غیرمسلم تہذیب پر اسلامی اثرات

'اصلاح معاشرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از مفتی ناصرمظاہری, ‏نومبر 27, 2012۔

  1. مفتی ناصرمظاہری

    مفتی ناصرمظاہری کامیابی توکام سے ہوگی نہ کہ حسن کلام سے ہوگی منتظم اعلی

    پیغامات:
    1,731
    موصول پسندیدگیاں:
    208
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    غیرمسلم تہذیب پر اسلامی اثرات​

    ناصرالدین مظاہری
    روئے زمین پر اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس میں ملکی اورقومی وطنیت ،ذات اوربرادری کی عصبیت ، رنگ ونسل کے فرق وامتیازکو لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی لا فضل لاحمر علی اسود ولالاسودعلی احمرفرماکر مہر لگادی گئی کہ کسی عربی کو عجمی پر ،عجمی کو عربی پر گورے کو کالے پر اورکالے کوگورے پرکوئی فضیلت نہیں ہے ۔
    اسلام کے اس نظریہ کی تاثیروقوت ،زوداثرودیرپاعظمت کے باعث دنیا کی کایا پلٹ ہوگئی وہ مذاہب جہاںچھوت چھات ،ذات پات ،رنگ ونسل ،برادرانہ امتیازات کی متعصبانہ خلیج حائل تھی انہوں نے جب اسلام کی اس وسعت نظری کو دیکھا تو متاثرہوئے بغیرنہ رہ سکے اوراسلام اپنی مکمل تاثیر وتوقیر کے ساتھ دیگرادیان ومذاہب اوران کی تہذیب ومعاشرت میں داخل ہوتا چلاگیا۔
    یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اگر مسلمان اپنے آپ کواسلامی قالب میںڈھال لے ،پکا سچا مسلمان ہوجائے ، اسلامی احکامات کی تعمیل کرنے لگے تو اس کودیکھ کرباطل فکروعقیدہ رکھنے والے بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔
    اسلامی تاریخ میں ایسے واقعات کی کبھی کمی نہیں رہی،جہاں اسلام کی خوبیوںاورخصوصیتوںکو دیکھ کر اوران سے متاثرہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوئے ہیں اورتہذیب ومعاشرت پرنازکرنے والایورپ بھی آج ہمارے سامنے ہے جہاں اسلام کے خلاف ہر طرح کے منصوبے وضع ہوتے ہیں لیکن قبول اسلام کے سب سے زیادہ واقعات بھی الحمد للہ وہیں رونماہورہے ہیں ۔
    ایک زمانہ تھا کہ مسلمانوںکے پاس غیر مسلم لوگ اپنے اپنے معاملات لے کرآتے تھے ،مسلمانوںسے فیصلہ کراتے تھے ،مسلمان کا قول فیصل سمجھاجاتا تھا ،اس کی قدر ومنزلت کی جاتی تھی جس علاقے اورجس گلی سے مسلمان کا گزرہوتا تھا توغیرمسلم احترام میں کھڑے ہوجاتے تھے لیکن ……آج ہماری وہ حیثیت کیوں ختم ہوگئی ہماری افرادی واجتماعی قوت کو زنگ کیوں لگ گیا ،ہماری زبان ،ہماری معاشرت ،ہمارافکر وعمل اب دوسروں کو کیوں متاثرنہیں کر پاتا ہے ،ظاہر ہے اب ہمارا کوئی فکرنہیں ہے ،اجتماعی پلیٹ فارم نہیں ہے ،اپنا مضبوط یونیفارم ہمارے ہی ہاتھوںٹوٹ چکا ہے ،پرامن قیادت اورسیادت کا رشتہ ہم سے ٹوٹ چکا ہے ،نتیجہ ظاہر ہے ہم سمندری جھاگ کے مانند بے حیثیت ہوگئے ؎
    کل تین سو تیرہ تھے ،لرزتا تھا زمانہ
    ہیں آج ہزاروں بھی غلامی کے حوالے
    ماضی میں جس قدرہماری عزت اورقدر ومنزلت تھی ،حال میں اس سے کہیںزیادہ ہماری اہانت اور بے عزتی ہو اورمستقبل میں بھی اسلامی تہذیب ومعاشرت کے احیاء اورارتقاء کی راہیںمسدودنظر آتی ہیں ۔
    اس وقت حکومت وسلطنت سے لیکر مزدوری اورقلی گیری تک ہر پیشہ پر ہندوانہ راج ہے کیونکہ ان کے سروں پرغیرمسلم تاج ہے ،نوکری کے حصول میںغیر مسلم کو فوقیت دی جاتی ہے کیونکہ ان کے رہنمااورملکی سرپرست غیرمسلم ہیں،لیکن مسلمان پھربھی حالات سے سمجھوتہ کئے ہوئے ہے ،ہواؤں کے دوش پر اڑا چلا جارہا ہے ،تنکے کی طرح موجوںکے رحم وکرم پر ہے ،سمندری جھاگ کے مانندتیررہا ہے یعنی مخالف حالات سے ٹکرانے اورہواؤںکے رخ کو پھیرنے کی طاقت ’’مسلم ‘‘اپنے اندر نہیں پاتا ۔
    اسلام کی تعلیمات ،صفات وخصوصیات جو ہمارا شعار تھیں جن کی خوبیوںسے اغیارقومیںمرعوب ومتاثر ہوتی تھیں لیکن آج رفتہ رفتہ اسلام کی بہترین تعلیمات اوراخلاق وعادات ہم سے دور ہوگئیں،غیروں نے ان کو اختیارکرکے ہمارا منہ چڑایا۔
    ہماری مشکلات اوربد تر زندگی کی ذمہ دار حکومت نہیں،وزراء ورؤساء نہیں ،ساہوکاراوربنیا نہیں بلکہ ہم خودخاطی اورقصوروار ہیں اس لئے کہ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَومٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَابِاَنْفُسِھِمْ ؎
    خدانے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال خوداپنی حالت کے بدلنے کا
    سحبان الہندحضرت مولانااحمد سعید دہلوی ؒ نے ایک موقع پر فرمایاتھا کہ
    ’’کفرنے خوان اسلام کی خوشہ چینی کی اورہم سے بعض دوائرمیں آگے نکل گیا،ہم نے حضورﷺ کا دین چھوڑااورعجمی خرافات میں کھوگئے پھرہم پہ کیا بیتی کہ ہم اسی ساڑھ ستی کا شکار ہوگئے جوایک قینچی کی طرح ہمارے بال وپرکاٹ چکی ہے ،کبھی ہماری پروازکے لئے بہت سے افق تھے ،اب ہم اپنے ہی افق میں پروازکرنے سے قاصرہیں‘‘۔
    بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ غور کیاجائے کہ غیرمسلموںنے ہماری معاشرت کی خوبیوںکو کیوںاپنالیا؟اس پہلو پر بھی سوچاجائے کہ ہم نے اپنی قدیم تہذیب ومعاشرت سے کنارہ کشی کیوںاختیارکرلی؟
    غیرمسلم حضرات گرمیوںمیں عام گزرگاہوں،چوراہوںاورپبلک مقامات پرشربت ،پانی اورمشروبات کا مفت انتظام کرتے ہیں جب کہ یہ کام خود مسلمانوں کو کرنا چاہیے تھا،غیرمسلم سردیوںمیںجگہ جگہ ہاتھ سینکنے کیلئے الاؤ لگاتے ہیںاورہماری غیرت یہاں تک مردہ ہوگئی کہ اپنے پاس پڑوس والوںکوبھی اپنے الاؤپر نہیں آنے دیتے ، غیر مسلم جب بھی دوکان کھولتا ہے تو سب سے پہلے ہندوانہ عبادت کرتا ہے ،پوجا پاٹ کرتا ہے ، مورتیوںکے سامنے ہاتھ جوڑکران سے فریاد کرتا ہے ۔مذہبی گیت اورکیرتن سے اپنے دیوتاؤںکو خوش کرتا ہے اور ہم مسلمان ہوکربھی دوکان کھولتے وقت صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھنا عار محسوس کرتے ہیں،نماز اورتلاوت کا تو کوئی ذکر ہی نہیں ہے ،دل ہی دل میںاللہ تعالیٰ سے دعامانگنے کی بھی ہمیں فرصت نہیں ہے جب کہ غیرمسلم صبح سویرے اٹھ کر غسل کرتاہے ،مکان کی صفائی پر دھیان دیتا ہے ،صبح خیزی اورہواخوری کیلئے چہل قدمی اورورزش کرتا ہے ، پارکوں اور کھلے میدانوںمیں دوڑلگاتاہے ،رات کوجلدی سوجاتاہے اورصبح جلدی بیدا ر ہوجاتا ہے ،مسلمان رات بارہ اورایک بجے تک سونے کا تصورنہیں کرتا ہے پھر سوتا ہے تو کہاںکی نماز، کہاں کی تلاوت ،کہاںصبح خیزی اورکہاں جلدی اٹھنا ، دس بارہ بجے دن تک اٹھنا اورعموماًبغیر غسل کے دوکانوںاورکارخانوںکا رخ،غیرمسلم اپنی دوکان او راپنے دروازے سے کسی فقیرکو نہیں جھڑکتا،خالی ہاتھ نہیں لوٹاتاکچھ نہ کچھ ضرور دیتا ہے ، مسلمان کچھ دینے کے بجائے رعونت ، غروروتکبراوربد اخلاقی کا مظاہرہ کرتاہے، غیرمسلم جانوروںسے بھی پیارکرتا ہے ،صبح سویرے کتوںکوروٹیاںکھلاتا ہے ،آوارہ پھرنے والی گایوںکو بھی کھلاتا ہے ،میدانوںمیںدانے اورخشک انا ج ڈالتا ہے تاکہ بھوکے پرندے اپنی بھوک مٹاسکیںلیکن ہمارا یہ حال ہے کہ کتوںکے سامنے کچھ ڈالنے کے بجائے پتھرپھینک دیتے ہیں ،چڑیوںکو اڑاکرمزہ حاصل کرتے ہیں ،کوئی کتا یا بلی اگر بندش میں پڑجائے تو اس کو اذیت پہنچانے سے نہیں ہچکچاتے ،غیرماکول اللحم پرندوںکوبھی اپنی غلیل کا نشانہ بنادیتے ہیں حالانکہ ان حرکتوںسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایاہے ۔
    آج ہر غیرمسلمخوش اخلاقی ،تواضع ،امانت داری ،سچائی ،لگن محنت ،دلجمعی ،پاکی وصفائی وعدہ کا ایفاء ،اپنی زبان ، تہذیب ،ماحول اورخاندانی روایات پر فخر کرتا ہے ،مذہبی مقامات کی عظمت اورپنڈتوںاورسادھوؤںسے محبت کرتا ہے اورہما را یہ حال ہے کہ خوش اخلاقی کو جڑسے اکھاڑپھینکا،تواضع ،امانت داری اورپاکی وصفائی سے کنارہ کشی اختیار کی ، جھوٹ ،دھوکہ ،فریب ،ریاکاری ،امانت میںخیانت ،وعدہ خلافی اورطعن وتشنیع ،لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ ہمارا شعار بن گیا ، جس محلے میں خوب گندگی ہو،خراب سڑکیںہوں،بدبوہو،گلی گلی میںچھوٹے بچے کرکٹ اورگلی ڈنڈے کے کھیلوںمیںمست ہوں،فوراًیہ تصورہوتا ہے کہ یہ مسلم محلہ ہے اس کے برخلاف صاف ستھرے محلے ،گندگی سے پاک سڑکیں،آلودگی سے محفوظ گلیاں،پارک اورڈسپلن نظر آئے تو فوراًدماغ میں یہ تصورجاتاہے کہ یہ غیرمسلممحلہ ہے ۔
    غیرمسلم اپنے مکان کے سامنے روزانہ پانی کاچھڑکاؤکرتاہے ،دوکان کے آگے سڑکوںکوپانی سے تر کرتا ہے تاکہ گرد وغبارسے محفوظ رہا جاسکے لیکن مسلمان گرد وغبارمیں اٹے ہونے کے باوجودیہ کام نہیں کرسکتا۔
    دورحاضرمیں جتنے مکروہ کھیل ہیںسب میںمسلمان پیش پیش ہیں حتی کہ مرغ بازی ،بٹیربازی ،پتنگ بازی اورجوئے بازی تک میں’’خیرامت ‘‘کا ایک بڑا طبقہ ملوث نظر آتا ہے ۔
    مراد آباد شہر میں ایک میدان میں بڑے زوروشورسے پتنگ بازی ہورہی تھی ،بوڑھے ،جوان ،باپ ،بیٹے سب پتنگ بازی میں مصروف تھے ،سڑک شہزادہ پر ایک لالہ کاگزرہوااس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا ،بچہ نے اپنے باپ لالہ سے پتنگ کی خریداری کے لئے دو پیسے مانگے تو لالہ نے برجستہ کہا کہ
    ’’پتنگ بازی ،مرغ بازی ،تیتربازی ،بٹیربازی ،کبوتربازی ،جوئے بازی ،کافربازی وغیرہ سب مسلمانوں کے کام ہیں یہ ان کے ذمہ کردئے گئے ہیں ،انہیں یہ کام کرنے دو،تم ان کاموںکو اپنے ذمہ مت لو،ہم لوگ لکھ پتی بننے ،قرض دینے ،راج کرنے کیلئے پیدا ہوئے ہیں ،پیسہ کماؤتو سیٹھ بنو،لکھ پڑھ جاؤ تو بابو بنو ،منصف بنو ،جج بنو،کلکٹربنو،وزیر بنو،آئندہ پتنگ کے لئے پیسے مت مانگنا،نہیں تو مسلمان ہوجائے گا،برباد ہوجائے گا ،ہم اب کبھی اس راستہ سے نہیں گزریں گے کیونکہ اس راستہ پر پتنگ باز رہتے ہیں‘‘۔
    یہ کس قدرافسوس کی بات ہے کہ کھیل کی ساری خرافات ہمارے اندرموجود ہیں ،کھیل کے معاملہ میں مسلمان نوجوانوںکی چہارسو واہ واہ ہوتی ہے ،مسلمان بے دریغ ان فضولیات میں اپناپیسہ ضائع کرتا ہے ، تقریبات اوررسم ورواج کے موقع پربڑی فضول خرچیاںکرتا ہے ،طرح طرح کی بے جا خرافات نے مسلمانوںکو ترقی کے معاملے میں سینکڑوںسال پیچھے ڈھکیل دیا ہے ۔
    گزشتہ ہفتہ اخبارات میں خبر آئی تھی کہ ہندوستان کی ایک فلمی ہیروئن کے ساتھ چائے پینے کیلئے پاکستان کے ایک مسلمان نے اٹھارہ لاکھ روپئے کی بولی لگاکربازی جیت لی ہے ۔
    اسی طرح افریقہ کے ایک مسلمان نے اپنی پالتوبلی کی سالگرہ بڑی دھوم دھام سے مناکرہزاروںڈالرپانی کی طرح ضائع کردئے ۔
    جی ہاں!ایک طرف بھوک اورپیاس سے سسکتے بچے ہیں ،جنہیںپیٹ بھرکھانانصیب نہیں،غریب گھرانوںکی ہزاروں کنواریا ں ہیںجن کو جہیزکی وجہ سے شوہرنصیب نہیں،مجبوروتنگدست افرادہیںجن کو سرچھپانے کیلئے پھونس کے جھونپڑے بھی میسرنہیں،خود کشی کرنے والے مردوخواتین ہیں جو زمانے کے بے رحم حالات سے مجبورہوکر موت کے چنگل میں پہنچ گئے اورایک طرف ہم ہیںکہ ہم اب بھی تعصب ،غرور،کینہ ،حسد،ریا ،گھمنڈاورنخوت کے پیکر بنے ہوئے ہیں۔
    غیرمسلم اپنی تجارت کو فروغ اوردوکان کو ترقی دینے کیلئے آنے والے ہر گر اہک سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آتا ہے ،موسم کے حساب سے چائے اورپانی بھی پیش کرتا ہے ،مسلمان گراہک ہو تو مزید تواضع کا مظاہرہ کرکے دل جیتنے کی کوشش کرتا ہے ،ادھارکی نوبت آئی تو اس میں نہیں ہچکچاتاہے ،حیلے اوربہانے نہیں تراشتا ہے جب کہ ایک مسلمان دوکاندارکے پاس پہنچ کردیکھئے ،سامان اورسود ے کی بات کیجئے ،کتنی ہی بڑی رقم کا سودا کیجئے لیکن مسلمان حق ضیافت ادانہیں کریگا،چائے چھوڑئے پانی تک کو پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
    غورکیجئے ہم کس مقام پر پہنچ چکے ہیں ،خریدارسے جس رعونت ،سردمہری اورکبرونخوت کے ساتھ ہم پیش
    آتے ہیںپھر اس کے بعد کبھی بھی بھول کرگراہک ہماری دوکان کی طرف منھ نہیں کرتا کیونکہ ہم نے اخلاق سے دل جیتنے کے بجائے بد اخلاقی سے دورکردیاہے ۔
    کسی نے کہا تھا اورسچ کہا تھا کہ اخلاق اوراخلاص دو بھائی تھے ،جن کا انتقال ہوچکا ہے ،جی ہاں!ہمارے اخلاق ،ہمارے اوصاف اورہماری اچھائیاںبرادران وطن نے اپناکر ترقیات حاصل کرلیںاورہم ان خامیوں کو اپناکرپستی میںگرگئے ۔حضرت تھانویؒ سے ایک غیر مسلم نے بھرپوراخلاق کامظاہرہ کیا ،تواضع سے پیش آیا اور اس کے اخلاق سے حضرت تھانویؒ بھی بہت متاثرہوئے اورسوچنے لگے کہ اس کے اخلاق وتواضع کی کس اندا ز میں تعریف اوراس کاشکریہ ادا کیا جائے بالآخرآپ نے ا س سے فرمایاکہ’’ آپ کے اخلاق بالکل مسلمانو ں جیسے ہیں‘‘۔
    غیرمسلمکو اگر یہ معلوم ہوجائے کہ یہ سامان مسجد ،مدرسہ،گرجاگھر،گرودوارہ،صومعہ یا مندروغیرہ کے لئے خریدا جارہا ہے توخوب خوب رعایت کرکے سامان دیتا ہے اورہم بحیثیت مسلمان کوئی کمی اوررعایت نہیں کرتے ، غیرمسلم اپنی عبادت گاہوںاورمندروںسے بہت زیاد ہ عقیدت رکھتا ہے اورہمارا یہ حال ہے کہ مسجد کے سامنے سے آتش بازی کرتے ہوئے گذرتے ہیں،ڈھول ،تماشے اورگانے بجانے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے ، نماز ہورہی ہے اورباہرمسلمان بھائی ناچ گانے میں مگن ہے ،مسجد کی تلاش ہورہی ہے کس لئے ؟پیشاب کیلئے! اوراگر مسجد میںپیشاب خانہ نہ ہو توکہتے ہیں کہ کیایہ شیعوں کی مسجد ہے ؟
