عشق مجازی، عشق حقیقی

'متفرق کتب' میں موضوعات آغاز کردہ از admin, ‏اپریل 25, 2011۔

  1. admin

    admin منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی ناظم

    پیغامات:
    406
    موصول پسندیدگیاں:
    11
    "اپنی انا اور نفس کو ایک انسان کے سامنے پامال کرنے کا نام عشق مجازی ہے اور اپنی انا اور نفس کو سب کے سامنے پامال کرنے کا نام عشق حقیقی ہے، اصل میں دونوں ایک ہیں۔ عشق حقیقی ایک درخت ہے اور عشق مجازی اسکی شاخ ہے۔
    جب انسان کا عشق لاحاصل رہتا ہے تو وہ دریا کو چھوڑ کر سمندر کا پیاسا بن جاتا ہے، چھوٹے راستے سے ہٹ کر بڑے مدار کا مسافر بن جاتا ہے۔۔۔ تب، اس کی طلب، اس کی ترجیحات بدل جاتیں ہیں۔"
    زاویہ سوئم، باب :محبت کی حقیقت سے اقتباس
  2. قاسمی

    قاسمی خوش آمدید مہمان گرامی

    بہت خوب!
    سبحان اللہ
  3. شميم

    شميم خوش آمدید مہمان گرامی

    دونوں ایک ہیں۔ عشق حقیقی ایک درخت ہے اور عشق مجازی اسکی شاخ ہے۔
    جب انسان کا عشق لاحاصل رہتا ہے تو وہ دریا کو چھوڑ کر سمندر کا پیاسا بن جاتا ہے، چھوٹے راستے سے ہٹ کر بڑے مدار کا مسافر بن جاتا ہے۔۔۔ تب، اس کی طلب، اس کی ترجیحات بدل جاتیں ہیں۔"
    زاویہ سوئم، باب :محبتپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپ ککککککککککککککککککککککککککککککککلللللللللللللللللللللللللللللللللللٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپٔپ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔×××××××××××××××××××××××××××××××××××××××××××××××77777777777777777777778888888888888888811111111111111111112322222222222223333333333333333344444444444444445555555555555555555555666666666666666666666666777777777777777777778888888888888888899999999999991010101010101010100+++++++++++++++++++++




    ‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘‘ٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٕٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپپہہہہہہہہہہہ کی حقیقت سے [hr]
    اااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااقققققققققققققققققققققققققققققققققققققققققققققققققققققققققققققققققققوووووووووووووووووووووووووووووووووسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسشششششششششششششششششششششششچچچچچچچچچچچچچچچچچچچچچچچچچططططططططططططططططططططططططططططببببببببببببببببببببببببببببببببببببببببببببببببببببببببننننننننننننننننننننننننننننننننننننننننننننننننننننممممممممممممممممممممممعععععععععععععععععععععععععععععععععععععععععععععععررررررررررررررررررررررررررررررررررررررررررررتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتت ےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےےے
  4. سارہ خان

    سارہ خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,567
    موصول پسندیدگیاں:
    17
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    بہت خوب!
    سبحان اللہ
  5. سیفی خان

    سیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    4,553
    موصول پسندیدگیاں:
    72
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا
  6. طارق راحیل

    طارق راحیل وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    65
    موصول پسندیدگیاں:
    20
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بعض اہل تصوف کے ہاں یہ تصور موجود ہے کہ عشق مجازی، عشق حقیقی کی سیڑھی ہے۔ عشق مجازی سےمراد وہ عشق ہے جو انسان کو کسی اور انسان سے ہو جاتا ہے اور عشق حقیقی سے مراد وہ عشق ہے جو انسان کو اللہ تعالی سے ہوتا ہے۔ عام طور پر عشق مجازی صنف مخالف سے ہوتا ہے مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی جنس کے دوافراد کے مابین ایسا عشق ہو جائے۔ اپنے پیرومرشد سے سبھی صوفی عشق کی حد تک محبت کرتے ہیں۔ صوفی خانقاہوں میں ہر طبقے اور ہر عمر کے لوگ آتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بڑی عمر کا کوئی شخص کسی کم عمر خوبصورت لڑکے پر عاشق ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں ان کے شیخ کے لیے ایک مشکل کھڑی ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیانہ تربیت میں امرد پرستی (خوبصورت لڑکوں سے عشق) کی مذمت پر بہت زور دیا جاتا ہے۔


    بعض صوفی بزرگوں کے بارے میں یہ منقول ہے کہ وہ کسی خاتون یا لڑکے کے عشق میں گرفتار ہو گئے اور اس کے نتیجے میں انہوں نے زبردست قسم کی شاعری کر دی۔ بعض صوفی بزرگوں سے عشق مجازی کی تعریف میں اشعار بھی منقول ہیں جیسے مولانا جامی کا شعر ہے:
    متاب از عشق رد گرچہ مجازیست۔۔۔۔ کہ آن بہر حقیقت کارساز یست۔
    یعنی عشق سے اعراض نہ کرو چاہے مجازی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ وہ عشق حقیقی کے لیے سبب ہے۔ اس کے متعلق سید شبیر احمد کاکا خیل لکھتے ہیں:
    "ان بزرگوں کا عشق مجازی کی تائید سے صرف اتنا مراد ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی کو عشق مجازی ہو جائے تو پھر اس سے کام لینا چاہیے تاکہ اس کو ہی عشق حقیقی کا ذریعہ بنایا جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس مردار [معشوق] کے ساتھ تو بالکل تعلق نہ رکھا جائے بلکہ ہو سکے تو تعلق توڑ دیا جائے اور اس سے جو سوز و گداز پیدا ہو، اس کو عشق حقیقی کے لیے استعمال کیا جائے۔ سب سے بہتر طریقہ تو اس میں یہ ہے کہ اگر شیخ کامل ہو تو اس کی راہنمائی حاصل کی جائے، ورنہ وضو کر کے خوشبو لگا کر خوب دل کے ساتھ 500 سے ایک ہزار تک ذکر نفی اثبات اس طرح کرے کہ لا الہ کے ساتھ سوچے کے میں نے اس مردار کی محبت کو دل سے نکال دیا اور الا اللہ کے ساتھ یہ تصور کرے کہ اپنے دل میں اللہ تعالی کا محبت داخل کیا۔ اس میں ضرب بھی ہو ۔"
    ماخذ:سید شبیر احمد کاکا خیل۔ فہم تصوف:ص 224-225

اس صفحے کو مشتہر کریں