غیر مقلدین کے نعرے کا رد خود زبیر علی زئی سے

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از طالب علم, ‏اپریل 26, 2020۔

  1. طالب علم

    طالب علم عمر گزری مری کتابوں میں رکن

    پیغامات:
    16
    موصول پسندیدگیاں:
    2
    صنف:
    Male
    جگہ:
    کشمیر
    غیر مقلدین کے نعرے کا رد خود زبیر علی زئی سے
    آخرمان ہی گئے نا!!!
    بعض علمی یتیموں کی خست کا یہ عالم ہو تا ہے کہ عقل کے استعمال میں بھی ’’کفایت شعاری‘‘ سے کام لیتے ہیں با لکل ایسے ہی فر قہ اہل حدیث پا ک وہند کا ایک خود سا ختہ محقق افغان بھگوڑا زبیر علی زئی مماتی ہے۔ موصوف کا اپنے قلم کو خبثِ باطن کے اظہار کا ذریعہ بنا کر دن رات اہل السنت والجماعت کے خلا ف کیچڑ اچھا لنا اس کا محبوب مشغلہ ہے مگر ……

    بسا اوقات بو کھلا ہٹ میں یہ بیچارا اپنے مسلک والوں کو بھی ایسے ہی کاٹ کھا تا ہے جس طر ح یہ اہل السنت والجماعت کے اکا بر کو کاٹ کھا نے کو دوڑتا ہے جس کی زندہ مثال اس کا’’ الحدیث‘‘ نامی شمارہ ہے۔

    اپنے’’ الحدیث‘‘ نامی شمارے میں اس شخص نے اپنے فرقے کی سابقہ تاریخ پر مٹی ڈالتے ہوئے اہل السنۃ والجماعۃ علماء دیوبند کے موقف کو دبے لفظوں میں تسلیم کر لیا ہے۔’’اہل حدیث کے دو اصول ،قال اللہ وقال الرسول ‘‘مگر اس نعرہ لگا نے والے تمام افراد فرقہ اہل حدیث زبیر علی زئی افغان بھگوڑے کی تحقیق میں جھوٹے اور فتنہ پر ور لو گ قرارپائے ہیں ۔زبیر علی زئی مماتی افغان بھگوڑا لکھتا ہے :

    ’’اہل حدیث کے خلاف بعض جھوٹے اور فتنہ پرور لوگ یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ اہل حدیث کے نزدیک شرعی دلیلیں صرف’’ دو‘‘ ہیں؛ قرآن اور حدیث ۔تیسری کوئی دلیل نہیں حالانکہ اہل حدیث کے نزدیک قرآن مجید ،رسول اللہ کی احادیث ثابتہ اور اجماع امت شرعی دلیلیں ہیں۔‘‘(۱)

    (۱)ماہنامہ الحدیث جلد ۶شما رہ ۱۱نو مبر۲۰۰۹

    اپنے باطل مذہب کو مزید ڈائینامیٹ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :’’قرآن وحدیث سے اجتہاد کا جواز ثابت ہے ،لہذا اجتہاد جائز ہے۔ ‘‘(۲)

    (۲)الحدیث شما رہ نمبر ۱ج۶

    مزید اجتہاد کی وضاحت کر تے ہو تے افغان بھگوڑا لکھتاہے :’’ اجتہاد جا ئز ہے جس کی بہت سی اقسام ہیں مثلاًآثارسلف صا لحین سے استدلال ،قیاس اولیٰ ،غیر اولیٰ او رمصالح مرسلہ وغیرہ۔(۱)

    (۱)ما ہنا مہ الحدیث ج۶ش۱۱نو مبر ۲۰۰۹

    جب زبیر علی زئی نے بر سو ں کی ٹامک ٹوئیاں ما رنے کے بعد یہ تسلیم کر ہی لیا تھا کہ’’ دو اصول والی با ت غلط ہے اجما ع اور اجتہا دِ مجتہد کے بغیر چا رہ کارنہیں ۔‘‘تو کم ازکم اپنے اکابرین کوجھوٹا اورفتنہ پرور نہ کہتا اپنے بقیہ’’ تحقیقی مسائل‘‘ کی طر ح یہاں بھی با ت گول مول کر کے حسب عادت کتمانِ حق کر لیتا مگر جس شخص کی زہر آلود زبان اور ستم پیشہ قلم سے امام اعظم ابو حنیفہ ؒ اور اما م محمد بن حسن شیبانی ؒجیسی جلیل القدر ہستیا ں محفوظ نہ رہیں اور امت مسلمہ کے وہ بزرگ جن کی تعر یف میں اس کے اسلاف خود رطب اللسان رہے وہ عظیم شخصیا ت اس کی دست برُد سے نہ بچ سکیں تو ایسے بھگوڑے شخص سے کچھ بھی امید کی جا سکتی ہے؟؟؟

    اگر اس شخص نے کبھی دیانت داری کاذائقہ چکھا ہو تا تو ضرور یہ ان فتنہ پر ور اور جھوٹے لو گوں کی فہرست بھی شائع کر دیتا جنہو ں نے اپنے مسلک کا اوڑھنا اور بچھونا ہی’’ دو اصول‘‘ قرار دیے ہیں لیکن شاید فضیلۃالشیخ علامہ عبدالغفا رذہبی دامت بر کاتہم کی علمی ماراورصلحائے امت پر تبرابازی کی پھٹکار نے اس کے دل و دماغ بے کار کر دیے ہیں۔چلو ازرائے خیر خواہی ہم ان فتنہ پر ور اور کذاب لوگوں کی نشان دہی کیے دیتے ہیں جو زبیر مالہٗ زیر کے قبیلہ کے پیشوا ہیں اوردو اصول’’ قال اللہ وقال الر سول‘‘ کی چا در اوڑھ کر امت مسلمہ میں اسلاف بیزاری کی تخم ریزی میں مصروف ہیں یا اپنے حصے کا فتنہ پھیلا کر مالکِ روزِ جزاء کے سامنے مجر مانہ حاضری دے چکے ہیں ۔تو لیجیے جناب! ان جھوٹے اور فتنہ پرور لوگو ں کے چہر ے سے ہم نقاب الٹ رہے ہیں:

