صبرو ہمت کی پیکر

'تاریخ اسلام' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏فروری 4, 2013۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    صبرو ہمت کی پیکر
    حضرت ابوالحسن سراج کہتے ہیں کہ میں حج بیت اللہ کیلئے گھرسے چلا اور بیت اللہ پہنچ کر کعبۃ اللہ کاطواف کررہا تھا کہ ایک حسین وجمیل عورت جس کے حسن وجمال نے عالم کو روشن کردیاتھا پرنظرپڑی میں نے کہا خداکی قسم آچ تک کہیں ایسی حسینہ وجمیلہ عورت نظرنہ آئی شاید یہ حسن وخوبی فکروغم کے کم ہونے کی وجہ سے ہے یہ بات اس عورت نے سنی تو کہا:
    ’’اے مرد! تو نے کیا کہا؟ خداکی قسم میں غموں سے جکڑی ہوئی ہوں دل فکرو سے زخمی ہے اس غم میں میرا کوئی شریک نہیں‘‘
    میں نے کہا وہ کون سا غم ہے؟ کہنے لگی:
    ’’میرے شوہرنے ایک بکری قربانی کی ذبح کی اور میرے دوچھوٹے لڑکے کھیل رہے تھے اورایک چھوٹا شیرخواربچہ میری گود میں تھا،میں کھاناپکانے اٹھی تھی بڑے لڑکے نے چھوٹے سے کہا آئو میں تمہیں دکھلائوں کی ابانے بکری کے ساتھ کیسا کام کیا چھوٹے لڑکے نے کہا ضرور دکھلائو پھربڑے لڑکے نے چھوٹے لڑکے کو لٹاکرذبح کرڈالا اور خود پہاڑ پربھاگ گیا وہاں اس کوبھیڑئے نے پھاڑڈالا،اس کا باپ اس کی تلاش میں گیا وہ شدت پیاس سے مرگیا، چھوٹے شیر خواربچے کومیں چھوڑکر دروازے تک گئی کہ دیکھوں کہاں گیا؟ ہانڈی چولہے پرتھی بچے نے گرم ہانڈی اپنے اور انڈیل لی اوروہ بھی جل کرچل بسا، یہ افسوسناک خبرجب میری بڑی لڑکی کو جواپنے شوہر کے پاس تھی پہنچی توسنتے ہی بیہوش ہوکرزمین پرگرپڑی اورروح قفص عنصری سے پرواز کرگئی، ان سب میں صرف مجھ کو زمانہ نے تنہاچھوڑاہے‘‘۔
    میں نے کہا تو ان مصیبتوں پرکیسے صبرکرتی ہے ؟کہا کوئی ایسا نہیں جوصبر اور گھبراہٹ میں فرق کرے اوراس کو ان دونوں کے درمیان راہ نہ مل جائے صبر کاانجام نیک ہے اورگھبرانے والے کو کچھ عوض نہیں ملتا،یہ کہکر وہ عورت چلی گئی۔
    (نزہۃ البساتین اُردوترجمہ روح الراحین ص ۱۲۶ ج۱)
  2. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اللہ اکبر! سچ کہا کہ:
    صبر کاانجام نیک ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں