غزل ۔۔۔ محبت سے حسیں تر اس جہاں میں اور کیا ہو گا۔۔!

'بزمِ غزل' میں موضوعات آغاز کردہ از ذیشان نصر, ‏اپریل 20, 2012۔

  1. ذیشان نصر

    ذیشان نصر ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    634
    موصول پسندیدگیاں:
    28
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اپنا تازہ کلام آپ کے ہدیۂَ سماعت کرتا ہوں ۔۔۔


    محبت سے حسیں تر اس جہاں میں اور کیا ہو گا
    جو ہو گا ، وہ محبت کے نہیں کچھ بھی سوا ہو گا

    جہاں والے محبت کو فسانہ ہی سمجھتے ہیں
    نہ جانے کب زمانے پر بھلا یہ راز وا ہو گا

    جو ہیں اہلِ جنوں واقف ہیں اسرارِ محبت سے
    بھلا اہلِ خرد پر راز کیوں کر یہ کھلا ہو گا

    نہ مرنے کا ہے غم مجھ کو ، نہ جینے کی تمنا ہے
    عجب اک بے قراری ہے نہ جانے آگے کیا ہو گا

    نہ چکر میں تو پڑ اس کے، کہ یوں ہو گا تو کیا ہوگا ؟
    ارے ہو گا وہی آخر ، جو منظورِ خدا ہوگا

    ہمیں تو ہے یقیں کامل ترے اقرارِ الفت کا
    کیا تھا تو نے جو وعدہ کبھی تو وہ وفا ہو گا

    یہی اعجازِ الفت ہے ذرا سن غور سے ذیشان
    یہ جذبہ ہے وہ جذبہ جو نہ ہرگز پھر فنا ہو گا

    محمد ذیشان نصر​
  2. ذیشان نصر

    ذیشان نصر ناظم۔ أیده الله ناظم

    پیغامات:
    634
    موصول پسندیدگیاں:
    28
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    پسندیدگی کے لئے تمام احباب کا شکر گذار ہوں۔۔۔

اس صفحے کو مشتہر کریں