شوال کے چھ روزوں کی فضیلت

'اِسلامی تعلیمات' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ رحمانی, ‏اگست 11, 2013۔

  1. حافظ رحمانی

    حافظ رحمانی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    36
    موصول پسندیدگیاں:
    18
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ألحمد لله الذي أمدنا بالنعم التي لاتعد ولاتحصى والحمد لله الذي أمدنا بالحياة الى أن أدركنا رمضان ووفقنا لإتمام صيام رمضان وقيامه والصلاة والسلام على المبعوث رحمة للعالمين نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين أما بعد:

    اسلام میں طاعات وعبادات کا کوئی متعین موسم نہیں ہے کہ مثلا وه موسم ختم ہوجائے تو پهر بنده آزاد ہے جو چاہے کرے بلکہ درحقیقت ایک مومن بنده کو طاعات وعبادات پر قائم ودائم رہنے کا حکم ہے یہاں تک کہ بنده قبر میں داخل ہوجائے بے شک ہرمسلمان کو ہمیشہ طاعات پرقائم رہنے اورتزکیہ نفس کی کوشش کرنے کا حکم ہے اوراسی تزکیہ کے لیئے عبادات وطاعات مشروع کیئے گئے اوربقدر نصیب واستعداد ہرشخص کوان عبادات وطاعات سے تزکیہ وقرب الہی حاصل ہوتا ہے اورجس قدر عبادات وطاعات سے غفلت وبُعد ہوتا ہے اتنا ہی تزکیہ وقرب الہی میں کمی ہوتی ہے اسی طرح روزه بهی ان اہم عبادات میں سے ہے جو تزکیہ نفس وتصفیہ قلب کرتا ہے اور روحانی امراض کو دور کرتا ہے اور رمضان کا موسم تزکیہ نفس وتصفیہ قلب وتعلق مع الله کا بہترین واہم ترین موسم ہے اور پهر رمضان کے گذرنے کے بعد شوال کے چھ روزے بهی ان ہی طاعات میں سے ہیں جن سے مزید تزکیہ نفس وتصفیہ قلب حاصل ہوتا ہے اورساتھ ہی اجروثواب بهی حاصل ہوتا ہے اسی لیئے حدیث میں ان چھ روزوں کی بہت ترغیب آئی ہے

    شوال کے چھ روزوں کا حکم

    شوال کے چھ روزے مسنون ہیں صحیح حدیث میں اس کا ثبوت موجود ہے
    عن أبي أيوب رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال كان كصيام الدهر . رواه مسلم وأبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد
    ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جس شخص نے رمضان کے روزے رکهنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکهے تو وه ایسا ہے کہ گویا اس نے ہمیشہ روزے رکهے .(یعنی گویا کہ پورے سال کے رکهے)
    ترمذی شریف میں یہ حدیث اس طرح ہے
    وأما لفظ الترمذي فقال من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال فذلك صيام الدهر وفي الباب عن جابر وأبي هريرة وثوبان وقال أبو عيسى حديث أبي أيوب حديث حسن صحيح
    امام ابن خزيمة نے اس حدیث پرایک مستقل باب اس طرح قائم کیا
    فضل اتباع صيام رمضان بصيام ستة أيام من شوال فيكون كصيام السنة كلها
    امام نووی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ
    علماء نے فرمایا ہے کہ یہ (( صیامُ الدهر )) اس لیئے ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہے پس رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر اورشوال چھ کے روزے دو مہینوں کے برابر ہیں . يقول الإمام النووي رحمه الله قال العلماء وإنما كان كصيام الدهر لأن الحسنة بعشر أمثالها فرمضان بعشرة أشهر والستة بشهرين. حاصل یہ کہ جمهور فقهاء مالكيہ وشافعيہ وحنابلہ وحنفيہ کے نزدیک رمضان کے بعد شوال کے چھ روزے رکهنا مسنون ہیں

    شوال کے چھ روزوں کی فضیلت

    رسول الله صلى الله عليه وسلم کے غلام حضرت ثوبان رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے جس نے عیدالفطر کے بعد چھ روزے رکهے گویا اس نے پورے سال روزے رکهے کیونکہ جو ایک نیکی لے کرآئے گا اس کو دس گنا اجرملے گا
    وعن ثوبان رضي الله عنه مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من صام ستة أيام بعد الفطر كان تمام السنة من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها رواه ابن ماجه
    گذشتہ حدیث میں حضور صلى الله عليه وسلم نے شوال کے چھ روزوں کو{ كصيام الدهر } فرمایا اور اس حدیث میں{ صیامُ الدهر } کی تفسیر وتشریح کردی یعنی اس کا اجروثواب پورا سال روزے رکهنے کے برابر ہے. صحیح ابن حبان صحیح ابن خزيمة سنن النسائي مسند احمد مسند البزار وغیره میں حدیث موجود ہے کہ شہر رمضان کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں اور شوال کے چھ روزے دو مہینوں کے برابر ہیں پس یہ پورے سال کے روزوں کی طرح ہوگئے

    وفي سنن النسائي الكبرى من طريق أبي أسماء الرحبي عن ثوبان أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال صيام شهر رمضان بعشرة أشهر وصيام ستة أيام بشهرين فذلك صيام سنة والنسائي ولفظه جعل الله الحسنة بعشر أمثالها فشهر بعشرة أشهر وصيام ستة أيام بعد الفطر تمام السنة. وهو صحيح . وابن خزيمة في صحيحه ولفظه وهو رواية النسائي قال صيام شهر رمضان بعشرة أشهر وصيام ستة أيام بشهرين فذلك صيام السنة. وهو صحيح . وابن حبان في صحيحه ولفظه من صام رمضان وستا من شوال فقد صام السنة. وهو صحيح . وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من صام رمضان وأتبعه بست من شوال فكأنما صام الدهر. رواه البزار وأحد طرقه عنده صحيح . عن عمرو بن جابر الحضرمي قال سمعت جابر بن عبد الله الأنصاري يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من صام رمضان وستا من شوال فكأنما صام السنة كلها . رواه أحمد

    طبراني کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبدالله ابن عمر رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے رمضان کے روزے رکهے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکهے تو وه گناہوں سے ایسا پاک ہوگیا جیسا کہ اپنی ماں کی پیٹ سے پیدا ہونے کے بعد تها
    قال الطبراني حدثنا مسعود بن محمد الرملي ثنا عمران بن هارون نا مسلمة بن علي ثنا أبو عبد الله الحمصي عن نافع عن بن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من صام رمضان وأتبعه ستا من شوال خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه لم يرو هذا الحديث عن نافع إلا أبو عبد الله الحمصي تفرد به مسلمة بن علي

    شوال کے چھ روزوں کے بعض فوائد

    1 = رمضان کے گذرنے کے بعد شوال کے چھ روزے پورے سال کے اجروثواب کی تکمیل کرتے ہیں
    2 = شوال وشعبان کے روزے بمنزلہ سنتوں کے ہیں جو فرض نمازوں قبل پڑهے جاتے ہیں جس طرح فرائض میں خلل ونقص سنن ونوافل سے پورا ہوجاتا ہے ایسا ہی فرض روزوں میں نقص وخلل شوال کے روزوں سے پورا ہوجاتا ہے
    3 = رمضان کے بعد بهی روزه کی عظیم عبادت کی عادت ضروری ہے اور یہ صوم رمضان کی قبولیت کی علامت ہے کیونکہ الله تعالی جب کسی کا نیک عمل قبول کرلیتے ہیں تواس کو دوسرے نیک عمل کی توفیق دیتے ہیں جیسا کہ بعض علماء نے کہا ثوابُ الحسنة الحسنة بعدها نیکی کے ثواب وقبولیت کی علامت اس کے بعد نیکی کرنا ہے اسی طرح جس نے نیکی کے بعد معاصی کی طرف رجوع کیا تو یہ نیکی کی عدم قبول کی علامت ہے الله تعالی حفاظت فرمائے
    4 = صائمين کو عید الفطر کے دن پورا پورا اجر وانعام مل گیا جوکہ يوم الجوائز { انعامات کا دن } ہے اوربنده کے لیئے تمام گناہوں کی بخشش سے بڑی کوئی نعمت نہیں لہذا عید الفطر کے بعد اس عظیم نعمت کا شکر بهی ضروری ہے
    5 = بعض سلف کی یہ عادت تهی کہ رات اگرعبادت کی توفیق مل جاتی تو دن کواس کے شکریہ میں روزه رکهتے تهے توجن کو رمضان کی عظیم دولت نصیب ہوئی اور طاعات وعبادات کی توفیق ملی تو ان پرشکر ضروری ہے

    حاصل کلام یہ ہے کہ اسلام میں عبادات وطاعات کے لیئے کوئی خاص موسم متعین نہیں هے کہ جب وه موسم ختم ہوجائے توبنده معاصی وغفلت میں پڑجائے بلکہ نیکی وطاعات کا موسم بنده کے ساتھ پوری زندگی تادم آخر ہے اور عبادات وطاعات کا موسم کبهی ختم نہیں ہوتا یہاں تک کہ بنده قبرمیں داخل ہوجائے

    مسئله = شوال کے چھ روزوے عید کے بعد فورا لگاتار بهی رکھ سکتا ہے اورمتفرق طورپروقفہ کے ساتھ بهی رکھ سکتا ہے لہذا دونوں طرح درست ہیں
    لیکن بہتریہ ہے کہ متفرق طورپر رکهے جائیں
    وندب تفریق صوم الست الخ. فتاوی شامی ج ۲ ص ۱۷۱

    وفي الختام أسأل الله تعالى أن ينفع المسلمین بهذه المبحث المختصر وأن يجعله في موازين حسناتی وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه وسلم تسلیما کثیرا
  2. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا۔۔۔
    اُردو تحریر ہمیشہ اُردو رسم الخط میں ہی لکھنی چاہیے، تاکہ قارئین کو استفادہ میں آسانی اور سہولت ہو۔
  3. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,470
    موصول پسندیدگیاں:
    409
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا۔۔
  4. بےلگام

    بےلگام وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,559
    موصول پسندیدگیاں:
    8
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Spain
    جزاک اللہ


    ۔۔۔

اس صفحے کو مشتہر کریں