عورتوں پر ظلم کا اورجہیز کی لعنت

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جولائی 8, 2013۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,955
    موصول پسندیدگیاں:
    994
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    [align=center]بسم اللہ الرحمن الرحیم
    عورتوں پر ظلم کا اورجہیز کی لعنت​
    [/align]

    آج کے معاشرہ میں عورت پر جو ظلم ہو رہا ہے اس کا اہم سبب جہیز کی لعنت ہے ۔
    آج کل سیکڑوں لڑکیوں کو جہیز کے نام پر بھینٹ چڑھا دیا جارہا ہے ۔ جہیز کے لالچی ڈھیر سارا جہیز لے کر بھی مطمئن نہیں ہوتے شادی کے بعد بہو سے مزید جہیز لا نے کا مطالبہ کیا جاتاہے اور مطالبہ پورا نہ ہونے پر عورت کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس طرح کے ایک نہیں بلکہ سیکڑوں واقعات رونما ہو رہے ہیں جہیز کی لعنت ہمارے معاشرے میں وبا کی طرح پھیل گئی ہے جبکہ آج کل یہ جوڑے گھوڑے کا رواج جو چل پڑا ہے بالکل غیر شرعی اور غیر اخلاقی ہے جس کا نکاح کے مقصد سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ جہیز کا تصور ایجاد بندہ ہے جو غیر قوموں سے میل جول کی بناء پر ہمارے معاشرے میں داخل ہو گیا ہے اور اس نے عصر جدید میں ایک بہت بڑے فتنے کی شکل اختیار کر لی ہے اور یہ موجودہ شکل میں شائد سوائے ہندوستان اور پا کستان کے کسی اسلامی ملک میں نہیں پا یا جاتا بلکہ ہندستان میں بھی بیسویں صدی سے پہلے اس کا وجواس قدر شدید نہیں تھا جتنا کہ وہ آج نظر آرہا ہے اسلامی شریعت تو جہیز کے تصور ہی سے نا آشنا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک میں اکثر وبیشتر نکاح کر نے والے کو نہ صرف مہر معجل ادا کرنا پڑتا ہے بلکہ گھر گرستی کا پورا نظام بھی خود ہی کرنا پڑتا ہے ورنہ اس کہ منکوحہ کہ اس کے سسرال سے رخصتی ہی نہیں ہوتی یعنی جب تک وہ آدمی ایک آراستہ فلیٹ کا انتظام نہیں کرتا اس کی نئی نویلی دلھن اس کے یہاں نہیں آتی اور اسلامی قانون بھی یہی ہے کہ اگر بیوی اپنے سسرال والوں کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو شوہر اسے شرعاً ایسا کر نے پر مجبور نہیں کر سکتا چنانچہ کتبِ فقہ میں اس کی صراحت اس طرح مذکور ہے ۔ وعلیٰ الزوج ان یسکنھا فی دار مفردۃ لیس فیھا احد من اھلہ الا ان تختار ذالک ÷شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کو الگ گھر میں رکھے جس میں اس کے گھر والے شریک نہ ہوں ۔ہاں البتہ خود بیوی انہیں ساتھ رکھنا چاہتی ہو وہ ایسا کر سکتی ہے ۔( ہدایہ اولین باب النفقۃ ص ۴۲۱، مطبوعہ دہلی )

    ٭ شریعت میں مرد وعورت کی حیثیت:
    اس لحاظ سے شادی بیاہ کے اخراجات ، عورت کا مہر ، عورت کا نفقہ اور عورت کو ٹہرانے کیلئے ایک الگ مکان کا انتظام وغیرہ تمام ذمہ داریاں مرد پر عائد ہو تی ہیں اور عورت پر ان میں سے ایسی کوئی بھی ذمہ داری جس کا تعلق ـ"مالیات سے " ہو عائد نہیں ہوتی ۔ چنانچہ قرآن وحدیث میں اس کے متعلق ادنیٰ درجہ کا اشارہ تک موجود نہیں ہے لہٰذا لڑکی والوں سے جوڑے جہیز کے نام پر مال متاع کا مطالبہ کرنا غیر شرعی وغیر عقلی حرکت ہے جو نظام فطرت کے خلاف اور فسادِ تمدن کا باعث ہے ۔ مرد وعورت دونوں کی فطرت الگ الگ ہے اور اس لحاظ سے ان دونوں کا دائرہ کار بھی الگ الگ ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو قوّام ( گھر کا نگرانِ اعلیٰ ) بناکر پیدا کیا ہے اور معیشت کا بار بوجھ بھی اسی کے کندھوں پر ڈالا ہے عورت پر کسی بھی قسم کا مال خرچ کرنے کی ذمہ داری عائد نہیں کی جیسا کہ ارشاد باری ہے ۔اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلٰی النِّسَائِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَبِمَا اَنْفَقُوْامِنْ اَمْوَالِھِمْ فَاالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌحٰفِظٰتٌ لِلْغَیْبِ بِمَاحَفِظَ اللّٰہُ:
    ترجمہ: مرد عورتوں پر نگران ومحافظ ہیں کیونکہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ مردوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ کیا ہے تو اس بنا پر نیک عورتیں وہ ہیں جو ( مردوں) کی تا بعدار اور ان کے پیٹھ پیچھے ( ان کے مال ومتاع کی ) حفاظت کر نے والی ہوں ۔( سورہ نساء : ۳۴)
    اس آیت کریمہ کی رو سے مال خرچ کرنا خواہ وہ نکاح کے سلسلے میں ہو مرد کی ذمہ داری ہے اور عورت کا فریضہ صرف مرد کی تابعداری اور اس کے حقوق کی حفاظت ہے جیسا کہ اس موقع پر نیک عورتوں کی صفات میں قانتات ( اطاعت گزار عورتیں ) اور حافظات للغیب ( مردو ں کے پیٹھ پیچھے ان کے مال واسباب اور ان کے دیگر حقوق کی نگہداشت کر نے والی عورتوں ) کے الفاظ دلالت کر رہے ہیں ۔ لہٰذا عورتیں جب نیک سیرت ہوں اطاعت گزار ہوں اور اپنے شوہروں کے حقوق کی نگہداشت کر نے والی ہوں تو پھر ان سے مزید کسی قسم کا مطالبہ کرنا نہ صرف خلافِ قرآن اور خلافِ شریعت ہے بلکہ وہ در حقیقت ایک معاشرتی ظلم وزیادتی اور نظام فطرت کو مسخ کر نا ہے ۔
    ایک مرد کیلئے دنیا کا بہترین تحفہ ازروئے حدیثِ نبوی ﷺ ایک صالح اور اطاعت گزار عورت ہے اگر وہ اس کی قدر نہیں کر ے گا بلکہ حرص وہوس کے چکر میں پڑ کر اپنے سسرال والوں کو لوٹنے کی کوشش کرے گا تو وہ دینی وہ دنیوی دونوں اعتبار سے اپنے انجام بد کو ضرور پہنچ کر رہے گا ۔

    جہیز اور نفقہ مرد کی ذمہ داری :
    اوپر مذکور آیت کی تفسیرمیں مفسرین نے تشریح کی ہے کہ اس آیت کے عموم اور ابہام میں ہر قسم کے اخراجات شامل ہو سکتے ہیں جو گھرگرہستی سے متعلق ہوں نیز اس موقع پر امر، بصیغہ، خبر، ہونے کی بنا پر یہ حد درجہ بلیغ بھی ہے چنانچہ امام رازیؒ تحریری کرتے ہیں اَلرَّجُلُ اَفْضَلُ مِنَ الْمَرْأَۃِ ،لِاَنہَّ ُیعُطْیِھْاَ الْمَہْرَ وَیُنْفِقْ عَلَیْھَا۔ مرد عورت سے افضل ہے کیونکہ وہ مہر دیتا ہے اور اس کا نفقہ ادا کرتا ہے ۔اور علامہ ابن کثیرؒ تحریر کرتے ہیں اس ابہام میں مہر اور نفقہ کے علاوہ دیگر اخراجات بھی شامل ہیں جو کتاب وسنت کی رو سے ثابت ہیں ، چنانچہ قرآن کریم کی دیگر آیات کی رو سے عورتوں کے نان ونفقہ ( کھانے کپڑے) کا تذکرہ اس طرح نوجود ہے وَعَلٰی الْمَوْلُوْدِ لَہُ رِزْقُھُنَّ وَکِسْوَتُھُنَّ بِاا لْمَعْرُوْفِ ترجمہ: اور بچے کے باپ پر ( دودھ پلانے والی) عورتوں کے کھانے کپڑے کی ذمہ داری ہے ۔البقرہ آیت ۲۳۳۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کا نسب چونکہ باپ کی طرف منسوب ہوتا ہے اس بنا پر وہی اس کا مالک اور اخراجات کا ذمہ دار ہے جو ایک فطری اور عقلی طریقہ ہے اور اس سلسلہ میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ مرد اپنی حیثیت کے مطابق اپنی بیویوں پر خرچ کریں اوراشاد باری تعالیٰ ہے لِیُنْفِقْ ذُوْسَعَۃٍ مِنْ سَعَتِہٖ۔(سورۃ الطلاق) وسعت والا اپنی وسعت ( مالی حیثیت)کے مطابق خرچ کرے غرض نکاح کے بعد ہر مرد کے ذمہ فرض وواجب ہے کہ وہ اپنی بیوی نان ونفقہ شریعت کے حکم کے مطابق ادا کرے ۔اوپر مذکور سورۂ نساء کی آیت نمبر ۳۴ کی رو سے ہر قسم کا گھریلو ساز وسامان فر اہم کرنا مرد ہی کی ذمہ داری ہے عورت یا سسرال والوں سے اس بارے میں تقاضا کرنا اور ڈھیر سارے ساز وسامان کا مطالبہ کرنا خلافِ شریعت ہی نہیں بلکہ خلافِ عقل وفطرت بھی ہے ۔ لڑکی کا باپ جب اپنی لڑکی کا بیاہ کر کے اسے اپنے داماد کے حوالے کر دیتا ہے تو پھر وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتا ہے لہٰذا نکاح کے موقع پر یا نکاح کے بعد اس قسم کا کوئی بھی مطالبہ ناجائز اور حرام ہے نکاح کے بعد میاں بیوی ایک مقدس رشتے میں بندھ جاتے ہیں اور دوسرے کے حقوق ادا کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں مگر اس قسم کے نا جائز مطالبات ان رشتوں میں رخنے ڈالتے ہیں اور باہمی نفرت وعداوت پیدا کرتے ہیں جو معاشرتی اعتبار سے سخت مضر یعنی نقصان دہ اور تباہ کن ہے ۔

    ٭نفقہ مرد پر واجب کیوں؟
    عورت چونکہ جسمانی اعتبار سے ایک کمزور ہستی ہے اور مرد قوی اور طاقتور ہوتا ہے اسلئے اکثر وہ عورتوں کے حقوق غصب کرکے ان پر ظلم ڈھانے لگتا ہے لہٰذا اسے تاکید ہے کہ وہ اس قسم کی حق تلفی اور بے انصافی سے باز آجائے ۔ لہٰذا حقوق العباد میں بیوی کا حق دوسرے تمام حقوق پر مقدم ہے ۔ چنانچہ قرآن مجید میں جہاں پر نفقات واجبہ کا تذکرہ ہے وہاں پر زیادہ تر بیوی ہی کا تذکرہ ہے اور امام بخاریؒ نے کتاب النفقات میں جو ۱۶ ابواب قائم کئے ہیں اور ان کے تحت جو حدیثیں درج کی ہیں وہ تقریباً تمام کی تمام بیویوں کے حقوق ہی سے متعلق ہیں اس سے عورتوں کے حقوق کی نگداشت پربخوبی روشنی پڑتی ہے کہ اسلام نے عورتوں کے حقوق کی ادئے گی پر کتنا زور دیا ہے ۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نظامِ تمدن میں ایک خاندان کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور کوئی بھی خاندان مرد اور عورت کے ملاپ اور ان کے صحیح تعلقات کی بنا پر وجود میں آتا ہے اور ان دونوں کے تعلقات کی مضبوطی کا باعث نفقہ ہے اگر عورت کو نفقہ پابندی کے ساتھ ملتا رہے تو پھر میاں بیوی کے تعلقات بھی بر قرار رہتے ہیں ورنہ ان دونوں کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے اور عقلی وفطری اور شرعی اعتبار سے نفقہ مرد پر واجب ہوتا ہے ہدایہ میں ہے النفقۃ واجبۃ للزوجۃ علیٰ زوجھا مسلمہٌ کانت او کافرۃٌ اذا سلّمت نفسھا الیٰ منزلہ فعلیہ نفقتھا ، کسوتھا وسکنھا ۔یعنی بیوی کا نفقہ شوہر پر واجب ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم جبکہ وہ خود کو شوہر کے سپرد کر کے اس کے گھر میں آجائے تو اس وقت شوہر پر عورت کا نفقہ ( خرچہ)لباس اور جائے سکونت ( مکان )واجب ہو جائے گا ۔ ( ہدایہ اولین ص ۴۱۷)
    اور موجودہ سیکولر قوانین کے مطابق عورت کا نفقہ (MAiN TENACE)مرد ہی سے دلایا جاتا ہے اور یہ وہ چیز ہے جس سے شوہر کو کسی بھی حال میں چُھٹکارانہیں بلکہ نفقہ نہ ملنے کی صورت میں عورت طلاق تک کا مطالبہ کر سکتی ہے اور بیوی کا نفقہ شوہر پر اس لئے واجب ہوتا ہے کیونکہ بیوی اپنے آپ کو شوہر کے حوالے کر کے گویا اس کی"قیدی" بن جاتی ہے ۔ کیونکہ نفقہ کسی کو روکنے کا عوض ہے اور جو کوئی کسی دوسرے کے حق ِ مقصود کی وجہ سے محبوس ہو تو نفقہ اسی پر ہو گا ۔ ( ہدایہ اولین ص ۴۱۷)

    ٭ جوڑے جہیز کا مطالبہ ناجائز کیوں؟
    عورت چونکہ اپنے شوہر کے حقوق کی ادائیگی کے لئے اس کی محبوس ( قیدی) ہوتی ہے اس لئے عورت کا نفقہ شوہر پر واجب ہوتا ہے ۔ یہ نہیں کہ شوہر بیوی کا قیدی بن کر رہتا ہو ۔ لیکن اس کے بر عکس اگر شوہر کسی وجہ سے اپنی عورت کو تنگ کرتا ہے کہ وہ اپنے باپ کے یہاں سے مزید جہیز یا مزید مال لے کر آئے تو یہ قانون شریعت اور قانون فطرت دونوں کی خلاف ورزی ہو گی کیوں کہ عورت اس قسم کے بے جا اور غیر شرعی وغیر معقول مطالبہ کو پورا کرنے کی مکلف نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ "نفقہ ٔمعکوس " ہے جو خلافِ عقل اور خلافِ شریعت ہونے کی بنا پر نا جائز اور حرام ہے اور جو لوگ اس قسم کا نا جائز مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں دوزخ کی آگ بھرتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کا مال باطل طریقوں سے جو نہ کھانے کی تاکید کی ہے اس میں اس قسم کے نا جائز مطالبات بھی شامل ہو سکتے ہیں ۔یَاَ ایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَأْکُلُوْا اَمْوَا لَکُمْ بَیْنَکُمْ بِا لْبَاطِلِاے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقہ سے ( ناحق ) مت کھاؤ ( سورہ نساء :۹۲)
    باطل سے مراد بغیر کسی حق یا معاوضہ کے اور مال باطل میں جوڑا جہیز کے مطالبات بھی شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ بھی بغیر کسی حق یا معاوضہ کے ہیں ۔اور پھر وہ زبر دستی وصول کئے جاتے ہیں اگر لڑکی کے ماں باپ اپنی مرضی سے کچھ دیدیتے ہیں تو اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں
    (۱) وہ اشیاء ( چیزیں) جو وہ اپنی لڑکی کو بغیر کسی مطالبہ کے اپنی خوشی سے دیتے ہیں تو اس کا جواز نکل سکتا ہے (۲) وہ روپیہ اور وہ چیزیں جو دولھا کو جوڑے یا تلک کے نام سے دے رہے ہوں خواہ یہ چیزیں مطالبہ پر دی جائیں یا بغیر کسی مطالبہ کے دونوں صورتوں میں وہ مال باطل ہو نے کی بنا پر حرام ہیں ۔ نکاح کے بعد شوہر پر تین چیزیں شرعاً عائد ہوتی ہیں (۱) بیوی کے مہر کی ادائیگی (۲) بیوی کا نفقہ ادا کرنا (۳) گھریلو ساز وسامان کی فرا ہمی اور ان میں سے کسی بھی چیز کو شریعت نے عورت یا اس کے سرپرستوں کی ذمہ داری قرار نہیں دیا ہے ۔

