غزل

'بزمِ غزل' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏جولائی 5, 2020۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,671
    موصول پسندیدگیاں:
    793
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    غزل
    شاہد عباس رضوی شاہد لکھنوی

    شاخ پر کیوں کیوں غشی سی طاری ہے
    پھول کیا پتھروں سے بھاری ہے

    تیرے نقشے قدم زمین پے تھے
    آسماں نے نظر اتاری ہے

    جاں بچا کر کدھر سے گزرے ہم
    جس کو دیکھو وہی شکاری ہے

    بے ضرورت نہ گھر سے نکلے ہم
    زندگی قید میں گزاری ہے

    وہ تیرے انتظار کی شب تھی
    جب ہوا ایک دئیے سے ہاری ہے

    اس نے ملنے سے کر دیا انکار
    یار کچھ نہ کچھ خطا ہماری ہے

    کوئی سایہ بھی اب دکھائی نہ دے
    تیرگی روشنی سے پیاری ہے

    آؤ ہم تم بھی مول بھاو کریں
    اب محبت بھی کاروباری ہے

    ایک دن پی تھی اس کی آنکھوں سے
    عمر گزری وہ یہ خماری ہے

    بند کمرے میں اس کی بات نہ ہو
    تذکرہ اس کا اشتہاری ہے

    پھول کھلتے ہیں جھک گئی شاخیں
    کیا یہی موسم بہاری ہے

    کٹ چکی ہے میری زبان لیکن
    آج تک وہ بیان جاری ہے ہے

    گرم لہجے بھی سرزد ہوا شاہد
    شہر میں آج برف باری ہے

اس صفحے کو مشتہر کریں