علامہ تفتازانیؒ کا واقعہ

'حکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏دسمبر 13, 2015۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,592
    موصول پسندیدگیاں:
    777
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    علامہ تفتازانیؒ کا واقعہ​
    علامہ سعد الدین تفتازانیؒ کے حالات میں لکھا ہے کہ آپ ابتدء میں بہت کند ذہن تھے ،قاضی عضدا لدین کے حلقۂ درس میں آپ سے زیادہ غبی کوئی نہ تھا، مگر جد وجہد ، سعی وکوشش اور مطالعہ کتب میں سب سے آگے تھے ، برابر لگے رہتے تھے۔
    ایک مرتبہ آپ نے خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص ان سے کہہ رہا ہے کہ سعد الدین! چلو سیر وتفریح کر آئیں ،آپ نے جواب دیا کہ میں سیر وتفریح کیلئے نہیں پیدا کیا گیا ،میں انتہائی محنت اور مطالعہ کے با وجود کتابیں نہیں سمجھ پا تا ، تفریح کروں گا تو کیا حال ہو گا ؟ وہ شخص یہ سن کر چلا گیا ، کچھ دیر کے بعد پھر آیا اور اسی طرح کہا آپ نے پھر انکار کیا ، تیسری مرتبہ وہ پھرآیا اور کہا کہ حضورﷺ یاد فر ما رہے ہیں ،اس مرتبہ آپ گھبرا کر اٹھے اور ننگے پاؤں چل پڑے، شہر کے با ہر ایک جگہ کچھ درخت تھے ، وہاں پہنچے تو دیکھا کہ حضور ﷺ صحابۂ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ تشریف فر ما ہیں ،آپ کو دیکھ کر حضورﷺ نے تبسم آمیز لہجہ میں ارشاد فر مایا کہ میں نے تم کو بار بار بلایا ، تم نہیں آئے ،آپ نے عرض کیا حضور ﷺ مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ یاد فر رہے ہیں ،اس کے بعد آپ نے اپنی غباوت کی شکایت کی ، تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا "افتح فمک" منہ کھولو ،آپ نے منہ کھولا ،حضور اکرم ﷺ نے اپنا لعاب ذہن آپ کے منہ میں ڈالا اور دعا دے کر فر مایا کہ جاؤ، بیدار ہو کر جب آپ اپنے استاذ قاضی عضد الدین کی مجلس میں حاضر ہو ئے اور درس شروع ہوا تو اثنائے درس میں آپ نے کئی اشکالات کئے تو ساتھیوں نے خیال کیا کہ یہ سب بے معنیٰ اشکالات ہیں ، مگر استاذ تاڑ گئے اور فرمایا "یا سعد! انک الیوم غیرک فیما مضیٰ " سعد آج تم وہ نہیں ہو جو اس سے پہلے تھے ،تو آپ نے واقعہ سنایا ۔
    اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل وکرم اور حضورﷺ کی تو جہات آپ کی محنت ، جد وجہد اور ذوق وشوق کی وجہ سے تھیں۔ (اسلاف کی طالب علمانہ زندگی)
  2. کیفی خان

    کیفی خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male

اس صفحے کو مشتہر کریں