غزل

'بزمِ غزل' میں موضوعات آغاز کردہ از احمدقاسمی, ‏ستمبر 25, 2014۔

  1. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,631
    موصول پسندیدگیاں:
    791
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    غزل

    ہمیں ملال جفاوں ستم نہیں ہو گا

    تم اپنا کہدو تو پھر اپنا غم نہیں ہوگا

    حریف جلوہ دیرو حرم نہیں ہوگا

    خدا پرست رقیب صنم نہیں ہو گا

    جہاں دار ورسن میں جنوں کی عظمت ہے

    بنام عقل کو ئی محترم نہیں ہو گا

    چلاو تیغ مگر شرط ایک ہے یارو

    ہمارے بعد کوئی سر قلم نہیں ہو گا

    چارہ گری پر نہ کوئی ناز کرے

    یہ درد درد مصائب سے کم نہیں ہو گا

    میں رہ گذار انا کی طرف نہیں جاتا

    یہ کیا خبر تھی کوئی ہم قدم نہیں ہو گا

    نہ ٹوٹ جائیگا طلسم سود وزیاں

    زوال آئینہ بیس وکم نہیں ہو گا

    وہ باب مصلحت وقت ہو کر قصر عرش

    سر شعور کسی درپہ غم نہیں ہوگا

    امیر شہر قناعت جو گا اے ہمسر

    فقیر کوچہ اہل کرم نہیں ہو گا
    ہمسر

    محمدداؤدالرحمن علی اور محمد نبیل خان .نے اسے پسند کیا ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں