علم و معرفت کے آفتاب و ماہتاب کا غروب

'ماہنامہ افکارِ قاسمی شمارہ 9 برائے اگست 2013 مجّدِ' میں موضوعات آغاز کردہ از خادمِ اولیاء, ‏جولائی 17, 2013۔

  1. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ممتاز عالم دین، پیر طریقت، ولی کامل، عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر 13 سالہ طویل علالت کے بعد90 سال کی عمر میں اتوار کی شام کراچی میں انتقال فرماگئے۔
    انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مولانا حکیم اختر پر 28 مئی2000ء کو فالج کا حملہ ہوا جس کے بعد سے وہ علیل چلے آرہے تھے۔ علالت کے دوران ہی پیر کے روز عصر اور مغرب کے درمیان اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی نماز جنازہ پیر کو صبح 9 بجے جامعہ اشرف المدارس گلستان جوہر سندھ بلوچ مسلم سوسائٹی میں ادا کی گئی جس میں لاکھوں افراد شریک ہوئے۔ مولاناحکیم شاہ محمد اختر ؒ کی رحلت عالم اسلام کے لیے عظیم سانحہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مولانا ؒ کی رحلت سے امت ایک شفیق مربی اور ایک عظیم عالم دین سے محروم ہوگئی۔ مولانا کا شمارعالم اسلام کی چند ممتاز اور نمایاں دینی و روحانی شخصیات میں ہوتا تھا جن سے بلا مبالغہ لاکھوں انسانوں نے بلاواسطہ اور بالواسطہ فیض حاصل کیا اور ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کے شب و روز بدلے۔مولانا حکیم محمد اختر کے خلفاء اور مریدین ہزاروں کی تعداد میں ہیں جبکہ ان کا دائرہ کار پوری دنیا میں پھیلاہوا ہے۔ ان کے خلفاء اور مریدین پاکستان بھر کے علاوہ بھارت، بنگلا دیش، امریکا، برطانیہ، کینیڈا، جنوبی افریقہ اور برما سمیت دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہیں۔
    مولانا شاہ حکیم محمد اختر نہ صرف روحانی بزرگ تھے بلکہ بہترین مصنف اور اردو زبان کے قادر الکلام شاعروں میں بھی ان کا شمار ہوتا تھا۔ تصوف اور معرفت آپ کے پسندیدہ موضوعات تھے۔آپ کے اردو کلام کا مجموعہ’’ فیضان محبت ‘‘ بھی محبت الہیہ اور عشق رسالت کا شاہکار ہے۔ مولانا کا شمار مثنوی مولانا روم کے مستند شارحین میں ہوتا تھا۔ آپ نے’’معارف مثنوی‘‘ کے نام سے مثنوی مولانا رومؒ کی شرح لکھی جو پوری دنیا میں شائع ہوئی اور کئی زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت آپ کی تحریر کردہ کتابوں اور ملفوظات کی تعداد 200 سے زاید ہے۔ مولانا نے ساری زندگی انسانیت کو اللہ کی محبت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی اطاعت کا درس دیا اور اپنے اکابر اور بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شریعت و طریقت کا خوب صورت امتزاج قائم کرکے دکھایا۔
    مولاناشاہ حکیم محمد اختر 1923ء یا1924ء میں ہندوستان کے صوبہ یوپی کے شہر پرتاب گڑھ کے گائوں اٹھیہہ میں محمد حسین نامی سرکاری ملازم کے گھر میں پیدا ہوئے۔ آپ والدین کے اکلوتے فرزند تھے۔ ابتدائی اور اعلیٰ عصری تعلیم طبیہ کالج علی گڑھ سے حاصل کی۔ حکمت کی تعلیم بھی مکمل کی۔ شروع سے ہی بزرگوں کی صحبت کی وجہ سے دینی کاموں میں سرگرم رہے۔ مولانا حکیم اختر نے ابتدا ء میں جید علماء اور بزرگوں مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی اور مولانا سیّد بدر علی شاہ سے فیض حاصل کیا، اسی دوران مولانا شاہ محمد احمد پرتاب گڑھی سے خلافت حاصل کی۔ بعد ازاں 17 برس مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری کی صحبت میں سرائے میر میں رہے جہاں ان کے مدرسہ میں درس نظامی کی تعلیم مکمل کی اور خلافت بھی حاصل کی۔ بعدازاں ہر دوئی میں مولانا شاہ ابرارالحق سے اکتساب فیض کیا اور خلافت حاصل کی۔ جن تین بزرگوں سے خلافت ملی وہ تینوں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے خلفاء تھے۔ تصوف کے چاروںسلسلوں چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ، سہروردیہ سے منسلک تھے۔ قیام پاکستان کے چند سال بعد 1954ء یا1955ء میں پاکستان آئے اور ناظم آباد نمبر 4 میں تقریباً دو دہائیوں تک دینی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ بعد ازاں خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال کراچی میں منتقل ہوئے اور آخری وقت تک وہیں قیام پذیر رہے۔ مولانا نے ایک بڑا دینی ادارہ جامعہ اشرف المدارس کے نام سے قائم کیا جس میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ مولانا حکیم محمد اختر کے ادارے کی رفاہی خدمات بھی محتاج بیان نہیں ہیں۔
    مولانا حکیم محمد اختر ؒ کی رحلت درحقیقت علم و معرفت کے ایک آفتاب و ماہتاب کا غروب ہے جس کے بعدپھیلنے والی اندھیریوں کی شدت کو اہل دل و اہل نظر ہی محسوس کر سکتے ہیں۔ آج کی اس مادی دنیا میں انسانیت کو روحانیت کی حقیقی آسودگی فراہم کرنے والے لوگ کم یاب ہوتے جارہے ہیں۔ خانقاہیں اجڑتی جارہی ہیں اور خیر کا منبع کہلانے والی شخصیات ایک ایک کرکے رخصت ہوتی جارہی ہیں۔ ان پر آشوب حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اکابر و مشایخ اور بزرگان دین کی جلائی ہوئی علم ومعرفت شمعیں روشن رکھنے کی کوششیں کی جائیں اور ان کی تعلیمات کو عملی طور پر زندہ رکھا جائے۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ولی ٔکامل حضرت مولانا حکیم اختر صاحب کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کے جملہ پس ماندگان و متعلقین و منتسبین کو صبر جمیل عطافرمائے اور پوری امت کو ان حضرت والا اور دیگر تمام اکابر امت کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق ارزانی فرمائے۔
    بشکریہ اداریہ روزنامہ اسلام کراچی، 4جون2013۔​
  2. محمد ارمغان

    محمد ارمغان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,661
    موصول پسندیدگیاں:
    106
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا۔۔۔
    بشکریہ اداریہ روزنامہ اسلام کراچی، 4جون2013۔
    (حوالہ ضرور لکھئے تاکہ ڈبل کمپوزنگ نہ ہو۔)
  3. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم۔ أیده الله Staff Member منتظم رکن افکارِ قاسمی

    پیغامات:
    6,301
    موصول پسندیدگیاں:
    1,708
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    ممتاز عالم دین، پیر طریقت، ولی کامل، عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر 13 سالہ طویل علالت کے بعد90 سال کی عمر میں اتوار کی شام کراچی میں انتقال فرماگئے۔
    انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مولانا حکیم اختر پر 28 مئی2000ء کو فالج کا حملہ ہوا جس کے بعد سے وہ علیل چلے آرہے تھے۔ علالت کے دوران ہی پیر کے روز عصر اور مغرب کے درمیان اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی نماز جنازہ پیر کو صبح 9 بجے جامعہ اشرف المدارس گلستان جوہر سندھ بلوچ مسلم سوسائٹی میں ادا کی گئی جس میں لاکھوں افراد شریک ہوئے۔ مولاناحکیم شاہ محمد اختر ؒ کی رحلت عالم اسلام کے لیے عظیم سانحہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مولانا ؒ کی رحلت سے امت ایک شفیق مربی اور ایک عظیم عالم دین سے محروم ہوگئی۔ مولانا کا شمارعالم اسلام کی چند ممتاز اور نمایاں دینی و روحانی شخصیات میں ہوتا تھا جن سے بلا مبالغہ لاکھوں انسانوں نے بلاواسطہ اور بالواسطہ فیض حاصل کیا اور ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کے شب و روز بدلے۔مولانا حکیم محمد اختر کے خلفاء اور مریدین ہزاروں کی تعداد میں ہیں جبکہ ان کا دائرہ کار پوری دنیا میں پھیلاہوا ہے۔ ان کے خلفاء اور مریدین پاکستان بھر کے علاوہ بھارت، بنگلا دیش، امریکا، برطانیہ، کینیڈا، جنوبی افریقہ اور برما سمیت دنیا کے کئی ممالک میں موجود ہیں۔
    مولانا شاہ حکیم محمد اختر نہ صرف روحانی بزرگ تھے بلکہ بہترین مصنف اور اردو زبان کے قادر الکلام شاعروں میں بھی ان کا شمار ہوتا تھا۔ تصوف اور معرفت آپ کے پسندیدہ موضوعات تھے۔آپ کے اردو کلام کا مجموعہ’’ فیضان محبت ‘‘ بھی محبت الہیہ اور عشق رسالت کا شاہکار ہے۔ مولانا کا شمار مثنوی مولانا روم کے مستند شارحین میں ہوتا تھا۔ آپ نے’’معارف مثنوی‘‘ کے نام سے مثنوی مولانا رومؒ کی شرح لکھی جو پوری دنیا میں شائع ہوئی اور کئی زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت آپ کی تحریر کردہ کتابوں اور ملفوظات کی تعداد 200 سے زاید ہے۔ مولانا نے ساری زندگی انسانیت کو اللہ کی محبت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی اطاعت کا درس دیا اور اپنے اکابر اور بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شریعت و طریقت کا خوب صورت امتزاج قائم کرکے دکھایا۔
