غیرت ہے بڑی چیزجہان تگ ودومیں

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏دسمبر 18, 2012۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    غیرت ہے بڑی چیزجہان تگ ودومیں

    عبد الرحمن مدنی
    دن بدن گھرسے نکلنے والے کچرے میں گتے کے ڈبوں کی تعداد زیادہ ہوتی جارہی ہے ۔پلاسٹک اورشیشے کی بوتلیں گھر سے باہر جانے والے کچرے میں بڑھتی جارہی ہیں ۔یہ کتنی عام سی بات ہے نا ؟لیکن اس عام سی بات کا مطلب کیا ہے ؟اس کا مطلب ہے کہ ان کھانے پینے کی تمام چیزیں ڈبوں میں اور پیکٹس میں آنے لگی ہیں ، کھلے مصالحے نا پید ہوگئے ہیں ،نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیاں غذا کے ذخائر پر قابض ہوگئی ہیں ۔اس سے نہ صرف مصالحہ جات اور غذاؤ ں کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ میسر مقداربھی انتہائی کم ہوگئی ہے ،کھلے چاول ، سویاں ،چینی ،آٹا ،شہد ، گھی ،مرچ ،ہلدی ،کالی مرچ ،سالن چاٹ اور دیگر تمام چیزوں کے مصالحہ جات اب ڈبوں میں پیک ،زیادہ قیمت میں اور بہت کم مقدار میں ملتے ہیں اور یہ تمام کمپنیاں بالواسطہ یا بلا واسطہ طورپر یہود ونصاریٰ کی ملکیت ہیں ۔پوری دنیا کی غذائیں اجناس پر آہستہ آہستہ اب ان کا کنٹرول بڑھتا جارہا ہے ۔ اب ان کمپنیزکا پاکستان میں اگلا ہدف ہے دود ھ اورپانی ۔کھلا دودھ آہستہ آہستہ غیر محسوس طورپر مارکیٹ سے کم ہوتا جارہا ہے اور پیک دودھ ،سوکھا ،دودھ اور بوتلزاور ڈبوں کا دودھ اس کی جگہ لے رہا ہے ۔چائے کے لئے سوکھے دودھ کی دسیوں اقسام متعارف کرائی گئی ہیں ،شیمپو کے چھوٹے پیکس کی طرح دودھ کی چھوٹے پیکٹس ۔۔۔ جو صرف ایک کپ کے لئے ہوتے ہیں ۔۔۔بھی دستیاب ہیں ۔
    ہول سیلرزکو جس قیمت پر دودھ بیچنے پر مجبورکیا جارہا ہے اس سے توان کی پیداواری لاگت بھی پوری نہیں ہوتی ۔نتیجتاً وہ شہر سے باڑوں سے گاڑیوں کے ذریعے دوکانوں تک پہنچانے پر اپنے ہی باڑے میں بیٹھ کر کسی ایک ہی کمپنی کو ؟ دودھ سارا کا سارامنافع کے ساتھ بیچنے پر ترجیح دیتے ہیں ۔یوں کھلا دودھ تما م آدمی کی پہنچ سے دور ہورہا ہے اور کمپنیزاس دودھ میں سے مکھن اور کریم نکال کر باقی دودھ میں اسے دیر تک محفوظ رکھنے والے کیمیکلزملاکر فروخت کررہی ہیں ۔دودھ کا گاڑھا پن اس کی غدائیت اس کی رنگت اور بطور خارجی اس کا ذائقہ یہ سب غائب ہوتا جارہا ہے ۔نئی نسل ڈبے کے دودھ کے ساتھ جوان ہورہی ہے ۔یہی حال پینے کے صاف پانی کا ہے ۔لائنوں کے ذریعہ جو پانی فراہم کیا جارہا ہے وہ صاف نہیں ہے اور کئی جگہ سے گٹر کی لائنیں پانی لائنوں سے شیر وشکر ہوکر چلتی ہے ۔ہر مریض کویا تو پانی ابال کر پینے کو کہاجاتا ہے ۔یا پھر صاف صاف منرل واٹر پینے اور استعمال کرنے کو کہاجاتا ہے ۔لوگ کمپنیز کا فراہم کیا جانے والا پانی استعمال کریں یا نہ کریں لیکن ہر آدمی یہ سمجھتا ہے ،عام پانی سے گندا اور مضر صحت ہے اور کمپنیز کا فراہم کیا جانے والا پانی ہی صحت افزا ہے لیکن لوگوں کی یہ سوچ ایک رات میں تو نہیں بنی اس کے پیچھے ایک پوری کہانی ہے ۔ایسٹ انڈیا کمپنی کا کردار ادا کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے صہیونی اغراض ومقاصد کی کہانی۔خیر وشرکی جنگ میں مسلمانوں کے وسائل پر قبضہ کرکے انہیں ذلت وغلامی کے طوق میں جکڑنے کی کہانی ۔
    کیا کسی نے سوچا کہ گورے کا بچہ تو کم عمری ہی میں اس قدر صحت مند ہوتا ہے کہ آدمی حیران ہوجائے لیکن میرے شہر کے جوانوں کے چہرے زرد اور آنکھیں ذہانت وفطانت کے نور سے محروم کیوں ہوتی چلی جارہی ہیں ؟ وہ سجیلے جوان کہاں ہیں جن کی اٹھان ،قد کاٹھ ،چستی پھرتی اور ذہانت وفطانت کو دیکھ کر شاعر ملی نغمے اور عسکری گیت تخلیق کیا کرتے تھے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم گائے بھینس کے تازہ دودھ کے بجائے آج اس کیمیکلز والے دودھ پر اعتماد کرتے ہیں جو کئی کئی دنوں تک ڈبوں میں پڑا رہتا ہے اگر خریدنے کی استطاعت ہو تو پھر بھی خالص اور اصلی گھی سے تو ہمیں عجیب سی مہک آتی ہے ۔ہاں البتہ ڈبہ بند گھی ہو تو پھر وہ ممتاکی آواز ہے ،شان سے کھانا ہو تو پھر بازار سے کھلے مصالحے خریدکر اپنے ہاتھوں سے صاف کرنے پیسنے اور استعمال کرنے کی زحمت بالکل مت کیجئے ۔ ڈبہ بند مصنوعی ذائقوں والے مصالحے ہیں نا آپ کے کھانوں کی لذت بڑھانے کے لئے ۔ اور اگر منرل واٹر نہ ہو تو یہ اسٹیٹس کے بھی خلاف ہے اورصحت کے بھی ۔
    گویا ہمارا پوری غذائی نظام آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقہ سے اب بند ڈبوں میں پیک ہوتا جارہا ہے ۔لیکن اس ڈبہ کو کون تیار کررہا ہے ؟ ہمارا دشمن ،جی ہاں ! وہی دشمن جو حضور علیہ السلام کی سیرت وصورت سے خار کھاتا ہے جو ہم سے صلیبی جنگوں کا بدلہ چکانا چاہتا ہے، جو مسجد اقصیٰ میں اپنی عبادت گاہ بنانا چاہتا ہے ،جو ہماری ماؤں اور بہنوں کی عزت کو ہوسناک نگاہوں سے دیکھتا اور دہشت گردی کے نام پر پور یدنیا کے مسلمانوں کا خاتمہ چاہتا ہے پھر بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ہمیں طاقت ،قوت ،غذائیت اور پروٹین سے بھرپور غذاکو اس ڈبہ میں بند کرکے فراہم کرے ۔جب کہ ایسی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی یہودیوں کے ساتھ مل کر غذاؤں اور دیگر ذرائع مثلاً انجکشنوں سے مسلمانوں میں مہلک امراض کے جراثیم منتقل کررہے ہیں ۔
    اس کے ساتھ ساتھ آئے روز کی مہنگائی کا ایک بڑا سبب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اربابِ اقتدار کی جھولیوں کو نوٹوں سے بھرکر ہر چیز کا ریٹ اپنی من مانی قیمت پر طے کرنے کا ’’پرمٹ ‘‘حاصل کرلیتی ہیں اور سب سے بڑا خطرہ جو ہمیں مستقبل کے حوالہ سے درپیش ہوسکتا ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح آج ملک میں مختلف چیزوں کا بحران انتہائی پریشان کن صورت اختیار کر چکا ہے کل کو یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ہماری ضروریاتی زندگی سے متعلق ہر چیز کو اپنے ڈبوں میں پیک کرکے جب چاہیں گی اپنے مفادات کے حصول کے وقت کئی طرح کے بحران پیدا کردیں گی ۔ ہمارے بچے بوند ،بوند پانی اور قطر ہ قطرہ دودھ کو ترسیں گے تو پھر اس سلسلے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟
    ’’غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ ودو میں ‘‘

اس صفحے کو مشتہر کریں