علمائے کرام کیلئے لمحۂ فکریہ

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏اکتوبر 16, 2020۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,888
    موصول پسندیدگیاں:
    932
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    علمائے کرام کیلئے لمحۂ فکریہ​

    مولانا ابو الحسن علی حسنی ندویؒ​

    حضرات ! علماء کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کو زندگی کے حقائق ، ملک کے حالات ، ماحول کے تغیرات اور تقاضوں سے با خبر اور روشناس رکھیں ،ان کی کوشش رہنی چاہئے کہ مسلم معاشرہ کا رابط زندگی اور ماحول سے کٹنے نہ پائے ،اس لئے اگر دین اور مسلمانوں کا رابطہ زندگی سے کٹ گیا اور وہ خیالی دنیا میں زندگی گزارنے لگے تو پھر دین کی آواز بے اثر ہو گی اور دعوت واصلاح کا فرض انجام نہ دے سکیں گے۔ اور اتنا ہی نہیں ہو گا بلکہ اس دین کے حاملین کو اس ملک میں رہنا مشکل ہو جائے گا ، تا ریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جہاں علماء نے سب کچھ کیا ،لیکن زندگی کے حقائق سے امت کو روشناس نہیں کیا ،اس ماحول میں اپنے فرائض کو انجام دینے کی انہوں نے تلقین نہیں کی ،ایک اچھا شہری، ایک مفید عنصر بننے اور اس ملک کی قیادت حاصل کرنے کی اہلیت پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی ،وہاں اس ملک نے اس طرح اگل دیا جیسے لقمہ اگلا جاتا ہے اور ان کو اگل کر با ہر پھینک دیا ،اس لئے انہوں نے اپنی جگہ نہیں بنائی تھی۔

    آج ہندوستا ن کے مسلمان ایک دانشمندانہ اور حقیقت پسند دانہ دینی قیادت کے محتاج ہیں ،آپ اگر مسلمانوں کو سو فیصد تہجد گزار بنا دیں ، سب کو متقی وپر ہیز گار بنا دیں ، لیکن ان کا ماحول سے کوئی تعلق نہ ہو ، وہ یہ نہ جا نتے ہوں کہ ملک کدھر جا رہا ہے ، ملک ڈوب رہا ہے ، ملک میں بد اخلاقی ،وبا ء اور طوفان کی طرح پھیل رہی ہے ، ملک میں مسلمانوں سے نفرت پیداہو رہی ہے ، تو تاریخ کی شہادت ہے کہ پھر تہجد تو تہجد پا نچ وقتوں کی نماز کا پڑھنا مشکل ہو جائے گا ،اگر آپ نے دینداروں کے لئے اس ما حول میں جگہ نہیں بنائی ،اور ان کو ملک کا بے لوث مخلص اور شائستہ شہری نہیں کیا جو ملک کو بے راہ روی سے بچانے کے لئے ہا تھ پاؤں ما رتا ہے اور ایک بلند کردار پیش کرتا ہے ،تو آپ یا د رکھئے کہ عبادات ونوافل اور دین کے علامتیں اور شعار تو الگ رہے ،وہ وقت بھی آسکتا ہے کہ مسجد کا باقی رہنا بھی مشکل ہو جائے ،اگر آپ نے مسلمانوں کو اجنبی بنا کر اور ما حول سے کاٹ کر رکھا ،زندگی کے حقائق سے ان کی آنکھین بند رہیں اور ملک میں ہو نے والے انقلابات ،نئے بننے والے قوانین ،عوام کے دل ودماغ پر حکومت کرنے والے رجحانات سے وہ بے خبر رہے تو پھرقیادت تو الگ رہی (جو خیر امت کا فرض منصبی ہے) اپنے وجود کی حفاظت بھی مشکل ہو جائے گی۔ (ماخوزاز کا روان زندگی)
  2. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,602
    موصول پسندیدگیاں:
    214
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بے شک علما ء کرام کی ذمہ داری بہت ہے اب تو ہر طرف طوفان اٹھے ہوے ہیں کس کس طوفان کا مقابلہ کریں
    محمدداؤدالرحمن علی اور احمدقاسمی .نے اسے پسند کیا ہے۔
  3. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,888
    موصول پسندیدگیاں:
    932
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    بے شک مولانا !
    پھر بھی جس حد تک ممکن ہے کو شش تو کرنا ہے۔طوفان کر رہا ہے میرے عزم کا طواف۔۔۔ دنیا سمجھ رہی ہے کہ کشتی بھنور میں ہے۔ علماء دیوبند کیلئے
    محمدداؤدالرحمن علی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں