غیر مقلدین اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از شرر, ‏مارچ 27, 2012۔

  1. شرر

    شرر وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    94
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    بسم اللہ الرحمن الرحیم​
    ہندوستان کے غیر مقلدین اب محسوس کرنے لگے ہیں کہ ان کے چہرے وبشرے داغ داراور گندے ہیں ان کو دھونا ضروری ہے چنانچہ عدالت صحابہ کانفرنس منانے لگے ہیں ۔۔۔ بے چارے اصحاب رسول سے محبت کے نعرے ہی لگا سکتے ہیں اپنا مذہب تو چھوڑ سکتے نہیں ۔۔۔۔ لہذاآنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں ۔ عظمت صحابہ دل میں ہو تو ان کے فیصلوں اور فتووں پر سر تسلیم خم کریں بیس رکعت تراویح کو تسلیم کریں ۔ تین اکٹھی طلاقوں کے تین ہونے کو قبول کریں ۔ جمعہ کی اذان ثانی کو قبول کریں ۔۔۔۔ غیر مقلدوں کے مذہب کی بنیاد انھیں مسائل پر ہے ۔ رفع یدین، آمین باا لجہر قراء ت فاتحہ خلف الامام وغیرہ مسائل تو ائمہ اہل سنت والجماعت کے ہیں ۔۔۔ یہ اختلاف بنیادی نہیں ہے ۔
    فتنہ غیر مقلدیت کے والدین ہو نے کا شرف شیعوں اور معتزلہ کو حاصل ہے اہل سنت والجماعت میں کوئی اس کا مخالف نہیں ذیل میں ترک تقلید کے فتنہ کا مختصر سا حال ملا حظہ ہو۔
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کو غیر مقلدوں کے محقق ومجتہد مولانا محمد جونا گڈھی ہند کی حجت اور اللہ کی حجت لکھتے ہیں اسی طرح فرقہ اہل حدیث کے مجدد جناب نواب صدیق حسن صاحب بھوپالی رئیس المجتہدین اور سردار تسلیم کرتے ہیں اور لکھتے ہیں ،، اگر وجود او در صدر اول درزمانہ ماضی بود امام الائمہ وتاج والمجتہدین شمردہ می شود ،، کہ اگر شاہ صاحب کا وجود صدر اول (پہلے زمانہ میں ) ہوتا تو اماموں کے امام اور مجتہدین کے سردار شمار ہوتے ہیں ۔
    شاہ صاحب کے نزدیک مذاہب اربعہ خصوصاََ مذہب حنفی کا کیا مقام ہے ذیل میں ان کی تحریروں کے اقتباسات اور تر جمہ ملاحظہ فر مائیں فائدہ راقم الحروف نے تحریر کیا ہے ۔
    (۱) باب تاکید الاخذ بمذاہب الاربعۃ والتشدید فی تر کہا والخروج عنہا ! اعلم ان فی الاخذ بھذہ المذاہب الاربعۃ مصطلحۃً عظیمۃً وفی الاعراض عنہا کلھا مفسدۃ کبیرۃ عقد الجید مع سلک مروارید ص ۳۱۔
    ترجمہ: باب سوم ان چار مذہبوں کے اختیار کر نے کی تا کید اور ان کو چھوڑنے اور ان سے با ہر نکلنے کی ممانعت شدیدہ کے بیان میں ۔ اِعلم الخ جاننا چاہئے کہ ان چاروں مذہبوں کو اختیار کرنے میں ایک بڑی مصلحت ہے اور ان سب سے اعراض ورو گردانی میں بڑا مفسدہ ہے ۔
    فائدہ ! ۱ مذاہب اربعہ میں سے کوئی ایک مذہب اختیار کرنا ضروری ہے ۔۲ چاروں مذاہب کو چھوڑنا اور غیر مقلد بننا شدید منع ہے ۔
    ۳: مذاہب اربعہ کے اختیار کرنے میں عظیم مصلحت ہے ۔ ۴: ان سے اعراض کرنا بڑا فساد ہے ۔ ۵: ترک تقلید کے تمام داعیان ومبلغین فسادی ہیں۔
    (۲)وثانیا قال رسول ﷺ اتبعوا السواءُ الاعظم ولمّاا اندرست المذاہب الحقہ الا ھذہ الاربعۃ کان اتبا عھا اتباعا للسواد الاعظم ۔ تر جمہ : اور مذاہب کی پا بندی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے کہ سواد اعظم یعنی بڑے معظم جتھے کی پیروی کرو اور چونکہ مذاہب حقہ سوائے ان چاروں مذاہب کے باقی نہیں رہے تو ان کی پیروی کرنا بڑے گروہ کی پیروی کرنا ہے ۔ اور ان سے با ہر نکلنا بڑی معظم جماعت سے با ہر نکلنا ہے ( یہ رسول ﷺ کی ہدایت اور تا کید ی ارشاد کی خلاف ورزی آتی ہے ) (عقد الجید ص ۳۳)
    فائدہ: ملاحظہ فر مائیے ! حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ مذاہب اربعہ کے مقلدین کو سواد اعظم فر ما رہے ہیں ۔اور عامی غیر مقلد کو سواد اعظم(فرقہ ناجیہ) سے خارج بتلا رہے ہیں اس لئے جو لوگ ائمہ اربعہ میں سے کسی امام کی تقلید نہیں کرتے وہ شتر بے مہار کی طرح ہیں اور در حقیقت وہ خواہشات نفسانی کی پیروی کرتے ہیں ۔ حالانکہ آں حضرت ﷺ کا فر مان مبارک ہے اتبعو االسواد الاعظم ( مشکوٰۃ باب الاعتصام با لکتاب والسنۃ ص ۳۰ ۔ مجمع بہار الانوار ص۱۴۳ج ۳)
    ۳۔ لان الناس لم یزالوا من زمن الصحابۃ الیٰ اَن ظھرت المذاہب الاربعۃ یقلدون من اتفق من العلماء من غیر نکیر من احد یعتبر افکارہ ، ولو کان ذالک با طلا لانْکرہ
    ترجمہ: کیونکہ صحابہ کے وقت سے مذاہب اربعہ کے ظہور تک لوگوں کا یہی دستور رہا کہ جو عالم مجتہد مل جاتا اس کی تقلید کر لیتے ۔ اس پر کسی بھی قابل اعتبار شخصیت نے نکیر نہیں کی اور اگر یہ تقلید با طل ہوتی تو وہ حضرات ( صحابہ وتابعین) ضرور نکیر فر ماتے ۔عقد الجید ص ۲۹
    فائدہ(۱) قرآن وحدیث سے دلیل مانگے بغیر مجتہد عالم کی تقلید صحابہ کے زمانے سے جاری ہے ۔
    (۲)شاہ صاحب کے زمانے تک کسی صحابی ، تابعی ،امام اورمعتبر عالم نے تقلید سے نہیں روکا ۔
    (۳) غیر مقلدین جو کہتے ہیں کہ صحابہ نے تقلید سے روکا۔ اماموں نے تقلید سے رو کا وہ دھوکہ دیتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔ اماموں نے دوسرے اماموں اور ساتھی مجتہدوں کو تقلید سے روکا ہے عوام کو نہیں عوام کو تقلید سے روکنا حماقت ہے۔
    غیر مقلدین تقلید کو حرام کہتے ہیں اور تقلید سے منع کرتے ہیں گویا ان کا ایمان صحابہ کے ایمان سے نعوذ با للہ منہ زیادہ قوی اور بڑھا ہوا ہے اور خدا ورسو ل کو صحابہ کے ایمان کے جیسا ایمان چاہئے
    ( اٰمنوا کما آمن الناس ۔۔۔فان اٰمنوا بمثل ما آمنتم بہ ) لہذا غیر مقلدین کو اپنے ایمان کی خیر منا نا چاہئے۔
    (۴) شاہ صاحب ،امام بغویؒ کا قول بطور تا ئید نقل فرماتے ہیں ۔ ویجب علیٰ من لم یجمع ھذہ الشرائط تقلیدہ فیما یعن لہ من الحوادث ۔ ترجمہ: اور اس شخص پر جو ان شرائط ( یعنی اجتہاد کی شرائط) کا جامع نہیں اس پر کسی مجتہد کی تقلید کرنا واجب ہے ان حوادث (مسائل) میں جو اس کو پیش آئیں ۔ عقد الجید۹
    فائدہ : ۱،۔ عام مسلمانوں پر مجتہد عالموں یعنی اماموں کی تقلید واجب ہے ۔
