پیاس میں ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ پیارے تھے ” ۔


    بے مثال محبت و جان نثاری : ​


    ابو سفیان رضی اللہ عنہ بن حرب ابھی مسلمان نہیں ھوۓ تھے کہ انھوں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے اس وقت پوچھا جبکہ انھیں قتل کرنے کے لۓ اہل مکہ نے حرم سے نکالا اور وہ ان کے یہاں اسیر و قیدی تھے ، اے زید ! میں تجھے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ھوں : کیا تمھیں یہ پسند ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ و سلم ) تمھاری جگہ ھوں اور ھم ان کی گردن مار دیں اور تمھیں چھوڑ دیں اور تم اپنے اہل و عیال میں جا نکلو ؟
    اس پر حضرت زید نے فرمایا :
    " مجھے اللہ کی قسم ہے ، مجھے تو یہ بھی پسند نہیں کہ میں اپنے اہل و عیال کے مابین جا بیٹھوں اور میری جگہ محمد ( صلی اللہ علیہ و سلم ) آ جائيں اور انھیں کانٹا جبھنے کی اذیت بھی برداشت کرنی پڑے ” ۔
    یہ سن کر ابوسفیان نے کہا تھا :
    " میں نے لوگوں میں کسی کو کسی سے اتنی محبت کرتے نہیں دیکھا جتنی محبت محمد ( صلی اللہ علیہ و سلم ) کے ساتھی ان سے کرتے ہیں ” ۔


    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ میں اپنی اور اپنے مال کی باگ ڈور دے دی اور عرض کیا : یہ ھمارے اموال آپ کے قدموں میں ڈھیر ہیں ، ان میں آپ جو فیصلہ چاہیں فرمائیں اور یہ ھماری جانیں بھی آپ کے لۓ حاضر ہیں ۔ اگر ھمارے سامنے سمندر بھی آیا تو ھم اس میں بھی کود جائیں گے ، ھم آپ کے سامنے ، اپ کے پیچھے آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں ہر جگہ لڑیں گے ” ۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ان کی زبردست محبت کی سچی تعبیر تھی ۔


    حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے بڑھ کرمجھے کوئی دوسرا محبوب نہیں تھا ۔ اور نہ ہی آپ سے بڑھ کر میری نگاہ میں کوئی جلیل القدر تھا ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی جلالت شان کی وجہ سے آنکھ بھر کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھ نہیں سکتا تھا اور اگر مجھ سے کہا جاۓ کہ میں آپ کے اوصاف بیان کروں تو یہ بات میرے بس سے باہر ہے کیونکہ میں نے کبھی آنکھ بھر کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھ ہی نہیں سکا ۔


    حب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم : ​


    ھم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھتے ہیں اور ان میں سے کسی کی محبت میں افراط و غلو میں مبتلا نہیں ھوتے اور نہ ہی ان میں سے کسی سے بری ھونے کا اظہار کرتے ہیں اور انھیں صرف خیر و بھلائي کے ساتھ ہی یاد کرتے ہیں ۔


    تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انصار و مہاجرین کے لۓ جنت ، رضاء الہی ، اجر و ثواب اور رحمت الہی کی گوائی موجود ہے اور یہ بات ضروری ہے کہ آپ کا علم اس بات کا اقرار کرے اور دل سے آپ کو یقین ھو کہ وہ شخص جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو چاہے ایک گھڑی ( گھنٹہ ) کے لۓ ہی کیوں نہ دیکھا ھو ، آپ کا دیدار و زیارت ہی نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان بھی لایا اور آپ کی اتباع و پیروی بھی کی ۔ وہ شخص اس سے بدرجہا افضل ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو نہیں دیکھا اور نہ ہی آپ کے دیدار و زیارت سے شرفیاب ھوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چھوٹے ھوں یا بڑے ، پہلے ھوں یا پچھلے ، ان سب کے لۓ رحمت و مغفرت اور رضاء کی دعا کرنا ، ان کے اوصاف حسنہ کا ذکر کرنا ، ان کے فضائل و محاسن کو عام کرنا ، ان کے طریقے کی پیروی کرنا اور ان کے نقش قدم پر چلنا ھم سب کے لۓ ضروری ہے ۔


    مشاجرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ھمارا موقف :

    ھم مشاجرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ( ان کے باھمی تنازعات ) کے بارے میں سکوت اختیار کرتے ہیں ۔انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوات و جہاد میں شرکت کی اور فضیلت کے اعتبار سے لوگوں سے گویا سبقت لے گۓ اللہ نے ان کی مغفرت فرما دی اور ان کے لۓ مغفرت طلب کرنےکا حکم فرمایا ہے ۔ اور ان سے محبت کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرنے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک کے ذریعے فرض قرار دیا ہے ۔لھذا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لرزشوں یا کوتاہیوں کی تاڑ و تلاش صرف وہی شخص کرتا ہے جس کا دل دینی اعتبار سے فتنہ کفر میں مبتلا ھو چکا ہے ۔

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی برائیوں کے بارے میں مروی آثار میں سے کچھ تو وہ ہیں جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں اور بعض وہ ہیں جن میں خود لوگوں نے اپنے مخصوص مقاصد و مفادات کے لۓ کمی بیشی کر دی ہے اور انھیں ان کے اصل رخ سے موڑ کر رکھ دیا ھوا ہے اور وہ آثار جو صحیح ہیں ، ان میں جن امور کا تذکرہ ہے ، ان میں وہ معذور (عذر والے ) ہیں کہ انھوں نے اجہتاد کیا اور صحیح و صواب کو پا گۓ ( دوھرا اجر لۓ گۓ ) یا پھر اجتہاد کیا مگر خطا کر کۓ ( پھر ایک اجر ان کے ہے ) ۔


    حضرت انس بن مالک ر سے مرفوعا مروی ہے کہ
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
    ایمان کی نشانی حب انصار ہے اور انصار سے بغض و نفرت نفاق کی علامت ہے ] ۔
    ( صحیح بخاری )

    اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم میں مرفوعا مروی ہے ( کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    کوئی وہ شخص جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتاہے وہ انصار سے بغض و نفرت نہں رکھ سکتا-
    ( مسلم )

    خلفاء راشدین اور عشرہ مبشرہ :​




    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے افضل ترین لوگ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم ہیں ، ان کے بعد باقی چھ صحابہ جن سمیت دس لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جنت کی بشارت دی تھی اور وہ سب عشرہ مبشرہ کہلواتے تھے ۔

    چنانچہ ارشاد نبوی ہے :
    اس مت کے نبی کے بعد اس کے بہترین لوگ ابوبکر اور پھر عمر ہیں
    ۔ ( مسند احمد )
    ایک حدیث میں فرمایا :
    میرے بعد میں آنے والے دو لوگوں ابوبکر و عمر کی اقتداء و پیروی کرو ۔
    ( ترمذی ، ابن ماجہ ، مسند احمد )

    صحیح مسلم میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک سفر میں تھے کہ

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :
    اگر لوگ ابوبکر و عمر کی اطاعت کریں گے تو رشد و ھدایت پر رہیں گے -
    ( صحیح مسلم )

    مقام ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ :​


    صحیح بخاری میں حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا :
    " اے میرے ابا جان ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد سب سے بہتر کون شخص ہے ؟ انھوں نے فرمایا : بیٹا ! کیا تمھیں معلوم نہیں ؟ میں نے عرض کیا : نہیں : تو انھوں نے فرمایا : وہ ابوبکر (رضی اللہ عنہ ) ہیں "


    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں تو اللہ تعالی نے قرآن کریم میں کئی آیات نازل فرمائیں ہیں ۔

    چنانچہ ارشاد الہی ہے :
    اور تم میں سے جو لوگ فضیلت والے اور اہل ثروت و دولت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں ، محتاجوں اور وطن چھوڑ کر ہجرت کر جانے والوں کو کچھ خرچہ نہیں دینگے ، انھیں چاہیۓ کہ معاف کر دیں اور در گزر کریں ، کیا تم پسند نہیں کرتے ھو کہ اللہ تمھیں بخش دے اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے ۔
    ( النور ۔٢٢ )

    اور اس بات میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ھوئي ہے اور اس میں انھیں اہل فضل ( فضیلت والی شخصیت ) قرار دیا گیا ہے ۔

    دوسری جگہ ارشاد الہی ہے :
    " دو میں سے دوسرے جبکہ وہ دونوں غار ( ثور ) میں تھے "
    ( التوبہ ۔٤٠)

    اس میں بھی کسی کا کوئي اختلاف نہیں کہ یہاں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی مراد ہیں گویا کہ اللہ رب العالمین نے ان کے صحابی ھونے کی گواہی دی ہے اور انھیں سکیت کے نزول کی بشارت سے نوازا ہے اور انھیں دو میں سے دوسرے ھونے کا حلۂ عظمت و وقار عطا فرمایا ہے جیسا کہ
    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے :

    " دو میں سے دوسرے سے افضل کون ھو سکتا ہے ؟ جبکہ ان کا تیسرا خود اللہ تعالی ہے "۔


    نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :

    " مجھے کسی مال نے اتنا نفع نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے ۔
    ( یہ سن کر فرط مسرت کے جذبات سے مغلوب ھو کر ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور عرض کیا :

    " اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ! میں اور میرا مال صرف آپ کے لۓ ہی تو ہیں "۔
    ( ابن ماجہ )

    مقام عمر فاروق رضی اللہ عنہ : ​


    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد صحیح بخاری میں ہے :

    " شیطان تمھیں جس راستے آتا ھوا ملتا ہے وہ اس تیرے راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے میں بھاگ جاتا ہے " ۔
    ( بخاری )

    اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

    "پہلی امتوں میں " محدث " ( وہ روشن ضمیر ، صائب الراۓ جسے اللہ کی طرف سے الہام ھوتا ھو ) ھوا کرتے تھے ؟ اور اگر میری امت میں بھی کوئی محدث ھو تو وہ حضرت عمر ھونگے "
    (صحیح مسلم )

    محدث کا معنی ہے وہ شخص جسے الہام ھوتا ھو اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو واقعی الہام ھوتا تھا حتی کہ کئی مواقع پر قرآن کریم نے ان کی تائيد و موافقت کی ۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ اپنی ازواج مطہرات کو پردہ کروائيں ۔

    ایک مرتبہ انھوں نے عرض کیا :

    اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ! اگر آپ مقام ابراھیم کو جائے نماز بنا لیں تو کیسا رہے ؟ اور بدری قیدیوں کے بارے میں انھوں مشورہءقتل دیا ۔ اور ان تمام مواقع پر اللہ تعالی نے ملہم و محدث امت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی راۓ کی موافقت کو قرآن کی تائيد عطا فرمائی ۔ اسی طرح اللہ تعالی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بہت سی فتوحات کے دروازے کھولے ۔

    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا لوگ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حتی کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر نکتہ چینی کرتے ہیں ۔
    تو انھوں نے فرمایا :
    " اس میں تم تعجب والی کیا چیز پاتے ھو ؟ ( وفات کی وجہ سے ) ان کے اعمال کا مسئلہ تو منقطع ھو گیا لیکن اللہ نے یہ چاہا کہ ان کے اجر کا سلسلہ ختم نہ ھونے پاۓ ( لوگوں کے ان کی چغلی کھانے سے انھیں اجر و ثواب پہنچ رہا ہے " ۔



    مقام عثمان غنی رضی اللہ عنہ :​


    جبکہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے جیش العسرﺓ ( غزو ہء عسرہ کے لشکر ) کی تیاری شروع کی تو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اپنی چادر میں اس ایک ھزار دینار ڈال کر لے آۓ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پیش کر دیۓ ( جھولی میں ڈال دیۓ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دیناروں کو اپنے دست مبارک سے الٹنا پلٹنا شروع کیا اور ساتھ ہی ساتھ آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ فرماتے جا رہے تھے :

    "آج کے بعد ابن عفان چاہے کوئی بھی عمل کرتا رہے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا " ۔ آپ یہ کلمات بار بار دھرا رہے تھے ۔



    مقام علی مرتضی رضی اللہ عنہ :​


    غزوہء خیبر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

    " کل میں اس شخص کو جھنڈا عطا کروں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح عطا کرے گا اور وہ شخص اللہ اور اس کے رسول کو پسند کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اسے پسند کرتے ہیں ] ۔ لوگوں نے رات گزاری اور ہر شخص سوچتا رہا کہ کل جھنڈا کسے دیا جائيگا اور ہر شخص کی خواہش تھی کہ جھنڈا اسے ہی دیا جاۓ ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : علی کہاں ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ ان کی آنکھیں خراب ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا لعاب مبارک ان کی آنکھوں میں لگایا اور ان کے لۓ شفا کی دعاء کی تو ان کی آنکھیں ( اسی وقت ) ٹھیک ھو گئيں اور یوں ھو گئیں کہ جیسے انھیں کچھ ھوا ہی نہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انھیں جھنڈا عنائت فرما دیا " ۔

    حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :

    " میں ان سے تب تک جنگ کرتا رھوں گا جب تک کہ وہ ھماری طرح کے ( مسلمان ) نہ ھو جائیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : آرام آرام سے روانہ ھو جاؤ ، یہاں تک کہ ان ( یہودیوں ) کے علاقے میں پہنچ جاؤ ، پھر انھیں اسلام کی دعوت دو اور انھیں بتاؤ کہ ان پر کیا واجب ہے ۔ اللہ کی قسم ! تمھارے ذریعے اللہ کسی ایک شخص کو ھدایت دے دے تو یہ تمھارے لۓ سرخ اونٹوں کی دولت سے بھی بہتر ہے "۔
    ( بخاری و مسلم )

    تمام صحابہ ہی جنتی :​


    تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی اہل جنت میں سے ہیں ۔

    چنانچہ ارشاد الہی ہے :

    " تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، اور قتال کیا ہے وہ ( دوسروں کے ) برابر نہیں ، بلکہ ان سے بہت بڑے درجے کے ہیں جنھوں نے فتح کے بعد قرانیاں دیں اور جہاد کیا ہاں بھلائی کا وعدہ تو اللہ تعالی کا سب سے ہے جو کچھ تم کر رتے ھو ، اس سے اللہ خبردار ہے " ۔
    (الحدید ۔١٠)

    و صلی اللہ و سلم علی نبینا محمد
    و علی آلہ و صحبہ اجمعین
    سبحان ربك رب العزہ عما یصفون
    و سلام علی المرسلین
    و الحمد للہ رب العالمین ​


    شان صحابہ ذندہ باد


    [hr]


    حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں

    کہ

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے
    پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے
    پھر ان لوگوں کا جو اس زمانہ کے بعد آئیں گے۔


    حضرت عمران کہتے ہیں
    کہ
    مجھے یاد نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین کا؟

    پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    تمہارے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہوگی
    جو بغیر کہے گواہی دینے کے لیے تیار ہو جایا کرے گی

    اور
    ان میں خیانت اور چوری اتنی عام ہو جائے گی
    کہ
    ان پر کسی قسم کا بھروسا باقی نہیں رہے گا
    اور
    نذریں مانیں گے لیکن انہیں پورا نہیں کریں گے

    (حرام مال کھا کھا کر) ان پر مٹاپا عام ہو جائے گا۔


    صحيح بخاري
    كتاب فضائل الصحابة
    باب
    فضائل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ​
  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,624
    موصول پسندیدگیاں:
    788
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    بہت بہت شکریہ
    اچھی پوسٹ ہے.
    اگر ممکن ہو تو پلیز تعارف کے دھاگہ میں اپنا تعارف کرادیں. والسلام
  3. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اُن کے بیٹے محمد بن الحنفیہ نے پوچھا

    رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد لوگوں میں کون سب سے بہتر ہے ؟

    حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا

    ابو بکر (رضی اللہ عنہ)

    پھر پوچھا

    ان کے بعد کون ؟
    انہوں (علی رضی اللہ عنہ) نے فرمایا

    عمر (رضی اللہ عنہ)