    ٭ نا جائز مطالبات فسادِ تمدن کا باعث :
    نکاح کا رشتہ ایک مقدس ومحترم رشتہ ہے اور نکاح کے ذریعے بہت سے دینی ودنیوی فوائد اور روحانی وجسمانی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں لہٰذ ان تمام باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے خدا کے حدود کو قائم رکھنا ہے جس کی قرآن مجید میں بار بار اور سخت تاکید آئی ہے مثلاً تلک حدود اللّٰہ فلا تعدودھا ۔یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں تم ان سے تجاوز مت کرو ۔ ( البقرہ ۹ ۲۲) اور ایک موقع پر تو خدا کے حدود سے تجاوز کر نے والوں کو ہمیشہ کیلئے جہنمی قرار دیا گیا ہے ۔ ارشاد باری ہے ۔ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدُہُ یُدْ خِلْہُ نَاراً خَالِداً فِیْھَا ۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نا فر مانی کرے گا اور اس کے حدود سے تجاوز کرے گا تو وہ اسے ہمیشہ کیلئے آگ میں داخل کرے گا ( نساء ۱۴)اور جوڑے جہیز کے مطالبات حدود الٰہی کو پھلانگنے ہی کے ذیل میں آتے ہیں جن کا شریعت میں ادنیٰ درجہ کا بھی جواز نہیں ہے بلکہ یہ نا جائز مطالبات نکاح کے مقدس ومحترم تمام رشتوںکو کاٹ کر مختلف خاندانوں کو قصائی خانوں میں تبدیل کر دیتے ہیں تمام رشتے ناتے جوڑے جہیز کی سان پر چڑھ کر متحارب کیمپوں میں بٹ جاتے ہیں۔ نکاح کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے صرف ایک اجنبی مرد اور ایک اجنبیہ عورت ہی کو ایک دوسرے سے مر بوط نہیں کیا بلکہ دو اجنبی خاندانوں اور ان کے قبیلوں کو بھی باہم سسرالی رشتوں میں با ندھ کر انھیں ایک دوسرے کا حلیف ومدد گار بھی بنا دیا تھا۔ مگر جن سسرالی رشتوں، خاندان اور قبیلوں کو اللہ تعالیٰ نے انسانی معاشرہ کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر جوڑا تھا وہ آج جوڑے جہیز کے غیر معقول بلکہ شرم ناک مطالبات کی وجہ سے ٹوٹ کر بکھر رہے ہیں اور پورے معاشرے میں ایک آگ لگی ہوئی ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چالیس سال کے عرصہ میں ۷۲ ہزار سے زیادہ نو خیز دولہنوں کو ہندوستان میں جلا یا جا چکا ہے یہ تعداد تووہ ہے جو پولیس ریکارڈ میں موجود ہے ورنہ ایسی بہت سی اموات ہو سکتی ہیں جو پولیس یا سر کاری اعداد وشمار کے دائرہ سے باہر ہوں اس اعتبار سے جہیز کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھائی جانے والیوں کی تعداد کا پتہ لگانا مشکل ہے خود کشی شریعت کی رو سے حرام ہے مگر اس فعلِ حرام پر اکسانے والا وہ ظالم معاشرہ ہے جو انتہائی حریص اور لالچی بن کر انسانیت کے قتل ِعام پرتلا ہوا ہے ۔ اسلامی شریعت نے جس جس چیز کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی ہے اس کے پیچھے پڑ کر محض چند سکوں کی خاطر نہ صرف لوگ اپنی قبر کھود رہے ہیں بلکہ پورے سماج کا چین وسکون بھی غارت کر رہے ہیں۔ ظاہر ہیکہ یہ قانون فطرت اور قانون خدا وندی سے بغاوت ہے ۔ جس کی سزا ہمیں جلد یا بدیر مل کر رہے گی چنانچہ جس قوم یا جس معاشرے میں ایسے خود غرض اور فساد پرور لوگوں کی زیادتی ہو جائے وہ کبھی پنپ نہیں سکتا بلکہ یہ اس کے زوال اور ادبار کی علامت ہو گی ۔ تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم کا نظام ِ اخلاق بگڑ جائے اسے زوال و انحطاط سے کوئی چیز روک نہیں سکتی خاندانوں کی استواری میاںبیوی کے تعلقات کی درستگی پرمبنی ہے اور خاندان ہی کسی بھی معاشرے کی بنیادی اینٹیں ہوتی ہیں ۔ تو جس معاشرے کا خاندانی نظام بگڑ جائے تو وہ معاشرہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر کر رہ جائیگا ۔ لہٰذا عقل وہوش کا تقا ضا ہے کہ خاندانی نظاموں کو ہر حال میں درست رکھنے کی کو شش کی جائے اور ان میں رخنے نہ پید اکئے جائیں۔ اس اعتبار سے معاشرے کی اصلاح بہت ضروری ہے حاصلِ بحث یہ ہے کہ مردوں کو اپنی بیویوں کے بارے میں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور بیجا اورغیر معقول مطالبات کر کے ان کا ناک میں دم نہیں کرنا چاہئے فر مائش جہیز اور بیجا مطالبات شریعت کی نظر میں نا جائز اور حرام ہے جو نظامِ فطرت کے خلاف ورزی اور نظامِ تمدن میں فساد پیدا کرنے کا باعث ہیں ایک مرد کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سب سے بڑا قیمتی تحفہ ایک نیک سیرت بیوی ہے جسے ایک نیک سیرت بیوی مل گئی تو اسے دنیا کی سب سے بڑی دولت مل گئی جیسا کہ ایک حدیث میں یہ حقیقت اس طرح بیان کی گئی ہے اَلدُّنْیَا کُلُّھَا مَتَاعٌ ، وَخَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا اَلْمَرْأَۃُ الصَّالِحَۃُ ۔پوری دنیا ایک اثاثہ ہے اور دنیا کا بہترین اثاچہ ایک نیک سیرت بیوی ہے ۔( صحیح مسلم کتاب الرضاع :۲؍ ۱۰۹۰)
    اب ظاہر ہے کہ جو شخص اپنی نیک سیرت اوروفا شعار بیوی کی قدر نہ کرتے ہوئے محض چند سکوں کو اپنا مقصود بناتا ہے وہ نظامِ فطرت اور نظامِ الٰہی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دینی ونیوی دونوں اعتبار سے تباہی مول لیتا ہے ۔ مال ودولت ایک ڈھلتی چھاؤں ہے جس کا کوئی اعتبار نہیں ہو سکتا اس کے برعکس اگر کوئی انسان اپنی نیت درست رکھتے ہوئے اخلاص کے ساتھ زندگی کے میدان میں جد وجہد کرے تو اللہ تعا لیٰ اس پر رزق کے دروازے کھول دے گا اور ایسے ایسے طریقوں سے اسے نوازے گا جو اس کے وہم وگمان میں بھی نہ ہوں گے ۔( ماخوذ اسلام کا قانون نکاح ص ۱۹۸ تا ۲۱۰)

