عید:تقاضے اورمطالبات

'کالم اورادارئیے' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏نومبر 20, 2012۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    عیدالفطر:تقاضے اورمطالبات
    ناصرالدین مظاہری​

    رمضان المبارک ہرسال ہم پرسایہ فگن ہوتاہے ،ہرسال اپنی برکات اورالہی رحمت کے مینہ برساتاہے ،پھرجس شوکت وحشمت کے ساتھ ہم پرجلوہ فگن ہوتاہے،ہم اس کی شایان شان اس کا استقبال نہیں کرتے،یہ دنیانام ہی چل چلاؤکاہے،یہاں نجوم ومہوم کی گردشیں،شمس وقمرکی آمدورفت،لیل ونہارکے مدوجزر اورارض وسماء کے تغیرات ایک مخصوص الٰہی نظام اورفطری پروگرام کے مطابق انجام پارہے ہیں ،انسان ایک لگے بندھے اصول اور حکم کے تحت نمازیں بھی پڑھتاہے،زکوٰۃ بھی اداکرتاہے،حج بیت اللہ کے لئے رخت سفربھی باندھتاہے،رمضان المبارک کے روزے بھی رکھتاہے اوراللہ تعالیٰ کے دیگراحکامات وفرامین کے مطابق عمل کو اپنی زندگی کا ایک حصہ سمجھ کر انجام دیتاہے،کسی لالچ کے بغیر،کسی جبرواکراہ کے بغیراورکسی تشددکے بغیرصرف اللہ کی رضاوخوشنودی بندے کے پیش نظرہوتی ہے،اللہ کے حکم کی تعمیل اس کا مقصدہوتاہے،اورایک مؤمن کے لئے جائز بھی نہیں ہے کہ وہ اللہ کے مقررکردہ نظام اورپروگرام کی وجہ معلوم کرکے خداکے عذاب وعتاب کا شکارہو۔
    بندہ کویہ سوچنے سے بھی منع کیاگیاہے کہ وہ اللہ کے نظام میں دخل اندازی کرے،اس کے احکامات کی توجیہ اور تاویل میں وقت ضائع کرے اورآخرکارراہ ہدایت سے راندہ اورصراط مستقیم سے درماندہ ہوجائے۔

    ان سطورمیںعیدالفطرکاوجوب،صدقۃ الفطرکی مشروعیت،اس کی تاریخ اوراس کے فضائل ومسائل کے بجائے عیدالفطرکے موقع پرافراط وتفریط،احتساب اوردعوت فکروعمل پرچندگزارشات پیش کرنی ہیں۔
    عیدکی ایک مستقل تاریخ ہے ،مؤرخین کے مطابق اللہ تعالیٰ نے جنت کوعیدکے دن پیدافرمایا،شجرطوبیٰ عیدکے دن لگایاگیا، حضرت جبرئیل کووحی پہنچانے کے لئے عیدکے دن منتخب فرمایاگیا،فرعون کے جادوگروں کوہدایت کانورعیدہی کے دن عطاہوا ،

    عیدکاتصورحضرت ابراہیم،حضرت موسیٰ اورحضرت عیسی علیہم السلام کے عہدمیں بھی ملتاہے اور’’العیدان واجبتان علی کل حالم ‘‘کافرمان عالی سن دوہجری میں صادرہوا ۔
    یوں تورمضان المبارک کاہردن’’ہرشب شب قدر ہے ہرروزروزِعید‘‘کامصداق ہے اوراس کا ہر لمحہ مسلمانوں کے لئے مسرتوں کا پیغام لئے ہوئے ہے ۔
    ساقیا! عید ہے لا بادہ سے مینا بھرکے
    کہ مئے شام پیاسے ہیں مہینا بھرکے​

    لیکن آنے والے دنوں میں ایک دن ایسابھی ہے جس ’’کو عید‘‘ کہا جاتا ہے ، ہرسال کی طرح اس سال بھی واردہورہاہے ،اس دن کو عام مسلمانوں کی زبان میں ’’عید‘‘اہل علم کی زبان میں یوم الاجرۃ‘‘ صوفیاء کی اصطلاح میں ’’یوم الاحتساب‘‘ کہاجاتاہے،

    یہ دن عام مسلمانوں کے لئے تو بہرحال عیدکادن ہے لیکن جو لوگ خوردبین ہیں،اللہ کے احکام ومصالح اور اس کی نعمتوں کے قدردان ہیں،اللہ کی بتلائی ہوئی چیزوں پرسرتسلیم خم کرنے والے اورہروقت ذکرخدامیں مست رہنے والے ہیں ان کے لئے یہ دن باعث فکروالم اورلائق رنج وغم ہے ،اس کو یوں سمجھاجاسکتاہے کہ جب آیت کریمہ الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینانازل ہوئی تو عام صحابہ کرام اپنی تحریک کے اتمام اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت غیرمترقبہ پرپھولے نہیں سمائے لیکن جن صحابۂ کرام کواللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی فضل سے نوازاتھااورجن کو عقل سلیم بھی وافرمقدرامیں عطافرمائی تھی ان حضرات کو اس آیت کریمہ سے فکراور تشویش لاحق ہوگئی کیونکہ جب کوئی منزل مکمل ہوجاتی ہے تواس پر ،خستگی،بوسیدگی، کہنگی اورشکست وریخت اپناقبضہ جمانا شروع کردیتی ہیں،اس لئے منزل کی تکمیل گویااس کی تخریب کی ابتداہوتی ہے،اسی لئے حضرت علی ؓکا مشہورمقولہ ہے کہ لوگ اپنے بچوں کی عمرپرخوش ہوتے ہیں کہ میرابچہ اتنے سال کاہوگیاحال آنکہ اس بچہ کی طبعی عمرمیں سے اتنے سال کم ہوگئے ہیں۔
    عیدکاآنا گویاروزوں کے جانے کی تمہیداورعلامت ہے ،صالحین کیلئے عیدالفطرکادن بھی ریاضت نفس، فکرخلق، تضرع ،الحاح وزاری ، محاسبۂ نفس اوراحتساب کے لئے ہوتاہے کہ جانے والے رمضان المبارک کاحق ہم سے اداہوسکاہے یانہیں۔
    علامہ ابن قیم جوزی کاارشادگرامی ہے ؎
    واجعلْ صِیامکَ قبل لقیاہاویو
    مَ الوصلِ یوم الفِطرمن رمضان

    یوم عید:اجرت پانے والوں کے لئے احتساب کی دعوت ہے کہ جوکام ہمیں سپردہواتھااس کو پورا پوراکیاجاسکاہے یانہیں،روزے جوہم پر فرض کئے گئے تھے اس پر غوروفکرکہ ہم نے روزوں کی ادائیگی میں اس کی روح کو بھی ملحوظ رکھا ہے یانہیں اور عیدکے دن یہ فکرکہ آج مسلمانوں کے تمام گھروں میں خوشیوں اورمسرتوں کی حکم رانی ہے کہ نہیں؟…ایساتونہیں کہ ہندوستان میں مسلمان عیدالفطرکی خوشیوں میں مصروف ہوں اور فلسطین کے مسلمان گھروں سے بے گھرکئے جارہے ہوں…ہماری بہنیں ہم سے عیدکے دن زرق برق کپڑوں کی فرمائش کرہی ہوں اورعراق میں اسلام دشمن فوجیوں کے ذریعہ ہماری مسلمان بہنوںکے سروں سے ان کے دوپٹے کھینچے جارہے ہوں…ہمارے بچے عیدکے دن شیرینی کھانے میں مصروف ہوں اوردنیاکے مختلف حصوں میں ہمارے لاکھوں بچے خشک روٹیوں کوترس رہے ہوں…ہوسکتاہے کہ ہم لوگ عیدکے دن آپس میں گلے مل مل کر خوشی کا اظہارکررہے ہوں اور بوسینیا،چیچنیا،لبنان اورسوات میں ہمارے بھائی موت کے گلے لگ رہے ہوں؟
    …عیدہم کو بتاتی ہے کہ یہ دن صرف ان ہی لوگوں کیلئے ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام سے سرتابی،انحراف اوربغاوت نہ کرتے ہوں،جن کا دل مسلمان بھائی کے لئے ہردم اور ہمہ دم پسیجتارہتاہو،اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسے اخلاق کریمہ سے مزین ہو،اپنے پاس پڑوس کوہماری ذات سے مسرتیں مل رہی ہوں، پوری دنیاکامسلمان ہماری امدادواعانت اور ہمارے جذبہ ہمدردی سے مستفید ہورہاہو، نیکیاں ہمارے لئے پروانہ وارجان نثارہوتی ہوں، ہماری مسلمان مائیں ہماری بلائیں لیتی ہوں اورہماری مسلمان بہنیں ہمارے لئے دعاء خیرکرتی ہوں۔

