عقیدۂ ختمِ نبوت اور مرزا غلام احمد قادیانی

'قادیانیت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد یوسف صدیقی, ‏اگست 21, 2014۔

  1. محمد یوسف صدیقی

    محمد یوسف صدیقی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    159
    موصول پسندیدگیاں:
    146
    صنف:
    Male
    عقیدۂ ختمِ نبوت اور مرزا غلام احمد قادیانی

    ( مولانا عبد العلیم فاروقی لکھنؤ)

    اس میں شبہ نہیں کہ اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ جو مقدس شریعت لے کر دنیا میں مبعوث ہوئے وہ خدا کی آخری اور دائمی شریعت ہے جو بالکل واضح اور روشن ہے۔ نہ تو اس میں کوئی الجھائو ہے اور نہ ہی کسی قسم کا ابہام ہے۔اسی طرح جن پاکباز ہستیوں نے اس دینِ متین کو ذاتِ رسالت سے براہِ راست حاصل کیا اور آنے والی نسلوں تک حد درجہ ذمہ داری اور کمالِ دیانت و ثقاہت کے ساتھ منتقل کیا ان کی شخصیات علم وعقل، فضل و کمال، فہم و تدبر، ذہن ومزاج اور طہارت و پاکیزگی کے اعتبار سے کامل و اکمل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دینِ اسلام کو مٹانے یا اس کے مزاج و طبیعت کو بدلنے کے لیے جب مخالفینِ اسلام کی طرف سے کوئی کوشش یا سازش رونما ہوئی تو ان حضرات نے کبھی اس کو برداشت نہ کیا اور سر بکف میدانِ عمل میں اتر آئے۔ حضور اکرمﷺ کی وفات کے بعد حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آغاز میں جب فتنۂ ارتداد اٹھا اور مدعیانِ نبوت نے اپنی جھوٹی نبوتوں کے محل تعمیر کرنے کی ناکام کوشش کی تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے ان جھوٹے دعویدارانِ نبوت کے محلوں کو اپنی ٹھوکروں سے گرا کر پوری دنیا کو بتا دیا کہ قصرِ نبوت کی تکمیل ہوچکی اب اگر کوئی اس محل کے سامنے دوسرا محل بنائے گا اسے زمین بوس کر دیا جائے گا۔
    ہمارے زمانہ میں تقریباً ایک صدی قبل قادیانی فتنہ کا وجود ہوا جس کی بنیاد انیسویں صدی عیسوی میں مرزا غلام احمد قادیانی نے رکھی۔ یہ شخص 1838؁ء میں پنجاب کے ایک گائوں قادیان ضلع گورداس پور میں پیدا ہوا۔ وہیں اس نے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور کچھ دیگر فنون و علوم کا مطالعہ کیا اس کے بعد طویل مدت تک انگریزی حکومت کی ملازمت کی۔ ابتداً اس نے دعویٰ کیا کہ اللہ کی طرف سے اسے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے طرز پر مخلوقِ خدا کی اصلاح کرے پھر آہستہ آہستہ وہ مسلسل گمراہیوں کی طرف بڑھتا رہا۔ کبھی کہتا تھا کہ مجھ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح حلول کر گئی ہے اور کبھی دعویٰ کرتا کہ مجھے الہامات و مکاشفات ہوتے ہیں وہ توریت، انجیل اور قرآن کی طرح خدا کا کلام ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ آخری زمانہ میں قادیان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ مجھ پر دس ہزار سے زائد آیتیں اتاری گئیں ہیں۔ قرآن کریم، حضور اکرمﷺ اور دیگر انبیائے سابقین نے میری نبوت کی شہادت دی ہے اور اس شخص نے اپنے گائوں قادیان کو مکہ اور مدینہ کے ہم رتبہ اور اپنی مسجد کو حضور اکرمﷺ کی مسجد سے افضل کہا اور اس بات کی لوگوں میں تبلیغ کی کہ یہی وہ مقدس بستی ہے جس کو قرآن پاک میں مسجد اقصیٰ کے نام سے ذکر کیا گیا ہے اور جس کا حج کرنا فرض ہے۔ یہ اور ان جیسے نامعلوم اس نے کتنے دعوے کیے جو اس کی اور اس کے متبعین کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں۔
    مرزا غلام احمد قادیانی در اصل ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھنے کا خواہشمند تھا۔ جس کے لیے اس نے پوری کوشش کی وہ اسی لیے انگریزوں کا اطاعت گذار رہا۔ جن کی ان دنوں ہندوستان میں حکومت تھی اور ان کی خدمت گذاری اور کاسہ لیسی میں اپنی عمر کا ایک بہت بڑا حصہ گذارا اور زبان و قلم سے انگریزوں کی محبت و خیر خواہی اور ہمدردی کا خوب خوب اظہار کیا۔ انگریزی حکومت کو بھی اپنے اغراض و مفادات کے لیے یہ شخص موزوں نظر آیا، چنانچہ اس نے بڑی تیزی سے اپنا کام شروع کیا۔ پہلے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر چند قدم آگے بڑھ کر امام مہدی بن گیا، کچھ دن اور گذرے تو مسیح موعود بن بیٹھا۔ آخر کار منصبِ نبوت کا مدعی ہوگیا۔ انگریز نے جو چاہا تھا وہ پورا ہوا۔ حکومتِ انگلشیہ نے اس کی سرپرستی کا پورا حق ادا کیا اور اس کی حفاظت میں کوئی کمی نہ کی، ہر طرح کی سہولتیں اور مراعات بہم پہنچائیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہمیشہ حکومت کے احسانات کا معترف رہا اور صاف طور پر اس نے اقرار کیا کہ میں حکومتِ برطانیہ کا خود کاشتہ پودا ہوں۔ اور ایک جگہ اپنی وفاداریوں اور خدمت گذاریوں کو گنواتے ہوئے لکھتا ہے: میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گذرا ہے اور میں نے ممانعتِ جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ (تریاق القلوب،ص: 15از مرزا)
    خلاصۂ گفتگو یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی خود ساختہ جھوٹی نبوت کے ثبوت میں اور عقیدۂ ختم نبوت کو مٹانے کے لیے بھر پور جدوجہد کی یہاں تک کہ مسلّمہ اصول اور قرآنی نصوص و قطعیات کا انکار کیا اور ان کی من مانی ، بے جا اور رکیک تاویلات کیں، جبکہ عقیدۂ ختم نبوت مسلمانوں کا ایک ایسا اجماعی اور قطعی عقیدہ ہے جس میں کسی قسم کی تاویل و توجیہہ کی کوئی گنجائش نہیں اس عقیدہ کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ چودہ سو برس سے تمام مسلمان اس پر متفق ہیں کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری رسول اور آخری نبی ہیں۔
    عقیدۂ ختم نبوت
    صدراسلام(ابتدائے اسلام)سے آج تک تمام مسلمان یہی مانتے رہے ہیں اور آج بھی اسی پر ایمان رکھتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ آخری نبی ہیں۔ آپﷺ کی ذات پر بابِ نبوت کلی طور پر بند کر دیاگیاہے۔ یہ ایک ایسا مشہور اور بنیادی عقیدہ ہے کہ عامی سے عامی مسلمان بھی اسے دین کے اساسی اور ضروری عقائد میں شمار کرتاہے۔ جس پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ قرآن مجید نے بھی بڑی صراحت و صفائی کے ساتھ بیان کیا ہے کہ حضور اکرمﷺ ’’خاتم النبیین‘‘ ہیں۔ یہ عقیدہ در اصل دینِ اسلام کی حیات اجتماعی اور امت کی شیرازہ بندی کا محافظ ہے اور اس پر ہمیشہ مسلمانوں کا اجماع رہا ہے اور اس اجماع کی حکایت بھی متواتر ہے۔ قرآن و سنت اور اجماع تینوں میں جا بجا ختمِ نبوت پر واضح اور روشن دلائل موجود ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ ر ب العزت کا ارشاد ہے: (الاحزاب: 40)
    محمد(ﷺ)تم لوگوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں وہ تو اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔
    آیتِ قرآنیہ میں خاتم کا لفظ ’’ت‘‘کے زبر اور زیر دونوں کے ساتھ یہی مطلب واضح کرتا ہے کہ آپﷺ آخری نبی ہیںیا یہ کہ آپﷺ نے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ ختم فرمادیا اور آپﷺ کے بعد کوئی شخص مقامِ نبوت پر سرفراز نہ ہو سکے گا۔ اب اگر کوئی شخص اس کا دعویٰ کرے تو وہ ایسی چیز کا مدعی ہے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔
    ’’خاتم النبیین ‘‘کا یہی مطلب ماہرینِ لغت نے لکھا ہے کہ خَاتَم القوم آخر القوم کے معنیٰ میں مستعمل ہوتا ہے۔ لسان العرب جو لغتِ عرب کی مشہور و مستند کتاب ہے اس میں لکھا ہے: ختام القوم وخاتمہم آخرہم ومحمدﷺ خاتم الانبیاء ۔ پھر آگے لکھتے ہیں: و خاتم النبیین ای آخرہم ۔القاموس اور اس کی شرح تاج العروس میں بھی خاتَم اورخاتِم کے معنیٰ یہی تحریر کیے ہیں اور اسی کو تمام محققین و علمائے مفسرین نے اختیار کیا ہے۔
    امام بن کثیر رحمۃ اللہ علیہ خاتم النبیین کی تفسیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور اس کے رسول ﷺ نے اپنی متواتر سنت میں بتایا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ آپﷺ کے بعد جو بھی شخص اس مقام کا دعویٰ کرے گا وہ انتہائی جھوٹا،مکار، دجال اور لوگوں کو گمراہ کرنے والا ہو گا ۔‘‘
    امام آلوسی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں: ’’محمدﷺ کے خاتم النبیین ہونے کی خبر قرآن میں دی گئی ہے، سنت میں بھی اسے دو ٹوک الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ محمدﷺ آخری نبی ہیں اس پر پوری امت کا اجماع ہے لہٰذا جو شخص اس کے خلاف دعویٰ لے کر اٹھے گا اسے کافر قرار دیا جائے گا۔ ‘‘
    صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء کرتے تھے ایک نبی وفات پا جاتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لے لیتا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیںہے۔
    ایک دوسری جگہ پر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے۔ ہر ایک اپنے متعلق دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
    اسی طرح نبی اکرمﷺ کی متعدد احادیث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعدد آثار سے قطعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرمﷺ پر نبوت و رسالت کا سلسلہ بند ہو گیا۔ اگر عقل و درایت کی روشنی میں ختمِ نبوت پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آپﷺ تک سلسلۂ نبوت کے جاری رہنے اور آپﷺ سے پہلے کسی نبی پر نبوت ختم نہ ہونے کے تین اہم اور بنیادی اسباب ہیں۔
    (1)حضور اکرمﷺ تک جس قدر انبیاء علیہم السلام مختلف ادوار میں دنیا میں تشریف لائے ان میں سے کسی کی بھی نبوت عام نہ ہو ا کرتی تھی۔ ہر نبی کسی ایک خاص قوم یا کسی خاص بستی کے لیے ہوا کرتا تھا اسی لیے ضرورت ہوتی تھی کہ دوسری قوم اور دوسری بستی کے لیے دوسرا نبی بھیجا جائے۔
    (2)اجرائے نبوت کی دوسری وجہ یہ تھی کہ انبیائے سابقین جب دنیا سے تشریف لے جاتے تو ان کے چلے جانے کے بعد ان کی شریعت میں تحریف ہو جاتی تھی اور خدا وند قدوس نے کسی بھی شریعت کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لی تھی بنا بریں ضرورت پڑتی تھی کہ دوسرا نبی آئے اور اس کو نئی شریعت دی جائے یا سابقہ شریعت کی اس کے ذریعہ سے اصلاح کرائی جائے۔
    (3)انبیائے پیشین جو شریعت لے کر مبعوث ہوئے اس کو اللہ تعالیٰ نے اکمال کا شرف عطا نہیں فرمایا۔اسی لیے ان کا لایا ہوا دین غیر اکمل ہوتا تھا۔
    مذکورہ بالا وجوہ کی بناء پر آپﷺ سے پہلے یکے بعد دیگرے انبیاء علیہم السلام آتے رہے اور سلسلۂ نبوت دراز ہوتا رہا مگر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا نبی و رسول بنا کر دنیا میں بھیجا تو ان تینوں امور سے پورے طور پر مطمئن کردیا گیا۔ آپﷺ کی نبوت و رسالت بھی پوری دنیا کے لیے عام کردی چنانچہ قرآن مجید میں اس مضمون کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا کبھی تو ارشاد ہوا: (آیت)اور کبھی آپﷺ کی زبان مبارک سے یہ اعلان کرایا گیا: (الاعراف:158)اور اسی طرح کے مضمون کو اس طرح بھی ذکر فرمایاگیا: (الحج:107)اسی طرح آپﷺ کی شریعت کو ابدی اور دائمی فرما کر اس کو رد و بدل، تحریف و تنسیخ کے عمل سے محفوظ فرما دیا اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اپنے اوپر لی: (الحجر: 9)اور پھر یہ خوشخبری سنادی گئی کہ ہم نے آپﷺ پر اپنے دین کو اکمل فرمادیا: (المائدہ: 3)اور (الحجرات: 28)
    نقل و شریعت، عقل و درایت ہر اعتبار سے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول اللہﷺ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں۔ آپ کے ذریعہ سے جو شریعت ہم کو ملی ہے وہ اس کی آخری ابدی اور دائمی قیامت تک باقی رہنے والی شریعت ہے۔
    ختمِ نبوت کی نئی تفسیر
    لیکن مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین نے تاریخ میں پہلی بار ختم نبوت کی جو نرالی تفسیر کی ہے وہ مسلمانوں کی متفقہ تفسیر سے ہٹ کر کی ہے کہ خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں اور اس کی وضاحت یہ بیان کی کہ حضور اکرمﷺ کے بعد اب جو بھی نبی آئے گا اس کی نبوت آپﷺ کی مہرتصدیق لگ کر مصدقہ ہو گی۔ اس کے ثبوت میں قادیانی مذہب کی کتابوں سے بکثرت عبارتوں کا حوالہ دیا جا سکتا ہے مگر ہم چند حوالوں پر اکتفا کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:
    خاتم النبیین کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاکہ خاتم النبیین کے معنیٰ یہ ہیں کہ آپﷺ کی مہر کے بغیر کسی کی نبوت کی تصدیق نہیںہو سکتی جب مہر لگ جاتی ہے تو وہ کاغذ سند ہو جاتا ہے۔ اسی طرح حضور اکرمﷺ کی مہر اور تصدیق جس نبوت پر نہ ہو وہ صحیح نہیں ہے۔ (ملفوظاتِ احمدیہ مرتبہ منظور الہٰی قادیانی حصہ پنجم ص: 29)
    اگر کوئی شخص کہے کہ جب نبوت ختم ہو چکی ہے تو اس امت میں نبی کس طرح ہو سکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدائے عزو جل نے اس بندہ (یعنی مرزا )کا نام اسی لیے نبی رکھا ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہﷺ کی نبوت کا کمال امت کے کمال کے ثبوت کے بغیر ہرگز ثابت نہیں ہوتا اور اس کے بغیر محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے جو اہلِ عقل کے نزدیک بے دلیل ہے۔ (ترجمہ استفتاء عربی ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص: 16)
    ہمیں اس سے انکار نہیں کہ رسول کریمﷺ خاتم النبیین ہیں مگر ختم کے وہ معنی نہیں جو ’’احسان‘‘کا سوادِ اعظم سمجھا جاتا ہے اور جو رسول کریمﷺ کی شانِ اعلیٰ اور ارفع کے سراسر خلاف ہے کہ آپ نے نبوت کی نعمتِ عظمیٰ سے اپنی امت کو محروم کر دیا بلکہ یہ ہیں کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں اب وہی نبی ہو گا جس کی آپ تصدیق کردیں گے۔ (الفضل قادیان نمبر218،22ستمبر 1939؁ئ)
    ختمِ نبوت کی تفسیر کا یہ اختلاف صرف ایک لفظ کی تاویل و تفسیر تک محدود نہ رہا بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے والوں نے اس سے آگے بڑھ کر یہاں تک اعلان کیا کہ نبی کریمﷺ کے بعد ایک نہیں ہزاروں نبی آسکتے ہیں۔ یہ بات بھی ان کے اپنے واضح بیانات سے ثابت ہے ہم اس موقع پر بطور نمونہ چند حوالے زیر تحریر لاتے ہیں۔
    یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ حضور اکرمﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ (حقیقۃ النبوۃ ص: 228مصنفہ مرزا بشیرالدین محمود قادیانی)
    اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو حضور اکرمﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا تو جھوٹا ہے کذا ب ہے آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں او ر ضرور آسکتے ہیں۔ (انوار خلافت ص:65از مرزا بشیر الدین محمود)
    انہوں نے (یعنی مسلمانوں نے )یہ سمجھ لیا کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی قدر کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے ورنہ ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے۔
    (انوار خلافت ص: 62)
    مرزا کا دعوئے نبوت
    اس طرح مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی نبوت کے لیے راہ ہموار کر کے تختِ نبوت بچھا دیا اور ان کے متبعین و مریدین نے بھی ان کو حقیقی معنوں میں نبی تسلیم کر لیا۔ قادیانی گروہ کی بے شمار کتابوں میں ان کے اس دعویٰ کے ثبوت میں بہت سی عبارتیں ہیں۔ ہم مختصراً کچھ تحریریں نقل کیے دیتے ہیں جن سے مرزا کے دعویٔ نبوت کا پتہ چلے گا۔
    میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ بموجب آیت و آخرین منہم لما یلحقوا بہم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہینِ احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے حضور اکرمﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ (ایک غلطی کا ازالہ ص: 10)
    مبارک ہے وہ جس نے مجھے پہچانا میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں بد قسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریک ہے۔ (کشتیٔ نوح ص: 56طبع قادیان 1902؁ء )
    پس شریعت اسلامی نبی کے جو معنیٰ کرتی ہے اس کے معنیٰ سے حضرت صاحب (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی)ہرگز مجازی نبی نہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔ (حقیقۃ النبوۃ ص: 174از مرزا بشیر الدین محمود)
    منصبِ نبوت کی توہین
    مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی جھوٹی نبوت کے ثبوت اور ختم نبوت کے انکار میں فاسد خیالات اور باطل افکار کا اظہار کیا ہے اس کا ایک بہت بڑا حصہ ہے۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں: وہ دین دین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالماتِ الٰہیہ سے مشرف ہو سکے، وہ دین لعنتی اور قابلِ نفرت ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ صرف چند منقول باتوں پر انسانی ترقیات کا انحصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے اور خدائے حی و قیوم کی آواز سننے اور اس کے مکالمات سے قطعی نا امیدی ہے اور اگر کوئی آواز بھی غیب سے کسی کان تک پہنچتی ہے تو وہ ایسی مشتبہ آواز ہے کہ کہہ نہیں سکتے کہ وہ خدا کی آواز ہے یا شیطان کی۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص: 139)
    یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد حضور اکرمﷺ کے وحی الہٰی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بن ہو گیا اور آئندہ قیامت تک اس کی کوئی امید نہیں، صرف قصوں کی پوجا کرو ۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے، جس میں براہِ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا، جو کچھ ہیں قصے ہیں اور کوئی اگرچہ اس کی راہ میں جان بھی فدا کرے اس کی رضا جوئی میں فنا ہو جائے اور ہر ایک چیز پر اس کو اختیار کرے تب بھی وہ اس پر اپنی شناخت کا دروازہ نہیں کھولتا اور مکالمات و مخاطبات سے اس کو مشرف نہیں کرتا۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہیں ہوگا۔ میں ایسے مذہب کا نام شیطانی رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص: 183 )
    مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ایجاد کردہ مذہب قادیانیت کے جرائم اور مفاسد کو کون کہاں تک گنوائے۔ افسوس! قادیانیوں نے مرزا غلام احمد جیسے ایک پست، ذلیل اور کم عقل انسان کو تاجِ نبوت پہنا کر عقیدہ ختم نبوت کے مفہوم کو بالکل الٹا کردیا۔ قادیانیت جو در حقیقت اسلام کے خلاف ایک گھنائونی سازش اور نبوتِ محمدیہﷺ کے خلاف ایک کھلی بغاوت ہے۔ وہ عالمِ اسلام کے جسم کا وہ بد گوشت اور فاسد مادہ ہے جس کو دور کرنا امتِ مسلمہ کا اہم فریضہ ہے۔ قادیانیت اسلام کے بنیادی عقائد سے لے کر فروعی مسائل تک اپنا الگ راستہ اختیار کرتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ چند بحثوں میں مسلمانوں سے الگ ہے بلکہ دین کے ہر معاملہ میں مسلمانوں سے اختلاف رکھتی ہے، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود اپنی ایک تقریر میں جو الفضل کے 30جولائی 1931؁ء کے شمارے میں مسلمانوں سے اختلاف کے عنوان سے شائع ہوئی تھی کہتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں آپ نے فرمایا کہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفاتِ مسیح یا چند اور مسائل میں ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریمﷺ ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوۃ غرض آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔
    قادیانیت کا اہم موضوع اگرچہ وقت کو چاہتا ہے مگر ہم نے صرف ایک عنوان کے تحت اجمالاً کچھ عرض کیا ہے۔ امید ہے کہ دیگر اصحاب قلم اور اربابِ علم و فن اس طرف توجہ فرمائیں گے اور کھل کر وقت کے اس خطرناک فتنہ کا تعاقب کریں۔ اللہ تعالیٰ دین حق کی حمایت و حفاظت اور حقانیت و نقابت کے سلسلہ میں ہونے والی ہر خدمت کو بار آور فرمائے۔ آمین
    (ماہنامہ دار العلوم دیوبند ختم نبوت نمبر 1987؁ئ)
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں