علم دین کی برکات

'حکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد یوسف, ‏نومبر 21, 2015۔

  1. محمد یوسف

    محمد یوسف منتظم۔ أیده الله منتظم

    پیغامات:
    219
    موصول پسندیدگیاں:
    185
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    علم دین کی برکات


    شیخ الاسلام علامہ شمس الحق صاحب افغانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیوبند کے مدرسہ دارالعلوم میں حدیث کا ایک طالب علم فوت ہوگیا، جو افغانستان کا رھنے والا تھا، جنازہ پڑھ کر دفنایا گیا،اور اسکے ورثاء کو خط بھیجا، فاصلہ لمبا تھا خط چھ ماہ بعد اسکے گھر میں پہونچ گیا،اسکے عزیز آگئے،
    مہتمم قاری محمد طیب صاحب سے ملاقات ہوگئی تو وہ کہنے لگے کہ ہم میت کو نکال کر اپنے وطن افغانستان میں لے جانا چاھتے ہیں،
    مہتمم صاحب نے بہت سمجھایا مگر وہ بضد تھے، بات نہیں مان رھے تھے، تو مہتمم صاحب نے انکو میرے پاس بھیجا،
    میں نے بھی انکو بہت سمجھایا وہ کہنے لگے یا تو ہم میت لے جائیں گے یا ہمارا سارا خاندان یہاں منتقل ہوجائیگا، اسکے علاوہ اور کوئی صورت نہیں، میں نے کہا جاؤ... خدا کے بندو!
    تم تو خدا تعالی کا راز ظاہر کروگے، جب قبر کھودی گئی تو چھ ماہ بعد میت اپنے کفن سمیت صحیح سالم پڑی تھی اور اس سے بہت اعلیٰ خوشبو آرہی تھی،
    میت کی لاش صندوق میں رکھ دی گئی اور احتراماً ایک طالب علم انکے ساتھ بھیج دیا گیا، لاہور کے راستے سے پشاور جانا تھا،
    پشاور کے ریلوے اسٹیشن پر ایکسائز اور پولیس والوں نے کہا کہ اس صندوق میں میت نہیں بلکہ کستوری (مشک) ھے جو سمگل ہورہی ھے،
    جب صندوق کو پولیس والوں نے کھولا تو اس میں حدیث پاک کا طالب علم تھا اور اس سے خوشبو آرہی تھی،

    یہ حال تو حدیث کے طالب علم کا تھا، اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے!
    اسی دن پشاور کے ایک نواب کے بیٹے کی لاش انگلینڈ سے ائیر پورٹ پہونچی جو انگلینڈ میں انگریزی تعلیم حاصل کرنے گیا ہوا تھا اور فوت ہوئے اسکو تیسرا دن تھا
    مگر عفونت اور بدبو اتنی تھی کہ رشتے دار بھی چارپائی کے قریب نہیں آتے تھے، نوبت یہاں تک پہونچی کہ لوگوں کو اجرت دے کر چارپائی لے جائی گئی تھی، تاکہ اسکو دفنایا جائے،
    حضرت افغانی صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ لوگوں نے اس واقعے سے بہت بڑی عبرت حاصل کی تھی.

    سیّد علی عثمان
    بھوبنیشور. جدوپور

اس صفحے کو مشتہر کریں