عصمت انبیا ء ۔ابن عربی

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جون 25, 2020۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,669
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    عصمت انبیا ء​

    مفسرین نے جن خرافات سے انبیا کو منسوب کیا ہے وہ ان سے بہت دور ہیں کلام الٰہی میں ان کا کہیں پتہ نہیں مفسروں کا یہ وہم ہے کہ جن قصص وحکایات کو تفسیرقرآن میں وہ شامل کرتے ہیں وہ من جا نب اللہ ہیں ۔حق سبحانہ ہمکو بد گوئی اور بد گمانی سے محفوظ رکھے ۔ یہ لوگ اس میں سخت خاطی ہیں مثلا حضرت ابرا ہیم کی طرف شک کی نسبت خود رسول اللہﷺ نے فرمادیا ۔ہم حضرت ابرا ہیم سے بڑھ کر شک کے مستحق ہیں ۔حضرت ابرا ہیم نے مردہ کے زندہ کر نے کا شک نہ فرمایا جب ان کو بتلا یا گیا کہ مردہ کے زندہ کر نےکی مختلف شکلیں ہیں تویہ شکلیں وہ نہ سمجھ سکے۔ ان کی طبیعت میں تلاش حق تھی آخر حق سبحانہ نے انھیں اشکال سے شکل خاص میں مردہ کو زندہ کر کے بتلادیا ۔ اور ان کو تسکین ہو گئی اور جان لیا کہ اللہ سبحانہ مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔

    ایسے ہی حضر ت یوسف ،لوط اور موسیٰ علیھم السلام کے قصص اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات میں تصرفات اور ہاروت ماروت کا قصہ جو گھڑا گیا ہے۔ یہ سب کی سب یہودیوں کی من گھڑت کہا نیاں ہیں ۔

    انھیں سے اپنی تفسیروں کو مزین کر دیا گیا اور انبیا کے عصمت پر دلخراش حملے کر بیٹھے نہ تو خدا نے کہا اور نہ ہمارے خیرالرسل نے ایسا فرمایا تھا ۔ابن عربی ۶۲

اس صفحے کو مشتہر کریں