    صحيح بخاري
    كتاب فضائل الصحابة
    باب
    فضائل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
    [hr]
    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے سب سے بہترین انسان
    حضرت ابو بکر (رضی اللہ عنہ)
    پھر
    حضرت عمر (رضی اللہ عنہ)
    اور پھر
    حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) ہیں ۔ ​


    صحيح بخاري
    كتاب فضائل الصحابة
    باب : فضل ابي بكر بعد النبي صلى الله عليه وسلم ​
  4. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,081
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    لےشوق سےنام صحابہ کا
    کرچرچاعام صحابہ کا
    گرطلب ہےتجھ کوجنت کی
    تو پلہ تھام صحابہ کا
  5. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    تم سے پہلے بنی اسرائیل کی امتوں میں کچھ لگ ایسے ہوا کرتے تھے
    کہ نبی نہیں ہوتے تھے اور اس کے باوجود
    فرشتے ان سے کلام کیا کرتے تھے
    اور
    اگر میری امت میں کوئی ایسا شخص ہو سکتا ہے تو وہ
    حضرت عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) ہیں ۔


    صحيح بخاري

    كتاب فضائل الصحابة
    باب

    مناقب عمر بن الخطاب ابي حفص القرشي العدوي رضى الله عنه
  6. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا

    مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینے سے لگایا اور فرمایا


    اے اللہ ! اسے حکمت کا علم عطا فرما !


    صحيح بخاري
    كتاب فضائل الصحابة
    باب : ذكر ابن عباس رضى الله عنهما
  7. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan



    حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ

    جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر اور عثمان (رضی اللہ عنہم) کو ساتھ لے کر احد پہاڑ پر چڑھے تو احد کانپ اٹھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    احد ! قرار پکڑ کہ تجھ پر ایک نبی ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔



    صحيح بخاري
    كتاب فضائل الصحابة




  8. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    حضرت عمرو بن العاص (رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ :
    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ ذات السلاسل کے لئے بھیجا۔
    (عمرو رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ سب سے زیادہ محبت آپ کو کس سے ہے؟
    آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے۔
    میں نے پوچھا ؛ اور مردوں میں ؟
    فرمایا کہ اس کے باپ(ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) سے۔
    میں نے پوچھا ؛ اس کے بعد ؟
    فرمایا کہ عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) سے۔
    اس طرح آپ نے کئی آدمیوں کے نام لئے۔



    صحيح بخاري
    كتاب فضائل الصحابة
  9. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھاحضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ


    أنت مني وأنا منك

    تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔

    اور حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے حضرت علی (رضی اللہ عنہ) سے کہا کہ

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک ان (علی رضی اللہ عنہ) سے راضی تھے۔



    صحيح بخاري
    كتاب فضائل الصحابة
    باب
    مناقب علي بن ابي طالب القرشي الهاشمي ابي الحسن رضى الله عنه
  10. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جلیبیب (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں فرمایا


    یہ مجھ سے ہے اور مَیں اس سے ہوں

    ( هذا مني وأنا منه ) ۔


    صحیح مسلم
    كتاب فضائل الصحابة
    باب
    من فضائل جليبيب رضى اللہ عنه ​
  11. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    حضرت قیس رضی اللہ عنہ بن سعد روایت کرتے ہیں کہ
    میں شہر الحیرہ میں گیا ۔ میں نے دیکھا وہاں کے لوگ اپنے بادشاہ کو سجدہ کر رہے ہیں ۔ میں نے دل میں کہا کہ بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سجدہ کیے جانے کے زیادہ حقدار ہیں ۔ چنانچہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آ کر کہا
    میں نے حیرہ میں لوگوں کو اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اِس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں ۔
    رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : بھلا بتاؤ تو سہی کہ اگر تم میری قبر پر سے گزرو تو کیا اس کو سجدہ کرو گے ؟
    میں نے کہا : نہیں ۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر یہ کام بھی مت کرو ۔



    ابو داؤد
    كتاب النکاح
    باب : في حق الزوج على المراة
  12. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    میرے بعد

    (حضرت) ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ)

    اور

    (حضرت) عمر فاروق (رضی اللہ عنہ)
    کی

    اقتداء کرنا ۔

    ترمذی
    كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
    باب : في مناقب ابي بكر وعمر رضى الله عنهما كليهما
  13. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ :


    جب بھی ہم اصحابِ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں کسی حدیث کے متعلق اشکال پیدا ہوتا ہے تو ہم اسے ام المومنین حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے حل کرانے کو آتے تو ہمیشہ آپ کے پاس اس حدیث کا علم پایا کرتے ۔




    ترمذی
    كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
    باب : فضل عائشة رضى الله عنها
  14. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں

    کہ


    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ جنتی ہیں ،

    عمر رضی اللہ تعالی عنہ جنتی ہیں ،

    عثمان رضي اللہ تعالی عنہ جنتی ہيں ،

    علی رضي اللہ تعالی عنہ جنتی ہیں ،


    طلحہ رضي اللہ تعالی عنہ جنتی ہیں ،

    زبیر رضي اللہ تعالی عنہ جنتی ہیں ،

    عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ جنتی ہیں ،

    سعد (بن ابی وقاص) رضي اللہ تعالی عنہ جنتی ہيں ،

    سعید (بن زید) رضی اللہ تعالی عنہ جنتی ہیں ،

    ابوعبیدہ رضي اللہ تعالی عنہ جنتی ہیں ۔


    ترمذی
    كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم

  15. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ایک دفعہ سیدنا علی (رضی اللہ عنہ) بیمار ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ (رضی اللہ عنہ) کے لیے دعا فرمائی :
    اے اللہ ، اسے عافیت یا شفاء عطا فرما ( اللَّهُمَّ عَافِهِ أَوِ اشْفِهِ ) ۔
    سیدنا علی (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ ، مَیں اس کے بعد کبھی بیمار نہیں ہوا ۔


    ترمذی
    كتاب الدعوات عن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)
    باب : في دعاء المريض
  16. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ابو رافع رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ


    میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کان میں اذان دی ۔


    ترمذی
    كتاب الاضاحى عن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم
    باب : الاذان في اذن المولود
  17. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    حضرت ابوھریرہ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ ایک انصاری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں بیٹھا کرتے اور احادیث سنتے تھے۔ وہ انہیں بہت پسند آتیں لیکن یاد نہیں رہتی تھیں ، چانچہ انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے شکایت کی کہ :
    یا رسول اللہ ! میں آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) سے حدیثیں سنتا ہوں لیکن مجھے یاد نہیں رہتیں۔
    آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : ( استعن بیمینک واوما بیدہ الخط ) اپنے دائیں ہاتھ سے مدد حاصل کرو۔ اور آپ نے اپنے ہاتھ سے لکھنے کا اشارہ کیا۔


    ترمذی
    كتاب العلم عن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم
    باب : ما جاء في الرخصة فيه
  18. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ۔
    پس تم میں سے ہر بندہ دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کرتا ہے ۔



    ترمذی
    كتاب الزهد عن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم
  19. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ابوحبیبہ (رحمتہ اللہ) نے سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ

    میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :

    میرے بعد تم لوگ فتنے اور اختلاف میں مبتلا ہو جاؤ گے ۔
    کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ ! پھر ہم کیا کریں ؟
    آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا :

    تم (اس) امین (عثمان رضی اللہ عنہ) اور اس کے ساتھیوں ( صحابہ) کو لازم پکڑ لینا ۔


    مسند احمد
    المجلد الثانی
    تابع مسند ابی ھریرہ رضي الله تعالى عنه
  20. sahj

    sahj وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    163
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    مسند احمد میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :


    اللہ تعالی نے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو تمام بندوں کے دلوں میں سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے دل کو سب سے بہترین پایا تو اسے اپنے لۓ منتخب کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنا پیغام رسالت دے کر مبعوث فرمایا ، پھر اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دل کے بعد بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دل تمام مخلوق کے دلوں سے بہتر پاۓ تو انھیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لۓ وزراء منتخب فرما دیا جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لاۓ ھوۓ دین کے لۓ جہاد و قتال کرتے تھے ۔


    ( مسند احمد )

اس صفحے کو مشتہر کریں