    کیاہم نے غورکیاکہ یہ عیدکس لئے ہمیں عطاکی گئی ہے؟…کیاشیرینی کھانے کے لئے…کباب کے کھانے لئے؟…زرق برق ملبوسات کے لئے؟…ایک دوسرے کوتقبل اللّٰہ مناومنک وغفرلناولک کہنے کے لئے؟…عیدکے رنگ برنگے کارڈوں کی گفٹ کے لئے ؟…نہیں! ایساکچھ بھی نہیں ہے !!
    ہمارے اسلاف نے اپنے اخلاف کواس سلسلہ میں بھی اپنے تجربات وہدایات سے محروم نہیں کیااورفرمایاکہ
    لیس العیدلمن لبس الجدید
    انماالعیدلمن امن من الوعید

    (عیداس کے لئے نہیں ہے جس نے نئے کپڑے پہنے،عیداس کے لئے ہے جودوزخ سے امن میں ہو)
    لیس العیدلمن تبخربالعود
    انماالعیدللتائب الذی لایعود

    (عیداس کیلئے نہیں ہے جوعودسلگاکرخوشبوکرے،عیداس کے لئے ہے جوگناہوں سے ایسی توبہ کرے کہ پھرگناہ کی طرف نہ لوٹے)
    لیس العیدلمن تزین بزینۃ الدنیا
    انماالعیدلمن تزودوبزادالتقویٰ

    ْْْ(عیداس کیلئے نہیں ہے جس نے دنیاوی آرائش کاسازوسامان کیا،عیداس کیلئے ہے جس نے زادآخرت (تقویٰ)اختیارکیا)
    لیس العیدلمن رکب المطایا
    انماالعیدلمن ترک الخطایا

    ْْْ(عیداس کیلئے نہیں ہے جوسواریوں پرسوارہوا،عیداس کے لئے ہے جس نے پورے طورپرگناہوں کوترک کردیا)
    لیس العیدلمن بسط البساط
    انماالعیدلمن جاوزالصراط

    ْْْ(عیداس کیلئے نہیں ہے جس نے فرش بچھایا،عیداس کے لئے ہے جوپل صراط سے پارہوگیا)​
    اسلام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں کسی تہواربرائے تہوارکاکوئی تصورنہیں ہے؟ اسلام میں بدعات وخرافات اورمنکرات ومنہیات پرروک ٹوک کاجس قدرخیال رکھاگیاہے، اتناکسی مذہب اور قوم میں نہیں رکھاگیا،اسلام نے محسوس کیاکہ نوروزاورمہرجان جیسے مشرکانہ تہواروں میں مسلمانوں کی شرکت کااندیشہ ہے توفوراًاس کامتبادل ’’عیدین‘‘ کی شکل میں امت کو دے دیاگیا،اسلام نے دیکھا کہ عیدین میں بھی لوگ افراط وتفریط سے کام لے سکتے ہیں توکچھ راہنمااصول وآئین اس باب میں وضع کردئے گئے تاکہ جادۂ اعتدال سے انحراف،سنت نبوی سے بغاوت اورافراط وتفریط کاباب ہی بندہوجائے،اسلام کواس کی انھیں خوبیوں نے دیگراقوام پرامتیازاور تفوق بخشا ہواہے ،چنانچہ معانقہ جوایک سنت چیزہے اس میں بھی اعتدال اور میانہ روی کا حکم دیاگیاکہ عیدکی نمازکے بعدمعانقہ کوضروری سمجھ لینابدعت ہے، عیدکے دن مٹھائی اورسوئیاں ایک مباح اورسنت کا متبادل ہونے کے باوجودان چیزوں کو ضروری تصورکرلینا بھی قبیح رسوم میں شمار کیاگیا ہے،عیدین میں عورتوں کے لئے عیدگاہ جانااور عبادت کرنا احادیث سے ثابت ہے لیکن شیطانی مکروفریب، ابلیسی دجل وکید اورشہوانی جذبات کے باعث فتنوں سے بچنے اورتقویٰ کی زندگی اختیارکرنے کے پیش نظر فقہانے منع کردیاکہ عورتیں عام مساجدکی طرح عیدگاہ بھی نہ جائیں کیونکہ اس سے فتنہ پیداہونے کاخدشہ اور اندیشہ ہے،غرض اسلام نے فتنوں کواس کے سرابھارنے سے پہلے ہی کچلنے کو اپنادستور،معمول اورفرض تصور کیاہواہے۔
    کل ملاکرعیدکوتہوارسے زیادہ عبادت سمجھاجائے توعیدکی برکات میں اضافہ اور حسنات میں زیادتی ہوگی،

    عیدکے دن دورحاضرکے مروجہ کھیل کرکٹ،فٹ بال،بالی وال ،شطرنج،چوسر، گنجفہ،ٹینس ،کبوتربازی، پتنگ بازی، وغیرہ واہیات کھیلوں کی شریعت میں نہ توکوئی گنجائش ہے اورنہ ہی ان کھیلوں سے کوئی مذہبی فائدہ ، اس کے برعکس نیزہ بازی،گھوڑسواری، دوڑ اورشرعی لباس میں تیراکی وکبڈی جیسے کھیلوں سے اعضاوجوارح کی مضبوطی اور صحت وتندرستی کے علاوہ اسلامی قوت وشوکت کابہترین مظاہرہ ہوتاہے اوردشمنان اسلام مسلمانوں کی طاقت وقوت سے مرعوب ومغلوب ہوتے ہیں۔

    بہرحال اللہ تعالیٰ نے عیدین کودوعظیم الشان ارکان کی تکمیل اور تعمیل کے طورپربطورخوشی عطافرمایاہے، چنانچہ عیدالفطر رمضان المبارک کی تکمیل کے موقع پر عطاکی گئی تو عیدالاضحی حج بیت اللہ کی تکمیل کے موقع پر عنایت کی گئی ،اگرغورکیاجائے تواہل دل اوراہل باطن پرعیدکے دن سے بہت سے حقائق اوردقائق سے پردہ اٹھتا ہے مثلاًعیدکے دن صبح سویرے نیندسے بیدارہوکرعیدگاہ کے لئے نکلنامردوں کے قبرسے محشرکی طرف نکلنے کی طرح ہے۔
    بعض افرادکی زیب وزینت اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے تو بعض کی متوسط درجے کی اور بعض کی کمتردرجے کی جواللہ تعالیٰ کے قول یوم نحشرالمتقین الی الرحمن وفداکی بھرپورترجمانی کرتاہے۔ایسے ہی ونسوق المجرمین الٰی جہنم ورداکی طرف بھی ایک اشارہ ہے۔
    عیدکے ہجوم اور مجمع کی زیادتی سے کچھ لوگوں کا گرنااورپامال ہوجانابالکل اسی طرح ہے جس طرح قیامت کے دن ظالم لوگ گریں گے اورپامال ہوں گے۔
    امراء اور اغنیاء کاعیدکے دن صدقہ وخیرات کرنامشیرہے قیامت کے اس واقعہ کی طرف کہ دنیاکے اہل خیر آخرت میں بھی اہل خیرہوں گے۔
    جس طرح دنیامیں کچھ لوگ عطااوربخشش کاسوال کرتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن( جویوم جزاہے) بعض پرعطاہوگی اوربعض پر نہیں ہوگی،جن لوگوں پر عطانہیں ہوگی ایسے لوگ کہیں گے فمالنامن شافعین ولاصدیق حمیم۔
    عیدگاہ سے لوٹنے اورواپس ہونے والے بھی بعض خاص قسم کے ہوتے ہیں اسی طرح وہاں بھی کچھ خاص قسم کے لوگ ہوں گے اوریہی لوگ اولٰئک ہم المقربون کا مصداق ہوں گے۔(صیدالخاطر)
    عیدکے دن غسل کرنا،عمدہ لباس زیب تن کرنا،خوشبولگانا،پیادہ پاعیدگاہ جانایہ سب چیزیں صاحبان عقل ودانش کو چیخ چیخ کربتلاتی ہیں کہ بندہ جب دنیاسے آخرت کی طرف کوچ کرتاہے تویہی کیفیت ہوتی ہے۔
    الغرض!عیدالفطرہویاعیدالاضحی،نمازہویاروزہ حجہویازکوٰۃہرچیزخدائی حکمت اورموعظت ،معانی ومفہوم کی وسعت اورعرفان فیضان کی گہرائی وگیرائی سے پُرہے۔
    اس دن خاص طورپراپنے پاس پڑوس کی خبراورفکررکھنی چاہئے، جو لوگ غریب ہوں،اچھے کھانے کا بندوبست کرنے پر قادرنہ ہوں،اپنے بچوں کے لئے اچھی چیزوں کا تحمل نہ رکھتے ہوں،فطرہ اداکرنے پر بھی قدرت نہ رکھتے ہوں اوردوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے میں عاراور حیامحسوس کرتے ہوں ایسے گھروں کی فوری طورپر امدادواعانت کریں اوراگرزکوٰۃ اورفطرہ کے مستحق ہوں توپہلی فرصت میں زکوٰۃ یافطرہ دے کران کی خوشیوں کو بحال کرنے میں پیش رفت کریں۔
    یتیموں کی کفالت جواہم ترین سنت ہے اوریتیم کی کفالت کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طورپرتاکیدفرمائی ہے اس لئے تلاش اور جستجوکرکے یتیم بچہ کی پرورش اورتربیت کا نظم کریں۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدکے دن ایک بچے کو دیکھاکہ خوشیاں اس کے چہرے سے کافورہیں، رنجیدہ اور کبیدہ بیٹھاہواہے،دریافت فرمایاکہ کیوں مغموم بیٹھے ہوئے ہو؟عرض کیامیرے باپ کا انتقال ہوگیا،میری ماں نے دوسرانکاح کرلیا،میں سرپرستی سے محروم ہوگیا،ایسی صورت میں میرے لئے کیاخوشی ہوسکتی ہے اورعیدکادن میرے لئے کیابہاریں لاسکتاہے؟
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کوحضرت عائشہ صدیقہ ؓکے پاس لائے اورفرمایاکہ اس بچے کو نہلاؤ،اچھے کپڑے پہناؤ،خوشبولگاؤ!چنانچہ وہی بچہ جوکچھ دیرپہلے مغموم ومحزون بیٹھاہواتھااب اس کی خوشیاں واپس آچکی تھیں،اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا شفیق باپ اور سرپرست مل چکاتھا،حسنؓ اورحسینؓ جیسے بھائی مل گئے تھے،فاطمہؓ اور رقیہؓ جیسی بہنیں مل گئی تھیں اورامہات المؤمنین کی شکل میں برگزیدہ اورستودہ مائیں مل گئی تھیں۔سچ ہے …ع …یہ رتبہ بلندملاجس کومل گیا

    حضرت سری سقطیؒ کی نظر عیدگاہ جاتے ہوئے ایک مسکین صورت بچے پرپڑی،ہرطرح کی خوشی سے عاری چہرہ،زیب وزینت اوراچھے کپڑوں سے سے محروم بدن،غربت وافلاس تنگی وتنگ دستی کاپیکرمجسم!حضرت سری سقطیؒ کادل پسیج گیا،بچے سے پوچھاکہ تم کیوں افسردہ وپژمردہ بیٹھے ہوئے ہو؟آج تو عیدکادن ہے،خوشی کا دن ہے،بچے نے عرض کیاکہ میرے ماں باپ کاسایہ سرسے اٹھ چکاہے،کوئی ولی اور سرپرست بھی نہیں ہے،اس لئے نہ تواچھے کپڑے ہی میسرہوسکے اور نہ ہی مجھے کوئی خوشی مل سکی۔
    حضرت سری سقطیؒفوراًاس بچے کو لے کرکھجورکے ایک باغ میں پہنچے ،گٹھلیاں چننی شروع کردیں،لوگوں نے عرض کیاکہ حضرت نمازعیدکاوقت ہوچکاہے!فرمایامجھے معلوم ہے ،نمازعیدکامتبادل بھی موجودہے،لیکن جوکام میں اس وقت کررہاہوں وہ اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے،چنانچہ گٹھلیاں چن کر بازارمیں فروخت کرکے اس بچے کے لئے کپڑے مہیافرمائے ۔

    آنکھ ڈبڈباتی ہے ان یتیم بچوں پر
    عیدپر نئے کپڑے جن سے روٹھ جاتے ہیں​
    سیدالطائفہ حضرت اقدس الحاج امداداللہ مہاجرمکیؒ نے غالباًایسے ہی موقع کے لئے فرمایاتھا ؎
    عیدگاہ ما غریباں کوئے تو
    انبساط عید دیدن روئے تو​

    مرحوم امیرمینائی نے کیابات کہی ہے ؎

    نصیب جن کو ترے رخ کی دید ہوتی ہے
    وہ خوش نصیب ہیں خوب ان کی دیدہوتی ہے​

    حضرت شبلیؒ عیدکے دن نالہ وشیون کرتے ہوئے نکلے ،لوگوں نے پوچھاکہ آج خوشی ومسرت کا دن ہے اورآپ نالہ وشیون میں مصروف ہیں؟فرمایاکہ میں ان لوگوں پرنالہ کررہاہوں جنہوں نے عید کی خوشی میں وعید کوفراموش کردیاہے۔
    حضرت عمرفاروقؓکوبعض لوگوں نے عیدکی مبارک بادپیش کی توآپ کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے، لوگوں نے رونے کی وجہ پوچھی تو فرمایا:کہ میں یہ سوچ رہاہوں کہ آج عیدکادن ہے،چاروں طرف خوشیاں ہیں،میں سوچ رہاہوں کہ آج کے دن بھی اگرکوئی شخص بھوکارہ گیا،کسی کے بچے کپڑوں سے محروم رہ گئے،کسی کے گھرمیں چولہانہیں جل سکاتوآنے والے کل اللہ تعالیٰ کے سامنے اگرمجھ سے سوال کرلیاگیاتوکیاجواب دوں گا؟
    محترم انورصابری دیوبندی ؒنے اس واقعہ کو بڑے سلیقہ سے منظوم فرمادیاہے ؎

    ہچکیوں کے ساتھ فرمایاکہ اے مردان حق
    تم کو سوزاندروں کامیرے اندازہ نہیں
    آج بھی بھوکا اگر ہوگا کوئی مومن کہیں
    سوچتاہوں حشرمیں دوں گا جاکر کیا جواب​

    ایک شخص نے عیدکے دن امیرالمؤمنین حضرت علی ؓکوخشک روٹی کھاتے ہوئے دیکھاتو عرض کیاکہ آج تو عیدکادن ہے اورآپ خشک روٹیاں کھارہے ہیں؟فرمایاکہ عیدتو ان کے لئے ہے جن کے روزے قبول ہوچکے ہیں،عیدان کی ہے جن کی دعائیں قبول ہوگئیں ،عیدان کی ہے جن کی کوششیں بارآورہوگئیں،مگرہماری عیدتوآج عیدوہی ہے جوکل ہوگی( یعنی جس دن آدمی گناہ نہ کرے وہ اس کی عیدہے)۔

    خلیفۃ المسلمین حضرت عمربن عبدالعزیزؒکے بچوں نے اپنی ماں سے عیدکیلئے نئے کپڑوں کی فرمائش کی، والدہ ماجدہ کا دل پسیج گیا،سفارشی بن کربچوں کے ساتھ خلیفۃ المسلمین کی خدمت میں پہنچیں، دیکھاکہ حضرت عمرؒدعااورمناجات میں مشغول ہیں اورزاروقطاررورہے ہیں،اسی حالت میں غشی طاری ہوگئی ، پنکھا جھلاگیا، پانی کے قطرے چہرہ ٔ انورپرڈالے گئے ہوش آیاتوپوچھاکہ فاطمہ کیوں آئی ہو؟حضرت فاطمہؒ نے بچوں کی فرمائش بیان کی توفرمایا:کہ تمہیں معلوم ہے کہ مجھے بیت المال سے گزربسرکے لئے صرف دودرہم ملتے ہیں، ایسی صورت میں نئے کپڑوں کا نظم ممکن نہیں،حضرت فاطمہؒ نے عرض کیاکہ ایک ماہ کی تنخواہ پیشگی لے لیں؟ چنانچہ آپ نے بیت المال کے خزانچی کورقعہ لکھ دیا،خزانچی بھی آپ ہی کاتربیت یافتہ اورصحبت یافتہ تھاجواباً لکھاکہ کیاآپ کوایک ماہ تک زندہ رہنے کایقین ہے ؟حضرت عمربن عبدالعزیزؒنے خزانچی کاجواب پڑھا توآبدیدہ ہوکرفرمایاکہ ہاں! موت کاکوئی بھروسہ نہیں ہے کسی کونہیں معلوم کہ کون کب تک زندہ رہے گا۔
    بالآخروہی خلیفۃ المسلمین جنہوں نے اپنے کرداروعمل سے ہزاروں گھروں کوخوشیاں واپس دلائی تھیں، ہزاروں یتیموں کی کفالت کا معقول نظم فرمایاتھا،بیواؤں کے پژمردہ چہروں پرشگفتگی کاسامان پیداکیاتھا،ظالموں اورجابروں سے غریبوں کی زمینیں اورجائدادیں واپس دلوائی تھیں لیکن خوداپنے بچوں کے ساتھ پرانے وبوسیدہ کپڑوں میں عیدادافرمائی۔

    حضرت بایزیدبسطامیؒ عیدکے دن اچھے لباس میں ملبوس ہوکرباہرنکلے کسی نے بے خیالی میں راکھ کی ٹوکری اپنی چھت سے پھینکی جوحضرت بایزیدؒکے سرپرجاپڑی،کپڑے خراب ہوگئے،غصہ آناچاہئے تھا،لیکن نہیں !اللہ کے اس بندے نے ایسے وقت میں بھی خوف خدااورخشیت الٰہی کوفراموش نہیں کیااورفرمایاکہ یااللہ !تیراشکرہے کہ صرف راکھ کاڈھیرمیرے اوپرپڑاورنہ میرے اعمال تو اس لائق ہیں کہ انگارے برسیں۔