    ٭ کیا رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کا کوجہیز دیا تھا؟
    اسلامی شریعت میں ایسی کوئی تشریح موجود نہیں ہے جس کی بنا پر عورت کیلئے جہیز ضروری قرار دیا گیاہو ۔قرآن وحدیث میں اس سلسلے میں کوئی ہلکا سا اشارہ تک موجود نہیں ہے ۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ جہیز کے جوازکا ثبوت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی میں دیا جانے والا سامان ہے اور یہ کہنا کہ حضور رسالت مآب ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ کے نکاح میں فلاں فلاں سامان بطور جہیز عنایت فر مایا تھا یہ قطعی درست نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں سوال اٹھتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی چار صاحبزادیاں تھیں لیکن آنحضرت ﷺ نے سوائے حضرت فاطمہ ؓ کے اور کسی بیٹی کو رخصتی کے وقت سامان نہیں دیا کیاوہ بیٹیاںنہ تھیںاور کیا انھیں حق نہیں پہنچتا تھا ؟ جب آنحضرت ﷺ کا خود ارشاد ہے سوّا بین اولادکم ۔اپنی ولاد میں برابر کا برتاؤ رکھو ۔لہٰذا اگر فاطمہؓکی رخصتی میں آپ ﷺ کے دیئے ہوئے سامانوں کو جہیز مان لیا جائے تو آنحضرت ﷺ ہی کا عمل قول مذکور کے خلاف ہو جائے گا حالانکہ ایسا نہیں ہو سکتا اس لئے ماننا ہوگا کہ آنحضرت ﷺ نے جو سامان دیا تھا وہ جہیز ہی نہ تھااور نہ جہیز کا اسلام میںکوئی تصور ہے جیسا کہ آج کل مسلم سماج سمجھ رہا ہے ۔اگر جہیز کا اسلام میں کوئی تصور ہوتا تو نبی کریم ﷺ چاروں صاحبزادیوںکو دیتے اور تاریخ ان کا ذکر کرتی ۔دوسری بات آنحضرت ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کی شادی میں جو سامان دیئے تھے وہ حضرت علی ؓ کی رقم سے خریدے گئے تھے وہ سامان بطور جہیز نہیں بلکہ حضرت علیؓ کی جانب سے ادا کئے گئے مہر معجل کے ذریعہ خریدی ہوئی چیزیں تھیں مہر معجل کے طور پر حضرت علیؓ نے ایک ذرہ دی تھی ۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؓ سے نکاح کرنے سے پہلے دریافت فر مایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے انہوں نے جواب دیا ایک گھوڑا اور ایک ذرہ میرے پاس موجود ہے ۔آپ ﷺ نے فر مایا کی گھوڑا تو تمہارے لئے بہت ضرورت کی چیز ہے البتہ ذرہ بیچ کر اسکی قیمت لے آؤ۔حضرت علیؓنے حضرت عثمان غنی کے ہاتھوں چار سو اسی درہم میں اپنی ذرہ بیچ دی اور قیمت لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آنحضرت ﷺ نے اسی وقت حضرت بلالؓ اور حضرت انسؓ کی والدہ ام سُلَیم کو بلوایا اور انہیں کچھ رقم بناو سنگار اور عطر خوشبو لانے کیلئے دی بقیہ رقم گھریلو ضروریات کے لئے حضرت بلالؓ کو عنایت کی (زرقانی علی المواہب)آپﷺ کے حکم کے مطابق حضرت بلالؓ اور حضرت ام سلیمؓ نے بناؤ سنگار کے علاوہ مندرج ذیل سامان گھر کی ضرورت کے لئے خریدا (۱) سونے کیلئے بان کی ایک چار پائی (۲) کھجور کی پتیوں سے بھرا ہوا چمڑے کا گدا (۳) پانی کا مشکیزہ (۴) ایک چھاگل (۵) مٹی کے دو گھڑے (۶) اور چکی کے دو پاٹ ( مدارج النبوۃ) یہی وہ کل سامان تھے جس کو آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؓ کی رقم سے انتظام فر مائے ۔ نبی پاک ﷺ نے جو رقم حضرت علی ؓ سے حاصل کی تھی وہ حضرت علیؓ کی ازدواجی ضروریات پوری کرنے کیلئے تھی اور اس کی وجہ یہ تھی حضرت علیؓ کے والد محترم چچا ابو طالب کا انتقال پو چکا تھا چچا کے انتقال کے بعد حضرت علیؓ کی سر پرستی آنحضرت ﷺ ہی نے لی تھی کیونکہ حضرت علیؓ آپ ﷺ سے بہت چھوٹے تھے ان کی پرورش کرنے والا انکی ضروریات کا خیال رکھنے والا اور کوئی نہ تھا اس لئے حضور ﷺ حضرت علیؓ کو اپنے ساتھ رکھتے تھے دوسرے حافظ بن عبد البر قرطبیؒ نے ایک قول کے مطابق تحریر کیا ہے کہ حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہ ؓ سے ۴۸۰ درہم مہر کے عوض نکاح کیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس میں ایک چوتھائی حصہ خوشبو میں صرف کیا جائے ۔دیکھے ( الاستیعاب فی معرفۃ الصحابہ ) اس سے معلوم ہو کہ یہ جہیز نہیں تھا بلکہ مہرِ معجل کے پیسوں سے خریدا گیا سامان تھا جو گھر کی ضرورت کیلئے تھا ۔ لہٰذا اسے جہیزاور فر مائشی چیز سے کیا نسبت ہو سکتی ہے ۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی چار صاحبزادیاں تھیں مگر سوائے حضرت فاطمہ ؓ کے کسی صاحبزادی کے لئے اس قسم کی چیزیں یا جہیز دیناثابت نہیں اور نہ دورِ رسالت یا دورِ صحابہ میں اس قسم کے لئے اس قسم کی کسی چیز کا ثبوت ملتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جہیز کی اگر شرعی حیثیت سے کوئی اہمیت ہوتی تو اسے قرآن وحدیث میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا جاتا ۔ جیسا کہ اس سلسلہ میں نکاح کے دیگر احکام وضاحت کے ساتھ مذکور ہیں ۔ یا صحابہ کے عمل کے ذریعہ اس کی اہمیت اُجاگر ہوتی ۔ لہٰذا جو چیز قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ہے اور نہ ہی وہ صحابہ کے عمل کے ذریعہ ثابت ہے اس پر اصرار کرنا اور جہیز نہ ملنے پر بہو کو طعنے دینا اس کا دل دکھانا یا اس قسم کی تکلیف پہنچانا سراسر ایک غیر شرعی اور غیر اخلاقی حرکت ہے اس قسم کا مطالبہ نا حق اکل باطل کے ذیل میں آتا ہے جس کی قرآن میں مذمت کی گئی ہے ( سورہ نساء ۹۲) لہٰذا مسلمانوں کو اس قسم کے مطالبہ سے سخت پر ہیز کرنا چاہئے ۔اگرلڑکی کے ماں باپ لڑکی کو کوئی جہیز اپنی خوشی سے دے دیں تو وہ بالکل جائز ہے ۔اسی طرح اگر لڑکے کی غربت اور اس کی مجبوری مد نظر ہے یا لکی ایسے گھر جارہی ہے جہاں اس کی جائز ضرورتوں کے پورا ہونے میں دشواریاں حائل ہیں تو اخلاقاً اپنی استطاعت کے مطابق اس کی ازدواجی اور خانگی ضرورتیں پوری کی جا سکتیں ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے حسن تدبیر سے انتظا م فر مایا تھا یا جیسا کہ مصعب بن عمیرؓ نے اپنی صاحبزادی کا نکاح ایک ایسے متقی سے کیا جو مالی اعتبار سے حد درجہ غریب تھے اور ازدواجی زندگی گزارنے کے لئے ان کے ہاں کوئی سامان موجود نہ تھا تو حضرت مصعب بن عمیرؓ نے ان کی ضرورتوں کے پیش نظر شادی کے بعد چند خاص خاص گھریلو سامان کو خاموشی سے بغیر کسی کو دکھائے ہوئے بھیجوادیا تھا۔اور یزید جیسے مالدار کے ساتھ شادی سے انکار کر دیا تھا ۔کیا اس طرح سے کوئی ہے اپنی بیٹی اور داماد کی ضرورتوں کو پورا کر نے والا؟ آج تو لڑکی والے بھی مالدار لڑکے کو تلاش کرتے ہیں اور پھر اس کو وہ سب چیزیں دی جاتی ہیں جو اس کے گھر میں پہلے سے موجود ہوتی ہیں غریب کو کون دیتا ہے ۔غرض اس طرح بغیر طلب ،بغیر سوال اور مانگ ومطالبہ کے تحفہ وتحائف خوشی سے دینا لینا اور انسانی رشتہ سے کسی کی ضرورتوں کو پورا کر دینا شرعاً واخلاقاً کوئی برائی نہیں ۔ بلکہ انسانیت کا حق ادا کرنا ،اس کی اشاعت اور اس کو فروغ دینا اور خدا کے یہاں ایک عملِ خیر پیش کرنا ہے ۔ یہی ایک صورت ہے جس کا جواز نکل سکتا ہے ۔ کیونکہ اس میں کسی دوسرے کو تو دینا نہیں ہوتا وہ اپنی لڑکی اور بہن ہی ہوا کرتی ہے اس کو دینے میں حرج کیا ہے اپنی لڑکی کو تو خفیہ طور پر لا کھوں کا چک بھی دیا جا سکتا ہے ۔ مگر چونکہ یہ سامان ایسے وقت میں دیئے جاتے ہیں جبکہ محض ریا کار فر ماہوتی ہے لڑکی کو دینا مقصود نہیں ہوتا بلکہ لڑکی کی شادی اور جہیز کے نام پر عوام کو پاس پڑوس کو اور محلہ والوں کو دکھلانا مقصود ہوتا ہے جبکہ بتایا جا چکا ہے کہ جہیز بھی شرعاً کوئی چیز نہیں ہے چانچہ ایک ایک سامان کھول کھول کر دکھلایا جاتا ہے زیب وزینت کے ایسے ایسے سامان جنھیں حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ دیکھ کر ایک غریب لڑکی والے کی غیرت کو ٹھیس پہنچتی ہے اس لئے ایسے دکھلاوے لین دین کو اسلام میں ممنوع قرار دیا ہے ۔ کیونکہ دکھلاوا اور ریا کاری اسلام میں قطعاً حرام ہے ۔اسی طرح لڑکے کو لڑکی والوں سے یا لڑکی کولڑ کے والوں سے کوئی چیز یا کوئی سامان اپنا حق سمجھ کر یا رسم سمجھ کر لینا یا ایسے ڈھنگ اختیار کر کے لینا جس کی بنا پر دینا ضروری ہو جائے تو ان تمام طریقوں سے لینا اور دینا جائز نہیں ہے اگر لیا گیا ہے تو واپس کر نا لازم ہے اس لئے کہ یہ کھلی ہوئی رشوت ہے اور رشوت اسلام میں حرام ہے۔حضرت رسول اللہ نے رشوت لینے اور دینے والے دونوں پر لعنت فر مائی ہے ۔
    حضرت امام غزالیؒ فر ماتے ہیں کہ یہ چیز نہایت مذموم ہے کہ مرد وعورتوں کی دولت پر نظر رکھیں اور زیادہ سے زیادہ جہیز کا لالچ کریں ۔ حضرت سفیان ثوریؒ فر ماتے ہیں کہ جب کوئی نکاح کر نے والا شخص یہ معلوم کرے کہ اس کی بیوی کیا لائی ہے تو سمجھ لو کہ وہ چور ہے ۔امام غزالیؒ فر ماتے ہیں کہ نکاح نکاح ہو نا چاہئے نہ کہ جوا اور تجارت ۔ مہر کی زیادتی سے بھی نکاح کے مقاصد مجروح ہوتے ہیں وہ شوہر کے مطالبہ مال وزر سے بھی ۔ لہٰذا مسلمانوں کو اس قسم کے مطالبات سے سخت پر ہیز کرنا چاہئے ۔اگر کوئی لڑکی کے ماں باپ لڑکی کوئی چیز اپنی خوشی سے دیدیں تو وہ بالکل جائز ہے مگر اس سلسلہ میں لڑکے والوں کو اپنی طرف سے کسی قسم کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ لڑکے والوں کو اس قسم کا کوئی مطالبہ کرنے کا کوئی شرعی یا اخلاقی جواز نہیں ہے اور یہ چیز مقصدِ نکاح کے بھی خلاف ہے ظاہر ہے کہ سسر کی جانب سے داماد کے لئے جو سب سے بڑا تحفہ ملتا ہے وہ اس کی اپنی لڑکی ہوتی ہے جسے جنم دینے کے بعد اس کی تعلیم وتربیت پر اس نے اپنا سب کچھ لٹادیا ہے اور اس راہ میں حد درجہ تکلیفیںبر داشت کر کے اسے اپنے خون جگر سے پالا پوسا ہے اور اس کے بالغ ہونے کے بعد اپنے سینے پر صبر کی سِل رکھ کر اسے دوسرے کے حوالے کر رہا ہے گویا اس نے اپنے داماد کا گھر بسانے کیلئے اس راہ میں بے انتہا دکھ سکھ برداشت کئے ہیں لہٰذا اس قیمتی تحفہ کے حصول کے بعد داماد کو اپنے سسر کا ممنون ومشکور ہو نا چاہئے ۔۔مگر اس کے بر عکس محض اپنی عیاشی کیلئے الٹے گھوڑے جوڑے اور فر مائشی جہیز وغیرہ کا مطالبہ حد درجہ غیر معقول بلکہ شرمناک حر کت ہے جس کا شرعی واخلاقی کسی بھی اعتبار سے کوئی جواز نہیں ہے ۔ بلکہ اس کے بر عکس بعض حدیثوں سے ثابت ہو تا ہے کہ الٹے لڑکی والوں کو تحفے تحائف سے نوازنا چاہئے کیونکہ وہ اپنی لخت جگر کو کسی دوسرے کا گھر بسانے کے لئے غیروں کے حوالے کر رہے ہیں لہٰذا احسان شناسی کا تقاضہ یہ ہے کہ بطور صلہ رحمی انہیں کچھ عطا کیا جائے ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ جس عورت نے نکاح اس طرح کیا کہ عقدِ نکاح سے پہلے کچھ مہر یا تحفہ یا ہدیہ کا وعدہ لے لیا تو وہ سب چیزیں اسی کا حق ہیں( اور خاوند کو وہ سب چیزیں وعدہ کے مطابق دینی پڑیںگی ) اور عقدِ نکاح کے بعد جو ہدیہ دیا جائے تو وہ اس کا حق ہے جس کے لئے وہ دیا گیا ہے ( یعنی وہ عورت کے سر پرستوں کو ملے گا) اس سلسلہ میں انعام وکرام کا زیادہ مستحق وہ شخص ہے جسے اپنی بیٹی یا بہن کی وجہ سے کچھ ملا ( یعنی اس بارے میں عورت کا باپ یا بھائی اس قسم کے ہدیہ کا زیادہ مستحق ہے ) ( ابوداؤد کتاب النکاح ۲؍ ۵۹۷)

    ٭مردوں کی ایک اور کوتاہی:
    موجودہ دور میں مردوں کی ایک اور کوتاہی یہ ہے کہ وہ نکاح کے بعد اپنی بیویوں کے مال ومتاع اور ان کے زیور وغیرہ کو مالِ غنیمت تصور کرتے ہوئے ان پر ہلابول دیتے ہیں یعنی انہیں اپنے تصرف میں لانا اور انہیں بیچ کھانا اپنے لئے پوری طرح حلال اور جائز سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ اسلامی قانون کے رو سے جو زیور اور کپڑے اور دیگر اشیاء عورت اپنے ماں باپ کے گھر سے لاتی ہے یا خود اسے نکاح کے موقع پر دے چکا ہو تا ہے وہ سب عورت کی ذاتی ملکیت ہوتے ہیں اور مرد کو انہیں اپنے تصرف میں لانے اور بیچ کھانے کا کوئی حق نہیں ہوتا ۔اسی طرح شوہر کے گھر والوں کو بھی دلہن کی اجازت کے بغیر اس کی کسی چیز کو استعمال کر نے کا حق نہیں پہنچتا ۔ مگر آج کل کے لالچی مرد عورتوں کے حقوق بے دردی کے ساتھ پا مال کرتے ہوئے اپنے آپ کو بیوی اور اس کے مال دونوں کا مختار، کُل سمجھتے ہیں ظاہر ہے کہ یہ اسلامی قانون کی رو سے کامل جہالت کا ثبوت ہے ۔چنانچہ قرآن مجید میں مذکور ہے کہ نکاح کے موقع یا اس کے بد شوہر بیوی کو مہر اور تحفے دے چکا ہے انہیں طلاق کے موقع پر واپس لینا جائز نہیں ہے خواہ ان کی مقدار ایک ڈھیر برا بر کیوں نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وان ارد تم استبدال زوج مکان زوج واٰتیتم احدٰھن قنطاراً فلا تأخذوا منہ شئاً۔یعنی اگر تم ایک عورت کی جگہ دوسری عورت روکنا چاہو اور اسے ایک ڈھیر سارا مال بھی دے چکے ہو تو اس سے واپس مت لو ۔
    ( سورہ نساء :۲۰) اس سے یہ حکم ثابت ہوتا ہے کہ جو چیزیں ایک بار عورت کو بطور تحفہ دی جا چکیں وہ ہمیشہ کیلئے اسی کی ملکیت ہو گئیں ۔ نیز اس بارے میں مزید ارشاد خدا وندی ہے وکیف تأخذونہ وقد افضیٰ بعضکم الیٰ بعض ۔ اور تم عورت کو دیا ہوا مال کیسے واپس لے سکتے ہو جب کہ تم باہم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہو چکے ہو ( نساء : ۲۱)اس سے ضمناً اس مسئلہ پر بھی روشنی پڑ گئی کہ عورت کو دیا ہوا مال ومتاع دراصل عورت سے لطف اندوزی کا صلہ ہے اسی طرح ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ جس مہر یا تحفہ کے ذریعہ عورت کی شرمگاہ حلال کی گئی وہ اسی کا حق ہے ( الفتح الربانی ۱۶؍ ۱۷۶) حاصل یہ کہ جب ایک مرد اپنی منکوحہ یعنی بیوی سے لطف صحبت اٹھا چکتا ہے تو جو کچھ اس نے عورت کو دیا تھا وہ اسی کا ہو جاتا ہے ۔اب شوہر کو اسے واپس مانگنے کا شرعی ، قانونی اور اخلاقی کسی بھی اعتبار سے کوئی جواز نہیں رہتا ۔

    ٭بعض خرافاتی رسوم:
    آج کل مسلمانوں میں جو غیر شرعی رسوم ورواج چل پڑے ہیں ان کا سلسلہ کافی طویل ہے اور وہ صرف شادی بیاہ پر ختم نہیں ہو جاتے بلکہ وہ مختلف ناموں سے چلتے رہتے ہیں اور ان میں داماد کی طرف سے سسرال والوں کی لوٹ گھسوٹ کا سلسلہ برابر جاری رہتا ہے ۔ چنانچہ نکاح کے بعد پانچ ہفتوں تک جمعگی والی رسمیں ادا کی جاتی ہیں خاص کر چوتھی جمعہ کی رسم لڑکی والوں کے یہاں منائی جاتی ہے اور اس رسم میں نوشاہ کو کوئی چیز بطور سلامی پیش کی جاتی ہے پھر پہلی عید کے موقع پر بھی داماد کو سلامی دینا ضروری سمجھا جاتا ہے ۔ انہیں رسوم میں سے ایک چلہ کی رسم بھی ہے جو زچہ کے چالیسویں دن غسلِ جنابت کے بعد انجام دی جاتی ہے اور اس میں سسرال والوں کی طرف سے اکثر وبیشتر نہ صرف اپنے داماد کے خاندان والوں کو بلا کر ضیافت کرنی پڑتی ہے بلکہ زچہ اور بچہ کو جوڑا اور دیگر سامان کے علاوہ داماد کو بھی قیمتی یا منہ مانگے تحفے دینے پڑتے ہیں ۔ اگر داماد کو نہ دیا جائے یا داماد کے قبیلے والوں کی ضیافت نہ کی جائے پھر بسا اوقات رنجش اور ناچاقی پیدا ہو جاتی ہے بلکہ بعض اوقات تعلقات بالکل منجمد ہو جاتے ہیں ظاہر ہے کہ اس قسم کے مطالبات نہ صرف غیر شرعی ہیں بلکہ وہ غیر فطری اور غیر معقول بھی ہیں بچہ ہوتا ہے داماد کو مگر بھگتان دینا پڑتا ہے سسر کو کیا اس میں کوئی معقولیت نظر آتی ہے : ظاہر ہے کہ بچہ جیسے ہوا اس کی خوشی کا اظہار بھی اس کے ذمہ ہے مگر اس ذمہ داری کو دوسرے کے سر پر ڈالنا سراسر ایک نا معقول طریقہ ہے اسی وجہ سے شریعت نے عقیقہ کرنا مسنون قرار دیا ہے جو بچہ کے باپ پر عائد ہوتا ہے ۔ مگر چلے وغیرہ کا ثبوت شریعت میں نہیں ہے بلکہ یہ ایجاد بندہ ہے اور غیر قوموں کی نقالی ہے ۔

    ٭ سنتِ رسول یا باپ دادا کا طریقہ :
    واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اسلامی شریعت کو چھوڑ کر ایک نئی شریعت ایجاد کر لی ہے اور اس خود ساختہ شریعت کو تسلیم نہ کرنے والوں کے خلاف طوفان بد تمیزی مچا رکھی ہے ۔ انہیں خدائی شریعت کے مقابلہ میں خود ساختہ شریعت زیادہ عزیز ہے ۔ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ جو لوگ سنتوں کے چھوڑ کر بدعتوں کو عمل کر نے لگ جائیں تو بدعتیں ان کے نزدیک سنتوں کا درجہ اختیار کر لیتی ہیں جن کو چھوڑنا ان کیلئے شاق گزرتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا ان کے باپ دادا کی سنتیں چھوٹی جارہی ہیں گویا ایسے لوگوں کو ہادیٔ اعظم ﷺ کی سنتوں کے مقابلہ میں باپ دادا کی سنتیں زیادہ عزیز ہوتی ہیں ۔ اگر ہم سنتوں کے مقابلہ مین بدعتوں پر اسی طرح اصرار کرتے رہے تو وہ دن دور نہیں ہے جب ہم اسلامی قانون اور اسلامی طور طریقوں سے پوری طرح کٹ کر غیر مسلوں کے قومی دھاروں میں مکمل طور پر رنگے جائیں گے اور ہمارا اپنا کوئی نشان یا کوئی علامت باقی نہیں رہ جائیگی چنانچہ آج کل ہمارے ملک میں قومی یکتا کی جو تحریکیں چل رہی ہیں ان کا مقصد ہی یہی ہے کہ اسلام کے نام لیوؤں کو اسلامی تہذیب وروایات سے پوری طرح کاٹ کر قومی دھارے میں شامل کر لیا جائے تا کہ یہاں پر مسلم وغیر مسلم کا کوئی فرق ہی باقی نہ رہ جائے لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہوش میں آئیں اور ہمارے کلچر میں جو آمیزش ہو گئی ہے ( خواہ اس کے تاریخی اسباب کچھ ہی کیوں نہ ہوں ) اسے نکال باہر کر کے اپنے ملی تشخص کی ہر حال میں حفاظت کریں ورنہ اس ملک میں ہمارا نام ونشان بھی باقی نہیں رہے گا ۔

    ٭جہیز کی لعنت سے چھٹکارا کیسے ہو؟
    اس معاملہ میں سب سے زیادہ ذمہ اری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو کھاتے پیٹے امیر اور دولت مند گھرانے کہلاتے ہیں اس عذاب سے نجات اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک یہ مالدار لوگ اس بات کا اقدام نہ کرں کہ ہم اپنے خاندان میں شادیاں اور نکاح سادگی کے ساتھ کریں گے اور ان غلط رسموں کو ختم کردیں ے ۔اس وقت تک تبدیلی نہیں آئے گی اس لئے کہ ایک غریب آدمی تو یہ سوچتا ہے کہ مجھے اپنی سفید پوشی بر قرار رکھتے ہوئے اپنی ناک اونچی رکھنے کیلئے مجھے یہ کام کرنا ہی ہے اس کے بغیر میرا گزارہ نہیں ہوگا ۔اگر لڑکی کو جہیز نہیں دیں گے تو سسرال والے طعنہ دیا کریں گے کہ کیا لے کر آئی اور لڑکی کو ستائیں گے جیسا کہ آجکل لڑکیوں کو ستایا جارہا ہے ۔ان لوگوں کو جو نکاح سے مال ودولت یا عزت ونا موس یا کسی اور چیز کے طالب ہوتے ہیں معلوم ہو نا چاہئے کہ ان کے دین ودنیا دونوں ہلاکت اور بر بادی میں پڑے ہوئے ہیں ۔ یہ جوڑے اور جہیز کے لئے شادی کر نے والے ذرا ہوش سے اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد سن لیں آپ ﷺ ارشاد فر ماتے ہیں کہ ( جو کسی عورت سے اس کی ( دنیوی) عزت وحیثیت کی وجہ سے شادی رے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی ذلت میں اضافہ کر دے گا ۔اور جو اس کے مال کے سبب شادی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے فقر وافلاس میں اضافہ کر دیگا اور جو اس کے حسب ونسب کی وجہ سے نکاح کرے گا اللہ تعالیٰ اسے پست کر دے گا اور جو عورت سے صرف اس لئے نکاح کرتا ہیکہ اس کی آنکھ نیچی رہے اور شرمگاہ محفوظ رہے اور صلہ رحمی کرے تو اللہ تعالیٰ ان دونوں ( مرد وعوت کیو ) ایک دوسرے کیلئے مبارک بنائے گا۔( ترغیب وترہیب)
    اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے حق میں بد دعا کی ہے یا اطلاع وخبر دی ہے کہ جو لوگ مال ودولت یا عزت وجاہ کیلئے نکاح رچاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اور زیادہ تنگ دستی میں مبتلا کرے گا یعنی ان کے مال میں بر کت نہ ہوگی ۔آج جہیز کو شادی کا ایک لازمی حصہ سمجھ لیا گیا اور گھر کی ضرورت کا سامان مہیا کر نا جو شوہر کے ذمہ واجب تھا وہ آج بیوی کے باپ کے ذمہ واجب ہے گویا باپ اپنی بیٹی اور لخت جگر کو بھی دے اور اس کے ساتھ شوہر کو لاکھوں روپیہ بھی دے اور گھر کا فر نیچر مہیا کرے اور اس طرح وہ دوسرے گھر آباد کرے اور ان سب چیزوں کا مطالبہ ہو رہا ہے یہ بے شرمی کے ساتھ مطالبہ کر کے لینا حرام ہے اور یہ بات پہلے آچکی کہ لڑکی کے والد اپنی خوشی سے کچھ دیتا ہے بغیر مطالبہ کے تو سادگی کے ساتھ خاموشی سے پو شیدہ طور پر دے دے اس کی اجازت ہے ۔اور جب تک یہ مالدار لوگ سادگی کو نہیں کے ساتھ خاموشی سے پو شیدہ طور دے دیں اس کی اجازت ہے ۔ اور جب تک یہ مالدار لوگ سادگی کو نہیں اپنائیں گے تب تک اس لعنت سے نجات ملنی مشکل ہے ۔اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے یہ بات دلوں میں ڈالدیں ۔

    ٭وراثت میں لڑکی کو حصہ دیا جائے:
    شادی میں لڑکہ کو جہیز دینا ضروری نہیں ہے لیکن وراثت میں اس کا حصۃ ہے اور یہ حق اللہ تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا ہے لیکن جو جہیز ضروری نہیں اس میں تو لوگ لاکھوں روپیہ بر باد کر رہے ہیں اور جو چیز دینا ضروری ہے یعنی وراثت میں حصہ وہ آج کوئی نہیں دے رہا اللہ ما شاء اللہ باپ اپنی بیٹی کا اور بھائی اپنی بہن کا یہ حق مار رہا ہے شادی میں لاکھوں کا جہیز دینے سے وراثت کا حق ختم نہیں ہو جاتا وہ دینا پھر بھی ضروری ہے۔ جہیز کی لعنت سے چھٹکارا پانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے ہ رشتہ طے کرتے وقت لڑکے کے سامنے یہ واضح کر دیا جائے کہ ہم شادی میں جہیز کچھ نہیں دیں گے البتہ وراثت میں جو لڑکی کا حصہ ہے وہ حق پورا دیا جائیگا امید کہ اس طرح سے لڑکا راضی ہو جائیگا اور اس سے لڑکی کا جائز حق اس کو مل جائیگا اور جہیز کی لعنت سے نجات مل جائیگی ۔اللہ تعالیٰ اس پر ہم سب کو عمل کی توقیق دے ۔
  2. محمدداؤدالرحمن علی

    محمدداؤدالرحمن علی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    6,652
    موصول پسندیدگیاں:
    1,840
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    آمین ثم آمین
  3. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,617
    موصول پسندیدگیاں:
    232
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اللہ تعالیٰ اس پر ہم سب کو عمل کی توقیق دے ۔​
  4. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,521
    موصول پسندیدگیاں:
    704
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    آًًًٰٰمین ثم آمین
  5. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    اللہ تعالى ہم سبكى اصلاح فرمائے اورحالات كو سدھارے خير و بھلائى پر جمع فرمائے.

اس صفحے کو مشتہر کریں