علم اور کتاب

'بزمِ طلبہ و طالبات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد یوسف صدیقی, ‏اگست 17, 2014۔

  1. محمد یوسف صدیقی

    محمد یوسف صدیقی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    159
    موصول پسندیدگیاں:
    146
    صنف:
    Male
    علم اور کتاب

    معززطلبہ! آج آپ کی توجہ ایک قیمتی خزانے اور بے ضرر دولت کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ جس کا حصول ہر مرد وعورت پر فرض ہے۔ ان جواہر اور موتیوں کی تلاش کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔
    معزز طلبہ! یقینا آپ اس قیمتی خزانے کو جان گئے ہوں گے کیونکہ یہ ہمار اورثہ ہے اور وارث اپنی وراثت سے بخوبی واقف ہوتا ہے۔ ہر بچہ بزبان حال ’’علم ، علم‘‘ پکار رہا ہو گا۔ تو آیئے آج آپ کو کتاب اور کتابی لوگوں سے متعارف کرواتا ہوں۔
    علم کے حصول کے مختلف ذرائع ہیں لیکن سب سے مضبوط اور آسان طریقہ کتاب ہے۔ کتاب کے متعلق بزرگ ہستیوں کے مختلف اقوال ہیں جس میں انہوں نے کتاب کی عظمت اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
    علامہ مسعودی کتاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں: اے میری کتابو! تم میری جلیس و انیس ہو، تمہارے ظریفانہ کلام سے نشاط اور تمہاری ناصحانہ باتوں سے تفکر پیدا ہوتا ہے۔ تم پچھلوں اور پہلوں کو ایک عالَم میں جمع کردیتی ہو۔ تمہارے منہ میں زبان نہیں لیکن تم زندوں اور مردوں دونوں کے افسانے سناتی ہو۔ تم ہمسایہ ہو لیکن ظلم نہیں کرتیں۔ عزیز ہو لیکن غیبت نہیں کرتیں۔ دوست ہو لیکن مصیبت میں ساتھ نہیں چھوڑتیں۔
    جاحظ کہتے ہیں: کتاب سب سے بہتر خزانہ، بہتر ہم نشین، بہتر شغل ہے۔ تنہائی کی دوست اور سفر کی رفیق ہے۔
    بعض حکماء کا قول ہے کہ کتابیں علماء کا باغ ہیں۔ متنبی کہتا ہے: انسان کا سب سے بہتر ہم نشین اس کی کتاب ہے۔
    منصور بن مہدی نے مامون سے پوچھا کہ ہم کو علم کب تک حاصل کرنا چاہیے؟ مامون نے جواب دیا کہ جب تک جسم میں جان رہے۔
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پوتے عبداللہ بن عبدالعزیز رحمہم اللہ علیہ کا یہ حال تھا کہ وہ لوگوں کی صحبت سے بھاگتے تھے۔ہمیشہ ہاتھ میں کوئی کتاب لے کر قبرستان میں چلے جاتے تھے اور اس کے مطالعہ میں مصروف رہتے تھے۔ لوگوں نے جب اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: گورستان سے بڑھ کر کوئی ناصح، کتاب سے بڑھ کر کوئی مونس، اور تنہائی سے بڑھ کر کوئی محافظ ہم کو نظر نہیں آتا۔
    معزز طلبہ! آپ نے ان ہستیوں کے اقوال تو پڑھ لیے جنہوں نے کتاب کی حقیقت و اہمیت کو پہچانا ہے اور اس کی قدر و منزلت کو لوگوں تک پہنچایا ہے۔ اب آپ ان عظیم شخصیات کے حالات واقعات کو پڑھیے جنہوں نے ساری زندگی کتاب کی ورق گردانی اور مطالعہ کے ذوق و شوق میں ختم کردی۔
    امام زہری رحمہ اللہ علیہ جب اپنے گھر میں بیٹھتے تھے تو چاروں طرف سے کتابوں کا انبار رہتا تھا۔ وہ ان کتابوں کے مطالعہ میں اس قدر مصروف ہوتے تھے کہ ان کو کسی چیز کی خبر نہ رہتی تھی۔ ایک روز ان کی بیوی نے تنگ آکر کہہ دیا: خدا کی قسم یہ کتابیں مجھ پر تین سوکنوں سے زیادہ بھاری ہیں۔
    امام رازی رحمہ اللہ علیہ ہر وقت علمی مشاغل میں مگن رہتے تھے یہاں تک کہ کھانے کے وقت کے ضائع ہونے پر بھی امام صاحب رحمہ اللہ علیہ افسوس کیا کرتے تھے۔ امام رازی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم مجھ کو کھانے کے وقت میں علمی مشاغل کے فوت ہونے کا افسوس ہوتا ہے کیونکہ زمانہ اور وقت بہت عزیز ہے۔
    علامہ مجدد الدین فیروز آبادی فرماتے ہیں کہ میں ہر روز جب تک دو سطریں حفظ نہ کر لیتا رات کو آرام نہ کرتا۔ مطالعہ کا یہ شوق سفر میں بھی کم نہ ہوتا تھا۔ جب علامہ صاحب سفر کے لیے باقی سامان ساتھ لیتے تو چند اونٹوں پر صرف کتابیں لدی ہوتیں۔
    ابن رشد جو بہت بڑا فلسفی ہے اس کو مطالعہ کا اس قدر شوق تھا کہ تمام عمر اسی مطالعہ میں گزار دی۔
    ابن سینا ایامِ طالب علمی میں ایک کامل رات اس کی آنکھوں نے نیند کا لطف نہیں اٹھایا۔ ایک ایک کتاب کو کو ئی بار پڑھا۔
    امام مزنی رحمہ اللہ علیہ جو امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کے ممتاز او رجلیل القدر شاگرد ہیں۔ اپنے شاگرد کو فرماتے ہیں کہ میں امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کی صرف ایک تصنیف کا متواتر پچاس سال سے مطالعہ کر رہا ہوں۔
    ہندوستان میں مولانا عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ علیہ جن کے پاس فرنگی محل کا یک عظیم الشان کتب خانہ موجود تھا۔ ان کی زندگی کا اکثر حصہ اسی کتب خانہ کے مطالعہ میں گزرا او راپنے پاس اس قدر علمی خزانے پر بھی ان کو قناعت نہ ہوتی تھی بلکہ مطالعہ کا شوق اور زیادہ ہوتا تھا۔
    معزز طلبہ! آپ نے پڑھ لیا کہ کتاب دوست اور علم پرور لوگ کس قدر مطالعہ کا شوق رکھتے تھے اور ان کے پاس علمی خزانہ ہونے کے باوجود اس پر قناعت نہیں کرتے تھے بلکہ کتب بینی کے لیے دور دراز کے سفر بھی کرتے تھے۔
    آج ہمارے پاس حصول علم کے تمام تر وسائل بھی ہیں اور ہر قسم کی سہولیات بھی میسر ہیں تو آج سے ہم عہد کریں کہ آئندہ ہر روز کم از کم پانچ صفحات کا مطالعہ کریں گے او رساتھ ساتھ مطالعہ کا شوق بھی بڑھائیں گے۔
    qureshi، احمدقاسمی اور عامر نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں