صحابی کا قول حجت نہیں ہے. غیر مقلدین

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از نعیم, ‏نومبر 13, 2011۔

  1. نعیم

    نعیم وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    78
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    جگہ:
    Afghanistan
    صحابی کا قول حجت نہیں ہے. غیر مقلدین​

    غیر مقلدین جماعت کے مشہور عالم اور محدث نواب وحید الزماں صاحب نے اپنی مشہور کتاب ''کنز الحقائق ''میں اپنی جماعت کا عقیدہ بیان کرتے ہیں ویستحب الترضیٰ للصحابہ غیر ابی سفیان ومعا ویہ وعمر وبن العاص ومغیرہ بن شعبہ وسمرہ بن جندب (ص234)
    یعنی صحابہ کرام کو رضی اللہ عنہ کہنا مستحب ہے ، لیکن ابو سفیان ، معاویہ ،عمر وبن العاص ، مغیرہ بن شعبہ اور سمرہ بن جندب کو رضی اللہ عنہ کہنا مستحب نہیں۔
    خطبہ جمع میں خلفائے راشدین کا نام لینا بدعت ہے ۔
    غیر مقلدین کا مذہب یہ ہے کہ خطبہ جمعہ میں التزاما خلفائے کرام کا نا م لینا بدعت ہے ۔نواب صاحب یوں گوہر افشاں ہیں
    ولا یلتزمون ذکر الخلفاء ولا ذکر سلطان الوقت لکونہ بدعۃو غیر ماثورۃ عن النبی واصحابہ
    ہدیۃ المہدی ص 110-
    صحابی کا قول حجت نہیں ہے
    فتاویٰ نذیریہ میں ہے ''دوم آنکہ اگر تسلیم کردہ شود کہ سندایں فتویٰ صحیح ست تا ہم ازواحتجاج صحیح نیست زیرا کہ قول صحابی حجت نیست ( ص 340)
    یعنی دوسری بات یہ ہے کہ اگر حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن زبیر کا یہ فتویٰ صحیح بھی ہے تب بھی اس سے دلیل پکڑنا درست نہیں اس لئے کہ قول صحابی دلیل نہیں ہے
    نواب صدیق حسن نے عرف الجادی میں یوں لکھا ہے
    حدیث جابر دریں باب قول صحابی حجت نیست یعنی حضرت جابر کی یہ بات کہ ( لا صلوۃ لمن یقر اء والی حدیث ہی نماز پڑھنے والے کیلئے ہے ) حضرت جابر کا قول ہے اوور صحابی کا قول حجت نہیں ہوتا ۔ ص 38 لا حول ولا قوۃ
    فتاویٰ نذیریہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میںارشاد ہوتا ہے
    مگر خوب یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت علی کے اس قول سے صحت جمعہ کیلئے مصر کا شرط ہونا ہر گز ہر گز ثابت نہیں ہو سکتا ۔ ( فتاویٰ نذیریہ ص 594 ج1)
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ موٹے موٹے مسائل میں غلطی کرتے تھے اور ان کا شرعی حکم انھیں معلوم نہیں تھا ۔
    چنا نچہ طریق محمد ی میں مولانا محمد جونا گڈھی لکھتے ہیں : پس آؤ سنو بہت سے صاٖ ف صاٖ موٹے موٹے مسائل ایسے ہیں کہ حضرت فاروق اعظم نے ان میں غلطی کی ،اور ہمارا اور آپ کا اتفاق ہے کہ فی الواقع ان مسائل کے دلائل سے حضرت عمر فاروق اعظم بے خبر تھے ۔ پھر دس مسئلوں میں حضرت عمر کی بے خبری ثابت کر نے کے بعد محمد جوا گڈھی صاحب کا ارشاد ہوتا ہے ! یہ دس مسئلے ہوئے ابھی تلاش سے ایسے اور مسئلے بھی مل سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ان موٹے موٹے مسائل میں جو روز مرہ کے ہیں دلائل شرعیہ آپ سے مخفی رہے ۔ ( ص 42)
