عمل کاوقت ہے

'حالات حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏جنوری 13, 2013۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    ارتقاء پسند علماء کی تشریحات کا میں نے جتنا مطالعہ کیاہے اس سے قطعاً یہ ثابت نہیں ہوتاکہ انواع حیات فی الواقع اسی طرح وجود میں آئی ہیں جیسا یہ لوگ بتاتے ہیں تاہم اگر ہم اس کو بلا بحث مان لیاجائے جب بھی اس سے ایمان کے تزلزل کا سوال کسی طرح پیدا نہیں ہوتا کیونکہ انواع حیات اگر بالفرض ارتقاء عمل کے تحت وجود میں آئی ہیں جب بھی یکساں درجہ کی وقوت کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ خدائی تخلیق کا طریقہ ہے نہ کہ اندھے مادی عمل کا خود بخود نتیجہ حقیقت یہ ہے کہ مشینی ارتقاء کو نہایت آسانی کے ساتھ تخلیقی ارتقاء ثابت کیا جاسکتاہے اور مادی علماء کے پاس اس کی تردید کی کوئی واقعی بنیاد نہ ہوگی۔
    جدید دریافتیں اصلاًمخالف مذہب نہیں ہے بلکہ منکرین مذہب ان کی غلط توجیہ کرکے ہمارے نوجوانوں کو دھوکے میں ڈالدیتے ہیں اس کا علاج صرف یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل پہلے دین کا عمل حاصل کر اور دینی شعورسے پوری طرح مسلح ہوکر جدید علوم کے میدان میں اترے اس وقت اس کے پاس ہربات کا صحیح جواب ہوگا اور اسکا ذہن ہرواقعہ کی صحیح توجیہ ڈھونڈلیا کرے گا علم دین دوسرے لفظوں میں حقیقت اشیاء کو جاننے کا علم ہے پھر جو حقیقی علم کوپالے اس کو ایک ایسی روشنی مل جاتی ہے جس سے وہ ہرغلطی کو پکڑلے اور ہربات کی تہ تک پہنچ جائے ۔
    ج:جہاں تک غلط ماحول اور دنیاوی خوشحالی کے دروازے سے آنیوالی خرابیوں کا معاملہ ہے اس کا تعلق علم سے نہیں بلکہ قلبی حالت سے ہے اگر ہمارے دلوں میں ایما ن اس طرح راسخ ہوکے اس کے اثر سے ہمار قلوب ایمان کی چٹانیں بن گئے ہوں تو کسی قسم کا ماحول ہم کو متأثر نہیں کرسکتا پھر آدمی طوفانی سمندر میں بھی اپنا ایک جزیرہ بناکر رہ سکتاہے اسی طرح اگرآخرت کا واقعی احساس پیداہوجائے تو دنیاوی خوشحالی آدمی کو کاٹ نے لگتی ہے کجاکہ وہ ذہن کو خراب کرے اور آدمی کا مزاج بد ل جائے ۔
    معلوم ہواکہ علوم جدید کے مسلم طلبہ میں بے دینی کے اثرات لازمی طورپر خود ان علوم کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ زیادہ تر خود اپنی کوتاہیوں کے ثمرات ہیں اگر ہمارے مسلم نوجوانوں کا دینی شعور بیدارہو وہ حق کو ناحق کی تمیز رکھتے ہوں اور اسی کے ساتھ ان کا ایمانی جذبہ اس قدر زندہ ہو کہ ناحق سے آلودگی گوارہ نہ کرے اور پھسلاً پر پھسل جانے کے بجائے سنبھل کرچلنے کی طاقت ان میں موجود ہوتو یہ علوم بذات خو د ایسے نہیں ہے کہ آدمی کی متاع ایمان کو لوٹ لی جائے بلاشبہ موجودہ صورت حال یہی ہے کہ ایک شخص اس میں مسلما ن کی حیثیت سے داخل ہوتاہے اور کافر بن کر لوٹتاہے لیکن اگر ہم کرسکیں تو یہ بھی ممکن ہے کہ ایک مسلمان داخل ہواور مسلمان تر بن کرنکلے۔
    مسلم نوجوانوں زندگی کے ہرشعبوں میں گھسو ہربلندی پر چڑھو اور حکمت کی تمام باتوں کو سیکھو مگر مسلمان بن کر اور اسلام کا کلمہ سربلند کرنے کے لئے اگرتم ایسا کرسکو تو میں سارے اہل دین کی طرف سے تم کو مبارکباد دیتاہوں لیکن اگرتم نے اہل دنیاکے ساتھ گڑھے میں گرناہی اپنے لئے پسند کرلیاہے تو نہ خداکے دین کو تمہاری ضرورت ہے اور نہ خداکے یہاں تمہارا کوئی مقام ہے تمہارے لئے ذلت ہی ذلت ہے دنیامیں بھی اور آخرت میں بھی ۔
    دور جدید مسلمنوجوانوں کے عزم اور حوصلہ کا امتحان لے رہاہے مستقبل بتائے گا کہ وہ اس متحان میں پورے اترے ہیں یا فیل ہوگئے۔(ماخوذ)
  2. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,697
    موصول پسندیدگیاں:
    775
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اللہکریم ہم سن کی حفاظت فرمائے اور اس امتحان میں سو فیصد کامیابی عطاء فر مائے آمین
  3. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    459
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    اللہ کریم ہم سب کی حفاظت فرمائے اور اس امتحان میں سو فیصد کامیابی عطاء فر مائے آمین

اس صفحے کو مشتہر کریں