    چاندگرہن اورسورج گرہن کے موقع پرغیرمسلم غریبوںمیں اناج اورغلہ تقسیم کرتا ہے اورہم ہیںکہ صلوۃ کسوف اورصلوۃ خسوف تو کیا اللہ تعالیٰ سے گڑگڑانا ،دعااورتوبہ کرنابھی عار محسوس کرتے ہیں ۔
    حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم اخلاق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عملی طورپرنہیں اپنائیں گے ،ہم کامیاب اورسرخرو نہیں ہوسکتے اقبال مرحوم نے کتنے درد کے ساتھ فرمایا تھا ؎
    گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
    ثریاسے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
    حکومت کا تو کیا روناکہ وہ اک عارضی شئے تھی
    نہیں دنیاکے آئین مسلَّم سے کوئی چارہ
    مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آباء کی
    جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
    ٭٭٭​
  2. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,906
    موصول پسندیدگیاں:
    954
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    “گزشتہ ہفتہ اخبارات میں خبر آئی تھی کہ ہندوستان کی ایک فلمی ہیروئن کے ساتھ چائے پینے کیلئے پاکستان کے ایک مسلمان نے اٹھارہ لاکھ روپئے کی بولی لگاکربازی جیت لی ہے “
    اللہ دونوں کی ہدایت دے۔
  3. مولانانورالحسن انور

    مولانانورالحسن انور رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    1,609
    موصول پسندیدگیاں:
    224
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
    ثریاسے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
    حکومت کا تو کیا روناکہ وہ اک عارضی شئے تھی
    نہیں دنیاکے آئین مسلَّم سے کوئی چارہ
    مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آباء کی
    جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
  4. بنت حوا

    بنت حوا فعال رکن وی آئی پی ممبر

    پیغامات:
    4,470
    موصول پسندیدگیاں:
    409
    صنف:
    Female
    جگہ:
    Pakistan
    نوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
    ثریاسے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
    حکومت کا تو کیا روناکہ وہ اک عارضی شئے تھی
    نہیں دنیاکے آئین مسلَّم سے کوئی چارہ
    مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آباء کی
    جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
  5. محمد نبیل خان

    محمد نبیل خان وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    8,521
    موصول پسندیدگیاں:
    704
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم اخلاق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عملی طورپرنہیں اپنائیں گے ،ہم کامیاب اورسرخرو نہیں ہوسکتے

اس صفحے کو مشتہر کریں