صداقت کا پرچم اُٹھا کر چلو

'بزمِ غزل' میں موضوعات آغاز کردہ از ذیشان نصر, ‏فروری 22, 2012۔

  1. ذیشان نصر

    ذیشان نصر ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    634
    موصول پسندیدگیاں:
    28
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    صداقت کا پرچم اُٹھا کر چلو
    چراغِ محبت جلا کر چلو

    دفاع ِ وطن کے لئے دوستو
    دل و جاں کی بازی لگا کر چلو

    جو قائد نے ہم کو سجھائی کبھی
    وہی فکر اب تم جگا کر چلو

    صدا دی تھی اقبال نے جو کبھی
    وہی آ ج پھر تم لگا کرچلو

    جو غفلت میں سوئے پڑے ہیں ابھی
    انہیں غفلتوں سے جگا کر چلو

    جو میراث پائی تھی اسلاف سے
    زمانے کو وہ تم دکھا کر چلو

    جو دیوار آئےاگر راہ میں
    اسے ٹھوکروں سے گرا کر چلو

    وہ تم نے کیا تھا جو عہدِ وفا
    وہی قول اب تم نبھا کر چلو

    سدا یاد رکھے گا تم کو وطن
    سوئے دار تم مسکرا کر چلو
    15-10-11
    (محمد ذیشان نصر)​
  2. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,553
    موصول پسندیدگیاں:
    72
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    السلام علیکم
    ذیشان نصر صاحب بہت ہی خوبصورت کلام تخلیق کیا ہے آُپ نے بہت اچھے:->~~
    اور اتنا خؤبصورت کلام الغزالی میں شئیر کرنے پر شکریہ
  3. ذیشان نصر

    ذیشان نصر ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    634
    موصول پسندیدگیاں:
    28
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    وعلیکم السلام
    فقیرتہِ دل سے آپ کا مشکور ہے کہ آپ نے خاکسار کواپنے زیرِ بار ہونے کا موقع عطا کیا۔۔۔ شکریہ۔۔۔!
  4. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,317
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    صداقت کا پرچم اُٹھا کر چلو
    چراغِ محبت جلا کر چلو

    دفاع ِ وطن کے لئے دوستو
    دل و جاں کی بازی لگا کر چلو
  5. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    458
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    صداقت کا پرچم اُٹھا کر چلو
    چراغِ محبت جلا کر چلو

    دفاع ِ وطن کے لئے دوستو
    دل و جاں کی بازی لگا کر چلو

    جو قائد نے ہم کو سجھائی کبھی
    وہی فکر اب تم جگا کر چلو

    صدا دی تھی اقبال نے جو کبھی
    وہی آ ج پھر تم لگا کرچلو

    جو غفلت میں سوئے پڑے ہیں ابھی
    انہیں غفلتوں سے جگا کر چلو

    جو میراث پائی تھی اسلاف سے
    زمانے کو وہ تم دکھا کر چلو

    جو دیوار آئےاگر راہ میں
    اسے ٹھوکروں سے گرا کر چلو

    وہ تم نے کیا تھا جو عہدِ وفا
    وہی قول اب تم نبھا کر چلو

    سدا یاد رکھے گا تم کو وطن
    سوئے دار تم مسکرا کر چلو

    ذیشان نصر صاحب بہت ہی خوبصورت کلام تخلیق کیا ہے
  6. ذیشان نصر

    ذیشان نصر ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    634
    موصول پسندیدگیاں:
    28
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت بہت شکریہ۔۔۔۔!
  7. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    وہ تم نے کیا تھا جو عہدِ وفا
    وہی قول اب تم نبھا کر چلو
  8. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,080
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
  9. ذیشان نصر

    ذیشان نصر ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    634
    موصول پسندیدگیاں:
    28
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    پسندیدگی کے لئے تمام احباب کا شکر گذار ہوں۔۔۔

اس صفحے کو مشتہر کریں