    ۲: شاہ صاحب اور امام بغویؒ جیسے علماء کا یہی فتویٰ ہے ۔
    (۵)وفی ذالک (ای التقلید ) من المصالح مالا یخفی لا سیّما فی ھذہ الایام التی قصرت فیھا الھمم جدّا واشربت النفوس الھویٰ واعجب کل ذی رای برایہ۔ ترجمہ: اور اس میں (یعنی مذاہب اربعہ میں کسی ایک کی تقلید کرنے میں ) بہت سی مصلحتیں ہیں جو مخفی نہیں ہیں ۔خاص کر اس زمانہ میں جب کہ ہمتیں بہت پست ہو گئی ہیں اور نفوس میں خواہشات نفسانی سرایت کر گئی ہے اورہر رائے والا اپنی رائے پر ناز کر نے لگا ہے ( حجۃ اللہ ص ۳۶۱ج ۱)
    فائدہ: ۱۔ اماموں کے بعد لوگوں کی ہمتیں پست ہو گئیں ۔
    ۲: خواہشات نفسانی کے پیچھے چلنے لگے۔۳۔ اور اپنی رائے کو قرآن وحدیث سمجھنے لگ گئے ایسے لوگوں کی تقلید جائز نہیں ۔
    (۶) وبعد المائتین ظھرت فیھم التّمذھب للمجتھدین باَعْیَانھم وَقَلَّ مَنْ کان لا یعتمد علیٰ مذھب مجتہد بعینہ وکان ھذا ھوالواجب فی ذالک الزمان ۔۔۔۔ترجمہ:اور دوسری صدی کے بعد لوگوں میں متعین مجتہد کی پیروی ( یعنی تقلید شخصی ) کا رواج پیدا ہوا اور بہت کم لوگ ایسے تھے جو کسی خا ص مجتہد کے مذہب پر اعتماد نہ رکھتے ہوں ( یعنی عموماََ تقلید شخصی کا رواج ہو گیا ) اور یہی طریقہ اس وقت رائج تھا ۔انصاف مع ترجمہ کشاف ۵۹)
    فائدہ :دوسری صدی سے تقلید شخصی ہو تی چلی آرہی ہے ۔
    ۲۔ تقلید شخصی کے منکر اس دور میں بھی بہت ہی کم تھے۔ اکثریت کا دعویٰ کرنے والے ایسے ہیں جیسے ساون کے اندھے۔
    (۷) وھذہ ا للمذاہب الاربعۃ المدونۃ المحررۃ قد اجتمعت الامّۃ او من یُّعتد بھا منھا علیٰ جواز تقلیدھا الیٰ یومنا ھذا۔
    ترجمہ: اور یہ مذاہب اربعہ جو مدون ومرتب ہو گئے ہیں پوری امت نے یا امت کے معتمد حضرات نے ان مذاہب اربعہ مشہورہ کی تقلید کے جواز پر اجماع کرلیا ہے (اور یہ اجماع ) آج تک باقی رہے (اس کی مخالفت جائز نہیں بلکہ موجب گمراہی ہے حجہ اللہ ص ۳۶۱ ج۱)
    (۸) وبا لجملۃ فا التمذہب للمجتہدین سرّا الہمہ اللہ تعالی العلماء جمعہم علیہ من حیثُ یشعرون اولا یشعرون ۔
    ترجمہ: الحاصل ان مجتہدین (امام ابو حنیفہؒ امام مالکؒ امام شافعیؒ امام احمد بن حنبلؒ ) کے مذہب کی پابندی( یعنی تقلید شخصی) ایک راز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علما ء کے دلوں میں الہام کیا ہے اور اس پر ان کو متفق کیا ہے ۔وہ تقلید کر نے کی مصلحت اور راز کو جانیں یا نہ جانیں) یعنی تقلید کی حکمت اور کوخوبی ان کو معلوم ہو یا نہ معلوم ہو۔ انصاف مع الکشاف ص ۶۳
    فائدہ : ۱۔تقلید شخصی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے ۔
    ۲۔ اللہ تعالیٰ نے علماء کے دلوں میں الہام کیا ۔
    ۳۔ عوام کو تقلید کی مصلحت معلوم ہو یا نہ ہو تقلید کرے
    (۹) انسان جاہل فی بلا دالہند وبلاد ماوراء النہر ولیس ھناک عالم شافعی ولا مالکی ولا حنبلی ولا کتاب من کتاب ھذہ المذاہب وجب علیہ ان یقلد لمذھب ابی حنیفہؒ ویحرم علیہ ان یخرج من مذھبہ لانہ حینئذ یخلع من عنقہ ربقۃ الشریعہ ویبقیٰ سُدََی مُّہملا ۔
    ترجمہ: کوئی جاہل عامی انسان ہندوستان اور ما وراء النھر کے شہروں میں ہو (کہ جہاں مذہب حنفی پر ہی زیادہ تر عمل ہوتا ہے ) اور وہاں کوئی شافعی ، مالکی اور حنبلی عالم نہ ہو اور نہ ان مذاہب کی کوئی کتاب ہو تو اس وقت اس پر واجب ہے کہ مام ابو حنیفہؒ ہی کے مذہب کی تقلید کرے اس پر حرام ہے کہ حنفی مذہب کو ترک کرے ۔اس لئے کہ اس صورت میں شریعت کی رسی اپنی گردن سے نکال پھیکنا ہے ۔اور مہمل وبے کار بننا ہے ( انصاف مع کشاف ص ۷۰؍۷۱)
    فائدہ: !۔ جہاں دوسرے مذاہب کے علما ء اور کتابیں نہ ہوں وہاں مقامی ( مثلا ہند وپاک وبنگلہ دیش میں حنفی) مذہب کی تقلید واجب ہے ۔۔اور اس کی مخالفت حرام ہے ۔اور شریعت کی رسی کو توڑ کر نکل بھاگنا ہے ۔
    (۱۰) واسْتفدت منہﷺثلاثۃ امور خلاف ماکان عندی وما کانت طبعی تمیلُ الیہ اشد میل فصارتْ ھذہ الاستفادۃُ من براھین الحق تعالی علی۔۔۔الیٰ قولہ ۔۔۔ ۳وثانیھما الوُصاۃُ بالتقید بھذہ المذاہب الاربعۃ لا اخرج منھما ۔
    ترجمہ: مجھے آں حضور صلعم کے جانب سے ایسی باتیں حاصل ہو ئیں کہ میرا خیال پہلے ان کے موافق نہ تھا ۔اور اس طرف قلبی میلان با لکل نہ تھا یہ استفادہ میرے اوپر برہانِ حق بن گیا ۔ان امور میں سے دوسری بات یہ تھی ۔
    حضور اکرم صلعم نے مجھے وصیت فر مائی کہ میں مذاہب اربعہ کی تقلید کروں اور ان سے باہر نہ جاؤں( فیوض الحرمین ص ۶۴)
    (۱۱) عرفنی رسول اللہ صلعم ان فی المذہب الحنفی طریقۃََ عنیقۃََ ھی اوفق الطرق با لسنّۃ المعروفۃ التی جُمِعَتْ ونُقِّحَتْ فی زمن البخاری واصحابہ۔
    ترجمہ: حضور اقدس صلعم نے مجھے بتا یا کہ مذہب حنفی میں ایک ایسا عمدہ طریقہ ہے جو دوسرے طریقوں کی بہ نسبت اس سنت مشہورہ کے زیادہ موافق ہے جس کی تدوین اور تنقیح امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب کے زمانہ میں ہوئی ۔فیوض الحرمین ص ۴۸۔
    فائدہ۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ حضور صلعم نے بتا یا کہ مذہب حنفی سنت کے موافق ہے ۔وہ بھی امام بخاری وان کے اصحاب کی تدوین وتنقیح کردہ سنت کے موافق ۔۔۔۔جو لوگ فقہ حنفی کو گالی دیتے ہیں وہ گویا حدیث وسنت کو گالی دیتے ہیں کیا وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر سکیں گے ؟ اللہ کے رسول کی اتباع کرو ۔۔۔۔اور غیر مقلدین کے علماٗ کو اپنا احبار ورہبان نہ بنا ؤ ۔۔۔ یہ لوگ حلال کوحرام کرنے کے مجرم ہیں ۔ قرآن کی آیت تو ان پر صادق آ تی ہے ۔۔ علماٗ عظام اور ائمہ کرام پر صادق نہیں آتی۔
    رسول اللہ ﷺ کی تقلید کرو ۔۔ رسول اللہ صلعم نے مذاہب اربعہ کے حق ہو نے کی شہا دت دی ہے ۔ جو مذاہب اربعہ کے نا حق باطل اور گندہ ہو نے کی شہادت دے وہ رسول اللہ صلعم کے بجائے کسی اور کا پیرو کار ہے ۔
    اللہ سے ڈرو ۔۔۔ اللہ سے ڈرو۔۔۔ اللہ سے ڈرو۔
  2. محسن اقبال