    1: غیر مقلدین کی نماز بنام ’’صلو ۃ الر سول‘‘ میں محمد صادق سیا لکوٹی لکھتا ہے :’’میں تمہیں دو چیزیں ایسی دے چلاہوں کہ جب تک تم انہیں مضبوط پکڑے رہو گے ہر گز ہر گز گمراہ نہ ہو گے ایک قرآن مجید دوسری حدیث شریف ۔‘‘(۲)

    (۲)صلو ۃ الر سول ص۴۶

    جنا ب !یہی وہ آپ کے جھوٹے اور فتنہ پر ور’’ ملاں‘‘ ہیں۔ جن کی’’ صلو ۃ الر سول‘‘ نامی کتا ب میں بولے گئے جھوٹوں کی صفائیاں دیتے دیتے آپ جیسوں کی عمر یں بیت گئیں بالآخر آپ نے تو یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ’’ صرف قرآن وحدیث کو دلیل شرعی کہنے والے جھوٹے اور فتنہ پرور ہیں مگر صادق سیا لکوٹی کے دل کی سیا ہی سے لکھی جانے والی یہ کتا ب ہزاروں لو گو ں کے نامہ اعمال اب بھی سیا ہ کر رہی ہے ۔

    زبیر علی! ہمت کرو اپنے پیر وکا ر وں کو اس فتنہ پر ور اور جھوٹے کی تحریرو ں سے بچائو ۔

    2: غیر مقلدین کے دوسرے محقق گوندلو ی اپنی کتا ب عقیدہ غیر مقلد بنا م عقیدہ مسلم میں یوں گو ہر افشانی فر ما رہے ہیں:’’ اہل حدیث قرآن وحدیث پر عمل کرنے والوں کا نام ہے۔‘‘(۱)

    (۱)عقیدہ مسلم ص۲۷

    گو ندلو ی تو اہل حدیث کی پہچان صرف قرآ ن وحدیث کی قرار دے رہے ہیں مگر آپ انہیں ’’فتنہ پر ور اور جھوٹا‘‘ کہہ رہے ہیں؟؟اے کاش !تم یہ با ت گوندلو ی کی زندگی میں کہتے مگر بھگو ڑو ں میں اتنی اخلا قی جرأت نہیں ہوتی صرف ہر زہ سر ائی سے ہی اپنا الوسیدھا کرتے ہیں ۔

    3: مسلک اہل حدیث ……اپنا ہر معاملہ زندگی کاہرمسئلہ ’’صر ف اور صر ف قرآن وحدیث سے حل کر نا سکھا تا ہے اور امرین محبین کے علا وہ کسی کو بھی قابلِ حجت نہیں مانتا اور لا ئق تعمیل نہیں جانتا۔‘‘(۲)

    (۲)ہم اہل حدیث کیو ں ہوئے ص۱۴

    جنا ب افغانی بھگو ڑاصاحب! اب اپنا تھوکا کیوں چاٹ رہے ہو؟؟؟ ائمہ عظام کے اجتہا دی اختلا ف کو ہو ا دے کر امتِ مسلمہ میں انتشا ر کے بیج بونے والو! اب ایک دوسرے کو جھوٹا اور فتنہ پرور کیوں قرار دے رہے ہو؟؟؟ 4: ’’تلا شِ حق‘‘ نامی کتا ب کا مصنف ارشاد اللہ ما ن اپنی آپ بیتی میں رقم طراز ہے اور یہ کتا ب تمہارے مبشر احمد ربا نی کی

    نظرِ ثانی کا شر ف بھی حا صل کر چکی ہے۔ ارشا د اللہ ما ن لکھتا ہے:’’ اصل آفاقی اورعا لمگیر دین اسلام کا قرآن اور صحیح احا دیث کی روشنی میں علم حا صل کیجیے کیو نکہ یہ دونو ں وحی جلی اور وحی خفی ہیں اور انہیں میں دین مکمل ہو چکا ہے ۔(۳)

    (۳)تلا ش حق ص۳۵طبع دار الا ندلس

    جناب علی زئی صاحب! آپ کے ہم مذہب ،ہم مشر ب، ہم نو الہ ا ورہم پیالہ (پیا لہ بھی وہ جس میں عرب میں بھیک مانگتے ہو )تو دین اسلا م کو دو چیزوں قرآن و حدیث میں مکمل کر رہے ہیں مگرآپ کی عد الت میں یہ جھوٹے اور فتنہ پر ورہیںاور اس کتا ب پر نظر ثانی کرنے والے مبشر ربانی کی کتابوں پر آپ مقدمے لکھتے ہیں اور کبھی تقریظیں۔ کیاجھوٹے اور فتنہ پر ور آدمی کو آپ کے مذہب میں فضیلۃ الشیخ اور حفظہ اللہ اور طرح طرح کے القا ب دیے جاتے ہیں؟؟؟

اس صفحے کو مشتہر کریں