غائبانہ نماز جنازہ پر اایک حنفی اور غیر مقلد کا دلچسپ مکالمہ

'دیگر ادیان، مذاہب و مسالک' میں موضوعات آغاز کردہ از نورالاسلام, ‏اپریل 30, 2012۔

  1. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    440
    موصول پسندیدگیاں:
    274
    صنف:
    Male
    نہیں میرا مطلب ہے کہ یہ کہنا کہ کہ نبی ﷺ نے نجاشی کی میت کی غیر موجودگی میں اس کا جنازہ پڑھا تھا، صحیح ہے۔ باقی مسئلہ پر تو ہم بحث کر رہے ہیں۔ جو نتیجہ نکلے گا وہ مان لیں گے۔
    بھائی اگر آپ عالم ہیں تو آپ نے اصول فقہ پڑھی ہوگی۔ ناسخ کے لیے منسوخ جتنی قوت رکھنا ضروری ہے۔ یہ سوچنا کہ صحابہ کرام کا یہ عمل نہیں رہا اور نبی ﷺ نے بھی بعد میں نہیں پڑھی ایک عدمی چیز ہے (عدم تو وجود کے خلاف دلیل بن نہیں سکتا) اور اس سے آپ ﷺ کے کیے ہوئے عمل کو منسوخ قرار دینا ایک قیاس فقط ہے (یعنی اس قیاس کی نہ تو کوئی علت ہے اور نہ کوئی مقیس علیہ)۔ اسے آپ تحری یا اجتہاد کہہ سکتے ہیں لیکن تحری یا اجتہاد کی باری تب آتی ہے جب نص نہ ہو۔ اور یہاں پر نص موجود ہے۔
    البتہ اسے نجاشی کی خصوصیت قرار دیا جائے تو آپ ﷺ کے ان پر پڑھنے اور دوسروں پر نہ پڑھنے، دونوں کی وضاحت ہو جاتی ہے۔
    البتہ یہاں ایک اور قاعدہ ٹکراتا ہے کہ "عدم ذکر عدم وجود کو مستلزم نہیں ہوتا" لیکن یہ قاعدہ اتنا عام نہیں ہے جتنا سمجھا جاتا ہے۔ ورنہ بدعات کا بھی تو عدم ذکر ہوتا ہے۔ انہیں بھی ثابت ماننا چاہیے۔ لیکن جس چیز کا ایک طریقہ یا ایک حیثیت طرق کثیرہ سے ثابت ہو اور باوجود ضرورت کے اس کے بارے میں کوئی قوی مخالف نہ آئے تو اس کا عدم ذکر عدم وجود کو مستلزم ہوتا ہے۔ اس قاعدہ کو بغیر ذکر کیے کئی جگہوں پر استعمال کیا گیا ہے۔ غالبا مغنی ابن قدامہ میں بھی میں نے اس کی ایک مثال دیکھی ہے۔ اس پر بات کرنے سے پہلے تھوڑی سی تحقیق کی ضرورت ہوگی۔ وہ ان شاء اللہ موقع ملنے پر کروں گا۔
    محمد یوسف نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں