عالمِ ربانی کی رحلت ۔۔۔ محمد فیصل شہزاد

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏جولائی 27, 2013۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    عالمِ ربانی کی رحلت
    محمد فیصل شہزاد


    (1)
    [​IMG]
    (2)
    [​IMG]
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  2. پیامبر

    پیامبر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,245
    موصول پسندیدگیاں:
    568
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    عالم ربانی کی رحلت
    دو جون مغرب کا وقت تھا، جب موبائل پر پیغام آمد کی بیپ ہوئی۔ دیکھا تو کسی انجانے نمبر سے پیغام آیا تھا۔ پیغام کھولا تو پہلی سطر پڑھتے ہی بے اختیار اک آہ نکل گئی۔ لکھا تھا عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب انتقال فرماگئے۔ پیغام چونکہ انجانے نمبر سے تھا اس لیے فوراً ادھر ادھر کچھ دوستوں سے رابطہ کیا تو اس دلخراش خبر کی تصدیق ہوگئی۔ تصور میں حضرت کا نورانی اور بچوں کی سی معصومیت لیے چہرہ آگیا۔ ہم نے 2004 میں پہلی مرتبہ حضرت کی زیارت، گلشن اقبال مین واقع حضرت کی کانقاہ مین اپنے دوست خالد رضا کے وسیلے سے کی۔ اس وقت بھی حکیم صاحب رحمہ اللہ بات نہ فرماسکتے تھے، در اصل آپ پچھلے تیرہ سال سے سخت علیل تھے۔ آپ پر مئی 2000ء میں فالج کا حملہ ہوا تھا، اس کے بعد سے بات کرنے میں آپ شدید تکلیف ہوتی تھی۔
    آپ متبحر عالم بھی اور عارف باللہ بھی، داعی الی اللہ بھی تھے اور کامل فن شیخ طریقت بھی۔ آپ کی شخصیت میں بہت سی صفاتِ محمودہ جمع ہوگئی تھیں لیکن ان سب میں سب سے غالب صفت جو تمام صفات محمودہ کی گویا بنیاد ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے شدید محبت تھی۔ اسی محبت کا لازمی نتیجہ تھا کہ حدیث پاک کے مصداق پھر آپ کی محبوبیت کے زمزمے بھی چہار عالم میں گونجے۔ نہ صرف برصغیر بلکہ افریقہ، یورپ، امریکا اور کینیڈا کے ہزاروں لوگوں کے دل بھی آپ کی محبت سے معمور تھے۔
    مولانا حکیم محمد اختر رحمہ اللہ 1924ء میں ہندوستان کے صوبہ یوپی کے شہر پرتاب گڑھ کے گاؤن اٹھیہ میں محمد حسین نامی سرکاری ملازم کے گھر میں پیدا ہوئے۔ آپ نے عصری تعلیم طیبہ کالج علی گڑھ سے حاصل کی اور حکمت کی سند حاصل کیا۔ آپ شروع ہی سے اپنی اصلاح اور تزکیے کی چاہ میں بزرگوں کی صحبت میں رہے اور پھر یہی شوق جوانی میں عالم دین بننے کا سبب بنا۔ حکیم اختر رحمہ اللہ نے ابتداء میں نقشبندیہ سلسلے کے نامور بزرگ مولانا شاہ احمد پرتاب گڑھی سے فیض حاصل کیا اور پھر خلافت سے نوازے گئے۔ بعد ازاں سترہ برس مولانا شاہ عبد الغنی پھولپوری رحمہ اللہ کی صحبت میں سرائے میر میں رہے، جہاں ان کے مدرسہ میں جوانی میں درسِ نظامی کی تعلیم مکمل کی اور خلافت بھی حاصل کیا۔ بعد ازاں ہردوئی میں مولانا شاہ ابرار الحق رحمہ اللہ سے اکتسابِ فیض کیا اور خلافت حاصل کی۔ آپ کو تصوف کے چاروں معروف سلسلوں چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ سے اجازتِ بیعت حاصل تھی، قیام پاکستان کے چند سالوں بعد 1955ء میں آپ پاکستان تشریف لے آئے اور ناظم آباد نمبر میں تقریباً دو دہائیوں تک دینی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ بعد ازاں خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال کراچی میں منتقل ہوئے اور آخری وقت تک وہیں قیام پذیر رہے۔ مولانا نے ایک بڑا دینی ادارہ جامعہ اشرف المدارس کے نام سے سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوہر میں قائم کیا تھا جس میں 5000 سے زائد مقامی و بیرون ملک سے آئے طلبہ زیر تعلیم ہیں اور کراچی میں اس کی 10 سے زائد شاخیں ہیں۔ ان کی مواعظِ حسنہ پر مشتمل تصانیف کی تعداد 200 سے زائد ہے۔ مولانا نے معارف مثنوی کے نام سے مثنوی مولانا مرحوم کی مقبول ترین شرح لکھی جو پوری دنیا میں شائع ہوئی اور کئی زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے۔ دیگر کتابوں کے بھی اردو، سندھی، عربی، پشتو، بنگلا، برمی، جرمن، فرنچ، انگریزی، روسی اور دیگر کئی زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں۔
    حضرت مولانا اتحاد کے زبردست داعی تھے۔ تعصب، جو آج پاکستان میں خونریزی کی سب سے بڑی وجہ ہے، اس سے آپ کو سخت بغض تھا۔ تعصب چاہے جس رنگ میں ہو، اس نے لسانیت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہو یا قومیت کے نعرے میں چھپا ہو، اس کی بنیاد علاقائیت ہو یا رنگ و نسل، آپ کے نزدیک امت مسلمہ کو پارہ پارہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی۔ آپ کے نزدیک وطن، قوم، نسل اور زبان و تہذی کی ہر نسبت سے زیادہ اسلام کی نسبت و حمیت اہم تھی۔ آپ نے اپنے درد بھرے مواعظ کے ذریعے اسی تعصب جاہلیہ کی بیخ کنی کی اور مسلمانوں کو اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے نام جمع ہونے کی دعوت دی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے مریدین دنیا بھر کے مختلف زبانیں بولنے والے ہر رنگ و نسل کے لوگ شامل تھے۔ جن میں جنوبی افریقہ کے معروف کرکٹر عبد اللہ آملہ اور ہاشم آملہ بھی شامل ہیں۔
    مولانا کی رحلت سے امت ایک شفیق مربی اور عظیم عالم دین و مصلح سے محروم ہوگئی۔ مولانا کا شمار عالم اسلام کی ان چند ممتاز اور نمایاں دینی و روحانی شخصیات میں ہوتا تھا، جن سے بلا مبالغہ لاکھوں انسانوں نے بلا واسطہ یا بالواسطہ فیض حاصل کیا اور ہزاروں لوگوں کی زندگیاں تبدیل ہوئیں۔ اس فتنے کے دور میں جب اولیاء اللہ کا وجود تمام فتنوں سے بچاؤ کا ذریعہ ہے، حضرت کی وفات یقیناً امت کا ایک بہت بڑا اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ خصوصاً شہر کراچی کو جتنا اس وقت اللہ والوں اور ان کی دعاؤں کی ضرورت ہے، پہلے کبھی نہ تھی۔ اب حضرت کی رحلت کے بعد ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی تعلیمات کو عام کیا جائے اور ان کے پیغام محبت کو عام کیا جائے۔
    مولانا کی نماز جنازہ دوسرے دن پیر کو صبح 9 بجے جامعہ اشرف المدارس گلستان جوہر سندھ بلوچ سوسائٹی میں ادا کی گئی، جس میں صرف کراچی کے ہزاورں معتقدین نے ہی نہیں بلکہ ملک بھر سے راتوں رات آئے سیکڑوں معتقدین نے بھی شرکت کی سعادت حاصل کی۔ دعا ہے ککہ اللہ تعالیٰ حضرت کو اپنا خصوصی قرب عطا فرمائیں اور تمام مسلمانوں کو صبرِجمیل عطا فرمائیں۔
  3. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    سبحان اللہ
    ماشاء اللہ مولانا آپ نے اور ارمغان بھائی نے کمال کردیا

اس صفحے کو مشتہر کریں