عبرت آموز چند اشعار

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارمغان, ‏مارچ 3, 2014۔

  1. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    عبرت آموز چند اشعار

    آدمی کا جسم کیا جس پہ شیدا ہے جہاں
    ایک مٹی کی عمارت، ایک مٹی کا مکاں

    خون کا گارا بنایا، اینٹ جس میں ہڈیاں
    چند سانسوں پر کھڑے ہے یہ خیالی آسماں

    موت کی پُر زور آندھی آ کے جب ٹکڑائے گی
    یہ عمارت ٹوٹ کر پھر خاک میں مل جائے گی​
  2. عامر

    عامر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    983
    موصول پسندیدگیاں:
    61
    صنف:
    Male
    جگہ:
    United Kingdom
    دفدففد
    بنت حوا نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. hodekarnoor

    hodekarnoor خوش آمدید مہمان گرامی

    آہ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ عمارت ٹوٹ کر پھر خاک میں مل جائے گی:(:(
    بنت حوا نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. نورمحمد

    نورمحمد وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,119
    موصول پسندیدگیاں:
    354
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
    یہ عبرت کی جا ہے، تماشہ نہیں ہے

اس صفحے کو مشتہر کریں