علماء دیوبند اہل سنت ہیں، بریلوی علماء کا آخری فیصلہ

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از منگول, ‏اکتوبر 11, 2020۔

  1. منگول

    منگول وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    11
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    صنف:
    Male
    بخدمت اقدس حضرت الشیخ مفتی اعظم پاکستان ،مولانا منظور احمد صاحب فیضی ومفتی جامعہ فیضیہ رضویہ کچہری روڈ احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور ۔

    سوال: علماء دیوبند کو اہل سنت کہنا صحیح ہے یانہیں کیا پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے فتوی دیاہے کہ علماء دیوبند اہل سنت کا عظیم فرقہ ہیں اور پیر شیر محمد شرقبوری ؒ نےا ن حضرات کو نوری وجود تسلیم کیاہے خواجہ غلام فرید ؒ نے اکابردیوبند کواولئاٰ اللہ میں شمار کیاہے اوراعلیٰ حضرت بریلوی ؒ کے دو فتویٰ ہیں ایک میں کافر کہاہے اوردوسرے میں مسلمان کہا ہے۔ المستفتی
    عبدالغنی رضوی فیضی مدینہ منورہ باب مجیدی سعودی عرب :ص 9888 ۔

    الجواب : علماء دیوبند کے متعلق جو فتویٰ سیدی پیر مہرعلی شاہ ؒ نے دیا ہے کہ علماء دیوبند اہل سنت کا عظیم فرقہ ہیں یا پیر شرقپوری ؒ نے ان حضرات کے نوری وجود ہونے کو تسلیم کیاہے یا خواجہ غلام فرید ؒ نے اکابرین دیوبند مولوی رشیدا حمد گنگوہی اور مولوی محمد قاسم نانوتوی کے ولی کامل ہونےکا فتوی ” مقابیس المجالس ” میں دیاہے واقعی ان بزرگان دین کی کتابوں میں یہ فتاویٰ جات مسطور ہیں اورصحیح ہیں باقی سیدی اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ؒ کا فتوی کفر لاعلمی کی بناپر تھا جب علماء دیوبند کی کتب المہمند وغیرہ جیسی کتابیں منظر عام پر آئیں تواعلی حضرت فاضل بریلوی نے اپنے فتویٰ کفر سے رجوع فرماکر تمھید الایمان اورسبحان البوع وغیرہ میں صاف الفاظ میں لکھ دیاکہ حاشاللہ حاشاللہ ہزار بار حاشاللہ ہیں
    ہرگز ان علماء دیوبند کی تکفیر نہیں کرتا یعنی مولوی رشید احمد گنگوہی اورمولوی خلیل احمد اور مولوی اشرف علی تھانوی وغیرہ کو تو مسلمان ہی جانتا ہوں اورمولوی اسماعیل دہلوی پر بھی کفر کا فتویٰ نہیں دیتا یہ اعلیٰ حضرت بریلوی کا وہ آخری فتوی ہے جس پر مہر حق ثبت کرتے ہوئے سیدی وسندی قبلہ مولوی احمد سعید شاہ صاحب کا ظمی نے الحق المبین میں فتویٰ دیاہے کہ ہمارےاکابرین علماء بریلوی نے کبھی بھی علماء دیوبند کو نہ کافر کہا اور نہ کسی کتاب میں ان کو کافر لکھا ہے بلکہ ہم ان کو سنی علماء ہی مانتے ہیں
    دارالافتاء جامعہ فیضیہ رضویہ کچہری روڈ احمد پورشرقیہ ضلع بہاولپور


    --------------------------------------------------------------------
    اس فتویٰ کی کیا حقیقت ہے؟
  2. منگول