    اللہ اکبر کبیرا ! غیر مقلدین میں ایسے بھی دم خم والے علماء مو جود ہیں جو حضرت عمر فاروق کی بھی دینی وشرعی مسائل میں غلطیاں پکڑتے ہیں ۔
    ذرا وکیل سلفیت جامعہ سلفیہ بنارس کے محقق رئیس احمد ندوی سلفی کی گو ہر افشانی ملاحظہ فر مائیں''اسی بناء پر ہم دیکھتے ہیں کہ اپنی ذاتی مصلحت بینی کی بنیاد پر بعض خلفائے راشدین بعض احکام شرعیہ کے خلاف بخیال خویش واصلاح ومصلحت کی غرض سے دوسرے احکام صادر کر چکے تھے ان احکام کے سلسلہ میں ان خلفاء کی باتوں کو عام امت نے رد کر دیا تھا '' تنویر الافاق ص 107
    اس سلسلہ میں مزید ارشاد ہوتا ہے
    '' ہم آگے چل کر کئی ایسی مثالیں پیش کر نے والے ہیں جن میں احکام شرعیہ ونصوص کے خلاف خلفائے راشدین کے طرز عمل کو پوری امت نے اجتماعی طور پر غلط قرار دے کر نصوص واحکام شرعیہ پر عمل کیا ہے ۔(ص 107 ایضا)
    اسی سلسلہ کا ندوی سلفی موصوف کا یہ ارشاد بھی ملاحظہ فر مائیں ، فر ماتے ہیں۔مگر ایک سے زیادہ واضح مثالیں ایسی موجود ہیں جن میں حضرت عمر یا کسی بھی خلیفہ راشد نے نصوص کتاب وسنت کے خلاف اپنے اختیار کردہ موقف کو بطور قانون جاری کر دیا تھا ، لیکن پوری امت نے ان معاملات میں بھی حضرت عمر یا دوسرے خلیفہ راشد کی جاری کردہ قانون کے بجائے نصوص کی پیرو ہے ( ص 108)
    قارئین! یہ ہیں وکیل سلفی جن کا حوالہ بہت زور وشور سے ابن بشیر صاحب نے دیا ۔سچ ہے جنکی دریدہ دہنی سے خلفاء راشدین نہ بچ سکیں تو بیچارے علمائے احناف کس شمار میں ۔
    قارئین کرام موصوف محقق سلفی صاحب کی ان عبارتوں سے مندرجہ ذیل حقائق کا انکشاف ہوتا ہے ۔
    (1) خلفائے راشدین احکام شرعیہ کے خلاف احکام جاری کرتے تھے ۔
    (2) پوری امت نے اجماعی طریقہ پر خلفائے راشدین کے ان خلاف کتاب وسنت احکام کو رد کر دیا تھا۔
    (3) خلفائے راشدین کتاب وسنت کے خلاف دینی وشرعی احکام میں اپنا موقف اختیار کرتے تھے ۔
    (4) خلفائے راشدین کتاب وسنت کے خلاف قانون جاری کرتے تھے ۔ یہ ہیں وہ حقائق جو جامعہ سلفیہ بنارس کے کے سلفی استاذ کے کلام سے ماخوذ ہیں ، اب مسلمان غور فر مائیں کہ کیا اس کے بعد بھی خلفائے راشدین کا دین وشریعت میں کوئی مقام باقی رہ جاتا ہے ،اور خلفائے راشدین کی کتاب وسنت کے خلاف اس جراءت بیجا کے بعد بھی ان کو راشد کہنا عقلا ونقلا درست قرار پا ئے گا؟ یا مسلمانوں کو ان کی باتوں پر یا ان کی سنتوں پر کسی بھی درجہ میں اعتماد کرنا جائز ودرست ہو گا۔یہ چند مثالیں ہیں باقی یار زندہ صحبت باقی ۔پھر کبھی



  2. اصلی حنفی

    اصلی حنفی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    139
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    محترم نعیم صاحب بہت خوب مغالطہ دینے کی کوشش کی گئی ہے آپ مجھے بس یہ بتائیں کہ

    آپ لوگوں کے نزدیک اقوال واعمال صحابہ حجت ہیں یا نہیں ؟ بادلیل
  3. اصلی حنفی

    اصلی حنفی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    139
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    آپ لوگوں کے نزدیک اقوال واعمال صحابہ رضی اللہ عنہم حجت ہیں یا نہیں ؟ بادلیل

اس صفحے کو مشتہر کریں