غلام‘ شکست خوردہ اور پسماندہ امت

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد اجمل خان, ‏دسمبر 14, 2017۔

  1. محمد اجمل خان

    محمد اجمل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    51
    موصول پسندیدگیاں:
    24
    صنف:
    Male
    غلام‘ شکست خوردہ اور پسماندہ امت

    باغبان نہ ہوتو خوبصورت سے خوبصورت باغ بھی ویران جھاڑ جھنکاڑ بھرے جنگل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

    اسی طرح امت مسلمہ جو بہترین امت ہے ایک صالح اور خیرخواہ لیڈر نہ ہونے کی وجہ کر اپنی تمامتر اچھائیوں کے باوجود ایک ہجوم ہے اور سمندر کی جھاگ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔قوم یا امت کو بنانے والی صرف ایک ہستی ہوتی ہے لیکن قوم کی اکثریت کو اس کی تائید اورنصرت کرنی پڑتی ہے‘ اس کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرنی پڑتی ہے۔امت میں آج قحط الرجال ہےمگر اتنی بھی نہیں کہ اچھے لوگ نہیں رہے لیکن امت کی اکثریت ان کا ساتھ نہیں دیتی ۔ اگر کوئی امت کا خیرخواہ صادغلام‘ شکست خوردہ اور پسماندہ امت ق و امین شخص الیکشن میں کھڑا ہو جائے تو اس کی ضمانت ضبط ہو جاتی ہے۔ یعنی امت کی اکثریت برے لوگوں پر مستمل ہے جوبرے لوگوں کو پسند کرتی ہے اور اچھے لوگوں کو پسند نہیں کرتی۔

    پھر اللہ بھی ایسے برے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اس کے نیک اور صالح بندوں کو پسند نہیں کرتے۔ اس لئے اس امت پر چھوٹے بڑے عذابوں کا سلسلہ صدیوں سے چل رہا ہے تاکہ یہ سدھر جائے لیکن یہ سدھرنے کی بجائے مزیدبگڑتی گئی ۔

    یہ امت تقریباً دو سو سال تک انگریزوں کی غلام تھی ۔

    پھر
    اللہ تعالٰی کو ان پر رحم آیا۔
    اللہ تعالٰی نے انہیں ذلت آمیز غلامی سے نجات دیا۔

    پھر
    اللہ تعالٰی نے اس امت کو قریب سو سال سےموقع دیا ہوا ہے تاکہ یہ امت دین پر واپس آجائے‘ بہترین امت بن جائے اور بہترین ہونے کی فرائض منصبی کو نبھائے‘ انصاف کرے‘ خلافت قائم کرے اور دنیا میں اسلام کا بولبالا کرے۔

    لیکن دو سو سال کی غلامی نے اس امت کو ہمیشہ کیلئے غلام‘ شکست خوردہ اور پسماندہ امت بنا دیا۔

    اللہ تعالٰی نے انہیں دنیا کے بہترین خطوں میں بسایا اور حکمرانی عطا کیا‘ ان پر اپنے خزانے (تیل) کھول دیئے‘ انہیں افرادی اور مالی قوتوں اور ہر طرح کی وسائل سے نوازا لیکن اس امت نے اپنی عقل و ذہانت سے کام نہیں لیا۔

    دشمن تیاریاں کرتے رہے۔

    اس امت کے بیٹے عیاشیاں کرتے رہے‘ بدکاری کرتے رہے اور اپنی عیاشی اور بدکاری کیلئے اللہ کو چھوڑ کر ہر طاغوت کے آگے جھکتے رہے اور ہربت کو سجدہ کرتے رہے۔ امت کی دادرسی کی بجائے دشمنوں کی خیرخواہی کرتے رہے اور ان سے دوستی نبھاتے رہے۔ پھر بھیمنافقت کا لباوہ اوڑھے مسلمان بھی بنے رہے۔

    اللہ تعالیٰ نے اپنے قرآن میں آگاہ کر دیا ہے اور سب جانتے ہیں کہ

    اللہ تعالٰی اگر ماضی میں یہودیوں اور عیسائیوں کو دین برگشتگی کی سزا دیا ہے تو آج امت مسلمہ کو بھی دین سے ان کی منافقت کی سزا دے گا۔

    اللہ تعالٰی ان بد کردار وں کو سزا دے گا۔
    اللہ تعالٰی ان پر جلد عذاب کا کوڑا برسائے گا۔
    اللہ تعالٰی ان کے دشمنوں کو ان پر چڑھا لائے گا‘

    جو ان کے عالیشان محلات کو کھنڈر بنا دیں گے۔
    جو ان کےخوبصورت شہروں کو تہس نہس کر دیں گے۔
    جو ان کے بچے ‘ بوڑھے اور عورتوں کو غلام بنائیں گے۔
    جو ان کی بیٹیوں کی عزتیں لوٹیں گے۔
    جو ان کے نوجوانوں کا قتل عام کریں گے۔

    ایسی قتل عام کہ سو میں ننانوے قتل کر دیئے جائیں گے اور اُس دن یہ اُف بھی نہیں کر پائیں گے۔

    اللہ کا عذاب توآیا ہی چاہتا ہے۔
    دشمن اپنی پوری تیاری کے ساتھ دروازے پر کھڑا ہے۔

    کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ
    عیاشیوں اور بدکاریوں کو ترک کیا جائے۔
    ہٹ دھرمی اور فرقہ پرستی کو ترک کیا جائے۔
    متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے تیاری کی جائے۔
    واپس آیا جائے شیطان کے راستے کو چھوڑ کر قرآن و سنت کی طرف۔

    ورنہ جو اوپر بیان کیا گیا ہے انجام کچھ ویسا ہی ہونا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم

    تحریر: محمد اجمل خان
    https://m.facebook.com/muhammad.khan.9484941
    https://m.facebook.com/apnitejarat
    https://m.facebook.com/Position.Believer
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  2. محمد اجمل خان

    محمد اجمل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    51
    موصول پسندیدگیاں:
    24
    صنف:
    Male
    اسی طرح امت مسلمہ جو بہترین امت ہے ایک صالح اور خیرخواہ لیڈر نہ ہونے کی وجہ کر اپنی تمامتر اچھائیوں کے باوجود ایک ہجوم ہے اور سمندر کی جھاگ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔قوم یا امت کو بنانے والی صرف ایک ہستی ہوتی ہے لیکن قوم کی اکثریت کو اس کی تائید اورنصرت کرنی پڑتی ہے‘ اس کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرنی پڑتی ہے۔امت میں آج قحط الرجال ہےمگر اتنی بھی نہیں کہ اچھے لوگ نہیں رہے لیکن امت کی اکثریت ان کا ساتھ نہیں دیتی ۔ اگر کوئی امت کا خیرخواہ صادق و امین شخص الیکشن میں کھڑا ہو جائے تو اس کی ضمانت ضبط ہو جاتی ہے۔ یعنی امت کی اکثریت برے لوگوں پر مستمل ہے جوبرے لوگوں کو پسند کرتی ہے اور اچھے لوگوں کو پسند نہیں کرتی۔

اس صفحے کو مشتہر کریں