    علامہ سیوطیؒ نے اپنی کتاب بیان الامراء میں ابن عساکرکے حوالے سے ابراہیم بن ابی عیلہؒ سے روایت نقل کی ہے کہ ہم لوگ حضرت عمربن عبدالعزیزؒکوعیدکی مبارک باددینے کے لئے پہنچتے اورعرض کرتے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے اور ہم سے قبول فرمائیں ،توجواباًآپ بھی انھیں الفاظ کودہرادیتے تھے۔
    سچ ہے کسی عارف نے کہاتھا’’العیدلمن خاف الوعید‘‘عیدتو ان لوگوں کے لئے ہے جووعید(دوزخ)کوفراموش کرچکے ہیں،خوشیاں صرف ان لوگوں کے لئے ہیں جن کی نظراپنے گناہوں پر نہیں ہے اورمسرتیں بھی انھیں دروازوں پر دستک دیتی ہیں جہاں آخرت کافکر،حساب کا خوف اورجہنم کاڈرنہیں ہوتا۔
    عیدکے انعام اوراللہ کے فضل واحسان کے حقیقی مستحق تووہ روزہ دارہیں جنہوں نے پورے مہینہ روزہ روزہ رکھے،جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی پیروی کی،جنہوں نے اعتکاف کیا،جنہوں نے شب بیداری کی اور اللہ کو راضی وخوش کرنے کی کوشش کی۔
    آئیے!عہدکریں!کہ

    ٭ آنے والی عیدمیںکوئی کام خلاف شرع نہیں ہوگا۔
    ٭ سیرت وسنت کے مطابق عیدگزاری جائے گی۔
    ٭ بدعات ومنکرات سے احتیاط اور احترازکیاجائے گا۔
    ٭ معروفات پرعمل کرنے کی بھرپورکوشش کی جائے گی۔
    ٭ نمازکے بعددعااور دعاکے بعدخطبہ ہوگا۔
    ٭ صدقۂ فطرنمازسے پہلے اداکریں گے۔
    ٭ کھانے پینے میں افراط اور تفریط نہیں کی جائے گی۔
    ٭ عیدگاہ جانے سے پہلے طاق عددکھجوریں،یاچھوارے وغیرہ کھائے بغیرعیدگاہ کیلئے نہیں نکلیں گے۔
    ٭ عیدالفطر کی نمازمیں تاخیراورعیدالاضحی میں تعجیل کی جائے گی۔
    ٭ تکبیرات کااہتمام اوردعاؤں کا التزام ہوگا۔
    ٭ ایک راستہ سے جانااوردوسرے سے آناسنت ہے ۔ہم اس سنت پرعمل کریں گے۔
    ٭ ہماراہرقول اورفعل ان شاء اللہ سنت نبوی کے مطابق گزاریںگے۔
    ٭ فتنوں کے سدباب کے پیش نظراپنی بہنوں اوربیٹیوں کوعیدگاہ جانے سے روکیں گے۔
    ٭ ناجائزلہوولعب اورشیطانی کھیل کودسے احتیاط کریں گے۔
    کیونکہ اسی میں ہماری صلاح اورفلاح مضمرہے اور نھیں چیزوں سے امت محمدیہ علی صاحبہاالف الف صلوٰۃ وتحیۃ کو امتیازوتشخص حاصل ہواہے۔
    اللہ تعالیٰ پوری امت محمدیہ کو عیدسعیداپنی مرضی ومنشاء اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ادائیگی کی توفیق عطافرمائے۔
    اس مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے
    بخاری ۔ ۔مسلم ۔ابوداؤد ۔ابن ماجہ ۔مشکوٰۃ ۔مرقاۃ ۔جامع صغیر
    نصرالباری ۔ معارف الحدیث ۔ کتاب المسائل ۔ترغیب الفقراء
    عیدین۔ منکرات عیدین ۔ فضائل رمضان ۔رمضان کیاہے؟
    الصیام ۔ تنبیہ الغافلین۔ صیدالخاطر۔ اسوۂ رسول اکرم۔ اخلاق رسول
    ذکر جمیل ۔بیان الامراء ۔مثالی خواتین ۔عمربن عبدالعزیز حیاۃالصحابہ ۔خطبات الاحکام ۔ المناہل الحسان ۔نشریات
    مسند فردوس ۔ بیہقی ماہنامہ ھما:عیدنمبر ۔۔آئینۂ مظاہرعلوم
    تقریرکی لذت ۔تاریخ الخلفاء ۔بیان الامراء
    ٭٭٭
  2. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    458
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    جزاک اللہ خیرا
  3. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء Staff Member رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,537
    موصول پسندیدگیاں:
    144
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    بہت شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس صفحے کو مشتہر کریں