عورت کی امامت

'غور کریں' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏اگست 14, 2011۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,655
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    [align=center][​IMG]

    [​IMG]

    اذان دی جارہی ہے​


    [​IMG]
    %DB%8C-%D8%A8%D8%AD%D8%AB/18380d1238794424-church-2-jpg[/img]


    [​IMG]

    [​IMG]

    http://pak.net/attachments/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%
    A8%D8%AD%D8%AB/18382d1238794439-church-4-jpg

    [​IMG][/align]

    [​IMG]
    [/align]
  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,655
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    کیا خواتین کو امامت کا حق ہے؟

    [​IMG]

    اسد مفتی ، ایمسٹرڈیم، ہالینڈ
    امریکہ کے بعد اب ہالینڈ میں بھی خواتین کے لیے ایک مخصوص مسجد کا افتتاح کرکے اسلام میں خواتین کی امامت کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کی گئی ہے۔اس کوشش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دارالخلافہایمسٹرڈیم میں ایک ایسی مسجد کا افتتاح کیا گیا ہے جس میں صرف خواتین ہی عبادت کرسکتی ہیں۔ اس مسجد کا افتتاح ایک مصری خاتون ادیبہ نول السعادوی کے ہاتھوں ہوا، جس کے خلاف مصر کی ایک عدالت میں اسلام سے برگشتہ اور مرتد ہوجانے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔وہاں کی تنظیموں نے اس خاتون کے خلاف احتجاج کیا،بڑھتے ہنگاموں سے خوف زدہ ہوکر وہ ہالینڈ چلی آئیں۔اس خاتون نے مسجد کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر اپنے وعظ میں عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ مردوں کی بالادستی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں اور ان کی بالادستی کو قبول کرنے سے انکار کردیں۔ انہوں نے مساوی حقوق کے مطالبہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فریضہ حج کے تعلق سے اسلامی قانون میں تبدیلی کرنے کے مطالبہ کی پاداش میں روایتی علماء حضرات نے مصر کی ایک عدالت میں ان کے خلاف اسلام سے برگشتہ ہونے کا مقدمہ چلایا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مرد عورتوں پر اپنی بالادستی بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس نئی مسجد’’ جس میںعبادت و امامت صرف خاتون کرے گی‘‘ کی افتتاحی تقریب میں زیادہ تر مرد حضرات نے شرکت کی۔
    یوروپی یونین میں اسلامی تنظیم کے صدر اور سکریٹری نے کہا کہ اس طرح کی مسجدوں، خواتین کے لیے مخصوص کی گئی مسجد جس میں امامت کی خدمات خاتون ہی انجام دیں گی، کی مغربی معاشرے میں حوصلہ افزائی کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو الجھا کران کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹا دی جائے۔ ہالینڈ کی 18 ملین آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً دس لاکھ ہے،جس میں اکثریت کا تعلق ترکی اور مراکش سے ہے۔ہالینڈ میں کل 450 مساجد ہیں جبکہ ایک ہزار کے قریب اسلامی ادارے ہیں۔
    اس سے قبل امریکہ کی ریاست ورجینیا میں افریقہ سے تعلق رکھنے والی اسلامیات کی ایک پروفیسر امینہ ودود نے نیو یارک اپرمین ہیٹن کی ایک عمارت ایمسٹرڈیم ایونیو میں ایک چرچ کے بڑے ہال میں نماز جمعہ کی امامت کر کے خوب شہرت حاصل کی تھی،انہوں نے اس سے پہلے بھی ’’اسلام اور عورت‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھ کر مسلمان مفکروں ، دانشوروں اور علماء کو چیلنج کیا تھا، انہوں نے نماز جمعہ کے خطبہ میں کہا کہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ جب اذان کی آواز سنو تو دنیاوی کام چھوڑ کر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے کے لیے روانہ ہوجائو۔ جب اس فرمان میں قرآن نے صرف مرد حضرات کو ہی مخاطب نہیں کیا ہے تو عورت کو مسجد سے کیسے دور رکھا جا سکتا ہے؟ ملک عزیز میں پچاس فیصد سے زائد آبادی رکھنے والی بے زبان مخلوق یعنی خواتین کو مسجد میں جاکر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے،ایسی صورت میں مذہب اسلام کو ’’مساوی حقوق دینے والا مذہب‘‘ کیسے سمجھا جائے گا۔انہوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ ’’ زندہ لوگوں کو چھوڑیے،عورتوں کو قبرستان کے پاس جانے سے بھی روکا جاتا ہے اور ہم پھر بھی برابر کا دعویٰ کریں، یہ کیسے ہوسکتا ہے؟
    مسلم ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق مصر کے مفتی اعظم علی جمعہ نے کہا ہے کہ اگر نمازی چاہیں تو عورت کے امام بننے کی اجازت ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق عرب ٹی وی’ العربیہ‘ نے شیخ علی جمعہ سے ایک انٹرویو بھی کیا ہے جس میں شیخ نے کہا ہے کہ فقہ میں عورت کی امامت پر اتفاق رائے نہیں ہے۔ اس میں عورت کے امام بننے کی گنجائش ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ امام طبرانی اور امام العربی کے نزدیک عورت کی امامت جائز ہے۔ دوسری طرف آج کے اسلام میں عورت کی کیا حیثیت باقی رہ گئی ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب میں کوئی خاتون اپنے مرد ولی کے دستخط کے بغیر اسپتال میں بغرضِ علاج داخل تک نہیں ہوسکتی۔اس سلسلے میں پاکستان کے اردو اخبار جنگ نے ’’ اجتہاد ناگزیر ہے‘‘ کے عنوان سے اپنا اداریہ سپرد قلم کیا ہے، جس میں اخبار جنگ لکھتا ہے، ایک مکتب فکر کے نزدیک صدارتی نظام ، موسیقی اور نظام تعلیم ایسے مسائل ہیں جن کے بارے میں اجتہاد ہونا چاہیے۔ اسلام میں موسیقی کی ممانعت کے بارے میں دو رائے نہیں ہے۔ اگر موسیقی کے بارے میں اجتہاد کرکے اسے اسلامی طریقہ کہا جاسکتا ہے تو پھر خواتین کی امامت کے بارے میں مردحضرات یوں الرجک کیوں ہیں۔ ایک دلچسپ بات جس کاذکر یہاں پر کرنا مناسب گا ،وہ یہ کہ کیا یہ حسنِ اتفاق ہے کہ جن خواتین نے مساجد میں امامت کا بیڑہ اٹھایا ہے ان کا تعلق افریقہ سے ہے۔ میرے حساب سے اگر عورتوں میں ان کا پیغام عام ہوگیا تو ہندوستان اور پاکستان کے علماء کرام اور مفکرین اسلام کے لیے ایک بڑا مسئلہ کھڑا ہوسکتا ہے اور مردوں کے مساوی حقوق کی خواہش میں کہیں وہاں بھی عورتیں اپنے لیے علاحدہ، مخصوص مسجد کا مطالبہ نہ شروع کردیں۔ہاں ویسے ایک بات یہاں پر غور کرنے کی ہے کہ اگر خواتین گھروں اور ٹی وی پر بآواز بلند قرآن پاک کی تلاوت کر سکتی ہیں تو مسجد میں خدا کا نام لینے اور ان کی امامت پر علماء کرام کیوں اعتراض کررہے ہیں۔ ہمیں لازم ہے کہ دورِ حاضر کے مطابق اسلامی مسائل کا حل تلاش کریں،کیوں کہ اگر ہم نے دور حاضر کو قبول نہیں کیا تو یہ ہمارے لیے پس ماندگی کا سبب بن سکتا ہے۔ہاں یہاں پر ایک تذکرہ بھی ضروری ہے کہ عورت کی امامت کے مسئلے پر سوائے بر صغیر کے دنیائے اسلام سے کوئی بلند آواز سامنے نہیں آئی اور بر صغیر کے مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ قدامت پسندی کے جال کو توڑ کر باہر آنا نہیں چاہتے۔جبکہ یہ بات ذہن نشیں کرنا ہوگی کہ اصلاح ،خوف کے سائے میں نہیں ہوتی، اس کے لیے جرأت و حوصلے کی ضرورت ہے۔


    بشکریہ چوتھی دنیا
  3. نورمحمد

    نورمحمد وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,119
    موصول پسندیدگیاں:
    354
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    []==[][]==[][]==[]
  4. محمد شہزاد حفیظ

    محمد شہزاد حفیظ وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    1,102
    موصول پسندیدگیاں:
    5
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Saudi Arabia
    [/size][/color]کینیڈا اور امریکا میں خواتین کی امامت کے بعدسعودی عرب میں خاتون عالمہ کی عورتوں کی نماز عشاء و تراویح کی امامت

    سعودی عرب کے سرکار ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ دارالحکومت ریاض میں ایک خاتون عالمہ رمضان المبارک کے دوران عشاء اور تراویح کی نمازوں میں خواتین کی باجماعت نماز کی امامت کرارہی ہے۔ ذرائع کےمطابق سعودی عرب میں کسی خاتون عالمہ کا اپنی ہم جنسوں کی امامت کا یہ پہلا واقعہ ہے جسے باقاعدہ سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔

    "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عالمہ مضاوی الطشلان نے جمعرات کی شام دارالحکومت ریاض میں ایک عمارت کے کھلے ہال میں خواتین کی باجماعت نماز تراویح کی امامت کرائی۔ قبل ازیں اسی جگہ پر"عالمی تعارف اسلام کونسل" کے زیراہتمام ایک افطار پارٹی کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں شہزادی العنود بنت عبدالرحمان بن احمد، ریاض میں کویت کے سفیر نوار الدخیل کی اہلیہ، جاپان کے ثقافتی اتاچی یوکی کو سمیت بڑی تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔ خیال رہے کہ سلیمانیہ انکلیو میں دیا جانے والا یہ افطار ڈنر صرف خواتین کے لیے مخصوص تھا۔
    خواتین کی امامت متنازعہ!!!

    چونکہ اسلام میں کوئی عورت خواتین کی جماعت کی امامت کرسکتی ہے تاہم اعتراض اس پر ہے کہ اس کی اقتداء میں مرد نماز نہ پڑھیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عالمہ مضاوی الطشلان کی امامت پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس کینیڈا اور امریکا کی دو خواتین کی امامت کے تنازع کی باز گشت کئی سال بعد اب بھی سنائی دیتی ہے، کیونکہ انہوں نے نماز جمعہ کے اجتماعات میں مرد و خواتین کی جماعت کی امامت کی تھی۔

    کینیڈین مصنفہ راھیل رازا نے برطانیہ کے آکسفورڈ سٹی میں ایک اسلامی مرکز میں مرد و زن کی جماعت کی امامت کرائی تھی جس پر عالم اسلام میں سخت تنقید کی گئی تھی۔

    راھیل رازا ہی اس غیر شرعی عمل کی مرتکب نہیں ہوئی بلکہ اس سے قبل سنہ 2008ء میں امریکا کی ایک نو مسلم امینہ ودود نے بھی مرد اور عورتوں کی ایک مختصر سی جماعت کی امامت کرائی تھی۔

    برطانوی اخبار"گارڈین" کو انٹرویو میں امینہ ودود نے کہا تھا کہ "قرآن اور احادیث کے مطالعے کے دوران اسے کہیں بھی خواتین کی امامت کی ممانعت نہیں ملی۔ بلکہ آنحضور صلی علیہ وسلم نے خود عہد نبوت میں بھی عورتوں کو نمازوں کی امامت پر مامور فرمایا تھا اور عورتوں کی اقتداء میں مرد و زن سب نماز ادا کرتے تھے"۔

    ممتاز عالم دین اور مفکر ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے امینہ ودود کے اس اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا تھا۔ اپنےایک فتوے میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ اسلام میں مردوں کی جماعت کے لیے کسی خاتون کو امام بنانا جائز نہیں اور امینہ نے مردوں پر مشتمل باجماعت نماز کی امامت کر کے چودہ صدیوں پر پھیلی اسلامی تعلیمات سے انحراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امامت اصلا مردوں کا فریضہ ہے اور کوئی عورت مردوں کو نماز نہیں پڑھا سکتی۔

    امینہ ودود کی امامت پر سعودی عرب کے مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیز آل شیخ نے بھی سخت تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امینہ ودود کا مردوں کی جماعت کا امام بننا اسلام دشمنی اور حدود اللہ سے تجاوز ہے۔

    ( دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ )
  5. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,655
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    شکریہ!
    بہت اچھی شیئرنگ ہے
    عورت عورتوں کی امامت کر سکتی یا نہیں اس مسئلہ میں اختلاف ہو سکتا ہے ۔
    لیکن عورت مرد وزن کی امامت کر سکتی ہے ؟اس کےعدم جواز میں اختلاف بالکل نہیں ۔اس فتنوں کے دور میں مزید ایک فتنہ کا اضافہ اللہ رحم فرمائے۔
  6. نورمحمد

    نورمحمد وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,119
    موصول پسندیدگیاں:
    354
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    سب یہودیوں کی سازش ہے . . . . اسلام کو بدنام کےنے کے لئے نت نئے طریقے استعمال کئے جارہے ہیں یہ بھی ان ہی میں کا ایک حصہ ہے . مال و دولت کا لالچ دلا کر ایسے منافق لوگ تو سیکڑوں مل جاتے ہیں جو یہودیوں کے بھارے کو ٹٹو ہوتے ہیں - اللہ تعالی ایمان والوں کو فہم عطا کرے اور سب کے دین کی حفاظت کرے. آمین
  7. اعجازالحسینی

    اعجازالحسینی وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3,080
    موصول پسندیدگیاں:
    26
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Afghanistan
    اللہ ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فرمائے ۔ آمین
  8. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    اللهم اهدنا واهدي جميع خلقك الى دينك الحق دين الاسلام. ...

اس صفحے کو مشتہر کریں