عالمگیر کی اولاد کا احوال

'تاریخ ہند' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جون 8, 2017۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,648
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    عالمگیر کی اولاد کا احوال​
    عالمگیر کے اوصاف میں سے یہ بھی ایک وصف تھا کہ اُس نے اپنے بیٹوں کو طاعت وصلاح وپر ہیز گاری وقواعد اطوار ، سرداری اور بہت طرح کے ہنر سکھائے تھے ۔حافظ کلام اللہ ، علم ودب سے بقدر معتد بہ آگاہ ۔اقسام خطوط لکھنے میں ماہر ،زبان ترکی وفارسی خوب جاننے والے تھے اور بیٹیاں بھی عقائد حقہ اور احکام ضروریہ دینیہ سے واقف اور تلاوت وکتابت قرآن میں ماہر تھیں۔ بادشاہ کے پانچ بیٹے اور پا نچ بیٹیاں تھیں اگر چہ ان شہزادوں حال تاریخ میں بیان کیا گیا ہے مگر یہاں دونوں شہزادیوں کی لیاقت علمی کا بیان کیا جاتا ہے۔
    نام : زیب النساء سنہ ولادت ھ۱۰۴۵ ھ تاریخ وفات ۱۱۰۳ ھ۔
    نام : زبدۃ انساء سنہ ولادت ۱۰۶۱ ھ۔وفات ۱۷۱۸ ھ
    نام : محمد سلطان سنہ ولادت ۱۰۴۹ھ تاریخ وفات ۱۰۸۸ھ
    نام : اعظم شاہ سنہ ولادت ۱۰۶۳ھ وفات ۱۱۱۸ھ
    نام: معظم شاہ عالم بہادر شاہ سنہ ولادت ۱۰۵۳ ھ وفات ۱۱۱۲ھ
    نام: اکبر شاہ سنہ ولادت ۱۰۴۷ھ وفات ۱۱۱۶
    نام زیب النساء سنہ ولادت ۱۰۵۳ وفات ۱۱۱۰ھ
    نام مہر النساء سنہ ولادت ۱۰۷۲ھ وفات ۱۱۱۶ھ
    نام: بدر النساء سنہ ولادت ۱۰۵۷ ھ وفات ۱۰۸۱ھ
    نام: کام بخش سنہ ولادت ۱۰۷۷ھ وفات ۱۱۲۰ھ

    سب سے بڑا بیٹا محمد سلطان تھا ۔ نواب بائی اس کی ماں تھی ۔ کلام مجید کا حافظ تھا ۔ عربی ، فارسی ، ترجی کے لکھنے پڑھنے میں بہرہ کافی رکھتا تھا ۔ محاربات میں سجاعت ، دلیری دکھائی ۔۲۱ جلوس میں وفات پائی ۔
    دوم پسر محمد شاہ عالم بہادر بھی نواب بائی کے بطن سے پیدا ہوا۔ حافظ قرآن ، علم وقرأۃ وتجوید سے آگاہ۔اس طرح تر تیل وترسیل ست قرآن پڑھتا تھا کہ اس کے سننے سے سامع کا دل نہ بھرتا تھا۔ ایام شباب کو زیادہ تر تحصیل علم میں صرف کیا ۔ علم حدیث میں اس کو ندوۃ المحدثیں کہتے تھے ۔ فقہ میں قرآن وحدیث سے استخراج مسائل کر لیتا تھا ، عربی زبان ایسی بو لتا تھا کہ اہل عرب پسند کرتے تھے۔ فارسی ،ترکی میں بھی خوب استعداد تھی۔ اقسام خطوط لکھنے میں استاد تھا ۔اکثر شب کو نوافل کو ادا کرتا ۔وظائفکی تقدیم اور قرآن مجید کی قرأت اور حدیث اور تفسیر وفقہ وسلوک کی کتابوں کا مطالعہ کرتا ،وقت پر فجر کی نماز پڑھتا ، جب ایک دو نیزہ آفتاب بلند ہو جاتا تو وہ مصلی سے اٹھتا بعد اس کے گرفہ میں بیٹھتا اور ستم رسیدوں کی ملتمسات کو سنتا اور بقدر مصلحر یہاں توقف کرتا ۔ بعد اذاں دیوان خاص کو یوان عام کے ساتھ آرائش دیتا ۔ مقدمات مالی وملکی بوساطت دیوانوں اور بخشیوں اور متصدیوں کے معروض ہوتے اور لوگوں کے مقصد نکلتے ۔ ظہر کی نماز کے بعد محل میں جاتا ۔تناول طعام وقیلولہ کرتا بعد اس کے عصر کی نماز پڑھتا اور پھر مظلوموں کے درد کی دوا کرتا ۔ مغرب کی نماز سے پہلے قور کے ملا زموں کا مجرا لیتا ۔ مغرب کی نمازپڑھتا اور پھر شبستاں میں جاکر آرام کرتا ۔ یہ بادشاہ کا بیٹا سیدھا سادا تھا اور باپ کی وہ اطاعت کرتاتھا کہ غلام آقا کی تا بعداری کیا کرے گا ۔ کبھی کو ئی بات بلند نظری کی منہ سے نہیں نکالتا اور باپ کا کہا ساری باتوں میں مانتا ۔اورنگ زیب کا حال بھی جوانی میں اایسا ہی تھا کہ وہ با لکل اولو العزمی سے خالی تھ اس لئے وہ سادگی کو اپنی سادگی سمجھتا ۔
    سیو میں محمد اعظم دلرس با نو بیگم سے پیدا ہوا جو شاہ نواز خان صفوی کی بیٹی تھی ۔سب بیٹوں میں بادشاہ اس بیٹے کو بہت پیار کرتا تھا ۔اکثر بادشاہ اس کو مصاحب بے بدل نزدیک کہتا ۔باپ سے تین مہینے تین یوم بعد معرکہ آرائی میں مارا گیا ۔
    چہار میں محمد اکبر دلرس بانو کے بطن سے پیدا ہوا ۔ ۱۱۱۶ میں مر گیا ۔
    عالمگیر اس میں دو خوبیاں بتاتا تھا ۔ایک نماز با جماعت پڑھتا ہے ۔ کوئی جمعہ ترک نہیں کرتا اور مخالفانِ دین سے کچھ با ک نہیں رکھتا ۔ دوم مشہدِ معلیٰ میں امام موسیٰ رضا کے مرقد کی زیارت کی ۔ پنجم کام بخش بائی اودے پور سے پیدا ہوا اور حافظ قرآن تھا ۔ کتب متداولہ میں اور بھائیوں سے زیادہ ما ہر تھا ۔زبان ترکی میں اور اقسام خطوط لکھنے میں مہارت تھی شجاعت وسخاوت جلی اس میں تھیں ۔ باپ سے دو سال بعد مر گیا ۔
    اب بیٹیوں کا حال یہ ہے کہ زینب النساء بیگم بطن بیگم سے پیدا ہوئیں ۔حافظ کلام مجید تھیں۔جس کے عوض میں باپ نے تیس ہزار اشرفیاں دی تھیں وہ علوم عربی وفارسی سے بہرہ تمام رکھتی تھی۔ اقسام خطوط نستعلیق وشکستہ میں خویس نویس تھی۔ وہ علم کی قدر سناش تھی ۔کتابیں جمع کیں۔ تصنیف وتالیف میں مصروف رہتی ۔ارباب فضل وکمال کی خوشنودی میں توجہ کرتی سرکار شاہی کے کتب خانہ میں جتنی کتابیں اس نے پڑھی تھیں اتنی کسی اور نے نہیں پڑھیں ۔بہت سے علماء وفضلاء وصلحا ء وشعراء ومنشیان طلاغت وثار وخوشنویسانِ سحر نگار اس کے انعام سے بہرہ ور ہوتے نلا صفی الدین ارد بیلی کشمیر میں رہتا تھا اس کے حکم سے تفسیر کبیر کا ترجمہ کیا اس کا نام زیب التفاسیر ہے اور اس کے نام پر اور کتابیں اور رسالے بھی تصنیف ہوئے ہیں ۔ ۴۲ جلوس میں انتقال ہوا۔ دوم زینب النساء بھی بیگم کے بطن سے پیدا ہوئی ۔عقائد حقیہ واحکام ضروریہ دینیہ سے آگاہ تھی ۔بہت سخی تھی ۔ سوئم بدر النساء بیگم نواب بائی کے پیٹ سے پیدا ہوئی۔ حافظ قرآن مجید تھی۔علم دینی سے واقف ہوئی ۔سپہر شکوہ پسر دارا شکوہ سے نکاح ہوا جس مہینہ میں باپ مرا اس مہینہ میں وہ مر گئی۔
    پنجمین مہر النساء بیگم بطن اورنگ آبادی محل سے پیدا ہوئی ایزد بخش پسر مراد بخش سے بیاہی گئی ۱۱۱۶ھ میں انتقال ہوا۔(اورنگزیب عالمگیر حالات اور واقعات کی نظر میں)
    اشماریہ نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں