عورت کو محرم کے بغیر سفر کا شرعی حکم ۔۔۔۔۔ 16 دسمبر 2016 ء

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از زنیرہ عقیل, ‏ستمبر 15, 2020۔

  1. زنیرہ عقیل

    زنیرہ عقیل وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    94
    موصول پسندیدگیاں:
    34
    صنف:
    Female
    عورت کو محرم کے بغیر سفر کا شرعی حکم

    راوالپنڈی ، اسلام آباد کے چیدہ مفتیان کرام واہل علم حضرات پر مشتمل ” المجلس العلمی ” کے نام سے ایک مجلس قائم ہے جس میں جدید اور اہم فقہی مسائل پر غور وفکر کر کے فیصلہ کیاجاتا ہے اس مجلس میں آج کل شدید ضرورت کے پیش نظر محرم کے بغیرعورت کوسفر کرنے کے حکم پر غور وفکر ہو ااس مجلس نے جو فیصلہ کیا وہ ذیل میں تحریر کیا جارہا ہے ۔

    آج مورخہ 4/ ربیع الاول 1437 ھ بمطابق 16 دسمبر 2016 ء بروز بدھ کو ادارہ غفران میں ” المجلس العلمی ” کا اجلاس ہوا۔

    اجلاس میں عورت کے محرم کے بغیر سفر کے حکم اور موجودہ دور میں اس سلسلہ میں پیش آنے والی مشکلات پر غورکیاگیا ۔

    غوروخوض اور بحث وتمحیص کے بعد یہ طے پایا گیا کہ عام حالات میں تو عورت کو اس کی پابندی کرنی چاہیے کہ وہ مسافت قصروالا سفر محرم کے بغیر نہ کرے البتہ اگر کہیں شدید ضرورت ہو اور محرم میسر نہ ہو یا محرم تو موجود ہو لیکن اس کے ساتھ کسی مجبوری کی وجہ سے سفر نہ کرسکے تو عورت کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ محرم کے بغیر بھی سفر کرنے کی گنجائش ہے ۔

    • راستہ پر امن ہو ۔
    • عورت شرعی پردہ کا اہتمام کرے ۔
    • نہ عورت کی طرف سے فتنہ کا خطرہ ہو اور نہ دوسری جانب سے
    • کسی غیر محرم کے ساتھ خلوت کالازم نہ آئے بلکہ سفر اجتماعی قافلے کی شکل میں ہو یا کوئی ذمہ دار خاتون ساتھ ہو ۔
    • اور اگر فتنے کا اندیشہ ہو توعورت کے لیے مسافت سفر سے کم کا سفر بھی جائز نہیں ۔
    اجلاس میں مندرجہ ذیل حضرات نے شرکت کی :

    • مفتی محمد رضوان صاحب
    • مفتی دوست محمد مزاری
    • مفتی احسان الحق صاحب
    • مفتی شکیل احمد صاحب


    عورت کا اکیلے بغیر محرم سفر کرنے کا حکم

    کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ موجودہ دور میں محرم کے بغیر عورت کے لیے سفر بیرون ملک یا اندرون ملک سفر شرعی کرنا جائز یا نہیں ؟

    مفتی محمد رضوان صاحب مد ظلہ ( ادارہ غفران راوالپنڈی ) کے زیر نگرانی ” المجلس العلمی ” نے حال ہی میں اس کے جواز کا فتویٰ دیاہے جو ان کے ماہنامہ رسالہ التبلیغ بابت ماہ مارچ 2016ء صفحہ 69 پر شائع ہوا ہے ۔

    الجواب باسم ملہم الصواب

    عام حالات میں عورت کے لیے بلا محرم سفر شرعی (24ء77 کلو میٹر ) کی مقدار سفر کرنا جائز نہیں البتہ بوقت ضرورت جبکہ کوئی محرم ساتھ جانے کے لیے میسر نہ ہو ایسے سفر کی گنجائش ہے جس میں رات گزارنے کی نوبت نہ آئے اور نہ ہی کسی فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اس طور پر کہ نیک عورتیں ساتھ ہوں یا کم از کم ساتھ والی سیٹ پر کوئی مرد نہ ہو اور جاتے وقت کوئی محرم اسٹیشن یا اڈے تک ساتھ جائے اور جہاں جانا ہو وہاں بھی غیر محرم لینے کے لیے آئے ۔

    “العرف الشذی شرح السنن الترمذی ” (2/407 )

    الجمع بین الصحیحین البخاری ومسلم :

    عن ابی ھریرۃ ۔ عن رسول اللہ ﷺ قال : لا یحل لامراۃ تسافر مسیرۃ یوم ولیلۃ الا مع ذی محرم علیھا

    دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
    احمدقاسمی نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں