عرفان محبت( جو کہلاتے تھے دیوانے ، وہ نکلے ہائے فر زانے)

'پسندیدہ کلام' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جنوری 4, 2013۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,627
    موصول پسندیدگیاں:
    790
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    جو کہلاتے تھے دیوانے ، وہ نکلے ہائے فر زانے

    بدل جائیں نہ کیوں آخر محبت کے اب افسانے
    جو دیوانے تھے احمد ہوش میں وہ بھی لگے آنے

    کرم سے ان کے جو شمعِ محبت کے تھے پروانے
    پتہ ملتا نہیں ان کا کہاں ہیں اب خدا جانے

    سنا نے ہم لگے جس وقت جانبازوں کے افسانے
    سرِ محفل لگے آخر سخن سازوں کو غش آنے

    نہیں معلوم کیا انجام ہو اس کا خدا جانے
    غضب ہے آج محفل میں نہ شمعیں ہیں نہ پراوانے

    سنائیں ہم کسے آخر محبت کے اب افسانے
    الٰہی خیر ہو اپنے ہوئے جاتے ہیں بیگانے

    جو محرومِ ًمحبت ہیں غضب ہے کیا قیامت ہے
    تری محفل سے اٹھ کر جارہے ہیں دل کو بہلانے

    محبت کی کسوٹی پر حقیقت ہو گئی عریاں
    جو کہلاتے تھے دیوانے وہ نکلے ہائے فر زانے

    نظر رکھتے ہو ئے بھی کو ہیں محرومِ نظر احمد
    وہ چاہے اور کچھ بھی ہوں ، نہیں ہیں تیرے دیوانے


    ( عرفان محبت ۔کلام حضرت پرتاب گڈھی رحمۃ اللہ علیہ )
  2. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    آہ!حضرت مولانامحمداحمدپرتاب گڑھی کاکلام پڑھ کرآنکھوں میں آنسوجاری اوردل میں ایک کیف طاری ہوجاتاہے۔
  3. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اللہ والوں کے کلام تو الہامی ہوتے ہیں، پھر ان میں برکات و انوارات کیوں نہ ہوں گے؟
    قلوبِ عارفین کا دردِ دِل یوں بھی منتقل ہوا کرتا ہے، پھر اَشک کیوں نہ بہیں گے؟ اور وجدانہ کیفیات کیوں نہ طاری ہوں گی؟
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنا عاشق بنا لے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں