شوگر کے مریض اورمضان شریف کے روزے

'ماہنامہ برقی جریدہ افکارِ قاسمی' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جون 16, 2013۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,651
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    Dr. M.Abdul Jaleel. ڈاکٹر محمدعبد الجلیل صاحب
    MBBS, Dip. Diab, MHSc (Diabetology)
    Consultant. Bangalore Diabetes Hospital, Vasanthnagar, and AJ Polyclinic & diabetes care centre
    BTM.1st Stage, Bangalore-560029. Mobile: 9845270295
    شوگر کے مریض اورمضان شریف کے روزے
    مختصر ہدایات:ذیابطیس(شوگر) میں مبتلا اشخاص جو رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کے خوہاں ہیں۔
    (1) ماہ رمضان کی تیاری میں افضل ہے کہ آپ شعبان کے مہینہ ہی میں اپنا کامل طبی معائنہ کروالیں ۔اور اطمنان حاصل کرلیں کہ آپ ذیابطیس سے منسوب اور پیش رفتہ قلب ، گردے ،آنکھ یا اعصاب کے عوارض یعنی کامپلیکیشن میں مبتلا نہ ہوں۔
    ذیابطیس میں مبتلا اشخاص میں سے اکثریت جو کہ ذیابطیس کی گولیوں یعنی ٹیابلٹس پر ہیں (2)ٹائپ ٹو
    بغیر کسی بڑےخطرے کے بغیر مکمل طور پر رمضان المبارک کے روزے رکھ پاتے ہیں ۔البتہ دوا کی مقدار ،نوع یا اوقات میں
    مناسب تبدیلیاں کرنی پڑ سکتی ہیں۔
    یعنی خون گلو کوز کی شدید گراوٹ،اور ہاییپرگلایسمیا یعنی خون میں گلو کوز کی شدید افزائش کی) (3) ہائی پو گلایسمیا
    نشانیوں سے اچھی طرح واقفیت حاصل کرلیں ۔اور چنانچہ روزہ کی حالت میں یہ نشانیاں شدید اور پریشان کی حد تک ظہور پذیر ہوں تو
    آپ کو چاہئے کہ فوراً روزہ کھول دیں۔
    یا خون میں گلو کوز کی شدید افزائش کی ابتدائی نشانیوں میں شدید پیاس کا احسا س بار بار) (4) ) ہائی پو گلایسمیا
    پیشاب کا آنا ،انتہائی تھکاوٹ اور کمزوری کا احساس ،شدید سر درد اور بدن درد ، پیٹ میں شدیددرد ،متلی اور قئے ،اور سانس کی دشواریاں شامل ہیں ۔
    یا خون میں گلو کوز کی شدید افزائش کی ابتدائی نشانیوں میں شدید پیاس کا احسا س بار بار) (5) ہائی پو گلایسمیا
    پیشاب کا آنا ،انتہائی تھکاوٹ اور کمزوری کا احساس ،شدید سر درد اور بدن درد ، پیٹ میں شدیددرد ،متلی اور قئے ،اور سانس کی دشواریاں شامل ہیں ۔
    (6)سحری کھانے میں جہاں تک ہو سکے تاخیر سے کام لیجئے اور افطار میں جلدی کیجئے جیسا کہ اس بارے میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی منقول ہے ۔
    (7) سحری کے کھانے میں ایسی غذا کا انتخاب کریں جو دیر سے ہضم اور جذب ہو نے والی ہو مثلاً چپاتی ، دال، ابلے یا اسٹیم سے پکے پکائے سبزی جات اور تر کاریاں ، تھوڑا بہت گوشت مرغ یا مچھلی ، وغیرہ ۔سحری کے وقت میں شیرینی ،مٹھائیوں اور میٹھے مشروبات سے اپنے آپ کو دور ہی رکھیں۔
    (8) افطار کے وقت کچھ کھجور ، نمک یا کچھ دوسری میٹھی چیزوں سے شروعات کریں ۔پُرخوری سے اپنے آپ کو دور رکھیں ، بہت زیادہ روغنی غذاؤں سے بچتے رہیں۔ دل گردہ ، آگ پر پکے ،ابالے ہوئے یا اسٹیم سے پکے پکائے پکوان مفید تر ہوتے ہیں۔
    (9) افطار کے بعد سے لے کر رات کے آخری حصہ تک تھوڑے تھوڑے وقفہ پر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا پانی ، یا شکر کے بغیر تیار کردہ فروٹ جوس اور دیگر مایعات کا استعمال کرتے رہیں تاکہ دن کے وقت چنانچہ بدن میں اور دیگر مایعات کا استعمال کرتے رہیں تاکہ دن کے وقت چنانچہ بدن میں پانی اور دیگر مایعات کی کمی ہو گئی ہو تو اس کا ازالہ ہو سکے ۔
    (10)روزے کی حالت میں بیشتر وقت عبادات ، ذکر واذکار اور دوسری روز مرہ کی صحت مند سر گر میوں کو جاری رکھیں مگر بے وجہ بے کاری اور زیادہ تھکا دینے والی جسمانی سر گر میوں سے اپنے آپ کو باز رکھیں۔اپنے گھر پر گلو کو میٹر کے ذریعہ اپنے خون میں موجود گلو کوز ٹسٹ)
    کرنا سیکھ لیں ۔ اور چنانچہ روزہ کی) حالت میں طبیعت ناساز گار رہی تو اپنا خون ٹسٹ کرلیں
    (12) اطمنان رکھئے کہ خون میں گلوکوز ٹسٹ کر لینے سے روزہ باطل یا فاسد نہیں ہوتا یعنی روزہ نہیں ٹوٹتا ۔
    (13) جو اشخاص ٹائپ ون ذیابطیس میں مبتلا ہیں انہیں تو لازماً دن میں ایک یا اس سے بڑھ کر کئی مرتبہ انسولین کےٹیکے لگوانے پڑتے ہیں ۔ ان کے علاوہ بھی ٹائپ ٹو میں مبتلا بعض اشخاص کو ناگزیر انسولین کے ٹیکوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے ایسے اشخاص لازم ہے کہ سحری کھانے سے ہپلے افطار سے پہلے اور افطار کر نے کے دو گھنٹے بعد اپنا خون ٹسٹ کرلیں اور اپنے ڈاکٹر کی تجویز کےمطابق انسولین کی مقدار اڈجسٹ کر لیں ۔ مطمئن رہیں کہ انسولین کے ٹیکے لگوانے سے روزہ باطل نہیں ہوتا ۔
    (14) عام حالات میں جن جن لوگوں کو روزہ رکھنے سے شرعاً مستثناء قرار دیا گیا ہے اس سے واقفیت پیدا کیجئے اور اس تخفیف کا علماء سے پوچھ کر ضرورت پڑنے پر عادلانہ استفادہ کیجئے ۔
    (15) کسی نکتہ یا مسئلہ کے بارے میں شک یا اشتباہ ہو تو بلا جھجھک واقف علماء یا دیندار اطباء ( داکٹر) سے رجوع کیجئے۔
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں