شیخ عبدالقادر جیلانی کی دعوت، ایک جائزہ- 8: (حضرت شیخ کی تعلیمات کا عمومی جائزہ)

'بزرگانِ دین' میں موضوعات آغاز کردہ از دیوان, ‏مئی 27, 2015۔

  1. دیوان

    دیوان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    44
    موصول پسندیدگیاں:
    45
    صنف:
    Male
    تیسری صدی ہجری کے بعد مسلمانوں میں ہر طرح کا بگاڑ پیدا ہوا اور امت کا کوئی شعبہ بھی خرابی اور فساد سے نہ بچ سکا۔ اس دور فساد میں بھی صالحین کا ایک طبقہ مسلمانوں کے ایمان اور عقائد کو بچانے کے لیے اپنی کوششوں میں لگا ہوا تھا۔ لیکن ان کا حلقہ اثر محدود تھا، ان کی مجلسیں اجاڑ پڑی تھیں اور کوئی ان کے وعظ و نصیحت پر کان دھرنے والا نہیں تھا۔لو گ دین کی باتیں سنتے تھے لیکن ان کی زندگیوں میں ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا گویا کہ انہوں نے کچھ سنا ہی نہیں۔ وہ دنیا کی لذتوں میں مگن تھے اور ان کے حاصل کرنے میں انہیں کسی طرح کا پاس لحاظ نہ تھا۔ منکرات ہر طرف پھیلے ہوئے تھے۔
    بغداد جہاں حضرت شیخ رہتے تھے اس کا حال بھی مسلمانوں کے باقی علاقوں سے مختلف نہیں تھا۔حضرت شیخ بغداد میں رہتے ہوئے اس فساد کو دیکھتے تھے۔ یقینا ان کا دل کڑھتا ہوگا اور وہ اصلاح احوال کے لیے بھی یقینا فکرمند ہوتے ہوں گے۔ لیکن بعض نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر ایک دن آپ نے بغداد چھوڑنے کا فیصلہ فرما لیا اور تقریبا پندرہ دن کی مسافت طے کر لی تھی کہ یکایک غیب سے آواز آئی ’’بغداد چھوڑ کر مت جاؤ، وہاں تمہاری ذات سے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔‘‘ اس غیبی اشارے کے بعد حضرت شیخ نے بغداد چھوڑنے کا ارادہ ترک کر دیا اور بغداد واپس آکر لوگوں کو نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی تلقین کرتے رہے۔ اسی دوران آپ کو خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعوت و تبلیغ کا حکم فرمایا اور سات بار اپنا لعاب دہن حضرت شیخ کے منہ میں لگایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تین مرتبہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا لعاب لگایا۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میرے لیے تقریر کرنا آسان ہوگیا۔ (قلائد الجواہر)
    ایک روایت کے مطابق آپ نے ۵۲۱ھ مطابق ۱۱۶۷ء میں پچاس سال کی عمر میں سب سے پہلا وعظ کہا۔ آپ کے وعظ اور درس کا چرچا بہت جلد دور دور ہونے لگا۔
    حضرت شیخ کی تعلیمات ان کے مواعظ کی صورت میں آج ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ان کو پڑھ کر بخوبی اس دور کے مسلمانوں کی حالت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاق ہر شعبہ فساد کی زد میں تھا۔ اسی لیے ان مواعظ میں ہر طرح کے موضوعات پر آپ کو حضرت کے ارشادات پڑھنے کو ملتے ہیں۔ انشااللہ تعالیٰ اگلے صفحات میں آپ کو اس کی بہت ساری مثالیں ملیں گی۔ان مواعظ کے ذریعے آپ نے براہ براہ راست عوام الناس سے رابطہ قائم کیا۔ آپ کی مجلس میں ہر پائے کا آدمی آتا تھا اور آپ لوگوں کے حسب حال اپنے مواعظ میں ان کی اصلاح کے باتیں بیان کرتے تھے۔ آپ کے مواعظ کا مقصد یہی تھا کہ بندگان خدا کی اصلاح کی جائے چنانچہ آپ ہر وقت اسی مقصد کے حصول کے لیے کوشاں رہتے تھے۔حضرت شیخ نے مختلف مواعظ میں اپنے کام کے مقصد کی خود وضاحت فرمائی ہے۔الفتح الربانی کی مجلس ۴۹ میں مختلف مقامات پر فرماتے ہیں:
    ’’ میرے لیے تمہار اتنا کہنا کافی نہیں کہ آپ نے خوب کہا بلکہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس پر عمل کرو اور اپنے اعمال میں مخلص بنو۔‘‘
    مزید فرماتے ہیں:
    ’’ میرا وعظ کے لیے بیٹھنا تمہارے قلوب کی اصلاح اور ان کو سنوارنے کے لیے ہے نہ کہ تقریر میں الٹ پھیر کرنے اور اسے سنوارنے کے لیے۔‘‘
    مزید فرماتے ہیں:
    ’’یہ ایک عمارت ہے جس کی میں تمہارے لیے بنیاد ڈالتا ہوں تاکہ شیطانی عمارت کو گرا دوں اور رحمانی عمارت کو چن دوں اور تم کو تمہارے آقا اور تمہارے رب سے جاملاؤں۔‘‘
    آپ نے پہچانا کہ اصل مرض ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کی کمی ہے اور اسی پر محنت کرنے کی ضرورت ہے اسی لیے ان مواعظ میں توحید و شرک، موت کے بعد کی زندگی کی تیاری اور ان سب کا حاصل یعنی دین پر عمل کرنا ان پر بہت روز ملتا ہے۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں:
    ’’میرے وعظ کی قیمت اس پر عمل کرنا ہے‘‘ (الفتح الربانی مجلس ۴۲)
    آپ جو کچھ فرماتے قرآن و حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے تھے۔آپ کی نظر میںمسلمانوں کی دنیا و آخرت کی فلاح صرف اور صرف اتباع سنت اور احکام شریعت کی پابندی میں ہے اس لیے آپ نے تمام تر کوششیں اس بات پر مرکوز رکھیں کہ مسلمانوں کو قرآن و حدیث کی طرف لوٹایا جائے اور ان میں دنیا کی محبت کے مقابلے میں آخرت کی محبت پیدا کی جائے تاکہ ان میں ہر قسم کی قربانی اور جہاد فی سبیل اللہ کا جذبہ پیدا ہو۔ حضرت فرماتے ہیں:
    ’’کتاب و سنت کو اپنا پیشوا بنا اور دونوں میں غور و فکر کے ساتھ نظر ڈال اور ان پر عمل کر۔ بحث و مباحثہ اور ہوس پر فریفتہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:(( وَ مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوہُ وَ مَا نَھَاکُم فَانْتَھُوا وَ اتَّقُوا اللّٰہَ۔)) (الحشر-۷) یعنی رسول تمہارے لیے جو چیز لائے ہیں اس کو لو اور جس سے وہ منع کریں اس کو چھوڑ دو اور اللہ سے ڈرو۔)) رسول کی مخالفت نہ کرو کہ جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اس پر عمل چھوڑ دو۔‘‘ (فتوح الغیب وعظ ۳۶)
    الفتح الربانی مجلس ۲۵ میں ارشاد ہے:
    ’’جس نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع نہ کیا اور اپنے ایک ہاتھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت اور دوسرے ہاتھ میں قرآن کو نہ تھاما وہ اللہ تعالی تک نہیں پہنچے گا۔ وہ خود بھی ہلاک و گمراہ ہوگا اور دوسروں کو بھی ہلاک و گمراہ کرے گا۔ قرآن و حدیث دونوں راہبر ہیں۔ قرآن تیرا رہبر ہے اللہ تعالیٰ تک پہنچانے کا اور سنت تیری رہبر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے کو۔‘‘
    حضرت شیخ کی شخصیت کا عام تصور ایک صوفی کا ہے۔اس حیثیت میں بھی آپ کا دستور عمل قرآن و حدیث ہی ہے۔ اسی لیے حضرت شیخ کے مواعظ تصوف کی فلسفیانہ بحثوں سے بالکل خالی ہیں۔بعض جگہ صوفیانہ اصطلاحیں استعمال کی ہیں لیکن ان کی وضاحت بھی کرتے جاتے ہیں۔وہ طریقت کو شریعت کے ساتھ ہم آہنگ دیکھنا چاہتے تھے۔منصور حلاج ؒ کے بارے میں انہوں نے فرمایا:
    ’’منصور نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر دعوی کیا اور اپنی طاقت سے اونچی اڑان کی۔جس کے نتیجے میں شریعت کی قینچی سے ان کے پروں کو کاٹ دیا گیا۔ منصور حلاج ؒ کے دور میں کوئی شخص ایسا نہ تھا جو ان کا ہاتھ پکڑتا اور انہیں اس لغزش سے باز رکھتا، اگر میں ان کے زمانے میں ہوتا تو ان کو اس صورت حال سے بچاتا جو انہوں نے اختیار کر لی تھی۔‘‘ (قلائد الجواہر)
    آپ فرائض کو نوافل پر مقدم رکھتے ہیں۔ فتوح الغیب وعظ نمبر ۴۸ میں فرماتے ہیں:
    ’’مومن پر لازم ہے کہ پہلے فرائض و واجبات ادا کرے، پھر جب ان سے فارغ ہوجائے تو سنتوں کی ادائیگی میں مشغول ہو، اس کے بعد نوافل اور فضائل میں مشغول ہو۔جب تک فرائض ادا نہ ہو جائیں سنتوں کی ادائیگی میں مشغول ہونا حماقت ہے۔ اگر فرائض سے پہلے سنن و نوافل میں مشغول ہوگا تو یہ عبادت قبول نہ ہوگی بلکہ اسے ذلیل کیا جائے گا۔‘‘
    ترک دنیا اور رہبانیت آپ کی تعلیم نہیں تھی بلکہ آپ اس بات پر زور دیتے تھے کہ لوگ اپنی دنیا کی اصلاح کریں۔ آپ کا ارشاد ہے:
    ’’دنیا میں تصرف کرنے کے متعلق جب نیت درست ہوتی ہے تو وہ آخرت ہی بن جاتی ہے۔ ‘‘ ( الفتح الربانی مجلس ۲۲)
    حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ سلسلہ مواعظ چالیس سال تک جاری رہا اور لاکھوں انسانوں کی اصلاح کا سبب بنا۔ آپ کے مواعظ نے بہت جلد عالم اسلام کی کایا پلٹ دی۔ اصلاح احوال کی جو تحریک آپ نے برپا کردی تھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ تیزتر ہوتی چلی گئی۔ مسلمان پھر قرآن و حدیث کی طرف لوٹ آئے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ جدوجہد و عمل کا جذبہ بیدار ہوتا چلا گیا۔ گویا بھٹکا ہوا آہو سوئے حرم چل پڑا۔
    حضرت کے مواعظ میں دین کے چاروں شعبوں یعنی عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاقیات پر تعلیمات ملتی ہیں۔اگلے صفحات میں اس کی مثالیں پیش خدمت ہیں۔
    (جاری ہے)​

اس صفحے کو مشتہر کریں