    منگول وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    11
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    صنف:
    Male
    یہ ایک ویب سائٹ سے لیا گیا ہے
    Last edited: ‏اکتوبر 11, 2020
  3. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ Staff Member منتظم اعلی رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,569
    موصول پسندیدگیاں:
    1,785
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
    مجھے اس کا علم نہیں کہ آیا فتویٰ درست ہے یا نہیں۔
    میں @مولانانورالحسن انور صاحب سے گزارش کروں گا اگر آپ اس بارے میں جانتے ہیں تو آگاہ فرمادیں۔جزاک اللہ
    احمدقاسمی اور منگول .نے اسے پسند کیا ہے۔
  4. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,888
    موصول پسندیدگیاں:
    932
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    "الحق المبین "غزالی ِزماں رازیِ دوراں حضرت علامہ سید احمد سعید صاحب کاظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی یہ عبارت پڑھئےصفحہ؛67 تا 68
    "آخری سہارا

    اس بحث میں ہمارے مخالفین ( حضرات علماءِ دیوبند) کا ایک آخری سہارا یہ ہے کہ بہت سے اکابر علماءِ کرام و مشائخِ عظام نے علماءِ دیوبند کی تکفیر نہیں کی جیسے سند المحدثین حضرت مولانا ارشاد حسین صاحب مجددی رام پوری رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ اور قبلۂ عالم حضرت سید پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ اسی طرح بعض دیگر اکابر ِامت کی کوئی تحریر ثبوتِ تکفیر میں پیش نہیں کی جاسکتی ۔

    اس کے متعلق گزارش ہے کہ تکفیر نہ کرنے والے حضرات میں بعض حضرات تو وہ ہیں جن کے زمانے میں علماءِ دیوبند کی عباراتِ کفریہ ( جن میں التزامِ کفر متیقّن ہو) (۲)موجود ہی نہ تھیں جیسے مولانا ارشاد حسین صاحب رام پوری رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ ۔(۳)ایسی صورت میں تکفیر کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا اور بعض وہ حضرات ہیں جن کے زمانے میں اگرچہ وہ عبارات شائع ہوچکی تھیں مگر ان کی نظر سے نہیں گزریں ، اس لیے انہوں نے تکفیر نہیں فرمائی۔

    ہمارے مخالفین میں سے آج تک کوئی شخص اس امر کا ثبوت پیش نہیں کرسکا کہ فلاں مُسَلّم بَیْنَ الْفَرِیْقَیْنبزرگ(۱)کے سامنے علماءِ دیوبند کی عبارات مُتَنَازَعَۃ فِیْہَا(۲)پیش کی گئیں اور انہوں نے ان کو صحیح قرار دیا یا تکفیر سے سکوت فرمایا۔ علاوہ ازیں یہ کہ جن اکابرِ امت مُسَلَّم بَیْنَ الْفَرِیْقَیْن کی عدم ِتکفیر (۳)کو اپنی براء ت کی دلیل قرار دیا جاسکتا ہے، ممکن ہے کہ انہوں نے تکفیر فرمائی ہو اور وہ منقول(۴)نہ ہوئی ہو کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ کسی کی کہی ہوئی ہر بات منقول ہوجائے لہذا تکفیر کے باوجود عدمِ نقل کے احتمال نے اس آخری سہارے کو بھی ختم کردیا۔ وَلِلّٰہِ الْحَمْد"
    منگول اور محمدداؤدالرحمن علی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  5. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,602
    موصول پسندیدگیاں:
    214
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    یہ فتوی میں نے بھی نہیں پڑھا
  6. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,888
    موصول پسندیدگیاں:
    932
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    میں نے جو عبارت نقل کی ہے اس سے بہت واضح ہے یہ فتوی ایک چھلاوہ ہےمثلا"ہمارے مخالفین میں سے آج تک کوئی شخص اس امر کا ثبوت پیش نہیں کرسکا کہ فلاں مُسَلّم بَیْنَ الْفَرِیْقَیْنبزرگ(۱)کے سامنے علماءِ دیوبند کی عبارات مُتَنَازَعَۃ فِیْہَا(۲)پیش کی گئیں اور انہوں نے ان کو صحیح قرار دیا یا تکفیر سے سکوت فرمایا۔" غور کیجئے یاتکفیر سے سکوت فرمایا"
    Last edited: ‏اکتوبر 16, 2020
  7. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل ناظم۔ أیده الله ناظم رکن

    پیغامات:
    322
    موصول پسندیدگیاں:
    120
    صنف:
    Female
  8. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل ناظم۔ أیده الله ناظم رکن

    پیغامات:
    322
    موصول پسندیدگیاں:
    120
    صنف:
    Female
    آج تحقیق کے دوران نظر سے گزرنے والی تحاریر جو موضوع سے تعلق رکھتی ہے شئیر کر رہی ہوں

    علماء دیوبند ، اہل سنت میں بریلوی علماء کا آخری فیصلہ

    سوال: چند سال پہلے میں نے اسلام قبول کیا ہے۔ میرا ایک سوال ہے جو کہ مجھ کو کچھ وقت سے پریشان کررہا ہے۔ میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کرتا ہوں اور جماعت میں جانے کی نیت بھی ہے۔
    میں نے پڑھا ہے کہ علماء دیوبند اس بات کو مانتے ہیں کہ اللہ جھوٹ بول سکتا ہے۔ جب کہ حقیقت میں اللہ کے لئے جھوٹ بولنا ناممکن ہے۔ میں نے یہ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمة اللہ علیہ کی کتاب میں پڑھا ہے۔
    کیا یہ بات صحیح ہے؟
    مجھے اسلام قبول کئے ہوئے کافی وقت ہوچکا ہے، میں علم الکلام اور دین کی بنیادی اور اصولی باتیں جانتا ہوں اس لیے مجھ کو باریکی سے تفصیلی جواب عنایت فرماویں۔
    Published on: Jul 3, 2016
    جواب # 68152
    بسم الله الرحمن الرحيم
    Fatwa ID: 811-791/Sd=9/1437
    حضرت گنگوہی رحمة اللہ علیہ نے جو بات لکھی ہے، وہی صحیح ہے اور وہی اہل السنة والجماعة کا عقیدہ ہے، حضرت کی پوری تحریر مع سوال و جواب ملاحظہ فرمائیں:سوال: آپ کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ اللہ تعالی صفت کذب کے ساتھ متصف ہوسکتا یا نہیں اور جو یہ عقیدہ رکھے کہ خدا جھوٹ بولتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ الجواب: بے شک اللہ تعالی اس سے منزہ ہے کہ کذب کے ساتھ متصف ہو، اُس کے کلام میں ہر گز کذب کا شائبہ بھی نہیں، جیساکہ وہ خود فرماتا ہے:
    ومن أصدق من اللّٰہ قیلا
    (اور اللہ سے زیادہ سچا کون ہے) اور جو شخص یہ عقیدہ رکھے یا زبان سے نکالے کہ اللہ تعالی جھوٹ بولتا ہے، وہ کافر قطعی، ملعون اور کتاب و سنت اور اجماعِ امت کا مخالف ہے ، ہاں اہل ایمان کا یہ عقیدہ ضرورہے کہ حق تعالی نے قرآن میں فرعون و ہامان و ابولہب کے متعلق جو یہ فرمایا ہے کہ وہ دوزخی ہیں، تو یہ حکم قطعی ہے، اس کے خلاف کبھی نہیں کرے گا؛ لیکن اللہ اُن کو جنت میں داخل کرنے پر قادر ضرور ہے، عاجزنہیں، ہاں البتہ اپنے اختیار سے ایسا کرے گا نہیں۔۔۔۔ الخ
    (المہند علی المفند ، ص: ۷۲)
    حضرت کی اس تحریر سے مذکورہ مسئلے کی حقیقت واضح ہوگئی، اس مسئلے کو اسی طرح سمجھنا چاہئے، جیسا حضرت نے لکھا ہے، اپنی طرف سے اس کا کوئی نیا مطلب نہیں بیان کرنا چاہئے۔
    واللہ تعالیٰ اعلم
    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند
    ....................
    علماء دیوبند کی وہ کون سی گستاخیاں تهی جن کی وجہ سے ان پر سیدی اعلی حضرت اور 33 علماء حرمین نے کفر کا فتوی دیا تها.
    الجواب:-|
    وہ کفریہ عقائد جن کی بنا پر ان چاروں علماء دیوبند اور ان کے کفر پر شک کرنے والوں پر کفر کا فتوی دیا گیا تها :-[
    (1) رشید احمدگنگوہی نے اپنی کتاب فتاوی رشیدیہ میں لکها .الله تعالی جهوٹ بول سکتا ہے
    (فتاوی رشیدیہ پارٹ (1 ) پیج نمبر (20) معاذ الله ثم معاذ الله
    (2) اشرفعلی تهانوی نے اپنی کتاب حفظ الایمان میں لکها کی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا علم ایسا ہے جیسے بچوں پاگلوں اور جانوروں کو بهی ہوتا ہے (حفظ الایمان صفحہ نمبر8 معاذ الله ثم معاذ الله
    (3) قاسم نانوتوی اپنی کتاب تحزیرالناس میں لکها کہ اگر محمد صلی الله علیہ وسلم کے بعد بهی اگر کوئی نبی آجاےء تو ختم نبوت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا تحزیرالناس صفحہ نمبر 24
    معاذ الله ثم معاذ الله
    (4) خلیل احمد امبیٹهوی اپنی کتاب براهین قاطع میں لکهتا ہے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے زیاده علم شیطان کو ہے (براهین قاطع صفہ نمبر 51...52 معاذ الله ثم معاذ الله
    ان گستاخیوں کی وجہ سےعلماءحرمین نے (1903ع) میں یہ فتوی دیا تها کہ یہ چاروں 4 گستاخ کافر ہیں اور انکے کفر پر شک کرنے والا بهی کافر ہیں
    فتوی دینے والے علماء حرمین کے نام
    مکہ معظمہ
    (1) استاد حرمین شعید شافعی
    (2) سعید العلماء مولانا مفتی شیخ احمد عبدالخیر
    (3) مفتی حنفیہ علامہ شیخ صالح کمال
    (4) مفتی شیخ علی بن صدیق کمال
    (5) شیخ الدلائل مفتی محمد عبدالحق مجاهر الیادی
    (6) مفتی سید اسماعیل خلیل لبرارین مکہ شریف
    (7) مولانا مفتی شیخ عمربن ابو بکربا ضنید
    (8) علامہ مفتی شعید عبدالحسین المزرکی
    (9) مفتی شیخ عابد بن حسین مالکی
    (10) مفتی علی بن حسین مالکی
    (11) مفتی محمد جمال بن محمد حسین
    (12) مفتی شیخ اسدبن احمد دهان استاد حرامین مکہ شریف
    (13) مفتی شیخ عبدالرحمن دهان
    (14) مفتی شیخ محمد یوصف افغانی
    (15) مفتی شیخ احمدمالکی الامدادی استاد حرم مدرسہ احمدیہ مکہ شریف اور خلیفہ حاجی امداد الله مھاجر مکی
    (16) مفتی محمد یوصف الخیانی
    (17) شیخ محمد صالح بن محمد فاضی
    (18) شیخ عبدالکریم ناضی دگستانی
    (19) شیخ محمد شعید بن محمد الیمنی
    (20) مفتی شیخ حامدمحمد الجداوی
    فتوی علماء مدینہ منوره...............:):-:)-|
    (1) مفتی حنفیہ تاجدین الیاس
    (2) مفتی مدینہ علامہ عثمان بن عبدالسلام دگستانی
    (3) شیخ مالکیہ مفتی سید احمد الگیریا
