غزل

'بزمِ غزل' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏فروری 14, 2013۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,631
    موصول پسندیدگیاں:
    791
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    [align=center]غزل
    بہت خوش ہوں کہ تم نے غم دیئے ہیں
    مگر افسوس یہ ہے کم دیئے ہیں

    تمہی نے وصل کی بخشی ہے لذت
    تمہی نے ہجر کے موسم دیئے ہیں

    میں اس پر بھی ترا احسان مند ہوں
    کہ پہلے زخم پھر مرحم دیئے ہیں

    گلہ یہ ہے کہ اس نے میرے حق میں
    بیاں جو بھی دیئے مبہم دیئے ہیں

    وہ خود الجھا ہوا ہوگا یقینا
    تری زلفوں کو جس نے خم دیئے ہیں​
    [/align]
  2. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,572
    موصول پسندیدگیاں:
    458
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
  3. فکری

    فکری وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    85
    موصول پسندیدگیاں:
    6
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    مگر کم دئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا بات ہے
  4. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    207
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    جس محبوب نے غموں کی سوغات دی ہو،ہجرکے لمحات دئے ہوں،زخم لگاکرپھرمرحم دئے ہوں،الٹے سیدھے بیانات دئے ہوں،ایسے محبوب یامحبوبہ کی ایسی کی تیسی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    اورجس کویہ بات بری لگے میری طرف سے وہ بھرجی کے ’’بھاڑ‘‘میں ’’لیا‘‘بھونجے۔
  5. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,688
    موصول پسندیدگیاں:
    772
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    گلہ یہ ہے کہ اس نے میرے حق میں
    بیاں جو بھی دیئے مبہم دیئے ہیں

    وہ خود الجھا ہوا ہوگا یقینا
    تری زلفوں کو جس نے خم دیئے ہیں

اس صفحے کو مشتہر کریں