علمائے کرام سٹہ بازوں سے ہوشیار رہیں ، خدا را دین کی بدنامی کا باعث نہ بنیں۔

'کالم اورادارئیے' میں موضوعات آغاز کردہ از جنید, ‏نومبر 4, 2012۔

  1. جنید

    جنید وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    علمائے کرام انبیاءکے وارث ہیں، اور قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںبے شک اللہ پاک سے اس کے بندوں میں سے علماءہی زیادہ خشیت کرنے والے ہیں۔الحمدللہ جو دین اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اسے علمائے کرام ہی نسل درنسل منتقل کرتے کرتے یہاں تک لانے کا سبب بنے۔ دین کے لئے علماءنے نہ صرف جانی قربانیاں دیں جس کا اعتراف ہر ذی شعور کرتا ہے بلکہ سب سے زیادہ مالی قربانیاں بھی علماءہی دیتے آئے ہیں۔ بظاہر دیکھنے میں یہ نظر آتا ہے کہ صاحب ثروت اور مالدار لوگ اپنا مال مدارس اور مساجد پر خرچ کرتے ہیں لیکن حقیقتاً دیکھا جائے تو علماءسب سے زیادہ اپنا مال دین پر قربان کر رہے ہیں، کیونکہ غور سے دیکھا جائے تو علمائے کرام اور خصوصا ائمہ مساجد صرف چند ہزار کی تنخواہ پرگزارا کرتے ہوئے دین کی خدمت کررہے ہیں حالانکہ اگر وہ چاہیں تو دوسرے مالداروں کی طرح کوئی کاروبار کرکے وہ بھی دولت کماسکتے ہیںلیکن انہوں نے اپنی جان مال وقت اور صلاحیتین نورانی قاعدہ ، قرآن وحدیث کی نشرواشاعت پر وقف کی ہوئی ہیں۔
    گذشتہ چند سالوں سے یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ دنیا کے کچھ ذہین اور شاطر قسم کی ذہنیت رکھنے والے سٹہ باز علماءکو استعمال کرتے ہوئے لوگوں سے اربوں روپے اکھٹے کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے علمائے کرام خصوصا ائمہ مساجد کی ایک بہت بڑی تعداد اس جال میں پھنس چکی ہے۔
    چونکہ ائمہ مساجد اور علمائے کرام کا تعلق براہ راست عوام سے ہوتا ہے اور عوام علماءپر اعتماد بھی کرتی ہے اور ائمہ مساجد کا خصوصی تعلق سینکڑوں لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے، اس تعلق سے چند ارب پتی سٹہ با زخصوصی فائدہ اٹھاتے ہوئے کھربوں روپے جمع کرچکے ہیں۔
    میں جس معاملے کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں وہ آپ کے علم میں ہوگا، آج کل بہت سارے سادہ لوح علماءجو اپنی سادگی کی وجہ سے ان سٹہ بازوں کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں اور عوام سے لاکھوں روپے اکھٹا کرکے ان سٹہ بازوں کو دے رہے ہیں۔

    بظاہر آپ سے علماءایک لاکھ روپے یہ کہہ کر لیتے ہیں کہ اس لاکھ روپے سے ہم شرعی اصولوں کے مطابق مضاربت اور کاروبار کررہے ہیںاور ہر ماہ آپ کو تقریبا 5000روپے حلال منافع دیں گے۔ لیکن آپ تھوڑی سی تحقیق کرکے دیکھ لیں آپ کو کوئی بھی عالم دین کاروبار کرتے ہوئے نظر نہیں آئے گا، بلکہ جو عالم بھی رقم اکھٹی کر رہا ہے وہ آگے کسی اور کو دے رہا ہے جسے اس نے کاروبار کا جھانسا دیا ہوا ہے اور اس شخص نے پھر اس سے آگے کسی اور کو وہ رقم دی ہوئی ہوتی ہے، عجیب بات یہ ہے کہ عوام سے کوئی عامی شخص رقم نہیں اکھٹی کر رہا صرف اور صرف علماءکو اس کام پر لگایا ہوا ہے۔دراصل یہ ساری گیم ہے چونکہ وہ علماءکرام جو اس جال میں اپنی لاعلمی اور سادگی کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں ان کو پر لاکھ الگ سے منافع مل رہا ہے اس لئے وہ نادانی میں لوگوں کے لاکھوں روپے اپنے سر لے کر اس تندور میں ڈالتے جا رہے ہیں۔سٹہ باز ایک لاکھ پر تقریبا پندرہ سے بیس ہزار منافع دے رہے ہیں اور اس طرح وہ پندرہ ہزارجو مختلف واسطوں سے ہو کر جب رقم کے اصل مالک کے پاس پہنچتے ہیں تو پانچ ہزار ہوتے ہیں۔
    اس معاملے میں اصل گیم یہ ہے کہ لوگوں سے رقم زیادہ اکھٹی ہو رہی ہے اور سٹہ باز اسی رقم میں سے چندہزار ہر ماہ واپس منافع کی شکل میں بھیج رہے ہیں ابھی وہ لاکھ ختم نہیں ہوا ہوتا کہ اتنی دیر میں کئی اور لاکھ جمع ہو جاتے ہیں۔
    کچھ سٹہ بازوں نے دکھلاوے کے لئے اکا دُکا کاروبار بھی شروع کیے ہوئے ہیں لیکن ہمارا ان سے یہ سوال ہے کہ ان کے پاس ایسی کون سی گیڈر سنگی ہے کہ ایک لاکھ سے ہر ماہ وہ پندرہ سے بیس ہزار کما رہے ہیں۔؟
    اس سے بھی حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سارا معاملہ صرف دس بیس روپے کے ایک اسٹامپ پر ہو رہا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کے ایک علاقے کے نامی گرامی مفتی جو تبلیغی جماعت کے ساتھ بھی جڑے ہوئے تھے انہوں نے اپنا تبلیغی سٹیٹس استعمال کرتے ہوئے تقریبا چودہ کروڑ روپے لوگوں سے جمع کئے اور مزید جمع کررہے تھے ، جب تک پیسے جمع ہو رہے تھے تو باقاعدگی کے ساتھ منافع بھی آرہا تھا لیکن پھر کسی بات پر ان کا تبلیغی حضرات سے اختلاف ہو گیا مزید پیسے آنا بند ہو گئے بلکہ تبلیغی حضرات نے اپنے پیسے نکالنا شروع کردیئے تو اصل سٹہ باز اس مفتی صاحب اور ان کی چین کے دیگر دس علماءکی اربوں روپے رقم لے کر فرار ہوگئے۔ اب یہ علماءہیں اور رقم کے اصل مالک عوام ہیں سٹہ باز اپنا کام مکمل کرکے بھاگ گئے ہیں۔
    اس کے علاوہ باقی علماءکے جتنے بھی چین کام کر رہے ہیں ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا جب تک وہ رقم عوام سے بٹورتے رہیں گے منافع آتا رہے گا لیکن جب عوام سے رقم آنا بند ہوگی سٹہ باز کھربوں روپے لے کر بھاگ جائیں گے۔
    ہماری اکابرعلمائے اسلام سے دست بستہ گزارش ہے کہ خدا دین کو بدنامی سے بچائیے اور علمائے کرام کو اس گھناونی گیم کا حصہ بننے سے روکیں۔
  2. sherazi

    sherazi وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    20
    موصول پسندیدگیاں:
    1
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جی بالکل اس طرح کا سلسلہ آج کل بہت عروج پر ہے اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں