عصری تعلیمی ادارے اور ملک سے محبت

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از پیامبر, ‏ستمبر 12, 2011۔

  1. پیامبر

    پیامبر خوش آمدید مہمان گرامی

    کسی عصری تعلیمی ادارے کے طالبعلم سے سوال پوچھا جائے کہ آپ یہ تعلیم کیوں حاصل کررہے ہیں، تو شاید یہی جواب ملے کہ اعلیٰ تعلیم کے بعد اچھی نوکری اور اس کے ذریعے اچھی آمدنی اور آرام دہ زندگی۔ بس یہی مقصد آپ کو سننے کو ملے گا۔ آج ہی میں اپنے ایک دوست کو ایک ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ میں ڈپلومہ کروانے لے گیا تو ہمارے استاد صاحب کا بھی یہی کہنا تھا کہ آپ وہی کام کریں جس میں زیادہ پیسا ہو۔ زیادہ پیسے سے کسی کو نفرت نہیں، اسلام بھی یدِ علیا کو پسند کرتا ہے لیکن فقر کی تعلیم بھی دی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم مال کی محبت میں دینی و ملّی حمیت و محبت کہیں دور چھوڑ آئے ہوں۔

    عصری تعلیمی اداروں کی لڑکیوں پر ایک طائرانہ نظر دوڑائی جائے تو ان پر کلام کرتے ہوئے شرم آتی ہے، اس لیے میں اس پر بات نہیں کروں گا کیوں کہ معاملہ واضح ہے۔ میرا مطلب 100٪ نہیں ہے۔

    اس کے بر عکس اگر آپ کسی دینی ادارے کے کسی طالبعلم سے یہی سوال پوچھتے ہیں تو جواب کا حاصل یہ ہوگا کہ اسلام کی خدمت کرنی ہے (جوکہ درحقیقت اپنے ملک کی خدمت ہے) اور اللہ کی رضا حاصل کرنی ہے۔

    اسی طرح دینی طالبات کو دیکھا جائے تو ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ اللہ معاف کرے والدین کو مدارس کی تعلیم سے ڈرانے کے لیے الٹے سیدھے فسانے گھڑے جاتے ہیں۔

    فریقین میں اتنا فرق کیوں ہے۔ آپ کی کیا رائے ہے؟ یا آپ کو میری رائے سے اختلاف ہے تو وجہ تحریر کریں؟
  2. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,317
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اسلام علیکم
    برادر عزیز از جان
    آپ نے بلاشبہ صحیح فرمایا ہے لیکن بندہ ناچیز کو اس بات پر کچھ اعتراض ہے اور وہ یہ ہے کہ سب سے پہلے دنیاوی علم بھی سیکھنا چاہیئے اور دینی علم پر عمل پیرا بھی ہونا چاہیئے۔ دوسری بات دینی علم کے ساتھ دنیا کا بھی پتا ہونا چاہیئے۔
    بھائی وہ اس لیئے ضروری ہے کے دنیا میں رہ کر دین کا کام کیا جائے دنیا کا پتا ہوگا تو دین کے لیے حکمت عملی بنانی آسان ہوگی۔ میرے تجربے میں ایسے لوگ ہیں جن کا تعلق دنیا سے ہے لیکن سوچ دین کے لیے ہے اور وہ دنیا کا علم اس لیے حاصل کرتے ہیں کہ دین کا فائدہ ہو۔ آپ کے سامنے سب سے بڑی مثال الغزالی فورم کی ہے یہ دنیاوی علم کی ہی بدولت ممکن ہوا اور اب اسکا استعمال دین کے لیے ہورہا ہے۔
    اگر کوئی بات طبیعت کے موافق نہ لگے تو معاف کیجیئے گا کیونکہ ہر شخص ماں کی گود سے قبر کی گود تک کچھ نہ کچھ سیکھ رہا ہوتا ہے اور بندہ بھی اس راہ کا مسافر ہے۔
  3. پیامبر

    پیامبر خوش آمدید مہمان گرامی

    آپ سے متفق ۔۔۔۔![hr]
    دو طرح کی تعلیم بہت مفید ہے، دینی اور دنیوی بھی۔ صرف دنیوی، خطرے سے خالی نہیں۔
  4. اسداللہ شاہ

    اسداللہ شاہ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    5,317
    موصول پسندیدگیاں:
    48
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ فی الدارین
  5. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    السلام عليكم و رحمة الله و بركاته
    وفقك الله في الدارين ورزقنا وإياك حلاوة الإيمان

اس صفحے کو مشتہر کریں