    محسن اقبال وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    7
    موصول پسندیدگیاں:
    3
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    محدث شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ علامہ خطابی سے نقل کرتے ہیں کہ

    ”وہ لوگ جو اہل حدیث اور اثر کہلاتے ہیں ان میں سے اکثر کی کوشش یہ ہے کہ محض تھوڑی سی روایات متعدد واسطوں سے ان کو جمع کرنا جو کہ اکثر موضوع یا مقلوب ہیں اور ان میں سے غریب و شاذ حدیثوں کو جمع کرنا اور اہل حدیث اور اثر میں سے اکثر لوگ متعون یعنی الفاظ حدیث کو خوب تامل سے نہیں دیکھتے اور ان کے معنی نہیں سمجھتے اور ان کی اسرار و استنباط نہیں کرتے ہیں اور کبیر فقہا پر عیب لگاتے ہیں اور ان پر طعن کرتے ہیں اور فقہا کی مخالف حدیث ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور یہ بھی نہیں سمجھتے کہ جو علم ان کو دیا گیا ہے ہم اس تک پہنچنے سے قاصر ہیں اور ان کو برا کہنے سے ہم گنہگار ہوتے ہیں “ ( الانصاف صفحہ 38،39)
  3. محسن اقبال

    محسن اقبال وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    7
    موصول پسندیدگیاں:
    3
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    السلامُ علیکم تمام مسلمانوں کو

    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
  4. احمدقاسمی

    احمدقاسمی منتظم اعلی۔ أیدہ اللہ منتظم اعلی

    پیغامات:
    3,655
    موصول پسندیدگیاں:
    792
    صنف:
    Male
    جگہ:
    India
    شکریہ محسن اقبال صاحب
    بہت ہی زیادہ اہم کتاب ہے۔

اس صفحے کو مشتہر کریں