شریعت اسلامیہ میں مردوعورت کے لیےحکم کا تحقیقی جائزہ

'اِسلامی تعلیمات' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏اگست 21, 2020۔

  1. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    94
    موصول پسندیدگیاں:
    34
    صنف:
    Female
    اسلام پاک وصاف معاشرے کی تعمیر اور انسانی اخلاق وعادات کی تہذیب کرتا ہے اور اپنے ماننے والوں کی تہذیب اور پُرامن معاشرے کے قیام کے لیے جو اہم تدیبرکرتاہے، وہ انسانی جذبات کو ہر قسم کے ہیجان سے بچاکر پاکیزہ زندگی کاقیام ہے ۔چنانچہ اسی سلسلے میں اسلام نے حفاظتِ نظر پر زور دیا ہے؛ چونکہ بدنظری تمام فواحش کی بنیاد ہے، اس لیے قران وحدیث سب سے پہلے اس کی گرفت کرتے ہیں۔

    ارشاد باری تعالی ہے:

    قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۱)

    ترجمہ: ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کو بھی محفوظ رکھیں، یہ ان کے لیے بہت پاکیزہ ہے، بیشک اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔

    اور اسی طرح عورتوں کو بھی غض بصر کا حکم دیاگیاہے ۔ارشاد باری تعالی ہے:

    وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ(۲)

    ترجمہ: اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں!

    حقیقت یہ ہے کہ ”بدنظری“ہی ”بدکاری“ کے راستے کی پہلی سیڑھی ہے۔ اسی وجہ سے ان آیات میں نظروں کی حفاظت کے حکم کو”حفاظتِ فرج“ کے حکم پر مقدم رکھا گیا ہے۔شریعتِ اسلامیہ نے ”بدنظری” سے منع کیا او ر اس کافائدہ یہ بتایا کہ اس سے شہوت کی جگہوں کی حفاظت ہوگی نیز یہ چیز تزکیہٴ قلوب میں بھی معاون ہوگی ۔ ”غضِ بصر“ کا حکم ہر مسلمان کو دیا گیاہے ۔نگاہ نیچی رکھنا فطرت اور حکمتِ الٰہی کے تقاضے کے مطابق ہے؛اس لیے کہ عورتوں کی محبت اوردل میں ان کی طرف خواہش فطرت کا تقاضاہے ۔

    ارشاد ربانی ہے:

    زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَاءِ(۳)

    ”لوگوں کو مرغوب چیزوں کی محبت نے فریفتہ کیا ہوا ہے جیسے عورتیں“۔

    آنکھوں کی آزادی اوربے باکی خواہشات میں انتشار پیدا کرتی ہے ۔ایک حدیث میں بدنظری کو آنکھو ں کا زنا قرار دیا گیا ۔ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

    فَزِنَا الْعَیْنِ النَّظَرُ(۴) ”آنکھوں کازنا دیکھناہے“۔

    راستے میں مجلس جماکر بیٹھنے سے اسی وجہ سے منع کیا گیا ہے کہ وہ عام گزر گاہ ہے ،ہرطرح کے آدمی گزرتے ہیں، نظر بے باک ہوتی ہے ،ایسا نہ ہو کہ کسی پر نظر پڑے اور وہ برائی کا باعث بن جائے ۔

    صحابہ کرام سے ایک دفعہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ راستوں پر بیٹھنے سے پرہیز کرو!صحابہ نے اپنی مجبوری پیش کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کو جب کوئی مجبوری ہو تو راستہ کا حق ادا کرو!صحابہ نے سوال کیا راستہ کا حق کیاہے“۔؟

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : غَضُّ الْبَصَرِ وَکَفُّ الْأَذَی وَرَدُّ السَّلَامِ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیُ عَنْ الْمُنْکَرِ(۵)

    ” نگاہ نیچی رکھنا ،اذیت کا ردکرنا ،سلام کا جواب دینا ،اور بھلی بات کاحکم دینا اور بری بات سے منع کرنا“۔