    مولاناشاہ حکیم محمد اختر 1923ء یا1924ء میں ہندوستان کے صوبہ یوپی کے شہر پرتاب گڑھ کے گاؤں اٹھیہہ میں محمد حسین نامی سرکاری ملازم کے گھر میں پیدا ہوئے۔ آپ والدین کے اکلوتے فرزند تھے۔ ابتدائی اور اعلیٰ عصری تعلیم طبیہ کالج علی گڑھ سے حاصل کی۔ حکمت کی تعلیم بھی مکمل کی۔ شروع سے ہی بزرگوں کی صحبت کی وجہ سے دینی کاموں میں سرگرم رہے۔ مولانا حکیم اختر نے ابتدا ء میں جید علماء اور بزرگوں مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی اور مولانا سیّد بدر علی شاہ سے فیض حاصل کیا، اسی دوران مولانا شاہ محمد احمد پرتاب گڑھی سے خلافت حاصل کی۔ بعد ازاں 17 برس مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری کی صحبت میں سرائے میر میں رہے جہاں ان کے مدرسہ میں درس نظامی کی تعلیم مکمل کی اور خلافت بھی حاصل کی۔ بعدازاں ہر دوئی میں مولانا شاہ ابرارالحق سے اکتساب فیض کیا اور خلافت حاصل کی۔ جن تین بزرگوں سے خلافت ملی وہ تینوں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے خلفاء تھے۔ تصوف کے چاروںسلسلوں چشتیہ، قادریہ، نقشبندیہ، سہروردیہ سے منسلک تھے۔ قیام پاکستان کے چند سال بعد 1954ء یا1955ء میں پاکستان آئے اور ناظم آباد نمبر 4 میں تقریباً دو دہائیوں تک دینی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ بعد ازاں خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال کراچی میں منتقل ہوئے اور آخری وقت تک وہیں قیام پذیر رہے۔ مولانا نے ایک بڑا دینی ادارہ جامعہ اشرف المدارس کے نام سے قائم کیا جس میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ مولانا حکیم محمد اختر کے ادارے کی رفاہی خدمات بھی محتاج بیان نہیں ہیں۔
    مولانا حکیم محمد اختر ؒ کی رحلت درحقیقت علم و معرفت کے ایک آفتاب و ماہتاب کا غروب ہے جس کے بعدپھیلنے والی اندھیریوں کی شدت کو اہل دل و اہل نظر ہی محسوس کر سکتے ہیں۔ آج کی اس مادی دنیا میں انسانیت کو روحانیت کی حقیقی آسودگی فراہم کرنے والے لوگ کام یاب ہوتے جارہے ہیں۔ خانقاہیں اجڑتی جارہی ہیں اور خیر کا منبع کہلانے والی شخصیات ایک ایک کرکے رخصت ہوتی جارہی ہیں۔ ان پر آشوب حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اکابر و مشایخ اور بزرگان دین کی جلائی ہوئی علم ومعرفت شمعیں روشن رکھنے کی کوششیں کی جائیں اور ان کی تعلیمات کو عملی طور پر زندہ رکھا جائے۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ولی ٔکامل حضرت مولانا حکیم اختر صاحب کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کے جملہ پس ماندگان و متعلقین و منتسبین کو صبر جمیل عطافرمائے اور پوری امت کو ان حضرت والا اور دیگر تمام اکابر امت کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق ارزانی فرمائے۔
  4. خادمِ اولیاء

    خادمِ اولیاء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    405
    موصول پسندیدگیاں:
    29
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    شکریہ ارمغاں بھائی اور مولانا داود صاحب
    حوالہ لگادیا

اس صفحے کو مشتہر کریں