غیر مقلد سینہ پر ہاتھ باندھنے کی روایت کے لیے ذراعہ کا ترجمہ بازوں کر تے ہیں

'بحث ونظر' میں موضوعات آغاز کردہ از imani9009, ‏ستمبر 22, 2017۔

  1. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    77
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    غیر مقلد سینہ پر ہاتھ باندھنے کی روایت کے لیے ذراعہ کا ترجمہ بازوں کر تے ہیں

    حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك ، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال: «كان الناس يؤمرون أن يضع الرجل اليد اليمنى على ذراعه اليسرى في الصلاة» قال أبو حازم لا أعلمه إلا ينمي ذلك إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال إسماعيل: ينمى ذلك ولم يقل ينمي

    صحيح البخاري: كِتَابُ الأَذَانِ(بَابُ وَضْعِ اليُمْنَى عَلَى اليُسْرَى فِي الصَّلاَةِ)
    ہم سے عبد اللہ بن مسلمة نے بیان کیاانہوں نے، مالک سے روایت کیاانہوں نے ،ابوحازم سے روایت کیاانہوں نے،سھل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کیاکہ :''لوگوں کوحکم دیاجاتاتھاکہ نمازمیں ہرشخص دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ کے ذراع(کہنی سے بیچ کی انگلی تک کے حصہ)پررکھے

    اور ذراعہ کو بازوں بنانے کے لیے یہ حدیث پیش کرتے ہیں

    عن ميمونة قالت: «وضع رسول الله صلى الله عليه وسلم وضوءا لجنابة، فأكفأ بيمينه على شماله مرتين أو ثلاثا، ثم غسل فرجه، ثم ضرب يده بالأرض أو الحائط، مرتين أو ثلاثا، ثم مضمض واستنشق، وغسل وجهه وذراعيه، ثم أفاض على رأسه الماء، ثم غسل جسده، ثم تنحى فغسل رجليه» قالت: «فأتيته بخرقة فلم يردها، فجعل ينفض بيده»

    (صحیح البخاری :قم 274)

    میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے لئے پانی رکھا گیا آپ نے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر دو مرتبہ یا تین مرتبہ پانی ڈالا اور اپنی شرمگاہ کو دھویا، پھر اپنا ہاتھ زمین میں یا دیورا میں دو مرتبہ مارا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈلا اور اپنے دونوں ہاتھ اور کہنیاں دھوئیں، پھر اپنے (باقی) بدن کو دھویا، پھر (وہاں سے) ہٹ گئے اور اپنے دونوں پیر دھوئے، میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں پھر میں آپ کے پاس ایک کپڑا لے گئی آپ نے اسے نہیں لیا اور اپنے ہاتھ سے پانی نچوڑتے رہے۔

    اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء کا طریقہ بیان ہے اور بازودھلنے کے لئے یہ الفاظ ہیں :'' وغسل وجہہ وذراعیہ'' یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اوراپنے دونوں بازؤں کا دھلا ۔

    اس کے بارے میں کوئی تحقیق کرکے بتائے یہ لوگ اسی ذراعہ کے ترجمہ کو جواز بنا کر پچاس احادیث پیش کر رہے ہیں

    Last edited: ‏ستمبر 23, 2017
  2. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    77
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    اشماریہ بھائی۔ اس مسئلے میں کچھ رہنمائی فرمایئے۔ غیر مقلدوں نے تو اس طریقے پر ساری احادیث جو وضع یدین سے متعلق آئی غیر مقلدوں نے اپنے مطلب پر فٹ کر لیں ہیں
  3. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    439
    موصول پسندیدگیاں:
    274
    صنف:
    Male
    یہاں دیکھیے:
    http://algazali.org/index.php?threads/انوار-البدر۔۔۔-چند-تبصرے.10028/

    بات یہ ہے کہ ذراع درمیانی انگلی سے لے کر کہنی تک کے حصے کو کہنا تو ٹھیک ہے لیکن اس سارے حصے پر "ید" یعنی ہاتھ کا رکھنا ممکن نہیں ہے۔ ہاتھ تو اس کے کچھ ہی حصے پر رکھا جا سکتا ہے۔ وہ کچھ حصہ کون سا ہوگا؟ اس کے لیے دوسری روایات کو دیکھا جائے گا، اور ان روایات میں صراحت کے ساتھ مروی ہے کہ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہتھیلی کی پشت، کلائی اور بازو کے اوپر رکھا۔ اب جب "ہاتھ" کو آپ ان تینوں چیزوں کے اوپر رکھیں گے تو وہ بازو کے تھوڑے سے حصے پر ہی آئیں گے اور وہ حصہ بھی متعین ہوگا یعنی کلائی والا حصہ۔ پھر ان دونوں ہاتھوں کو اپنی اصلی حالت میں چھوڑ دیں تو یہ ناف سے نیچے پہنچ جائیں گے۔
  4. اشماریہ

    اشماریہ رکن مجلس العلماء رکن مجلس العلماء

    پیغامات:
    439
    موصول پسندیدگیاں:
    274
    صنف:
    Male
    رہ گئی بات غسل وجہہ و ذراعیہ میں لفظ "ذراع" کی تو چونکہ وہاں دھونے کا ذکر ہے اور دھونے کے عمل میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ بعض حصہ دھویا جا سکتا ہے اور بعض نہیں اس لیے پورے بازو مراد ہیں۔ مزید یہ کہ سورہ مائدہ کی آیت وضو میں "و ایدیکم الی المرافق" بھی وضاحت کر رہی ہے کہ ہاتھ کہاں تک دھونے ہیں۔
  5. imani9009

    imani9009 وفقہ اللہ رکن

    پیغامات:
    149
    موصول پسندیدگیاں:
    77
    صنف:
    Male
    جگہ:
    Pakistan
    انوار البدر کے رد میں لکھی گئی کتاب
    انوار الحجہ از شیخ عبدا لرشید قاسمی سدھار نگری

    لنک

اس صفحے کو مشتہر کریں