غزل : کوئی محور پکارتا ہے مجھے

'اردو شاعری' میں موضوعات آغاز کردہ از Ameen Asim, ‏نومبر 13, 2012۔

  1. Ameen Asim

    Ameen Asim وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    3
    موصول پسندیدگیاں:
    0
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    غزل

    کوئی محور پکارتا ہے مجھے
    اپنے اندر پکارتا ہے مجھے

    اب میں اگلے محاذ پر جاؤں
    میرا لشکر پکارتا ہے مجھے

    اے خوشی دیکھ غم کا صحرا تو
    تم سے بہتر پکارتا ہے مجھے

    درس دینا ہے عشق کا مجھ کو
    کوئی منبر پکارتا ہے مجھے

    کیا کوئی ڈوبنے لگا ہے مرا
    کیوں سمندر پکارتا ہے مجھے

    جب کبھی غم مجھے پکارے تو
    پھر برابر پکارتا ہے مجھے

  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,930
    موصول پسندیدگیاں:
    969
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    اے خوشی دیکھ غم کا صحرا تو
    تم سے بہتر پکارتا ہے مجھے
    بہت خوب !شکریہ جناب
  3. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,609
    موصول پسندیدگیاں:
    224
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    جب کبھی غم مجھے پکارے تو
    پھر برابر پکارتا ہے مجھے
    واہ جی بہت خوب
  4. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,521
    موصول پسندیدگیاں:
    704
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    درس دینا ہے عشق کا مجھ کو
    کوئی منبر پکارتا ہے مجھے

    کیا کوئی ڈوبنے لگا ہے مرا
    کیوں سمندر پکارتا ہے مجھے
    بہت خوب جی
  5. أضواء

    أضواء وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    2,522
    موصول پسندیدگیاں:
    23
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Saudi Arabia
    بہترین :->~~ ہے آپ کا بہت بہت شکریہ

اس صفحے کو مشتہر کریں