    حدیث میں نظر کو شیطانی زہر آلود تیر قرار دیا گیاہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    النَّظْرَةُ سَہْمٌ مَسْمُومٌ مِنْ سِہَامِ إبْلِیسَ مَنْ تَرَکَہَا مِنْ مَخَافَتِی أَبْدَلْتہ إیمَانًا یَجِدُ حَلَاوَتَہُ فِی قَلْبِہِ(۶)

    ”بدنظری شیطان کے زہر آلود تیروں میں سے ایک زہریلا تیرہے، جو شخص اس کو میرے خوف کی وجہ سے چھوڑ دے، میں اس کو ایک ایسی ایمانی قوت دوں گا، جس کی شیرینی وہ اپنے دل میں پائے گا“۔

    نگاہ کا غلط استعمال بہت سارے فتنوں اور آفتوں کا بنیادی سبب ہے ۔چونکہ دل میں تمام قسم کے خیالات و تصورات اور اچھے بُرے جذبات کا برا نگیختہ و محرک ہونا، اسی کے تابع ہے؛اس لیے اسلام میں نگاہوں کو نیچا رکھنااور ان کی حفاظت کرنابڑی اہمیت کا حامل ہے ۔

    بدنظری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے حسرت وافسوس اور رنج وغم کی کیفیت ہوجاتی ہے ۔کئی دفعہ نظر کا تیر دیکھنے والے کو خود ہی لگ کر اس کے دل ودماغ کو زخمی کردیتاہے ۔

    حافظ ابن قیم (م۷۵۱ھ)لکھتے ہیں:

    کُلُّ الْحَوَادِثِ مَبْدَاُہَا مِنَ النَّظَرِ $ وَمُعْظَمُ النَّارِ مِنْ مُسْتَصْغَرِ الشَّرَرِ

    کَمْ نَظْرَةٍ بَلَغَتْ فِی قَلْبِ صَاحِبِہَا $ کَمَبْلَغِ السَّہْمِ بَیْنَ الْقَوْسِ وَالْوَتَرِ

    یَسُرُّ مُقْلَتَہُ مَا ضَرَّ مُہْجَتَہُ $ لَا مَرْحَبًا بِسُرُورٍ عَادَ بِالضَّرَرِ

    یَا رَامِیًا بِسِہَامِ اللَّحْظِ مُجْتَہِدًا $ أَنْتَ الْقَتِیلُ بِمَا تَرْمِی فَلَا تُصِبِ

    یَا بَاعِثَ الطَّرْفِ یَرْتَادُ الشِّفَاءَ لَہُ $ اِحْبِسْ رَسُولَکَ لَا یَأْتِیکَ بِالْعَطَبِ(۷)

    ترجمہ: تمام حادثات کی ابتدا نظر سے ہوتی ہے، اور بڑی آگ چھوٹی چنگاریوں سے ہوتی ہے، کتنی ہی نظریں ہیں جو نظر والے کے دل میں چبھ جاتی ہیں، جیساکہ کمان اور تانت کے درمیان تیر ہوتا ہے، اس کی آنکھ ایسی چیز سے خوش ہورہی ہے جو اس کی روح کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایسی خوشی جو ضرر کو لائے، اس کے لیے خوش آمدید نہیں ہے۔ اے نظر کا تیر چلانے میں کوشش کرنے والے! اپنے چلائے ہوئے تیر سے توہی قتل ہوگا! اے نظر باز! تو جس نظر سے شفا کا متلاشی ہے، اپنے قاصد کو روک! کہیں یہ تجھ ہی کو ہلاک نہ کردے۔

    یہ ایک حقیقت ہے جس کا کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا کہ نگاہ کا غلط استعمال انسان کے لیے نقصان دہ ہے ۔اسی لیے شریعت نے عفت وعصمت کی حفاظت کے لیے ”غضِ بصر“کاحکم دیا ہے۔ قرآن کریم میں مردوں اور عورتوں دونوں کو ”غضِ بصر“کاحکم دیا گیا؛مگر جمہور فقہا ء نے اس حکم میں مرد وعورت کے درمیان فرق کیاہے ۔پہلے مردوں کے لیے غض بصر کے حکم میں اہل علم کا موقف ذکر کرکے پھر عورتوں کے لیے اس حکم کاتفصیلی جائزہ پیش کیا جاتاہے ۔

    مردوں کے لیے غضِ بصر کا حکم :

    (۱) اس پر اجماع ہے کہ مردکے لیے دوسرے مردکے ستر کے علاوہ پورے جسم کی طرف نظر کرناجائز ہے۔(۸)

    (۲) اس پر بھی اہل علم کا اجماع ہے کہ بے ریش لڑکے کو لذت اور اس کی خوبصورتی سے متمتع ہونے کے ارادہ سے دیکھنا حرام ہے ۔(۹)

    مردوں کا عورتوں کی طرف دیکھنے کی تین صورتیں ہیں:

    (۱) مرد کا اپنی بیوی کو دیکھنا جائز ہے۔

    (۲)مرداپنی ذی محرم عورتوں کے مواضع زینت کو دیکھ سکتاہے اورحنفیہ کے نزدیک مواضعِ زینت میں ،سر ،چہرہ ،کان ،گلا،سینہ،بازو،کلائی، پنڈلی،ہتھیلی اورپاؤں شامل ہے ۔(۱۰)

    (۳)مرد کااجنبیہ عورت کی طرف نظر کرنا، اس میں تفصیل ہے:

    $ اگر مرد کسی عورت سے شادی کا ارادہ رکھتا ہے تو اُس کے لیے اس عورت کا چہرہ دیکھنا جائز ہے ۔

    امام کاسانی  (م۵۸۷ھ)لکھتے ہیں:

    وکذا إذا أراد أن یتزوج امرأة فلا بأس أن ینظر إلی وجہہا(۱۱)

    ”اور اسی طر ح جو شخص کسی عورت سے شادی کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے کوئی حرج نہیں کہ وہ اس عورت کے چہرے کی طرف دیکھے “؛ بلکہ ایسی عورت کے چہرہ کی طرف نظرکرنے میں جمہور فقہاء کااتفاق ہے ۔

    امام نووی  (م۶۷۶ھ)مخطوبہ کی طرف جواز نظر والی حدیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

    وفیہ استحباب النظر إلی وجہ من یرید تزوجہا وہو مذہبنا ومذہب مالک وأبی حنیفة وسائر الکوفیین وأحمد وجماہیر العلماء(۱۲)

    ”اوراس حدیث میں اس عورت کے چہرے کی طرف نظرکرنا اس شخص کے لیے مستحب ہے جو نکاح کا ارادہ رکھتا ہو اور یہی ہمارا مذہب ہے اور مالک،ابو حنیفہ، تمام اہلِ کوفہ اوراحمد سمیت جمہور علماء کا ہے ۔

    طبیب بغرضِ علاج اجنبیہ کو دیکھ سکتاہے ۔

    امام رازی  (م۶۰۶ھ)لکھتے ہیں:

    یجوز للطبیب الأمین أن ینظر إلیہا للمعالجة(۱۳)

    ”شریف الطبع طبیب کے لیے عورت کی طرف بغرضِ علاج نظر کرنا جائز ہے “۔

    گواہ عورت کے خلاف گواہی دیتے وقت اور قاضی عورت کے خلاف فیصلہ کرتے وقت اس کا چہرہ دیکھ سکتاہے ۔

    علامہ حصکفی(م۱۰۸۸ھ)لکھتے ہیں :

    فإن خاف الشہوة أو شک امتنع نظرہ إلی وجہہا ․․․․․․․․ إلا النظر لحاجة کقاض وشاہد یحکم ویشہد علیہا(۱۴)

    ”پس اگر شہوت کا خوف ہو یا شہوت کا شک ہو تو اس صورت میں عورت کے چہرے کی طرف دیکھنا ممنوع ہے؛ البتہ ضرورت کے وقت ،دیکھنا جائز ہے، مثلا قاضی کا فیصلہ سناتے یا گواہ کا گواہی دیتے وقت دیکھنا “۔

    ہنگامی حالات میں، مثلا کوئی عورت پانی میں ڈوب رہی ہے یا آگ میں جل رہی ہے تو اس کی جان بچان کے لیے اس کی طرف دیکھا جاسکتاہے۔

    امام رازی  لکھتے ہیں :

    لو وقعت فی غرق أو حرق فلہ أن ینظر إلی بدنہا لیخلصہا(۱۵)

    ”اگر عورت پانی میں ڈوب رہی ہو یا آگ میں جل رہی ہو تو اس کی جان بچانے کے لیے اس کے بدن کی طرف دیکھنا جائز ہے“ ۔

    اور اسی کے ساتھ لاحق کرتے ہوئے مزید یہ بھی کہا جاسکتاہے کہ زلزلہ وسیلاب ،چھتوں کا گرجانا ،آسمانی بجلی کا گرنا ،چوری ڈکیتی کے وقت بھی افراتفری کے عالم میں یہی حکم ہوگا ۔

    معاملہ کرتے وقت یعنی ،اشیاء کے لینے و دینے اور خریدوفروخت کے وقت بھی عورت کے چہرے کی طرف نظر کی جاسکتی ہے ۔

    امام کاسانی لکھتے ہیں :

    لأن إباحة النظر إلی وجہ الأجنبیة وکفیہا للحاجة إلی کشفہا فی الأخذ والعطاء(۱۶)

    ”اشیاء کے لینے اور دینے کی ضرورت کی وجہ سے اجنبیہ کے چہرے کی طرف نظر کرنا جائز ہے“۔

    امام نووی  لکھتے ہیں :

    جواز النظر للحاجة عند البیع والشراء(۱۷)

    ”خرید وفروخت کی ضرورت کے وقت عورت کی طرف نظر کرنا جائز ہے “۔

    اور اس کی وجہ یہی ہے کہ بائع یا مشتری معاملہ کرتے وقت اس عورت کو پہچان لے؛ تاکہ اگر کسی وجہ سے چیز واپس کرنی پڑے کسی نقصان وضرر کے وقت ، یا بعد میں قیمت وصول کرنی ہو تو دوسر ی عورتوں سے الگ شناخت کی جاسکے۔(۱۸)

    جبکہ بعض اہل علم کی رائے میں خرید وفروخت کے وقت عورت کا چہرہ کھولنا یا مرد کا دیکھنا جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ یہ ایسی ضرورت نہیں ہے کہ جس کے بغیر کو ئی چار ئہ کار نہ ہو؛چونکہ عورتیں بیع وشرا نقاب وحجاب کے ساتھ بھی کرسکتی ہیں(۱۹)۔اور یہی بات عصرِ حاضر کے لحاظ سے زیادہ مناسب ہے؛ اس لیے کہ آج کل تو باقاعدہ خریدی ہوئی چیز کی رسید مل جاتی ہے، جس سے اس چیز کے واپس کرنے میں مزید کسی شناخت کی ضرورت نہیں ہے ۔مذکورہ بالا صورتوں کے علاوہ بغیرکسی حاجت او ر ضرور ت کے اجنبیہ کی طرف دیکھنے میں جمہور فقہاء اور حنفیہ کے درمیان اختلاف ہے ۔
  2. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    94
    موصول پسندیدگیاں:
    34
    صنف:
    Female
    حنفیہ کے نزدیک فتنہ اور شہوت سے بے خوف ہونے کی صورت میں اجنبیہ عورت کی طرف دیکھنا جائز ہے؛مگر ائمہٴ ثلاثہ کے نزدیک فتنہ اور شہوت کا خوف ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں بلاضرورت اجنبیہ عورت کی طرف دیکھنا ناجائز ہے۔ائمہ کے موقف کی تفصیل اور دلائل کے نقل کرنے سے پہلے ضرور ی ہے کہ فتنہ اور شہوت کا مفہوم واضح کیا جائے؛ تاکہ با ت کا سمجھنا آسان ہو۔

    فتنہ کا معنی :

    علامہ شامی(م۱۲۵۲ھ)لکھتے ہیں :

    (قولہ بل لخوف الفتنة) أی الفجور بہا قاموس أو الشہوة(۲۰)

    فتنہ سے مراد گناہ یا شہوت ہے۔

    شہوت کی تعریف:

    علامہ شامی  لکھتے ہیں:

    أنہا میل القلب مطلقا(۲۱)

    ”شہوت دل کے مائل ہونے کانام ہے “۔

    علامہ شامی  مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

    بیان الشہوة التی ہی مناط الحرمةأن یتحرک قلبُ الإنسان ویمیلَ بطبعہ إلی اللذة(۲۲)

    ”شہوت کا بیان جس پر حرمت کا مدار ہے، وہ یہ کہ انسان کے دل میں حرکت پیدا ہو اور طبیعت لذت کی طرف مائل ہوجائے“ ۔

    مذکورہ بالا تعریفات کی روشنی میں کہا جاسکتاہے کہ کسی خوبصورت چہرے کی طرف دیکھنے سے (خواہ وہ عورت کا ہو یا بے ریش لڑکے کا )دل کی کیفیات کا متحرک ہونا اور قلبی میلان ورجحان کے ساتھ طبیعت کا حصول لذت کی طرف مائل ہونا شہوت کہلاتاہے ۔

    جمہور علماء کا تفصیلی موقف درج ذیل ہے ۔

    مالکیہ کاموقف:

    علامہ ابن رشد مالکی (م۵۲۰ھ)

    ولا یجوز لہ أن ینظر إلی الشابة إلا لعذر من شہادة أو علاج(۲۳)

    ”اور مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ نوجوان عورت کی طرف نظرکرے سوائے گواہی یا علاج وغیرہ کی مجبوری حالت کے۔

    قاضی امام ابن عربی مالکی (م۵۴۳ھ)لکھتے ہیں:

    لا یحل للرجل ان ینظر الی المرأة(۲۴)

    ” آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ عورت کی طرف دیکھے“۔

    شوافع کاموقف:

    امام ابو اسحاق شیرازی  (م۴۷۶ھ)لکھتے ہیں :

    وأما من غیر حاجة فلا یجوز للأجنبی أن ینظر إلی الأجنبیة(۲۵)

    ”اور بہرحال بلا ضرور ت اجنبی کے لیے جائزنہیں کہ وہ اجنبیہ کی طرف دیکھے “۔

    امام غزالی  (م۵۰۵ھ)لکھتے ہیں:

    نظر الرجل الی المراة․․․․ وان کانت اجنبیة حرم النظرالیہا مطلقا(۲۶)

    ”اگر عورت اجنبیہ ہو تو اس کی طرف نظر کرنا مطلقاً حرام ہے “۔

    حنابلہ کا موقف:

    شیخ الاسلام ابن قدامہ (م۶۲۰ھ)لکھتے ہیں:

    فأما نظر الرجل إلی الأجنبیة من غیر سبب فإنہ محرم إلی جمیعہا فی ظاہر کلام أحمد(۲۷)

    ”امام احمد کے ظاہری کلام کے مطابق آدمی کا اجنبیہ عورت کے پورے جسم کی طرف بلاوجہ دیکھنا حرام ہے“ ۔

    جمہور فقہاء کے دلائل:

    ۱- آیت کریمہ:

    ِقُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ(۲۸)

    ”ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھا کریں“۔

    امام شافعی (م۲۰۴ھ )اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

    فرض اللہ علی العینین أن لا ینظر بہما إلی ماحرم اللّٰہ، وأن یغضہما عما نہاہ(۲۹)

    ”اللہ تعالی نے آنکھوں پر فرض کیا کہ وہ نہ دیکھیں اس چیزکو جس کادیکھنا اللہ نے حرام قراردیا، اورجس کے دیکھنے سے منع کیا، وہاں آنکھوں کو جھکایاجائے“۔

    ۲- آیت کریمہ:

    وَاِذَا سَاَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَسَْلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَاء ِ حِجَابٍ(۳۰)

    ”اور جب تمہیں ان (نبی کی بیویوں)سے کوئی چیز مانگنا (یا کچھ پوچھنا) ہو تو تم پردے کے پیچھے سے مانگاکرو۔

    امام قرطبی (م۶۷۱ھ)لکھتے ہیں:

    فی ہذہ الآیة دلیل علی أن اللّٰہ تعالی أذن فی مسألتہن من وراء حجاب، فی حاجة تعرض، أو مسألة یستفتین فیہا، ویدخل فی ذلک جمیع النساء بالمعنی(۳۱)

    ”یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالی نے ازواج مطہرات سے ضرورت پڑنے پر پردے کے پیچھے سے سوال کرنے یا مسئلہ پوچھنے کی اجازت دی ہے ۔ اور اس حکم میں تمام مسلمان عورتیں داخل ہیں“۔

    معلوم ہوا مردوں کے لیے عورتوں کو دیکھنا جائز نہیں؛ اسی لیے پردے کی آڑ میں عورتوں سے سوال کرنے کا حکم دیا گیاہے ۔

    ۳- حضرت ابو ہریرہ کی روایت:

    إنَّ اللَّہَ إذَا کَتَبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ حَظَّہُ مِنْ الزِّنَا أَدْرَکَ ذَلِکَ لَا مَحَالَةَ فَالْعَیْنَانِ تَزْنِیَانِ، وَزِنَاہُمَا النَّظَرُ، وَالْیَدَانِ تَزْنِیَانِ وَزِنَاہُمَا الْبَطْشُ وَالرِّجْلَانِ تَزْنِیَانِ وَزِنَاہُمَا الْمَشْیُ؛ وَالنَّفْسُ تَمَنَّی وَتَشْتَہِی وَالْفَرْجُ یُصَدِّقُ ذَلِکَ أَوْ یُکَذِّبُہُ(۳۲)

    ”بے شک اللہ تعالی نے ابن آدم پر زنا کا حصہ لکھ دیاہے جس کو وہ یقینا پائے گا ۔پس آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کازنا دیکھناہے اور ہاتھ زناکرتے ہیں ان کازنا پکڑناہے ۔اور پاؤں زناکرتے ہیں ان کازنا چلناہے اور نفس زنا کی تمنا کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب“ ۔

    ۴-نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا:

    یَا عَلِیُّ لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّ لَکَ الْأُولَی وَلَیْسَتْ لَکَ الآخِرَةُ(۳۳)

    ”اے علی! نظر کی پیروی مت کر؛ اس لیے کہ پہلی نظر تو جائز ہے؛ مگر دوسری نگاہ جائز نہیں“۔

    ۵-حضرت علی کی روایت ہے:

    أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم َأَرْدَفَ الْفَضْلَ فَاسْتَقْبَلَتْہُ جَارِیَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ فَلَوَی عُنُقَ الْفَضْلِ فقَالَ اَبوُہ الْعَبَّاسُ لَوَیْتَ عُنُقَ ابْنِ عَمِّکَ قَالَ رَأَیْتُ شَابًّا وَشَابَّةً فَلَمْ آمَنِ الشَّیْطَانَ عَلَیْہِمَا(۳۴)

    ”بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا آپ کو قبیلہ خثعم کی ایک لڑکی ملی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کی گردن دوسری طرف پھیر دی ،اس پر ان کے والد عباس نے کہا: آپ نے اپنے چچازاد بھائی کی گردن کیوں پھیردی؟آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا میں نے نوجوان مرد اور عورت کو دیکھا تو میں ان پر شیطان سے بے خوف نہیں ہوا۔

    ۶-حضرت جریر بن عبداللہ البجلی کہتے ہیں میں نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اچانک نظر پڑجائے تو کیا کروں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا:

    أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِی(۳۵)

    ”میں اپنی نظر پھیرلوں“

    ۷- وہ احادیث جن میں نکاح سے پہلے عورت کی طرف دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔(۳۶) اگر عورتوں کی طرف نظر کرنا مطلقاً مباح ہوتا تو پھر نکاح کے ارادہ کے ساتھ دیکھنے کی تخصیص کیوں کی گئی؟(۳۷)

    یہ تمام دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اجنبیہ عورت کی طرف بلاضرورت دیکھنا ناجائز ہے؛چنانچہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مردوں کے لیے غض بصر کاحکم لازمی ہے ۔اوراستثنائی صورتوں کے علاوہ اجنبیہ عورت کے چہرے کی طرف دیکھنامطلقاً حرام ہے۔فتنہ کا خوف ہو یا نہ ہو۔

    امام غزالی  لکھتے ہیں:

    ومنہم من جوز النظر الی الوجہ حیث تومن الفتنة․․․․․ وہو بعید لان الشہوة وخوف الفتنة امر باطن فالضبط بالأنوثة التی ہی من الاسباب الظاہرة أقرب الی المصلحة(۳۸)

    ”بعض حضرات نے فتنہ سے امن میں ہونے کی صورت میں عورت کا چہرہ دیکھنے کو جائز قرار دیاہے اور وہ بعید ہے؛اس لیے کہ شہوت اور فتنہ کا خوف باطنی معاملہ ہے، لہٰذا موٴنث کے ساتھ حکم کو منضبط کرنا یہ اسباب ظاہرہ میں سے ہے اور مصلحت کے زیادہ قریب ہے“۔

    اما م غزالی کی مذکورہ عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر عورت کی طرف نظر کرنے کو فتنہ سے امن میں ہونے کی صورت میں جائز قرار دیاجائے تو ایسا ممکن نہیں ہے؛اس لیے کہ شہوت اورفتنہ کے خوف کا تعلق انسان کے ظاہر سے نہیں؛ بلکہ باطن سے ہے اور کسی کے باطن میں کیا ہے؟کو ئی دوسرا فرد نہیں جانتا؛چنانچہ فتنہ کے خوف کو ضابطہ بنانے کے بجائے اگر یہ ضابطہ بنا یا جائے کہ عورت کی طرف بلاوجہ نظرکرناہی جائز نہیں، یہ اسباب ظاہرہ اور مصلحت کے زیادہ قریب ہے ۔

    مفتی محمد شفیع دیوبندی احکام القرآن للتھانوی میں لکھتے ہیں :

    ”اور اجنبیہ عورت کے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف نظر کرنا،مالکیہ ،شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک حرام ہے ۔خواہ فتنہ کا خوف ہو یا نہ ہو۔اور ان حضرات کا خیال ہے کہ خوبصورت چہرے کی طرف دیکھنا فتنہ کو لازم کرتاہے اور عام طور پر دل میں میلان پیدا ہوجاتاہے ۔لہٰذا ،اجنبیہ کی طرف نظر کرنا ،خود فتنہ کے قائم مقام ہے ۔جس طرح کہ نیند کو خروج ریح کے احتمال کی وجہ سے اس کے قائم مقام کردیا گیاہے ۔اور محض سونے سے وضو کے ٹوٹنے کاحکم لگادیا جاتاہے خواہ ریح کا خرو ج ہو یا نہ ہو ،اور اسی طرح خلوت صحیحہ عورت کے ساتھ وطی کے قائم مقام ہے تمام احکام میں(۳۹) عام ازیں کہ اس خلوت میں وطی پائی گئی ہو یا نہ پائی گئی ہو“ (۴۰)۔

    معلوم ہوکہ ا ئمہ ثلاثہ کے نزدیک مرد کے لیے عورت کے چہرے کی طرف بلاضرورت نظر کرنا جائز نہیں، اور اس کی وجہ یہ ذکر کی گئی ہے کہ اکثر حالات میں خوبصورت عورت کا چہرہ دیکھ کر انسان اس کی طرف مائل ہوکر فتنہ میں واقع ہوسکتاہے ۔لہٰذا جس طرح ،نیند کو خروج ریح کے قائم مقام قرار دے کر وضو ٹوٹنے کاحکم لگادیا جاتاہے خواہ ہوا خارج ہو یا نہ ہو۔اور خلوت صحیحہ(۴۱)میں وطی نہ پائی گئی ہو؛ مگر اس خلوت کو وطی کے قائم مقام کرکے احکام جاری کیے جاتے ہیں(۴۲)اسی طرح عورت کی طرف نظر کرنے سے انسان فتنہ میں پڑ سکتاہے، لہٰذا اجنبیہ کی طرف نظر کرنا ایساہی ہے جیسے کوئی شخص فتنہ میں واقع ہوجائے ۔
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,724
    موصول پسندیدگیاں:
    818
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    شکریہ ۔زنیرہ عقیل صاحبہ ۔بہت دن بعد بہت کچھ اچھا پڑھنے کو ملا
    زنیرہ عقیل نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    94
    موصول پسندیدگیاں:
    34
    صنف:
    Female
    بہت بہت شکریہ محترم

اس صفحے کو مشتہر کریں