    (4) مفتی خلیل بن ابرهیم خربوتی
    (5) شیخ الدلائل سید محمد شعید
    (6) مفتی شیخ محبوب بن احمد عمری
    (7) شخ الدلائل مفتی سید عباس بن سید جلیل
    (8) مفتی شیخ عمر بن حمدان
    (9) مفتی شعید حکیم محمد بن محمد مدنی
    (10) مفتی شائیه علم سید شریف احمد برزنزی
    (11) مفتی محمد عزیز مالکی فورملی انڈونیشیا
    (12) مفتی شیخ محمد کیاری استاد حرم شریف مدینہ منوره
    (13) مفتی شیخ عبدالقادر توفیق استاد مسجد نبوی صلی الله علیہ وسلم
    ہندوستان اورعرب کے
    کل ملا کر 265 علمائے کرام نے نے ان بد مزہبوں پر کفر کا فتوی دیا تها
    Is post ko khoob share kren plz ta k logo ko asl ikhtilaf ki waja pata chale.
    مولوی احمد رضا خان بریلوی نے علماء دیوبند جن میں۔۔۔
    مولانا قاسم نانوتویؒ،
    مولانا رشید احمد گنگوہیؒ،
    مولانا خلیل احمد سہارنپورییؒ، اور
    مولانا اشرف علی تھانویؒ
    کی آدھی ادھوری عبارات کو نقل کیا اور ایک فتوی مرتب کرکے علماء حرمین جنہیں اردو عبارات کی نہ تو سمجھ تھی نہ ہی انہوں نے اکابر اربعہ کی کتب ملاحظہ کی تھیں کے سامنے پیش کیا کہ ان حضرات نے اپنی کتابوں میں کفریہ عبارات لکھی ہیں لہذا یہ ایسے کافر ہیں جو ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے (معاذ اللہ)۔
    مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے نیک دل علماء نے اس فتوی پر اپنی تصدیقات لکھیں اور مولوی احمد رضا خان بریلوی نے اسے 1905 میں۔۔۔
    حسام الحرمین
    کے نام سے چھاپ دیا۔
    بعد میں جب حرمین شرفین کے علماء میں خاص کر مدینہ طیبہ میں اس کا چرچا ہوا کہ مولوی احمد رضا خان بریلوی نے جن علماء کی تکفیر کی تصدیقیں کرائی ہیں ان کے عقائد کے بارے میں اس نے غلط بیانی کی ہے، یہ سن کر حرمین کے علماء نے خود براہ راست علماء دیوبند کی طرف رجوع کرکے معاملہ کی تحقیق کرنا ضروری سمجھا۔ حرمین کے علماء نے 26 سوالات جو کہ عقائد و معمالات کے متعلق تھے مرتب کیے اور علماء دیوبند سے ان کا جواب چاہا ۔
    علماء دیوبند نے سوالات کا مدلل و مفصل جواب مرتب کیا اور اس وقت کے تمام ہی مشاہیر دیوبند نے اس پر تصدیقات لکھ کر حرمین شرفین کے علاوہ مصر و شام وغیرہ ممالک اسلامیہ کے 46 علماء کے پاس بھیج دیےجن کی ان تمام حضرات نے تصدیق کی اور لکھا کہ جو عقائد علماء دیوبند کے ہیں وہی عقائد اہل سنت والجماعت کے ہیں اور ان کا کوئی بھی عقیدہ اہل سنت کے خلاف نہیں۔ یہ تمام سوالات اور ان کے جوابات معہ تصدیقات اسی زمانہ میں اردو ترجمہ کے ساتھ۔۔۔
    المہند علی المفند
    کے نام سے شائع ہوئی۔
    ذیل میں مکہ و مکرمہ، مدینہ منورہ اور شام و مصر کے ان کے علماء کے نام پیش خدمت ہیں۔
    علماء مکہ مکرمہ
    1- الشیخ محمد صبیل الشافعی امام وخطیب مسجد حرام
    2- الشیخ احمد رشید حنفی
    3- الشیخ محب الدین مہاجر مکی حنفی
    4- الشیخ محمد صدیق افغانی
    5- الشیخ محمد عابد مفتی المالکیہ
    6- الشیخ محمد علی بن حسین مالکی مدرس حرم شریف
    علماء مدینہ شریف
    7- الشیخ السید احمد بزرنجی الشافعی سابق مفتی آستانہ نبویہ
    8- الشیخ رسوحی عمر مدرس مدرسۃ الشفاء
    9- الشیخ ملا محمد خان المدرس فی الحرم النبوی
    10- الشیخ راجی فیض الکریم خلیل بن ابراہیم خادم العلم بالحرم الشریف النبوی
    11- الشیخ السید احمد الجزائری شیخ المالکیہ بالحرم النبوی الشریف
    12- الشیخ عمر بن حمدان المحرسی خادم العلم بالمسجد النبوی
    13- الشیخ محمد العزیز الوزیر التونسی خادم العلم بالحرم الشریف النبوی
    14- الشیخ محمد زکی البزرنجی خادم العلم بالحرم الشریف النبوی
    15- الشیخ محمد السوسی الخیاری
    16- الشیخ احمد بن مامون البلغیش من مشاہیر العرب
    17- الشیخ موسی کاظم بن محمد خادم العلم والمدرس باب الاسلام
    18- الشیخ احمد بن محمد خیر الحاج العباسی خادم العلم بالمسجد الشریف النبوی
    19- الشیخ ابن نعمان محمد منصور خادم العلم بالحرم الشریف النبوی
    20- الشیخ معصوم احمد سیدخادم خادم العلم بالحرم الشریف النبوی
    21- الشیخ ملا عبدالرحمن المدرس بالحرم الشریف النبوی
    22- الشیخ محمد حسن سندی خادم العلم بالحرم الشریف النبوی
    23- الشیخ محمود عبدالجواد خادم العلم بالحرم الشریف النبوی
    24- الشیخ احمد سباطی خادم العلم بالحرم الشریف النبوی
    25- الشیخ احمد بن اسعد خادم العلم بالحرم الشریف النبوی
    26- الشیخ عبداللہ خادم العلم بالحرم الشریف النبوی
    27- الشیخ محمد بن عمر الفارانی خادم العلم بالحرم الشریف النبوی
    28- الشیخ احمد بن محمد الشنقیطی خادم العلم بالحرم الشریف النبوی
    29- الشیخ عبداللہ القادر بن محمد بن سودہ العرسی ولیہ من علماء العرب
    *دمشق کے علماء*
    30- الشیخ یاسین
    31- الشیخ محمد توفیق
    *علماء مصر وازہر*
    32- الشیخ سلیم البشری الازہر
    33- الشیخ محمد ابراہیم القایانی الازہر
    34- الشیخ سلمان العبد الازہر
    35- الشیخ مولانا السید محمد ابوالخیر الشہیر بابن عابدین بن العلامہ احمد بن عبدالغنی
    36- الشیخ المصطفی بن احمد الشطی الحنبلی
    37- الشیخ محمود رشید العطار تلمیذ رشید بدرالدین محدث شامی
    38- الشیخ محمد البوشی الحموی دمشق
    39- الشیخ محمد سعید الحموی دمشق
    40- الشیخ علی بن محمد الدلال الحموی دمشق
    41- الشیخ محمد ادیب الحورانی
    42- الشیخ عبدالقادر
    43- الشیخ محمد سعید دمشق
    44- الشیخ محمد سعید لطفی حنفی دمشق
    45- الشیخ حضرت فارس بن محمد دمشق
    46- الشیخ مصطفی الحداد
    اس کے علاوہ برصغیر کے 616 علماء جن میں بریلوی اکابرین بھی شامل ہیں نے یہ فتوی دیا کہ۔۔۔
    علماء دیوبند پکے سچے سنی مسلمان ہیں ان کو کافر کہنے والے کا اپنا ایمان خطرے میں ہے۔
    ان علماء کے ناموں اور ان کے فتاوی جات کی فہرست 1934ء میں۔۔۔
    ....................
    علماء دیوبند ، اہل سنت میں بریلوی علماء کا آخری فیصلہ
    بخدمت اقدس حضرت الشیخ مفتی اعظم پاکستان ،مولانا منظور احمد صاحب فیضی ومفتی جامعہ فیضیہ رضویہ کچہری روڈ احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور ۔
    سوال: علماء دیوبند کو اہل سنت کہنا صحیح ہے یانہیں کیا پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے فتوی دیاہے کہ علماء دیوبند اہل سنت کا عظیم فرقہ ہیں اور پیر شیر محمد شرقبوری ؒ نےا ن حضرات کو نوری وجود تسلیم کیاہے خواجہ غلام فرید ؒ نے اکابردیوبند کواولئاٰ اللہ میں شمار کیاہے اوراعلیٰ حضرت بریلوی ؒ کے دو فتویٰ ہیں ایک میں کافر کہاہے اوردوسرے میں مسلمان کہا ہے۔
    المستفتی
    عبدالغنی رضوی فیضی مدینہ منورہ باب مجیدی سعودی عرب :ص 9888 ۔
    الجواب: علماء دیوبند کے متعلق جو فتویٰ سیدی پیر مہرعلی شاہ ؒ نے دیا ہے کہ علماء دیوبند اہل سنت کا عظیم فرقہ ہیں یا پیر شرقپوری ؒ نے ان حضرات کے نوری وجود ہونے کو تسلیم کیاہے یا خواجہ غلام فرید ؒ نے اکابرین دیوبند مولوی رشیدا حمد گنگوہی اور مولوی محمد قاسم نانوتوی کے ولی کامل ہونےکا فتوی ” مقابیس المجالس ” میں دیاہے واقعی ان بزرگان دین کی کتابوں میں یہ فتاویٰ جات مسطور ہیں اورصحیح ہیں باقی سیدی اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ؒ کا فتوی کفر لاعلمی کی بناپر تھا جب علماء دیوبند کی کتب المہمند وغیرہ جیسی کتابیں منظر عام پر آئیں تواعلی حضرت فاضل بریلوی نے اپنے فتویٰ کفر سے رجوع فرماکر تمھید الایمان اورسبحان البوع وغیرہ میں صاف الفاظ میں لکھ دیاکہ حاشاللہ حاشاللہ ہزار بار حاشاللہ میں
    ہرگز ان علماء دیوبند کی تکفیر نہیں کرتا یعنی مولوی رشید احمد گنگوہی اورمولوی خلیل احمد اور مولوی اشرف علی تھانوی وغیرہ کو تو مسلمان ہی جانتا ہوں اورمولوی اسماعیل دہلوی پر بھی کفر کا فتویٰ نہیں دیتا یہ اعلیٰ حضرت بریلوی کا وہ آخری فتوی ہے جس پر مہر حق ثبت کرتے ہوئے سیدی وسندی قبلہ مولوی احمد سعید شاہ صاحب کا ظمی نے الحق المبین میں فتویٰ دیاہے کہ ہمارےاکابرین علماء بریلوی نے کبھی بھی علماء دیوبند کو نہ کافر کہا اور نہ کسی کتاب میں ان کو کافر لکھا ہے بلکہ ہم ان کو سنی علماء ہی مانتے ہیں
    دارالافتاء جامعہ فیضیہ رضویہ کچہری روڈ احمد پورشرقیہ ضلع بہا

اس صفحے کو مشتہر کریں